Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

9 January

Home
1 Historical Event found for 9 January
1

9 جنوری 1799

9 جنوری 1799 وہ دن ہے جب تاریخ میں پہلی مرتبہ رئیل اسٹیٹ سے حاصل ہونے والی کرایہ کی آمدنی کو ریاست نے قابلِ ٹیکس آمدن قرار دیا۔

9 جنوری 1799 وہ دن ہے جب تاریخ میں پہلی مرتبہ رئیل اسٹیٹ سے حاصل ہونے والی کرایہ کی آمدنی کو ریاست نے قابلِ ٹیکس آمدن قرار دیا۔

لندن: معیشت کی تاریخ میں 9 جنوری 1799 ہمیشہ ایک ایسے فیصلہ کن دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ جب برطانیہ کے وزیرِاعظم ولیم پٹ دی ینگر نے پہلی مرتبہ جائیداد سے ملنے والے کرایوں پر باقاعدہ انکم ٹیکس عائد کر دیا۔ یہ اقدام کسی معاشی اصلاح کے تحت نہیں بلکہ فرانس کے حکمران نپولین بوناپارٹ کے خلاف جاری جنگ کے غیر معمولی مالی دباؤ کے نتیجے میں کیا گیا۔

اس سے پہلے برطانیہ میں زمین پر لینڈ ٹیکس موجود تھا جو صرف ملکیت تک محدود تھا، مگر 1799 کے قانون نے پہلی بار آمدن کو براہِ راست ریاستی محاصل کے دائرے میں شامل کیا، جس میں جائیداد سے حاصل ہونے والا کرایہ اور زمین کی سالانہ قابلِ تخمینہ مالیت بھی شامل تھی۔

1799 سے پہلے برطانیہ میں لینڈ ٹیکس موجود تھا، مگر اس کی نوعیت محدود تھی کیونکہ یہ صرف زمین کی ملکیت پر عائد ہوتا تھا اور اس کا تعلق اس زمین سے حاصل ہونے والی آمدن یا کرایے سے نہیں تھا۔ چاہے زمین خالی پڑی ہو یا اس سے کوئی منافع حاصل نہ ہو، مالک کو محض ملکیت کی بنیاد پر ٹیکس دینا پڑتا تھا۔

9 جنوری 1799 کو نافذ ہونے والے قانون نے پہلی مرتبہ یہ بنیادی فرق واضح کیا کہ زمین رکھنا ایک بات ہے اور زمین سے کمائی کرنا دوسری بات۔ اس قانون کے تحت جائیداد سے حاصل ہونے والی کرایہ جاتی آمدن اور زمین کی سالانہ قابلِ تخمینہ مالیت کو براہِ راست آمدن تسلیم کیا گیا اور اسے ریاستی محاصل کے دائرے میں شامل کر دیا گیا، جس سے جائیداد پہلی بار محض ملکیت کے بجائے ایک آمدن پیدا کرنے والا معاشی اثاثہ بن گئی۔

اس قانون کے بعد رئیل اسٹیٹ محض خاندانی وراثت یا سماجی وقار کی علامت نہیں رہی بلکہ ایک کمرشل اثاثہ بن گئی جسے ریاست منافع پیدا کرنے والا یونٹ سمجھنے لگی۔ یوں حکومت پہلی مرتبہ جائیداد سے ہونے والی کمائی میں براہِ راست شریک ہوئی۔

article image

یہ تصویر برطانوی پارلیمنٹ کے منظور کردہ اس تاریخی قانون کا مطبوعہ صفحہ ہے جسے 1799 کا انکم ٹیکس ایکٹ کہا جاتا ہے اور جو بادشاہ جارج سوم کے دورِ حکومت میں جاری ہوا۔ اس دستاویز میں واضح طور پر یہ اعلان درج ہے کہ ریاست کو شہریوں کی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا قانونی اختیار دیا جا رہا ہے، جو اس وقت فرانس کے ساتھ جاری جنگ کے باعث شدید مالی دباؤ کا نتیجہ تھا۔ اسی قانون کے ذریعے پہلی مرتبہ کرایہ جاتی آمدن اور زمین کی سالانہ قابلِ تخمینہ مالیت کو باقاعدہ طور پر ریاستی محاصل کے دائرے میں شامل کیا گیا، جس سے جائیداد محض ملکیت کے تصور سے نکل کر ایک قابلِ حساب معاشی اثاثہ بن گئی۔ یہ صفحہ جدید انکم ٹیکس، رینٹل انکم ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس کے عالمی نظام کی ابتدائی اور بنیادی دستاویزی شہادت سمجھا جاتا ہے اور آج بھی برطانوی قومی آرکائیوز اور پارلیمانی ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

اگرچہ ولیم پٹ نے اس ٹیکس کو عارضی قرار دیتے ہوئے جنگ کے خاتمے پر ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہ قانون 1802 میں وقتی طور پر ختم بھی ہوا، تاہم ریاستی مالی نظم میں اس کی افادیت کے باعث اسے 1803 میں دوبارہ نافذ کیا گیا اور یہی تصور بعد میں انکم ٹیکس، رینٹل انکم ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس کی عالمی بنیاد بنا۔

اس وقت یہ ٹیکس صرف ان افراد پر عائد کیا گیا جن کی سالانہ آمدن ساٹھ پاؤنڈ سے زیادہ تھی، ساٹھ سے دو سو پاؤنڈ تک کم شرح رکھی گئی، جبکہ دو سو پاؤنڈ سے زائد آمدن پر دس فیصد ٹیکس یعنی دو شلنگ فی پاؤنڈ نافذ کیا گیا، جو اس دور کے لحاظ سے ایک جرات مندانہ اور انقلابی قدم سمجھا جاتا ہے۔

اس قانون کے ذریعے ایک نیا فلسفہ سامنے آیا کہ ریاست چونکہ جائیداد کو تحفظ فراہم کرتی ہے، سڑکیں بناتی ہے، نظم و قانون قائم رکھتی ہے اور دیگر سہولیات مہیا کرتی ہے، اس لیے جائیداد سے حاصل ہونے والے منافع میں اس کا حصہ جائز سمجھا گیا۔ یوں شہری اور ریاست کے درمیان ایک سماجی معاہدہ وجود میں آیا جس کے تحت شہری اپنی جائیداد کی آمدن کا ایک حصہ ریاست کو دیتا ہے تاکہ دفاع، جنگی ضروریات اور عوامی فلاح کے کام انجام دیے جا سکیں۔

اسی دور میں پہلی مرتبہ یہ تین تصورات واضح ہوئے جن پر آج کی پوری عالمی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا نظام قائم ہے۔

نمبر 1- پہلا تصور کرایہ جاتی آمدن کا تھا، یعنی اگر کوئی جائیداد کرائے پر دی گئی ہے اور آمدن پیدا کر رہی ہے تو اسے ایک کاروباری سرگرمی سمجھا جائے گا اور اس پر ٹیکس عائد ہوگا۔

2- دوسرا تصور سالانہ مالیت کا سامنے آیا، جس کے مطابق اگر جائیداد کرائے پر نہ بھی ہو تب بھی اس کی ایک ممکنہ سالانہ قیمت ہوتی ہے جسے بنیاد بنا کر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔

3- تیسرا تصور جائیداد کی اصل قیمت یعنی کیپیٹل ویلیو کا تھا، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جائیداد خود بھی ایک معاشی طاقت ہے، صرف اس سے حاصل ہونے والی آمدن ہی نہیں۔

9 جنوری 1799 کے اس قانون نے ریاست کو یہ حق دیا کہ وہ شہریوں سے ان کی آمدن اور جائیداد کی تفصیلات طلب کرے۔ چنانچہ پہلی بار لوگوں کو اپنی آمدن اور اثاثوں کی باقاعدہ معلومات حکومت کو دینا پڑیں، جس سے آج کے ٹیکس ریٹرن اور ڈیکلیریشن کے نظام کی بنیاد پڑی۔ کیونکہ اس سے پہلے جائیداد کا ریکارڈ اکثر پوشیدہ رہتا تھا، مگر ٹیکس کے بعد اسے دستاویزی شکل دینا ناگزیر ہو گیا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس:
▫️مارٹن ڈانٹن، ٹرسٹنگ لیوائیتھن:
‏Daunton, Martin. Trusting Leviathan: برطانیہ میں ٹیکسیشن کی سیاست، 1799 تا 1914، کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2001
Views
47

مزید خبریں "On This Date" سے

news
پاکستان کا رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری ایکٹ مکمل طور پر نافذ ہوا

2019 میں پاکستان نے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری ایکٹ (RERA) کو مکمل طور پر نافذ کیا، جو ملک کی جائیداد مارکیٹ کی جدیدیت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس جامع قانون سازی ن...

مزید پڑھیں
news
کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پہلا منصوبہ بند رہائشی ٹاؤن شپ - شمالی ناظم آباد کا آغاز کیا

14 نومبر 1955 کو کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شمالی ناظم آباد کے نام سے کراچی کے پہلے منصوبہ بند رہائشی ٹاؤن شپ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس منصوبے میں چوڑی سڑکیں، مناس...

مزید پڑھیں
news
برطانیہ نے وینکوور آئی لینڈ کے نظم و نسق چلانے کا اختیار ایک تجارتی کمپنی کے سپرد کر دیا

13 جنوری 1849 کو برطانوی حکومت نے Vancouver Island کا انتظام Hudson’s Bay Company کے سپرد کر دیا۔ اس فیصلے کے تحت حکومت نے خود براہِ راست جزیرے کا انتظام سنبھا...

مزید پڑھیں
news
اقوام متحدہ نے جنوبی ایشیائی انسانی بحران پر اہم اجلاس بلایا

23 نومبر 1971 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جنوبی ایشیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر غور کرنے کے لیے نیویارک میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ پرتشدد واق...

مزید پڑھیں
news
برٹش سرکار نے کولکتہ کی بجائے دہلی کو دارالحکومت بنانے کے لیے نئی دہلی کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظوری دے دی

29 نومبر 1912 کو گورنمنٹ آف انڈیا گزٹ پارٹ ون میں وہ فیصلہ کن نوٹیفکیشن شائع کیا گیا جس نے برطانوی ہند کے نئے دارالحکومت نئی دہلی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی ک...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date