Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

30 January

Home
1 Historical Event found for 30 January
1

30 جنوری 1928

دنیا کا شاید واحد گھر جس کا ایڈریس ایک عظیم واقعے کی تاریخ سے منسوب ہے۔

دنیا کا شاید واحد گھر جس کا ایڈریس ایک عظیم واقعے کی تاریخ سے منسوب ہے۔

برلا بھون لٹینز زون دہلی کے اندر واقع ہے، جو ہندوستان کا سب سے پوش، محفوظ اور مہنگا ترین رہائشی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں غیر ملکی سفیروں کی رہائش گاہیں، مرکزی وزراء کی کوٹھیاں اور ہندوستان کے اہم آئینی ادارے قائم ہیں۔

اسی برلا بھون کے لان میں 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کو گولی مار کر شہید کیا گیا تھا۔

یہ گھر اصل میں مشہور صنعتکار گھنیش داس برلا، المعروف جی ڈی برلا، کی ملکیت تھا۔ وہ برطانوی دورِ ہند کے سب سے طاقتور اور بااثر صنعت کاروں میں شمار ہوتے تھے اور Birla Group کے بانی تھے، جو آج بھی ہندوستان کے بڑے صنعتی گھرانوں میں شامل ہے۔

انہوں نے 1928 میں اپنی رہائش کی غرض سے یہاں سکونت اختیار کی تھی۔ اس وقت اس کا پوسٹل ایڈریس 2، البوکرک روڈ، نیو دہلی

(Albuquerque Road) تھا۔

دہلی کی فضا میں جب انگریزی راج اپنے عروج پر تھا، تب یہ عمارت بھی اسی وقار کے ساتھ ابھری۔ اس کے کشادہ صحن، بلند چھتیں اور سفید رنگ سے آراستہ ساخت برطانوی دور کے نوآبادیاتی تعمیراتی معیار کی گواہی دیتی تھی۔ لٹینز دہلی کے ہرے بھرے درختوں کے درمیان یہ گھر یوں کھڑا تھا جیسے تاریخ نے خود اپنے لیے ایک ٹھکانہ چن لیا ہو۔

1947 کے بعد، جب ہندوستان تقسیم کے نتیجے میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کا شکار تھا، مہاتما گاندھی دہلی میں سیاسی قیادت، مسلم نمائندوں، سکھ رہنماؤں اور کانگریس قیادت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے۔

جی ڈی برلا کا گھر دہلی میں ایک محفوظ، نسبتاً غیر سیاسی مگر بااثر مقام تھا۔ اسی وجہ سے گاندھی جی نے اپنی زندگی کے آخری 144 دن (ستمبر 1947 سے 30 جنوری 1948 تک) اسی مکان میں قیام کیا۔ یہ قیام ذاتی آرام کے لیے نہیں بلکہ امن و مفاہمت کو جگانے کی کوشش تھا۔

گو کہ گاندھی جی کا طرزِ زندگی سادگی اور فقر پر مبنی تھا، لیکن برلا خاندان سے ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر انہیں یہ قیام میسر آیا۔ یہاں نہ صرف ان کی رہائش تھی بلکہ یہ جگہ سیاسی مشاورت، غیر رسمی ملاقاتوں اور اہم قومی فیصلوں کا مرکز بن گئی تھی۔

اس گھر کے لان میں روزانہ شام کو دعائیہ نشستیں ہوا کرتی تھیں، جہاں گاندھی جی لوگوں کے ساتھ عبادت کرتے، بات چیت کرتے اور قومی حالات پر غور کرتے۔ 30 جنوری 1948 کو بھی وہ ایک ایسی ہی دعائیہ نشست کے لیے اپنے کمرے سے نکلے تھے جب ناتھورام گوڈسے نے ان پر گولیاں چلائیں، اور یوں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔

اس واقعے کے کافی عرصے بعد اس گھر کو ایک “قومی یادگار” بنا دیا گیا۔ 1971 میں بھارتی حکومت نے اس عمارت کو برلا خاندان سے خرید لیا، اور 1973 میں اسے “گاندھی سمرتی” کے نام سے ایک قومی میوزیم اور یادگار میں تبدیل کر دیا گیا۔ آج بھی اس عمارت کے کمرے، وہ لان، وہ راہداری، وہ ستون سب کچھ گواہ ہیں اُس آخری دن کے۔ یہاں ایک مستقل نمائش بھی موجود ہے جو گاندھی جی کی زندگی، نظریات اور آخری لمحوں کو محفوظ کرتی ہے۔

برلا ہاؤس کی اہمیت صرف اس بات تک محدود نہیں کہ گاندھی جی کو وہاں قتل کیا گیا، بلکہ اس وجہ سے بھی ہے کہ اس گھر نے آزادی کے بعد کے ہندوستان کی ابتدائی ریاستی تشکیل، مذہبی کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں اور ایک شخص کی قربانی کو مجسم صورت میں محفوظ کر رکھا ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس:
▫️ دی لاسٹ فیز (The Last Phase)
مصنف: لوئیس فشر
پبلشرز (ناشرین):
▫️ Harper & Brothers
یہ کتاب پہلی مرتبہ 1950 میں نیویارک سے Harper & Brothers کے تحت شائع ہوئی۔
Views
9

مزید خبریں "On This Date" سے

news
امریکہ میں پہلے 'انسٹیٹیوشنل مارگیج' کی شروعات

27 اکتوبر 1835 کو، پہلا باضابطہ انسٹیٹیوشنل مارگیج سسٹم 'Terminating Building Societies' (TBS) کے ذریعے امریکہ میں ابھرا، جو غیر رسمی پراپرٹی لین دین سے منظم ہو...

مزید پڑھیں
news
اقوام متحدہ نے جنوبی ایشیائی انسانی بحران پر اہم اجلاس بلایا

23 نومبر 1971 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جنوبی ایشیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر غور کرنے کے لیے نیویارک میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ پرتشدد واق...

مزید پڑھیں
news
ناسک سے ممبئی تک 167 کلومیٹر مارچ: زمین کے حقوق کی تاریخی تحریک

6 مارچ 2018 کو بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ناسک سے ہزاروں کسانوں نے ایک طویل احتجاجی مارچ شروع کیا جسے مہاراشٹرا کسان لانگ مارچ کہا جاتا ہے۔ اس مارچ میں ت...

مزید پڑھیں
news
امریکی ہاؤسنگ بلب مالیاتی بحران سے پہلے عروج پر پہنچا

26 اکتوبر 2005 کو، امریکی ہاؤسنگ بلب اپنے عروج پر پہنچا، جو غیر پائیدار قیمتوں کی نمو کے عروج کی نشاندہی کرتا ہے جو جلد ہی عالمی مالیاتی بحران کو متحرک کرے گا۔ ...

مزید پڑھیں
news
کراچی میں زمین کی بازیابی اور بندرگاہی رہائشی منصوبے کا آغاز

11 نومبر 1952 کو حکومتِ پاکستان نے کراچی لینڈ ری کلیمیشن اور پورٹ ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ پلان کی منظوری دی تاکہ کراچی کی بندرگاہ اور صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے مزد...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date