Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

2 February

Home
3 Historical Event found for 2 February
1

2 فروری 1665

ڈچ نوآبادی پر برطانوی کنٹرول کے بعد نیویارک کا نیا نام رکھا گیا

ڈچ نوآبادی پر برطانوی کنٹرول کے بعد نیویارک کا نیا نام رکھا گیا

2 فروری 1665 کو برطانوی افواج نے ڈچ نوآبادی نیو ایمسٹرڈم پر باضابطہ کنٹرول مستحکم کر لیا، جو آج کے مین ہٹن کے علاقے میں واقع تھی، اور اسی موقع پر اس شہر کا نام تبدیل کر کے نیو یارک رکھا گیا۔ اس علاقے کا پہلا معروف نام مینہاٹا یا ماناہاٹا (Mannahatta) تھا، جو مقامی لیناپی قبائل استعمال کرتے تھے، اور جس کا مفہوم عموماً جزیرہ یا پہاڑی زمین سے جوڑا جاتا ہے۔ بعد ازاں ڈچ نوآبادی دور میں، جب یہ علاقہ ڈچ ویسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِ انتظام آیا، تو اس کا نام نیو ایمسٹرڈم (New Amsterdam) رکھا گیا۔ برطانوی کنٹرول قائم ہونے پر اس بستی کا نام یارک کے ڈیوک (Duke of York) کے نام پر نیو یارک رکھا گیا، جو اس وقت جیمز تھے اور بعد میں برطانیہ کے بادشاہ جیمز دوم (James II) بنے، اور یہ نام آج تک رائج ہے۔

یوں ایک ہی زمین نے وقت کے ساتھ مختلف قوموں کے زیرِ اثر مختلف نام اختیار کیے، اور ہر نیا نام اس علاقے کے بدلتے ہوئے اقتدار کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم 1776 کے بعد جب امریکہ ایک آزاد ریاست بنا تو اگرچہ کئی شہروں اور مقامات کے ناموں پر بحث ضرور ہوئی، لیکن نیو یارک اس وقت تک ایک مکمل تجارتی، قانونی اور شہری نظام کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، اس لیے اس کا نام تبدیل کرنے کی نہ کوئی مضبوط سیاسی ضرورت محسوس کی گئی اور نہ ہی عوامی سطح پر ایسا کوئی مطالبہ سامنے آیا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنسز:
‏▫️ Gotham: A History of New York City to 1898
مصنفین: Edwin G. Burrows، Mike Wallace
اشاعت: Oxford University Press
‏▫️ New York Historical Society
حوالہ: Colonial New York Archives
Views
18
2

2 فروری 1814

عنوان کے بغیر خبر

عنوان کے بغیر خبر

2 فروری کو کولکتہ میں قائم Indian Museum اپنے قیام کا دن مناتا ہے۔ یہ ادارہ برصغیر کا قدیم ترین اور سب سے بڑا میوزیم سمجھا جاتا ہے، جس نے خطے کی تعمیراتی تاریخ، زمین سے جڑی تہذیب، اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

اس میوزیم کی کہانی برصغیر میں علم، نوادرات، زمین، تعمیرات، اور تہذیبی ورثے کو باقاعدہ طور پر محفوظ کرنے کی پہلی منظم کوشش کی کہانی ہے۔

پس منظر یہ تھا کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال Asiatic Society of Bengal کے اہلِ علم کے پاس قدیم سکے، کتبے، مجسمے، فوسلز، جانوروں کے نمونے، نباتات، اور دور دراز علاقوں سے لائی گئی بے شمار چیزیں جمع ہو رہی تھیں، مگر انہیں رکھنے، سائنسی انداز میں درج کرنے، اور عوام یا محققین کے لیے پیش کرنے کا کوئی مستقل ادارہ موجود نہیں تھا۔ اسی ضرورت کے تحت میوزیم کے تصور نے شکل اختیار کی، اور آخرکار 2 فروری 1814 کو ڈینش ماہرِ نباتات ڈاکٹر Nathaniel Wallich نے Asiatic Society of Bengal کو ایک باقاعدہ میوزیم بنانے کی تجویز دی، اپنی کلیکشن اس کے لیے پیش کی، اور عملی طور پر پہلے نگران کی حیثیت سے کام بھی سنبھالا۔

ابتدا میں یہ میوزیم Asiatic Society of Bengal کی عمارت کے اندر قائم ہوا، مگر وقت کے ساتھ مجموعہ اتنا بڑا اور متنوع ہو گیا کہ ایک الگ اور وسیع عمارت ناگزیر بن گئی۔ حکومت نے (اس وقت کی ایسٹ انڈیا کمپنی) چورنگھی روڈ اور پارک اسٹریٹ کے علاقے میں 10 ایکڑ سے بھی زائد کا قطعۂ اراضی اس مقصد کے لیے مہیا کیا۔

نو آبادیاتی دور میں اتنے بڑے رقبے پر ایک عوامی میوزیم کی تعمیر بذاتِ خود اس بات کی علامت تھی کہ اسے محض ایک نمائش گاہ نہیں بلکہ علم، تحقیق، نوادرات اور قدرتی تاریخ کے ایک جامع ادارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جس میں مختلف گیلریوں، ذخیرہ خانوں، تحقیقی کمروں اور اندرونی صحنوں کو ضروریات کے مطابق تعمیر کیا گیا۔

article image

میوزیم کی موجودہ شاندار نو کلاسیکل طرز کی عمارت کا منصوبہ انیسویں صدی میں آگے بڑھا۔ اس عمارت کے آرکیٹکٹ Walter L. B. Granville کا نام معتبر ماخذوں میں بار بار آتا ہے، اور میوزیم کو موجودہ عمارت میں عوام کے لیے 1 اپریل 1878 کو کھولا گیا۔

اگرچہ انڈین میوزیم 1814 میں قائم ہوا، مگر اس کی موجودہ عمارت تقریباً چھ دہائیوں بعد 1878 میں عوام کے لیے کھولی گئی۔

یہاں رکھے گئے نوادرات کی نوعیت اتنی وسیع ہے کہ اسے ایک واحد میوزیم کے بجائے کئی علوم کا مجموعہ کہنا زیادہ درست ہے۔ میوزیم کی بڑی شناخت آثارِ قدیمہ، قدیم مجسمہ سازی، سکے، کتبے، اور تہذیبی نوادرات کے ساتھ ساتھ قدرتی تاریخ کے ذخیرے سے بھی بنتی ہے، جس میں فوسلز اور حیاتیاتی نمونے شامل ہیں۔ عوامی دلچسپی کی چند نمایاں مثالیں مصر کی گیلری کی قدیم ممی، اور بھارہوت اسٹوپا کی سنگی ریلنگز اور بدھ مت سے متعلق قدیم آثار ہیں، جنہیں دنیا بھر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

نوادرات کی حفاظت کے باب میں اس ادارے نے روایتی تالوں اور چوکیداری سے آگے بڑھ کر کنزرویشن، ریکارڈنگ، اور سائنسی نگہداشت کی طرف بھی سفر کیا ہے۔ میوزیم کے اپنے دستاویزی منصوبوں میں کنزرویشن گائیڈ لائنز اور اپ گریڈیشن جیسے موضوعات موجود ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذخیرے کی حفاظت کے لیے معیار سازی اور بہتری کی کوشش جاری ہے۔ اسی کے ساتھ سرکاری آڈٹ اور ادارہ جاتی رپورٹس میں انتظامی ڈھانچے، ٹرسٹیز کے نظام، اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں کا ذکر بھی ملتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ادارہ ریاستی نگرانی میں ایک خودمختار تنظیم کے طور پر چلتا ہے۔

اس میوزیم کی تاریخی اہمیت صرف یہ نہیں کہ یہ برصغیر کا قدیم ترین میوزیم ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسی ادارے نے نوادرات، آثارِ قدیمہ، اور سائنسی نمونوں کو جمع کرنے، درج کرنے، اور عوامی علم کا حصہ بنانے کی روایت کو ادارہ جاتی صورت دی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے برصغیر کی تعمیراتی اور زمینی تاریخ، شہری ارتقا، نو آبادیاتی عہد کی علمی پالیسی، اور علاقائی ثقافتی سرمائے کو سمجھنے کے لیے ایک مرکزی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

آج بھی یہ میوزیم فعال ہے اور ہر سال 2 فروری کو اس کا فاؤنڈیشن ڈے منایا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں اس میوزیم کی خصوصی نمائشوں اور موضوعاتی پروگراموں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جس سے ادارے کی عوامی اور تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم بعض مباحث میں عمارت کی عمر، دیکھ بھال، اور جدید تقاضوں کے مطابق سہولیات کے چیلنجز کا ذکر بھی ملتا ہے، اس لیے اس کی موجودہ حالت کو یوں سمجھنا بہتر ہے کہ ادارہ اپنی عظمت اور ذخیرے کے باوجود مسلسل مرمت، اپ گریڈیشن، اور جدید کنزرویشن کی ضرورت کے دباؤ میں بھی رہتا ہے۔

انڈین میوزیم برصغیر میں پہلا ایسا ادارہ تھا جو میوزیم کے باقاعدہ تصور کے تحت قائم ہوا، یعنی جہاں نوادرات، آثارِ قدیمہ، قدرتی تاریخ کے نمونے، اور سائنسی اشیا کو منظم انداز میں جمع کیا گیا، درج کیا گیا، اور عوام و محققین کے لیے پیش کیا گیا۔ اس سے پہلے اگرچہ شاہی خزانے، نجی کلیکشنز، یا مذہبی مقامات پر نوادرات موجود تھے، مگر وہ میوزیم نہیں کہلاتے تھے کیونکہ نہ ان کا سائنسی اندراج ہوتا تھا اور نہ عوامی رسائی۔ اسی بنیاد پر Indian Museum کو مستند تاریخی حوالوں میں برصغیر کا پہلا میوزیم بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنسز:
1. Indian Museum – Official Institutional History
‏2. Encyclopaedia Britannica ‏Britannica Indian Museum
Views
5
3

2 فروری 2020

WeWork میں قیادت کی تبدیلی اور روایتی رئیل اسٹیٹ ماڈل کی واپسی

WeWork میں قیادت کی تبدیلی اور روایتی رئیل اسٹیٹ ماڈل کی واپسی

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی کو ورکنگ اسپیسز (co working spaces) کی علامت سمجھی جانے والی عالمی کمپنی WeWork کے لیے 2020 کا سال ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جب حد سے زیادہ توسیع اور ناکام آئی پی او (IPO) کے بعد یہ واضح ہو چکا تھا کہ کمپنی کو اپنی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔

‏WeWork کی ویلیوایشن، بزنس ماڈل اور کارپوریٹ گورننس پر عالمی سطح پر شدید سوالات اٹھ رہے تھے۔ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ ریگولیٹرز کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد کمپنی نے اپنی حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا۔

اسی پس منظر میں 2 فروری 2020 کو WeWork نے اپنی قیادت میں ایک بڑی اور بنیادی تبدیلی کا اعلان کیا، جس کے تحت رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے تجربہ کار ایگزیکٹو سندیپ متھرانی (Sandeep Mathrani) کو چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا۔

سندیپ متھرانی اس سے قبل بڑے کمرشل رئیل اسٹیٹ اداروں میں اعلیٰ انتظامی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے، اور انہیں شاپنگ مالز، آفس اسپیس اور لیزنگ ماڈلز کا گہرا تجربہ حاصل تھا۔ ان کی تقرری کا بنیادی مقصد WeWork کو ایک ٹیکنالوجی یا اسٹارٹ اپ طرز کے خواب سے نکال کر دوبارہ ایک عملی رئیل اسٹیٹ لیزنگ کمپنی کے طور پر مستحکم کرنا تھا۔

یہ قیادت کی تبدیلی دراصل WeWork کے بانی ایڈم نیومن (Adam Neumann) کے دور کے خاتمے کی علامت تھی۔ اس کے بعد کمپنی نے تیزی سے پھیلنے کی پالیسی، بڑے دعووں اور غیر ضروری اخراجات کو چھوڑ کر مالی نظم و ضبط کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہ تھا کہ لیزنگ کے معاہدے زمینی حقائق کے مطابق ہوں اور کمپنی اپنے اثاثوں کو زیادہ منظم انداز میں چلائے۔ عالمی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری میں اس عمل کو ایک مثال کے طور پر دیکھا گیا کہ کس طرح ایک ناکام اسٹارٹ اپ سوچ کو دوبارہ روایتی اور محتاط رئیل اسٹیٹ اصولوں کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ WeWork بڑی کمرشل عمارتیں طویل مدت کے لیے کرائے پر حاصل کرتی ہے، پھر ان عمارتوں کو چھوٹے اور مشترکہ دفاتر میں تقسیم کرتی ہے، جنہیں کو ورکنگ اسپیسز کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ دفاتر مختلف کمپنیوں، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس کو استعمال کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں WeWork کا کاروباری ماڈل یہی ہے کہ وہ عمارتیں کرائے پر لے، انہیں جدید اور فعال دفاتر میں تبدیل کرے، اور مختلف صارفین کو لیز پر دے کر منافع حاصل کرے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس:
▫️ Financial Times
‏“How WeWork’s failed IPO forced a rethink of its business model and corporate governance” (2019–2020 تجزیاتی رپورٹس، Financial Times Global Business)
Views
3

مزید خبریں "On This Date" سے

لندن: جائیداد کی ملکیت کو سرکاری رجسٹر میں اندراج سے مشروط کر دیا گیا، تاریخی فیصلہ
لندن: جائیداد کی ملکیت کو سرکاری رجسٹر میں اندراج سے مشروط کر دیا گیا، تاریخی فیصلہ

برطانیہ میں زمین اور جائیداد کی ملکیت کا تصور اس وقت بنیادی طور پر تبدیل ہوا جب لینڈ رجسٹریشن رولز 1925 کو Statutory Instrument 1925 No. 1093 کے تحت قانونی طور پر نافذ کیا گیا۔ برطانوی ہاؤس آف لارڈز اور سرکاری قا�...

مزید پڑھیں
تاریخی عمارت کے تحفظ کے قوانین قائم ہوئے
تاریخی عمارت کے تحفظ کے قوانین قائم ہوئے

19 اکتوبر 1923 کو تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قانون منظور کیا گیا، جس نے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس قانون نے پہلی بار ایک جامع فریم ورک قائم کیا ج�...

مزید پڑھیں
دامغان - انسانی تاریخ کا مہلک ترین زلزلہ جس میں 2 لاکھ افراد ہلاک ہوۓ۔
دامغان - انسانی تاریخ کا مہلک ترین زلزلہ جس میں 2 لاکھ افراد ہلاک ہوۓ۔

آج سے تقریباً 1169 سال قبل، 22 دسمبر 856 عیسوی کو فارس کے شمالی علاقے قومس میں واقع شہر دامغان اور اس کے گردونواح میں ایک ایسا تباہ کن زلزلہ آیا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاریخی روایات اور معت�...

مزید پڑھیں
سنگاپور نے ایچ ڈی بی اسکیم میں توسیع کر کے عوامی گھر مالکانہ ماڈل کو مضبوط بنایا
سنگاپور نے ایچ ڈی بی اسکیم میں توسیع کر کے عوامی گھر مالکانہ ماڈل کو مضبوط بنایا

5 نومبر 1989 کو سنگاپور نے اپنی ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ (HDB) پالیسی میں تاریخی توسیع کا اعلان کیا، جس کے تحت کم اور متوسط آمدنی والے شہریوں کو آسان مالی سہولت کے ساتھ سرکاری گھروں کے مالک بننے کا م...

مزید پڑھیں
بلاک چین ٹیکنالوجی رئیل اسٹیٹ لین دین میں داخل ہوئی
بلاک چین ٹیکنالوجی رئیل اسٹیٹ لین دین میں داخل ہوئی

26 اکتوبر 2018 کو، بلاک چین ٹیکنالوجی نے پراپرٹی ٹوکنائزیشن اور سمارٹ کنٹریکٹس کی جانچ کے پائلٹ پروگراموں کے ذریعے رئیل اسٹیٹ لین دین کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ اس اختراع نے ناقابل تغیر، شفاف ڈیجیٹل ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date