Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

11 January

Home
1 Historical Event found for 11 January
1

11 جنوری 2018

جب سپریم کورٹ کے آرڈر سے سندھ میں رجسٹریوں پر پابندی عاید کی گئی۔

جب سپریم کورٹ کے آرڈر سے سندھ میں رجسٹریوں پر پابندی عاید کی گئی۔

11 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سندھ میں زمینوں کے انتقال، لیز اور الاٹمنٹ پر ایک سخت اور غیر معمولی پابندی عائد کی، جس کے تحت یہ حکم دیا گیا کہ جب تک صوبے کا لینڈ ریونیو ریکارڈ مکمل طور پر کمپیوٹرائز نہیں ہو جاتا، سرکاری زمین کی کوئی الاٹمنٹ، لیز یا انتقال نہیں کیا جائے گا۔

اس عدالتی حکم کے فوراً بعد سندھ بھر کے ریونیو دفاتر میں زمینوں کے انتقال کا عمل تقریباً رک گیا۔ سرکاری زمین کے ساتھ ساتھ خوف اور غیر واضح ہدایات کے باعث نجی زمینوں کے انتقال بھی سست یا معطل ہو گئے۔ کراچی سمیت بڑے شہروں میں پراپرٹی کی خرید و فروخت جمود کا شکار ہو گئی، فائلیں دفاتر میں اٹک گئیں، سرمایہ کار انتظار میں بیٹھ گئے اور مارکیٹ میں شدید غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی۔ یہ صورتحال چند دنوں یا ہفتوں تک محدود نہ رہی بلکہ مہینوں تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں رئیل اسٹیٹ کا پورا نظام عملی طور پر مفلوج ہو گیا، حالانکہ عدالت کا مقصد پوری مارکیٹ کو بند کرنا نہیں بلکہ سرکاری زمین کے غلط استعمال کو روکنا تھا۔

بظاہر اس حکم کا مقصد سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضوں، سیاسی بنیادوں پر الاٹمنٹ اور غیر شفاف ریونیو نظام کا خاتمہ تھا، مگر عملی طور پر یہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے۔ واضح عدالتی حکم کے باوجود لینڈ ریکارڈ کی مکمل کمپیوٹرائزیشن نہ ہو سکی، صوبائی حکومت کوئی مؤثر فریم ورک تشکیل نہ دے سکی، اور چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ معاملہ حکومتی ترجیحات سے باہر ہو گیا۔ چند ماہ بعد مارکیٹ جزوی طور پر پرانے انداز میں چلنے لگی، اور یوں یہ حکم اصلاح کے بجائے پاکستان کی رئیل اسٹیٹ تاریخ میں ایک ناکام تجربہ بن کر رہ گیا۔

آج 11 دسمبر 2026 ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو آٹھ برس گزر چکے ہیں، مگر بنیادی سوال اب بھی موجود ہے کہ اس حکم کا عملی انجام کیا ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی سندھ کا لینڈ ریکارڈ مکمل سطح پر کمپیوٹرائز نہیں ہو سکا۔ کچھ محدود اور نمائشی اقدامات ضرور کیے گئے، مگر نہ وہ صوبہ گیر بن سکے اور نہ ہی ایک مربوط اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل نظام کی شکل اختیار کر پائے۔

دیہی سندھ میں آج بھی پٹواری نظام دستی رجسٹروں کے ساتھ غالب ہے، جبکہ شہری علاقوں میں ریکارڈ آف رائٹس اور رجسٹری کا نظام باہم منسلک نہیں ہو سکا، جس کے باعث جعل سازی، ڈبل رجسٹری اور زمینوں کے تنازعات بدستور موجود ہیں۔ اگر لینڈ ریکارڈ واقعی کمپیوٹرائز ہو چکا ہوتا تو شہری کو فرد، انتقال اور ملکیت کے لیے ریونیو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑتے اور نہ ہی قبضوں اور جعلی الاٹمنٹس کا بازار گرم رہتا۔

یہ عدالتی فیصلہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا چیف جسٹس اس زمینی حقیقت سے ناواقف تھے کہ پورے صوبے کی زمینوں کی کمپیوٹرائزیشن ایک طویل، پیچیدہ اور کثیر النسلی عمل ہے۔ سندھ جیسے صوبے میں، جہاں لاکھوں ایکڑ زرعی و شہری زمین، دہائیوں پر محیط دستی ریکارڈ، پرانے تنازعات، گوٹھ سسٹم اور متوازی ملکیتی دعوے موجود ہوں، وہاں زمینوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے میں کئی سال درکار ہوتے ہیں، نہ کہ چند ہفتے۔

رئیل اسٹیٹ کے تناظر میں اس فیصلے کی تین بنیادی خامیاں تھیں: عدالت نے بغیر ٹائم لائن، وسائل اور عمل درآمد کے فریم ورک کے ایک انتظامی شرط عائد کر دی؛ پالیسی نوعیت کا فیصلہ دے کر ان اداروں کو واضح ہدایات نہ دیں جو اس پر عملدرآمد کے ذمہ دار تھے؛ اور مارکیٹ کے منجمد ہونے کی صورت میں کوئی عبوری قانونی راستہ فراہم نہ کیا۔ نتیجتاً نہ اصلاح ہوئی اور نہ نظام بہتر، بلکہ بے یقینی میں اضافہ ہوا۔

قانونی طور پر یہ حکم صرف سرکاری زمین تک محدود تھا اور نجی زمین کے سودے اس کی زد میں نہیں آتے تھے، مگر چونکہ سندھ میں سرکاری اور نجی زمین کا ریکارڈ ایک ہی ریونیو نظام کے تحت چلتا ہے، اس لیے ریونیو افسران نے توہینِ عدالت کے خوف سے نجی زمینوں کے انتقال بھی روک دیے یا انتہائی سست کر دیے۔ یوں عملی طور پر پوری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بند ہو گئی۔

ریفرنس:
▫️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا از خود نوٹس حکم، 11 دسمبر 2018، سندھ میں سرکاری زمین کے انتقال، لیز اور الاٹمنٹ پر پابندی، سپریم کورٹ رجسٹری، اسلام آباد
Views
15

مزید خبریں "On This Date" سے

news
ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو ہجوم نے شہید کر دیا۔

6 دسمبر 1992 کو بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو ایک ہجوم کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ برصغیر کی جدید تاریخ میں مسلمانوں کے لیے ایک ش...

مزید پڑھیں
news
23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے دیہی علاقوں میں شاملات اراضی کی ملکیت کا قانون نافذ کر دیا گیا

23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان نے پنجاب اراضی تصرفات تحفظِ شاملات آرڈیننس 1959 (Punjab Land Dispositions Saving of Shamil...

مزید پڑھیں
news
پاکستان نے کراچی کی کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے اور اپگریڈ کرنے کی پالیسی کی منظوری دی

5 نومبر 1987 کو پاکستان کی حکومت نے کراچی کی کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے اور بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی رہائشی پالیسی منظور کی۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں ...

مزید پڑھیں
news
گجرات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے شہری پھیلاؤ کو منظم کرنے کے لیے ماڈل ٹاؤن گجرات ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا

15 نومبر 1986 کو گجرات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے بڑھتی ہوئی آبادی اور منظم رہائشی توسیع کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماڈل ٹاؤن گجرات ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا۔ 1980 ک...

مزید پڑھیں
news
لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کی جنگی حالات میں ازسرِنو شہری منصوبہ بندی

اکتوبر 1939 میں جب دوسری عالمی جنگ کے بادل برصغیر پر چھا گئے، لاہور برطانوی پنجاب کا نہ صرف انتظامی مرکز تھا بلکہ فوجی و تجارتی سرگرمیوں کا بھی اہم گڑھ تھا۔ ا...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date