Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

26 November

Home
2 Historical Event found for 26 November
1

26 نومبر 1947

تقسیم کے بعد جائیدادوں کی باقاعدہ منتقلی کا تاریخی آغاز

تقسیم کے بعد جائیدادوں کی باقاعدہ منتقلی کا تاریخی آغاز

تقسیم ہند کے بعد لاکھوں افراد کی ہجرت کے نتیجے میں چھوڑی گئی جائیدادوں کے انتظام کا سنگین بحران پیدا ہوا تھا۔ مغربی پنجاب میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے 26 نومبر 1947 کو ایوکیوئی پراپرٹی کے پہلے بڑے سروے کی بنیاد پر قابلِ انتقال املاک کی فائنل لسٹ جاری کی گئی، جس نے مہاجرین کی آبادکاری اور شہری و دیہی زمینوں کی نئی ملکیت کے ڈھانچے کو متعین کیا۔

ابتدائی اقدامات کے تحت 29 اگست 1947 کو “کیسٹوڈین آف ریفیوجیز پراپرٹی” کا نظام قائم کیا گیا تھا، جس کے بعد 23 ستمبر 1947 کو ویسٹ پنجاب حکومت نے Administration of Evacuee Property Act نافذ کیا۔ اس قانون کا مقصد ایوکیوئی جائیدادوں کی حفاظت، ان کی فہرست سازی اور فوری الاٹمنٹ کے انتظامات تھے۔

Views
2
2

26 نومبر 1960

سی ڈی اے نے شہر کے پہلے سیکٹر باؤنڈری میپ کی منظوری دے دی

سی ڈی اے نے شہر کے پہلے سیکٹر باؤنڈری میپ کی منظوری دے دی

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے آج پاکستان کے نئے منصوبہ بند دارالحکومت اسلام آباد کے پہلے سرکاری سیکٹر باؤنڈری میپ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ایف (F)، جی (G)، آئی (I) اور ایچ (H) سیریز کے سیکٹروں کے لیے دی گئی ہے، جو شہر کے ماسٹر پلان کی بنیادی اکائیوں میں شمار ہوں گے۔ سی ڈی اے کے چیئرمین میجر جنرل یحییٰ خان نے اس منظوری کو “شہر کی مستقبل کی ترقی کا بنیادی نقشہ” قرار دیا ہے۔

یہ فیصلہ سی ڈی اے کی تشکیل کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ اتھارٹی جون 1960 میں صدر ایوب خان کے حکم پر قائم کی گئی تھی، جسے اسلام آباد کی تعمیر، اراضی کے حصول، ترقیاتی کاموں اور ضابطوں کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی۔ یونانی ماہر شہر ساز کمپنی ڈوکسیاڈیس ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ ماسٹر پلان کے مطابق شہر کو گرڈ آئرن نظام میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ہر سیکٹر تقریباً دو کلومیٹر ضرب دو کلومیٹر کے مربع پر مشتمل ہوگا اور چار سب سیکٹروں میں تقسیم ہوگا۔

سیکٹروں کی تفصیلات اور منصوبہ ▫بندی

ایف سیریز (F Series)▫

یہ سیکٹرز بنیادی طور پر رہائشی علاقوں کے لیے مختص ہیں۔ ایف 6 اور ایف 7 جیسے سیکٹرز میں سرکاری ملازمین کی رہائش کے ابتدائی انتظامات کیے جائیں گے۔ گرین بیلٹس، پارکس، پیدل راستے اور مقامی سہولیات ہر سیکٹر کا لازمی حصہ ہوں گے۔

جی سیریز (G Series)▫

جی 6 کو اسلام آباد کا پہلا مکمل رہائشی سیکٹر قرار دیا گیا ہے، جو 1960 کے آخر تک تیار ہونے کی امید ہے۔ یہاں مارکیٹس، سکولوں، مساجد اور ہسپتالوں کی تعمیر ماسٹر پلان کے مطابق کی جا رہی ہے۔ جی سیریز شہر کے مرکزی حصے میں واقع ہے اور انتظامی دفاتر سے قریب ہے۔

آئی سیریز (I Series)▫

یہ سیکٹرز صنعتی، کمرشل اور ٹرانسپورٹ سرگرمیوں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ آئی 8 سے آئی 17 تک کے علاقوں میں چھوٹی صنعتیں، کاروباری دفاتر، اور ٹرانسپورٹ ہبس قائم کیے جائیں گے۔ یہ اسلام آباد کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہوں گے۔

ایچ سیریز (H Series)▫

ایچ 8 سے ایچ 17 تک کے سیکٹرز اعلیٰ تعلیم، ہسپتالوں اور جدید رہائش کے لیے مختص ہیں۔ یہاں یونیورسٹیاں، تحقیقاتی ادارے اور تفریحی مراکز شامل ہوں گے۔ سی ڈی اے کے مطابق ایچ سیریز اسلام آباد کو ایک علمی و صحت کے مرکز میں تبدیل کرے گی۔

شہر کی منصوبہ بندی کا ڈھانچہ▫

سی ڈی اے کے مطابق باؤنڈری میپ کی منظوری سے شہر کی یکساں اور سائنسی بنیادوں پر ترقی ممکن ہو سکے گی۔ ماسٹر پلان میں “ڈائناپولیس” (Dynapolis) کا تصور شامل ہے، جس کے تحت شہر شمال مشرق سے جنوب مغرب تک منظم توسیع کے قابل ہوگا۔ ہر سیکٹر کے گرد گرین بیلٹس آلودگی اور شور سے تحفظ فراہم کریں گی۔

شہر کے روڈ نیٹ ورک کو درج ذیل درجہ بندی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے:

– سو فٹ چوڑی ڈبل روڈز

– اسی فٹ چوڑی سنگل روڈز

– پیدل سفر کے لیے علیحدہ راستے

تاریخی پس منظر اور اہمیت▫

1959 میں کراچی کے بجائے نیا دارالحکومت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ راولپنڈی کے قریب موجود خطہ ماہرین کے مطابق موسمی، جغرافیائی اور دفاعی طور پر موزوں تھا۔ ڈوکسیاڈیس ایسوسی ایٹس نے مئی 1960 میں ابتدائی ماسٹر پلان پیش کیا، جس کے فوراً بعد سی ڈی اے قائم کی گئی۔

صدر ایوب خان کے مطابق “اسلام آباد نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا ایک ماڈل شہر ہوگا، جہاں جدید ترقی، قدرتی ماحول اور شہری ضرورتوں کا توازن قائم ہوگا۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکٹر باؤنڈری میپ کی منظوری اسلام آباد کی طویل المدتی شہری شناخت کا پہلا بنیادی قدم ہے۔

چیلنجز اور مستقبل کے منصوبے▫

سی ڈی اے کے مطابق تعمیرات کے آغاز میں اراضی کے حصول، فنڈنگ اور مشینری کی فراہمی کے چیلنجز موجود ہیں، لیکن حکومتی حمایت کے بعد منصوبہ تیزی سے مکمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں ایف 6 اور جی 6 پر ترقیاتی کام شروع کیے جائیں گے اور 1963 تک بنیادی تعمیر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ منصوبہ بندی کے اصولوں کے مطابق تعاون کریں تاکہ اسلام آباد کو دنیا کے بہترین دارالحکومتوں میں شامل کیا جا سکے۔

Views
5

مزید خبریں "On This Date" سے

news
دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کا باضابطہ افتتاح ہوا۔

جس عمارت کو آج دنیا Burj Khalifa کے نام سے جانتی ہے، اس منصوبے کا آغاز ابتدا میں برج دبئی کے نام سے کیا گیا تھا۔ تاہم ایک اہم اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس عمارت ...

مزید پڑھیں
news
برطانوی حکومت نے لاہور کنٹونمنٹ قائم کیا پنجاب میں نوآبادیاتی شہری منصوبہ بندی کی بنیاد

7 نومبر 1851 کو برطانوی حکومت نے لاہور کنٹونمنٹ کے قیام کا اعلان کیا — جو شمالی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں ابتدائی منظم شہری و فوجی منصوبہ بندی کی نمایاں مثا...

مزید پڑھیں
news
23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے دیہی علاقوں میں شاملات اراضی کی ملکیت کا قانون نافذ کر دیا گیا

23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان نے پنجاب اراضی تصرفات تحفظِ شاملات آرڈیننس 1959 (Punjab Land Dispositions Saving of Shamil...

مزید پڑھیں
news
امریکہ میں پہلے 'انسٹیٹیوشنل مارگیج' کی شروعات

27 اکتوبر 1835 کو، پہلا باضابطہ انسٹیٹیوشنل مارگیج سسٹم 'Terminating Building Societies' (TBS) کے ذریعے امریکہ میں ابھرا، جو غیر رسمی پراپرٹی لین دین سے منظم ہو...

مزید پڑھیں
news
ٹوکیو میٹروپولیٹن حکومت نے شہری سیلاب سے بچاؤ کا ابتدائی انفراسٹرکچر بلیو پرنٹ متعارف کرایا

21 نومبر 1979 کو ٹوکیو میٹروپولیٹن حکومت نے شہری سیلاب سے بچاؤ کے لیے ایک جامع انفراسٹرکچر بلیو پرنٹ جاری کیا، جو اُس دہائی کے مسلسل طوفانوں اور بڑھتی شہری آباد...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date