From Real Estate History
The world’s first Ferris Wheel opened at Chicago’s World’s Columbian Exposition. The 80.4-metre landmark became a powerful example of how major urban attractions can raise a city’s global profile and stimulate surrounding commercial development.The original Ferris Wheel, sometimes also referred to as the Chicago Wheel, was designed and built by George Washington Gale Ferris Jr. as the centerpiece of the Midway at the 1893 World's Columbian Exposition in Chicago, Illinois. Since its construction, many other Ferris wheels have been constructed that were patterned after it. Intended as a keystone attraction similar to that of the 1889 Paris Exposition's 324-metre (1,063 ft) Eiffel Tower, the Ferris Wheel was the Columbian Exposition's tallest attraction, with a height of 80.4 metres (264 ft). The Ferris Wheel was dismantled and then rebuilt in Lincoln Park, Chicago, in 1895, and dismantled and rebuilt a third and final time for the 1904 World's Fair in St. Louis, Missouri. It was ultimately demolished in 1906. In 2007, the wheel's 45 foot, 70-ton axle was reportedly discovered buried near where it was demolished
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
دنیا کا پہلا فیرس وہیل گھوم گیا
1893: دنیا کا پہلا فیرس وہیل شکاگو میں منعقد ہونے والی ورلڈز کولمبین ایکسپوزیشن میں کھولا گیا۔ 80.4 میٹر بلند یہ تاریخی تعمیر نہ صرف نمائش کا مرکزی مرکز بنی بلکہ اس نے ثابت کیا کہ بڑے شہری تفریحی منصوبے کسی شہر کی عالمی شناخت مضبوط کرنے اور اردگرد تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس فیرس وہیل کو انجینئر جارج واشنگٹن گیل فیرس جونیئر نے ڈیزائن اور تعمیر کیا تھا۔ اسے شکاگو وہیل بھی کہا جاتا ہے اور یہ 1893 کی نمائش کے مڈوے سیکشن کا نمایاں ترین منصوبہ تھا۔ اس کا تصور 1889 کی پیرس نمائش میں تعمیر ہونے والے ایفل ٹاور کے جواب میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں دنیا بھر میں بننے والے متعدد فیرس وہیل اسی ڈیزائن سے متاثر ہوئے۔
1895 میں اسے کھول کر شکاگو کے لنکن پارک میں دوبارہ نصب کیا گیا، جبکہ 1904 میں اسے سینٹ لوئس کی ورلڈز فیئر کے لیے ایک بار پھر منتقل کیا گیا۔ آخرکار 1906 میں اسے منہدم کر دیا گیا۔ 2007 میں اطلاعات سامنے آئیں کہ اس کا 45 فٹ طویل اور 70 ٹن وزنی مرکزی محور اس مقام کے قریب زمین میں دبا ہوا ملا جہاں اسے منہدم کیا گیا تھا۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
Penn Central, one of America’s major railroad companies, declared bankruptcy. Beyond its rail network, the company held extensive interests in land, terminals, hotels and railway-linked commercial properties. Its collapse triggered the restructuring, sale and redevelopment of major transport-related real estate assets across the northeastern United States.
Penn Central went bankrupt around two and a half years after the merger of the New York Central Railroad and the Pennsylvania Railroad. At the time, it was the largest corporate bankruptcy in American history. The company operated nearly one-third of the country’s passenger trains and a substantial share of freight rail services in the northeastern United States, meaning its financial crisis also had a severe impact on the regional economy.
The bankruptcy was driven by management and business conflicts between the merged companies, redundant rail assets, the movement of industries away from the Rust Belt, and a government condition requiring Penn Central to absorb another already-bankrupt railroad into its system.
In 1976, Conrail, a government-established corporation, took control of major assets from Penn Central and other failed railway companies. Unprofitable rail lines and surplus properties were either sold or abandoned, while Conrail later developed into a profitable enterprise.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
امریکا کی بڑی ریل کمپنی پین سینٹرل نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا۔ کمپنی کے پاس ریل نیٹ ورک کے علاوہ وسیع اراضی، ٹرمینلز، ہوٹلوں اور ریلوے سے منسلک تجارتی جائیدادوں کے مفادات بھی موجود تھے۔ اس کے دیوالیہ ہونے کے بعد امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں ٹرانسپورٹ سے وابستہ اہم رئیل اسٹیٹ اثاثوں کی تنظیم نو، فروخت اور نئے استعمال کا عمل شروع ہوا۔
پین سینٹرل، نیو یارک سینٹرل ریل روڈ اور پنسلوانیا ریل روڈ کے انضمام کے تقریباً ڈھائی سال بعد دیوالیہ ہوئی۔ اس وقت یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا کارپوریٹ دیوالیہ تھا۔ کمپنی ملک کی تقریباً ایک تہائی مسافر ٹرینوں اور شمال مشرقی امریکا میں بڑی مقدار میں مال بردار ریل سروس کی ذمہ دار تھی، اس لیے اس کے بحران نے علاقائی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا۔
دیوالیہ ہونے کی وجوہات میں دونوں کمپنیوں کے انتظامی و کاروباری اختلافات، غیر ضروری اور دہرے ریل اثاثے، رسٹ بیلٹ سے صنعتوں کی منتقلی، اور ایک پہلے سے دیوالیہ ریل کمپنی کو اپنے نظام میں شامل کرنے کی سرکاری شرط شامل تھی۔ 1976 میں حکومت کی قائم کردہ کون ریل نے پین سینٹرل سمیت دیگر ناکام ریل کمپنیوں کے بڑے اثاثے سنبھال لیے۔ غیر منافع بخش لائنیں اور اضافی جائیدادیں فروخت یا ترک کی گئیں، جبکہ کون ریل بعد میں منافع بخش ادارہ بن گئی۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
7 نومبر 1851 کو برطانوی حکومت نے لاہور کنٹونمنٹ کے قیام کا اعلان کیا — جو شمالی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں ابتدائی منظم شہری و فوجی منصوبہ بندی کی نمایاں مثا...
مزید پڑھیں
19 جون 1921 کو برطانیہ میں قومی مردم شماری کی گئی، جسے اپریل سے مؤخر کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت وسیع پیمانے پر صنعتی بے چینی پائی جاتی تھی۔ اس مردم شماری میں آ...
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1863 کو امریکہ میں ایک اہم قانون نافذ ہوا جسے ہوم اسٹیڈ ایکٹ (Homestead Act) کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے پہلی مرتبہ عام شہریوں کو یہ حق دیا کہ وہ حکومت ...
مزید پڑھیں
امریکی سپریم کورٹ نے کیلو بنام سٹی آف نیو لندن کیس میں تاریخی فیصلہ سنایا۔ 5 کے مقابلے میں 4 کے فیصلے سے عدالت نے قرار دیا کہ مقامی حکومت جامع معاشی ترقیاتی م...
مزید پڑھیں
بمبئی میں آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے، اس وقت کے بمبئی کے اہم انگریزی اخبارات The Times of India، Bombay Chronicle اور The Bombay میں یہ خبر 16 جنوری 1926 کو شا...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!