From Real Estate History
Egypt’s Free Officers Movement overthrew the government of King Farouk in an event that became known as the Egyptian Revolution of July. The revolution changed not only the country’s political system but also laid the foundation for major reforms in land ownership, tenancy and the distribution of large agricultural estates.
At the time, much of Egypt’s cultivable land was controlled by a small number of wealthy landowning families, while millions of farmers worked as tenants or agricultural labourers instead of owning the land they cultivated.
A few weeks after the revolution, the new government introduced Egypt’s first major agrarian reform law. The legislation limited an individual’s agricultural land ownership to a maximum of 200 feddans. A feddan is an Egyptian unit of land measurement roughly equal to one acre, while 200 feddans are equivalent to approximately 84 hectares.
Land exceeding the permitted limit was taken over by the state and gradually redistributed among small farmers and landless families. The law also introduced controls on agricultural rents, provided greater protection to tenant farmers and encouraged the formation of agricultural cooperatives for small landowners.
These reforms became a major turning point in Egypt’s modern land and property history. For the first time, the state imposed limits on large private landholdings and attempted to distribute ownership among a broader section of the population.
The reforms also changed the role of land in rural Egypt. Agricultural property was no longer viewed only as a source of wealth and political power for large landowners, but increasingly became a source of housing, employment and economic security for small farmers.
It is important to clarify that the revolution took place on July 23, while the formal land reform law was introduced later, in September 1952. Therefore, July 23 is considered the beginning of this major transformation in Egypt’s land ownership system rather than the date on which the law itself was enacted.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
23 جولائی 1952 کو مصر میں فوج کے فری آفیسرز موومنٹ نے بادشاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس واقعے کو مصر کا جولائی انقلاب کہا جاتا ہے۔ انقلاب نے صرف ملک کا سیاسی نظام نہیں بدلا بلکہ زمین کی ملکیت، کرایہ داری اور بڑے زرعی رقبوں کی تقسیم میں بھی بنیادی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی۔
اس وقت مصر کی زیادہ تر قابلِ کاشت زمین چند بڑے جاگیردار خاندانوں کے قبضے میں تھی، جبکہ لاکھوں کسان اپنی زمین کے مالک بننے کے بجائے کرایہ دار یا کھیت مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ انقلاب کے چند ہفتوں بعد نئی حکومت نے پہلا زرعی اصلاحات کا قانون نافذ کیا، جس کے تحت ایک شخص کی زرعی زمین کی ملکیت زیادہ سے زیادہ 200 فدان تک محدود کردی گئی۔ ایک فدان تقریباً ایک ایکڑ کے برابر مصری پیمانہ ہے اور 200 فدان تقریباً 84 ہیکٹر بنتے ہیں۔
مقررہ حد سے زیادہ زمین حکومت کے اختیار میں لے کر چھوٹے کسانوں اور بے زمین خاندانوں کو دینے کا عمل شروع کیا گیا۔ قانون میں زرعی زمین کے کرایوں کو قابو کرنے، کرایہ دار کسانوں کو زیادہ تحفظ دینے اور چھوٹے زمین مالکان کیلئے زرعی تعاون کی تنظیمیں بنانے کے اقدامات بھی شامل تھے۔
یہ اصلاحات جدید مصر کی زمین اور جائیداد کی تاریخ کا اہم موڑ بنیں۔ پہلی مرتبہ ریاست نے بڑے نجی زمینی اثاثوں پر حد مقرر کرکے ملکیت کو نسبتاً وسیع آبادی تک منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس سے دیہی علاقوں میں زمین صرف دولت اور سیاسی طاقت کی علامت نہیں رہی بلکہ چھوٹے کسانوں کیلئے رہائش، روزگار اور معاشی تحفظ کا ذریعہ بھی بنی۔
تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ انقلاب 23 جولائی کو آیا تھا، جبکہ زمین کی اصلاح کا باقاعدہ قانون بعد میں ستمبر 1952 میں نافذ کیا گیا۔ اس لیے 23 جولائی کو اس بڑی زمینی تبدیلی کی ابتدا سمجھا جاتا ہے، قانون کے نفاذ کی تاریخ نہیں۔
لندن: معیشت کی تاریخ میں 9 جنوری 1799 ہمیشہ ایک ایسے فیصلہ کن دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ جب برطانیہ کے وزیرِاعظم ولیم پٹ دی ینگر نے پہلی مرتبہ جائیداد سے...
مزید پڑھیں
2 جولائی کو فرانس کے شہر ریزے، نانت کے قریب معروف معمار لی کوربوزیے کے ڈیزائن کردہ اہم اجتماعی رہائشی منصوبے “La Maison Radieuse” کا افتتاح کیا گیا۔ یہ عمارت جد...
مزید پڑھیں
30 اکتوبر 1980 کو پاکستان نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنی پہلی جامع ہاؤسنگ پالیسی کا اعلان کیا، جس نے قومی رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے نقطہ نظر میں اہم تبدیلی ...
مزید پڑھیں
29 اکتوبر 1988 کو پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ایک بڑی اور تاریخی ترمیم کی منظوری دی، جس کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھت...
مزید پڑھیں
دنیا کا پہلا فیرس وہیل گھوم گیا 1893: دنیا کا پہلا فیرس وہیل شکاگو میں منعقد ہونے والی ورلڈز کولمبین ایکسپوزیشن میں کھولا گیا۔ 80.4 میٹر بلند یہ تاریخی تعمیر ن...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!