From Real Estate History
On October 21, 1959, Pakistan launched its first House Building Finance Scheme through the House Building Finance Corporation (HBFC). This initiative aimed to provide affordable housing loans to the middle class at subsidized interest rates. The scheme significantly boosted residential construction in urban areas and enabled thousands of families to build their own homes. It laid the foundation for Pakistan's residential finance sector and paved the way for housing financial services in the coming years.
▪ Reference(s):
21 اکتوبر 1959 کو پاکستان میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (ایچ بی ایف سی) کے تحت پہلی ہاؤس بلڈنگ فنانس اسکیم کا آغاز کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد متوسط طبقے کو سبسڈی والی شرح سود پر سستی رہائشی قرضے فراہم کرنا تھا۔ اس اسکیم نے شہری علاقوں میں رہائشی تعمیرات کو نمایاں طور پر فروغ دیا اور ہزاروں خاندانوں کو اپنا گھر بنانے کا موقع فراہم کیا۔ اس نے پاکستان کے رہائشی فنانس کے شعبے کی بنیاد رکھی اور آنے والے برسوں میں رہائشی مالیاتی خدمات کی راہ ہموار کی۔
On October 21, 1966, the Aberfan disaster occurred in Wales when a colliery spoil tip collapsed onto the village, killing 144 people including 116 children. This tragic event exposed critical failures in mining waste management and land use planning near populated areas. The disaster led to comprehensive reforms in mining regulations, waste disposal practices, and land use planning policies worldwide. It highlighted the importance of proper geological assessments, safe waste storage practices, and the need for buffer zones between industrial activities and residential areas. The Aberfan tragedy became a landmark case in environmental planning and industrial safety regulations.
▪ Reference(s):
21 اکتوبر 1966 کو ویلز میں ایبرفان سانحہ پیش آیا جب ایک کولیری کے فضلے کے ڈھیر کا گرنا گاؤں پر گر گیا، جس میں 116 بچوں سمیت 144 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس المناک واقعے نے آبادی والے علاقوں کے قریب کان کنی کے فضلے کے انتظام اور زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی میں سنگین خامیوں کو بے نقاش کیا۔ اس سانحے نے دنیا بھر میں کان کنی کے ضوابط، فضلہ کے ٹھکانے لگانے کے طریقوں، اور زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی کی پالیسیوں میں جامع اصلاحات کا باعث بنا۔ اس نے مناسب جیولوجیکل جائزوں، محفوظ فضلہ ذخیرہ کرنے کے طریقوں، اور صنعتی سرگرمیوں اور رہائشی علاقوں کے درمیان بفر زونز کی ضرورت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ایبرفان کا سانحہ ماحولیاتی منصوبہ بندی اور صنعتی حفاظتی ضوابط میں ایک اہم کیس بن گیا۔
On October 21, 2005, following the devastating earthquake of October 8, the Government of Pakistan announced a comprehensive reconstruction package for earthquake victims. The package included reconstruction of over 400,000 houses in affected areas, repair of 6,000 educational institutions, and restoration of 400 health centers. This was the largest reconstruction project in Pakistan's history, which not only rebuilt the affected areas but also introduced new standards for earthquake-resistant construction. The package added a new dimension to disaster management and construction standards in Pakistan.
▪ Reference(s):
21 اکتوبر 2005 کو 8 اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد حکومت پاکستان نے زلزلہ متاثرین کے لیے ایک جامع بحالی و تعمیراتی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکیج میں متاثرہ علاقوں میں 4 لاکھ سے زیادہ گھروں کی تعمیر نو، 6000 تعلیمی اداروں کی مرمت، اور 400 صحت مراکز کی بحالی شامل تھی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بحالی اور تعمیراتی منصوبہ تھا جس نے نہ صرف متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کی بلکہ زلزلہ مزاحم تعمیرات کے نئے معیارات بھی متعارف کروائے۔ اس پیکیج نے پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور تعمیراتی معیارات میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا۔
25 جنوری 1575 وہ تاریخی دن ہے جب پرتگالی مہم جو اور نوآبادیاتی منتظم Paulo Dias de Novais نے افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع شہر لوانڈا ( Luanda) ) کی باقاعدہ ...
مزید پڑھیں15 نومبر 1910 کو جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کی میونسپل حکومت نے مزدور بستیوں کی خراب ہوتی ہوئی رہائشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا پہلا پبلک ہاؤسنگ ورکس ...
مزید پڑھیں
10 نومبر 1992 کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد کے جنوبی علاقے کی طرف توسیع کا ایک اہم منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے میں دو نئے رہائشی سیکٹرز ڈی 12 اور ای 12...
مزید پڑھیں
گورنمنٹ آف انڈیا کے گزٹ پارٹ ون میں 28 نومبر 1903 کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیانی خطے میں پہلی مرتبہ بڑے پی...
مزید پڑھیں11 نومبر 1952 کو حکومتِ پاکستان نے کراچی لینڈ ری کلیمیشن اور پورٹ ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ پلان کی منظوری دی تاکہ کراچی کی بندرگاہ اور صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے مزد...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!