Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

en

8 Historical Event found

زمین، انسان اور جنگلی حیات کے مطالعے کے لیے نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا قیام

27 جنوری 1888 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل جیوگرافک سوسائٹی قائم کی گئی۔ اس ادارے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کی زمینوں، پہاڑوں، دریاؤں، شہروں، مختلف علاقوں اور ان میں آباد انسانی اور جنگلی حیات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور ان کے نقشے تیار کیے جائیں۔ اس سے پہلے لوگ زمین کو محض ایک جگہ سمجھتے تھے، لیکن نیشنل جیوگرافک نے یہ تصور متعارف کرایا کہ زمین کو ناپا جا سکتا ہے، اس کا درست ریکارڈ رکھا جا سکتا ہے، اور یہ جانچا جا سکتا ہے کہ کون سی زمین کس استعمال کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اسی علمی کام کے نتیجے میں بعد ازاں یہ سمجھ پیدا ہوئی کہ شہروں کو کہاں پھیلانا چاہیے، سڑکیں کہاں بننی چاہئیں، زراعت کہاں بہتر ہو سکتی ہے اور زمین کی قیمت کیسے طے ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں، نیشنل جیوگرافک نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ زمین صرف مٹی نہیں ہوتی بلکہ ایک قیمتی اثاثہ ہوتی ہے، جس کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ نیشنل جیوگرافک نے ابتدائی طور پر زمین کے درست نقشے تیار کیے، زمین کی صحیح پیمائش کی، اور یہ واضح کیا کہ کسی علاقے کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں ختم ہوتی ہیں، جسے زمین کی حد بندی کہا جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کون سی زمین رہائش کے لیے بہتر ہے، کون سی کھیتی باڑی کے لیے، اور کون سی صنعت یا سڑکوں کے لیے استعمال ہونی چاہیے، جسے زمین کے استعمال کی درجہ بندی کہا جاتا ہے۔ جب یہ تمام پہلو واضح ہوئے تو شہروں کی منصوبہ بندی کے ساتھ توسیع، علاقوں کی زوننگ، اور زمین سے متعلق قوانین کی تشکیل میں آسانی پیدا ہوئی۔ لوگوں کو یہ سمجھ آنے لگی کہ شہر اکثر دریاؤں، ساحلوں، پہاڑوں، راستوں اور قدرتی وسائل کے قریب کیوں بنتے ہیں، اور کیوں کچھ مقامات زیادہ اہم اور قیمتی ہو جاتے ہیں، جنہیں اسٹریٹجک لوکیشن کہا جاتا ہے۔ نیشنل جیوگرافک نے یہ بھی واضح کیا کہ زمین کی قیمت محض جگہ کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق وہاں موجود خصوصیات سے ہوتا ہے، جیسے پانی کا نظام، مٹی کی زرخیزی اور معدنی وسائل کی دستیابی۔ اس طرح زمین کی معاشی قدر اور اس پر سرمایہ کاری کی صلاحیت کو جانچنے کا ایک سائنسی طریقہ سامنے آیا۔ [img:Images/otd-27-jan-2nd.jpeg | desc:نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا مشہورِ زمانہ میگزین National Geographic دستاویزی اور تحقیقی صحافت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس میگزین کے یہ تین سرورق اس کے فکری سفر کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں فطرت، انسان اور ماحول کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موضوعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے یہ تینوں سرورق نیشنل جیوگرافک کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کو دکھاتے ہیں۔ پہلا سرورق جنگلی جانوروں اور قدرتی ماحول کی بات کرتا ہے، دوسرا انسان اور جنگ سے جڑی مشکلات کو دکھاتا ہے، اور تیسرا آج کے دور کے ماحولیاتی مسئلے، خاص طور پر پلاسٹک کی آلودگی، کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان سب کا ایک ہی پیغام ہے کہ زمین، انسان اور ماحول آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔] بعد ازاں جب ہوائی جہازوں سے تصویریں لینے کا عمل شروع ہوا، یعنی فضائی فوٹوگرافی، اور پھر سیٹلائٹ کے ذریعے مشاہدہ ممکن ہوا تو زمین سے متعلق جغرافیائی ڈیٹا مزید درست ہوتا چلا گیا۔ اسی بنیاد پر آج کے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ اور جدید لینڈ ایڈمنسٹریشن کے نظام وجود میں آئے۔ سادہ الفاظ میں، نیشنل جیوگرافک نے دنیا کو یہ سکھایا کہ زمین صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک جغرافیائی اثاثہ اور وسائل پر مبنی سرمایہ ہے، جسے سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی سوچ آج بھی رئیل اسٹیٹ ویلیوایشن، شہری توسیع اور پالیسی سازی کی بنیاد بنی ہوئی ہے۔ نیشنل جیوگرافک کو دنیا بھر میں جانوروں، جنگلات، زمینوں، سمندروں اور قدرتی ماحول پر کی گئی فوٹوگرافی، ڈاکیومنٹریز اور تحقیقی کام کی وجہ سے بھی سراہا جاتا ہے۔ نقشہ سازی بھی نیشنل جیوگرافک کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے، جس میں اس ادارے نے وقت کے ساتھ خاص مہارت حاصل کی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی نے اپنے معروف اور عالمی سطح پر مشہور میگزین نیشنل جیوگرافک کے ذریعے ایسے نقشے شائع کیے جو واضح انداز، درست معلومات اور گہری تحقیق پر مبنی ہوتے تھے۔ یہ نقشے روزمرہ سرکاری استعمال کے لیے نہیں تھے بلکہ دنیا، مختلف خطوں، سمندروں، سرحدوں اور قدرتی نظام کو سمجھانے کے لیے تیار کیے جاتے تھے۔ اسی لیے تعلیمی اداروں، محققین اور عام قارئین نے انہیں بڑے اعتماد کے ساتھ استعمال کیا۔ یوں اگرچہ نقشہ سازی نیشنل جیوگرافک کا مرکزی کام نہیں تھی، مگر اس کے میگزین میں شائع ہونے والے معیاری نقشوں نے اس ادارے کی ساکھ کو مضبوط کیا اور اسے عالمی سطح پر ایک معتبر اور سنجیدہ علمی ادارے کے طور پر شناخت دلائی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی قائم کرنے کا خیال 1888 میں واشنگٹن ڈی سی میں چند ماہرینِ جغرافیہ، سائنس دانوں اور دانشوروں کو آیا، جن میں سب سے نمایاں نام گارڈنر گرین ہبارڈ کا تھا، جو اس کے پہلے صدر بنے۔ ان افراد کا مقصد یہ تھا کہ دنیا، زمین، فطرت اور انسان کے باہمی تعلق کو سائنسی بنیادوں پر سمجھا اور سمجھایا جائے۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی ایک غیر منافع بخش، عوامی اور تعلیمی ادارہ ہے جو کسی حکومت کے تحت نہیں چلتا۔ اس کی مالی معاونت عوامی عطیات، ممبرشپ فیس، اشاعتی اور میڈیا آمدن، اور تحقیقی گرانٹس سے ہوتی ہے۔ انہی ذرائع سے اس کا اسٹاف، تحقیق، ڈاکیومنٹریز اور فیلڈ ورک چلایا جاتا ہے۔ اسی خود مختار حیثیت کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں ایک آزاد، معتبر اور غیر جانبدار علمی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

جنوبی افریقہ کی معدنی زمین سے دنیا کا سب سے بڑے ہیرا دریافت

26 جنوری 1905 کو جنوبی افریقہ کی پریمیئر مائن میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرا کولینن (Cullinan) دریافت ہوا، جس نے اس کان اور اس کے اردگرد کی زمین کی قدر کو راتوں رات غیر معمولی حد تک بڑھا دیا۔ یہ ہیرا وزن میں 3106 قیراط تھا اور آج تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا جیم کوالٹی ہیرا مانا جاتا ہے۔ 1907 میں اس وقت کی Transvaal حکومت نے اسے برطانوی بادشاہ ایڈورڈ ہفتم کو باضابطہ طور پر ریاستی تحفے (official state gift) کے طور پر پیش کیا۔ یہ پیشکش برطانوی شاہی اور نوآبادیاتی سرکاری دستاویزات میں درج ہے اور اسے قانونی طور پر تحفہ تسلیم کیا گیا۔ 1908 میں کولینن ڈائمنڈ کو تراش کر متعدد شاہی ہیروں میں تقسیم کیا گیا، جس سے 9 بڑے اور 96 چھوٹے ہیرے تیار ہوئے۔ ان میں سب سے نمایاں Cullinan I ہے جو دنیا کا سب سے بڑا تراشیدہ ہیرا ہے اور برطانوی شاہی عصا Sovereign’s Sceptre میں نصب ہے، جبکہ Cullinan II برطانوی شاہی تاج Imperial State Crown کا حصہ بنا۔ [img:Images/otd-26-jan-2nd.jpeg | desc:شہنشاہ چارلس سوم کی تاجپوشی کی تقریب اور بعد ازاں سرکاری تقاریب کے دوران کی ان تصاویر میں جو ہیرے نظر آ رہے ہیں، وہ اسی کولینن ڈائمنڈ کے نمایاں حصے ہیں جو آج Crown Jewels کا حصہ ہیں اور Tower of London میں محفوظ ہیں۔ تصاویر کے بائیں جانب دکھایا گیا تاج Imperial State Crown ہے، جس کے سامنے نصب بڑا ہیرا Cullinan II کہلاتا ہے۔ یہ اصل کولینن ڈائمنڈ کا دوسرا سب سے بڑا تراشیدہ حصہ ہے اور برطانوی تاج میں مستقل طور پر نصب ہے، جسے بادشاہ پارلیمنٹ کے افتتاح اور دیگر رسمی مواقع پر پہنتا ہے۔ اسی طرح تصاویر کے دائیں جانب دکھایا گیا شاہی عصا Sovereign’s Sceptre with Cross ہے، جس میں نصب دل نما ہیرا Cullinan I ہے، جسے Great Star of Africa بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا تراشیدہ جِم کوالٹی ہیرا ہے اور تاجپوشی کے موقع پر بادشاہ کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے، جو شاہی اختیار اور ریاستی اقتدار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ (سید شایان۔ آرکائیو ہیڈ)] کولینن ہیرا جس پریمیئر مائن سے دریافت ہوا وہ ایک Kimberlite pipe پر قائم تھی۔ کمبرلائٹ دراصل ایک گہری آتش فشانی چٹان ہوتی ہے جو زمین کی انتہائی گہرائی سے پھٹ کر اوپر آتی ہے اور اپنے ساتھ ہیرے اور دیگر قیمتی معدنیات کو سطح کے قریب لے آتی ہے۔ کمبرلائٹ پائپس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ لاکھوں کروڑوں سال پرانی ہوتی ہیں اور صرف چند مخصوص جغرافیائی خطوں میں پائی جاتی ہیں، اسی لیے ایسی زمین کی مارکیٹ ویلیو عام زمین کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی کمبرلائٹ پائپس یا کمبرلائٹ چٹانوں کے شواہد بلوچستان کے علاقوں خاران، چاغی اور نوشکی جبکہ شمالی پاکستان میں چترال اور کوہستان بیلٹ کے بعض حصوں میں رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم اب تک ان میں کہیں بھی ہیرا بردار کمبرلائٹ تجارتی سطح پر ثابت نہیں ہو سکی۔ جیولوجیکل سرویز کے مطابق ان علاقوں میں معدنیاتی امکانات تو کثرت سے موجود ہیں، لیکن ہیرے کی وہ مقدار اور معیار دریافت نہیں ہوا جو کسی علاقے کو عملی طور پر اعلیٰ معدنی جائیداد میں تبدیل کر سکے۔

مزید پڑھیں

انگولا کے شہر اور دارلحکومت لوانڈا کا قیام

25 جنوری 1575 وہ تاریخی دن ہے جب پرتگالی مہم جو اور نوآبادیاتی منتظم Paulo Dias de Novais نے افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع شہر لوانڈا ( Luanda) ) کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔ اس شہر کا ابتدائی نام São Paulo da Assunção de Loanda رکھا گیا جو بعد ازاں مختصر ہو کر لوانڈا کہلایا۔ جب Paulo Dias de Novais نے 1575 میں لوانڈا کی بنیاد رکھی تو یہ چند سو افراد پر مشتمل ایک چھوٹی نوآبادیاتی بندرگاہی بستی تھی جس میں اندازاً 300 سے 500 افراد شامل تھے جن میں پرتگالی فوجی، انتظامی اہلکار، مذہبی مشنری اور مقامی معاونین موجود تھے، یہ بستی بنیادی طور پر ایک فوجی قلعے، محدود رہائشی عمارتوں، گوداموں اور بندرگاہی سہولتوں پر مشتمل تھی اور اس کی تعمیر پرتگالی ریاست کی سرپرستی، فوجی بجٹ اور نوآبادیاتی تجارت کے مستقبل کے معاشی مفادات کے تحت کی گئی، یعنی یہ ایک ریاستی اسٹریٹجک سرمایہ کاری تھی جس کا مقصد بحر اوقیانوس کی تجارت پر کنٹرول تھا لیکن وقت کے ساتھ پھیل کر ایک بڑا شہر بنا۔ پرتگالی حکومت نے اسے فوجی تحفظاور تمام نظم و نسق کی سہولیات فراہم کیں، چنانچہ وقت کے ساتھ یہ شہر یورپ اور افریقہ کے درمیان تجارت کا مرکزی دروازہ بن گیا، بندرگاہ کے گرد گودام، بازار اور رہائشی علاقے پھیلتے گئے، زمین کی قدر بڑھتی چلی گئی اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، بعد کی صدیوں میں تیل اور توانائی کی معیشت نے اسے مزید مضبوط کیا، اسی لیے آج یہ افریقہ کے بڑے اور اہم شہروں میں شامل ہے اور انگولا کا دارالحکومت بھی۔ انگولا جب 1975 میں پرتگال سے آزاد ہوا تو لوانڈا پہلے ہی ایک مکمل انتظامی، فوجی، بندرگاہی اور معاشی مرکز بن چکا تھا۔ نوآبادیاتی دور میں تمام سرکاری دفاتر، بندرگاہ، سڑکیں، رہائشی زونز، کاروباری ڈھانچہ اور بین الاقوامی روابط اسی شہر میں مرتکز تھے، اس لیے آزادی کے فوراً بعد کسی نئے دارالحکومت کی منصوبہ بندی نہ تو عملی طور پر ممکن تھی اور نہ ہی معاشی طور پر۔اس لیے روز اول ہی سے اسے نوزائید ملک کے کیپیٹل کی حیثیت مل گئی لوانڈا دراصل تین اپنی تین سطحوں سے پہچانا جاتا ہے پہلی سطح پر یہ انگولا کا دارالحکومت ہے جہاں صدر، کابینہ، فوجی کمان، سفارت خانے اور قومی ادارے قائم ہیں، دوسری سطح پر لوانڈا انگولا کی تیل پر مبنی معیشت کا دل ہے، ملک کی زیادہ تر آئل ریونیو، غیر ملکی کمپنیاں، لاجسٹکس اور فنانشل سرگرمیاں اسی شہر سے جڑی ہوئی ہیں، جس نے اسے ایک تیز رفتار مگر مہنگا میٹروپولیٹن شہر بنا دیا ہے۔ تیسری اور سب سے اہم سطح پر لوانڈا ایک تاریخی بندرگاہی شہر ہے جو 16ویں صدی سے آج تک عالمی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

دریائے ٹیمز کے کنارے قدیم مصری ستون Cleopatra’s Needle عوام کے لیے کھول دیا گیا

لندن: 21 جنوری 1878 کو قدیم مصر سے تعلق رکھنے والا مشہور پتھریلا ستون Cleopatra’s Needle باضابطہ طور پر لندن کے شہری اور عوامی علاقے کی زینت بن گیا۔ اس دن یہ ستون دریائے ٹیمز کے کنارے واقع Victoria Embankment پر مکمل طور پر نصب ہونے کے بعد عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ ستون تقریباً 1450 قبل مسیح میں مصر کے شہر ہلیوپولس میں بنایا گیا تھا۔ بعد میں مصر نے اسے برطانیہ کو تحفے کے طور پر دیا۔ اگرچہ اس ستون کو مصر سے لندن لانے اور یہاں نصب کرنے میں کئی سال لگے، لیکن 21 جنوری 1878 وہ دن ہے جب اسے عملی طور پر لندن کی عوامی زمین پر ایک مستقل یادگار کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس وقت Victoria Embankment لندن کے جدید شہری منصوبوں میں شمار ہوتا تھا۔ Cleopatra’s Needle کی تنصیب سے یہ علاقہ صرف سڑک اور دریا تک محدود نہ رہا بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی مقام بن گیا، جس سے اس زمین کی اہمیت اور پہچان میں اضافہ ہوا۔ قدیم مصری تہذیب میں یہ ستون Cleopatra’s Needle مصر کی شاہی طاقت، ریاستی نظم اور مذہبی عقیدے کی علامت تھا۔ اسے تقریباً 1450 قبل مسیح میں فرعون تحتمس سوم کے دور میں بنایا گیا اور اس پر کندہ تحریریں مصر کے طاقتور فرعونوں، ان کی فتوحات اور دیوتاؤں سے وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایسے ستون اس دور میں اہم شہروں، مذہبی مراکز اور شاہی مقامات پر نصب کیے جاتے تھے تاکہ ریاست کی عظمت سب کے سامنے رہے۔ یہ ستون قلوپطرہ کے نام سے اس لیے مشہور ہوا کیونکہ جب اسے قدیم زمانے میں مصر کے شہر اسکندریہ میں رکھا گیا تو وہ جگہ قلوپطرہ کے محل کے قریب سمجھی جاتی تھی۔ بعد میں جب یورپی لوگ مصر آئے تو وہ فرعونوں کے ناموں سے زیادہ قلوپطرہ کو جانتے تھے، اس لیے انہوں نے اس قدیم ستون کو اسی کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قلوپطرہ نے نہ یہ ستون بنوایا تھا اور نہ اس کا اس سے کوئی براہ راست تعلق تھا۔ یہ نام صرف آسان پہچان اور مشہور شخصیت کی وجہ سے رائج ہو گیا اور پھر یہی نام لندن اور دوسرے ملکوں میں بھی محفوظ رہ گیا۔

مزید پڑھیں

جب تھامس ایڈیسن نے پہلی بار بجلی کو گھروں اور شہری آبادی تک پہنچانے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا۔

اگرچہ 1879 میں ایڈیسن نے بجلی کا بلب تیار کر لیا تھا اور 1882 میں انہوں نے نیویارک میں Pearl Street Power Station کے ذریعے کمرشل سطح پر عوامی مقامات کو روشن بھی کیا تھا، مگر اس وقت تک بجلی کا استعمال چند عمارتوں اور محدود علاقوں تک ہی تھا۔ 19 جنوری 1883 کو امریکی ریاست نیو جرسی کے قصبے Roselle میں اوور ہیڈ وائرنگ، یعنی کھمبوں پر نصب تاروں کے ذریعے، بجلی کو ایک آباد بستی تک پہنچایا گیا۔ اس منصوبے میں First Presbyterian Church, Roselle پہلی عوامی عمارت تھی جسے اس نظام کے تحت روشن کیا گیا، اور خود ایڈیسن اس تنصیب کی نگرانی میں موجود تھے۔ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ بجلی اب محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ گھروں، گلیوں، سڑکوں اور بازاروں کو بھی رات کے وقت روشن کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے زیرِ زمین وائرنگ اتنی مہنگی تھی کہ بجلی صرف چند امیر افراد یا محدود تجارتی اداروں تک ہی قابلِ رسائی سمجھی جاتی تھی، جبکہ کھمبوں پر تاریں بچھانا نسبتاً سستا اور بڑے پیمانے پر ممکن تھا۔ ایڈیسن کی عظمت کا اصل راز صرف برقی بلب ایجاد کرنے میں نہیں بلکہ اپنی اس ایجاد کو فعال شہری نظام میں ڈھالنے کی صلاحیت میں پوشیدہ تھا۔ اگرچہ نکولا ٹیسلا کے پاس بجلی کو طویل فاصلوں تک منتقل کرنے کے انقلابی نظریات موجود تھے، لیکن ایڈیسن وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بجلی کو تجربہ گاہوں سے نکال کر شہری آبادیوں اور عام انسان کے گھر تک پہنچانے کا عملی نمونہ فراہم کیا۔ ایڈیسن نے صرف بلب ایجاد نہیں کیا بلکہ بجلی کی پیداوار، ترسیل، پیمائش اور حفاظت کے تمام مراحل کو یکجا کر کے ایک ایسا منظم نظام پیش کیا جس نے انسانی معاشرے سے اندھیرے ختم کرنے میں رہنمائی فراہم کی۔ [img:Images/otd-19-jan-2nd.jpeg | desc:یہ دو تصاویر امریکی ریاست نیو جرسی کے قصبے Roselle کی اور ابتدائی بجلی کی سپلائی کے مکمل نظام کی عوامی نمائش کو تاریخی طور پر مستند انداز میں پیش کرتی ہیں۔ Roselle وہی بستی ہے جہاں 19 جنوری 1883 کو تھامس ایڈیسن کے اوور ہیڈ وائرنگ سسٹم کے ذریعے پہلی بار گھروں تک بجلی پہنچائی گئی، جبکہ نمائش کی تصویر میں تھامس ایڈیسن کی بجلی کی سپلائی کے پورے نظام کو بلب، تاروں اور آلات سمیت عوام کے سامنے پیش کیا گیا] عام طور پر لوگ ایڈیسن کو صرف ایک موجد کے طور پر جانتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک عظیم سسٹم انجینئر اور کاروباری مفکر بھی تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ اگر بلب بنا بھی لیا جائے مگر گھروں میں بجلی موجود نہ ہو تو وہ بلب محض ایک کھلونا ہی رہے گا۔ اسی لیے بلب کی ایجاد کے بعد ایڈیسن کے سامنے اصل سوال بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کا مکمل نظام قائم کرنا تھا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے بلب کے بعد پاور اسٹیشن، وائرنگ اور تقسیم کے نظام پر کام کیا تاکہ بجلی تجربہ گاہوں یا امیر طبقے تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری زندگی کا حصہ بن سکے۔ تاریخ دان اس نکتے پر متفق ہیں کہ ایڈیسن کا اصل کارنامہ محض بلب ایجاد کرنا نہ تھا بلکہ بجلی کو ترسیل کرنے کے سسٹم میں ڈھالنا تھا۔ ایڈیسن نے بجلی کو ایک انفرادی ایجاد سے نکال کر باقاعدہ گرڈ سسٹم کی شکل دی۔ انہوں نے بجلی کے میٹر، فیوز، سوئچ، جنریٹر اور تقسیم کے تمام ضروری اجزا تیار کیے، جن کے بغیر بجلی عام استعمال میں نہیں آ سکتی تھی۔ اسی سوچ کا عملی اظہار 1882 میں نیویارک کے پرل اسٹریٹ اسٹیشن کی صورت میں ہوا، جس نے پہلی بار یہ ثابت کیا کہ ایک مرکزی مقام پر بجلی پیدا کر کے اسے زیرِ زمین تاروں کے ذریعے پورے شہری بلاک میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور یہی ماڈل بعد میں دنیا بھر کے پاور گرڈز کی بنیاد بنا۔ اس کے بعد نیو جرسی میں اوور ہیڈ وائرنگ کا تجربہ ایک اہم قدم ثابت ہوا، کیونکہ کھمبوں پر تاریں بچھانا سستا بھی تھا اور دور دراز شہری آبادی تک بجلی پہنچانے میں زیادہ مؤثر بھی، جس سے بجلی چند بنگلوں تک محدود نہ رہی بلکہ عام گلیوں اور محلّوں تک پہنچ کر جدید شہری زندگی کا لازمی حصہ بن گئی۔ یوں ایڈیسن کی مسلسل محنت کے بعد وہ مرحلہ آیا جب بجلی کو پیدا کیا جا سکتا تھا، ناپا جا سکتا تھا، یونٹس میں تقسیم کیا جا سکتا تھا اور قیمت کے ساتھ فروخت بھی کیا جا سکتا تھا۔

مزید پڑھیں

لاہور–اسلام آباد موٹر وے (M-2) کے منصوبے کا باضابطہ آغاز

10 جنوری 1992 کو پاکستان میں لاہور–اسلام آباد موٹر وے (M-2) کے منصوبے کی باضابطہ تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ اس دن منصوبے کی لانچنگ اور حکومتی سطح پر منظوری کا اعلان ہوا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید موٹر وے نیٹ ورک کے تصور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے (M-2) ملک کی پہلی مکمل موٹر وے تھی، جس نے عالمی معیار کی سڑک، محفوظ سفر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر منصوبہ بندی کو قومی ترقی کے ایجنڈے کا حصہ بنایا۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے ایم ٹو کا منصوبہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں شروع کیا گیا، اور اس کی تعمیر جنوبی کوریا کی کمپنی Daewoo Corporation نے ڈیزائن کم تعمیر (Design and Build) کی بنیاد پر مکمل کی۔ یہ موٹر وے تقریباً 367 کلومیٹر طویل ہے، اور اس پر اُس وقت مجموعی طور پر تقریباً 23 سے 25 ارب روپے لاگت آئی۔ اگرچہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر حکومت پاکستان کا تھا، تاہم Daewoo نے محض ایک ٹھیکیدار کے طور پر نہیں بلکہ سپلائر کریڈٹ (Supplier Credit) اور کنٹریکٹر فنانسنگ (Contractor Financing) کے ذریعے مالی معاونت بھی فراہم کی، جس سے منصوبہ بروقت مکمل ہو سکا۔ بعد کے برسوں میں ڈائیوو کمپنی سے موٹر وے کے آپریشن، مرمت اور بحالی کے لیے طویل المدتی کنسیشن معاہدے کیے گئے، جن کے تحت ٹول وصولی کے ذریعے اخراجات اور سرمایہ کاری کی واپسی کا انتظام کیا گیا۔ موٹر وے کے آغاز نے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے جغرافیے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔ موٹر وے کے اطراف ہاؤسنگ اسکیموں، صنعتی علاقوں، سروس ایریاز اور تجارتی مراکز کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں قریبی علاقوں میں زمین کے استعمال اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ موٹر وے انٹرچینجز کے گرد واقع دیہی اور نیم دیہی علاقوں نے تیزی سے شہری توسیع کی شکل اختیار کی، جہاں رہائشی منصوبوں کے ساتھ ساتھ گوداموں، لاجسٹکس مراکز اور صنعتی یونٹس قائم ہونا شروع ہوئے۔ بہتر رسائی اور کم سفری وقت نے سرمایہ کاروں کو بڑے شہروں کے دباؤ سے نکل کر موٹر وے سے منسلک علاقوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا، جس سے زمین کی نوعیت زرعی سے تجارتی اور رہائشی استعمال میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ اس عمل نے نہ صرف زمین کی قدر میں اضافہ کیا بلکہ آبادی کی نئی تقسیم اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ ایم ٹو موٹر وے نے یہ تصور مضبوط کیا کہ انفراسٹرکچر محض نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ زمین کی قدر میں اضافے، شہری توسیع اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کا بنیادی محرک بھی ہوتا ہے۔ اس منصوبے نے ریاستی سطح پر یہ فہم پیدا کیا کہ بڑی شاہراہیں شہروں کے درمیان رابطے ہی نہیں بناتیں بلکہ نئے شہری مراکز، صنعتی زونز اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹس کو جنم دیتی ہیں۔ بعد کے برسوں میں پاکستان میں موٹر ویز، ایکسپریس ویز اور بائی پاسز پر مبنی ترقیاتی منصوبے اسی ماڈل کو سامنے رکھ کر ترتیب دیے گئے۔لاہور اسلام آباد موٹر وے کو عوامی استعمال کے لیے نومبر 1997 میں باضابطہ طور پر کھولا گیا۔

مزید پڑھیں

تقسیمِ ہند کے بعد مغربی بنگال میں متاثرہ علاقوں میں زمینوں اور جائیدادوں کی نئی ملکیت اور آبادکاری کے لیے سرکاری سروے کا آغاز۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں بنگال دو حصوں، مغربی بنگال اور مشرقی بنگال (مشرقی پاکستان) میں منقسم ہو گیا تھا۔ زمینوں کی ملکیت کا نظام بری طرح بگڑ چکا تھا۔ بڑے پیمانے پر ہجرت کے باعث لاکھوں ایکڑ زمین ایسی تھی جس کے مالکان سرحد پار جا چکے تھے، جبکہ ان جائیدادوں پر قبضہ گروپوں کی نظریں تھیں۔ اس سنگین صورتحال کو سنبھالنے کے لیے 2 جنوری 1948 کو مغربی بنگال کی حکومت نے ایک بڑا انتظامی فیصلہ کیا۔ اس دن تمام ضلعی افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہجرت کرنے والے مالکان کی زمینوں کا فوری سروے کریں اور ان کا ریکارڈ سرکاری نگرانی میں لائیں تاکہ کوئی بھی شخص ان زمینوں کو غیر قانونی طور پر فروخت نہ کر سکے۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت ترک شدہ یا متنازعہ جائیدادوں کا باقاعدہ زمینی سروے شروع کیا گیا اور زمینوں کے اندراج کا عمل منظم کیا گیا۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب تقسیم کے بعد ریاست نے زمین کے ریکارڈ کو دوبارہ ترتیب دینے کی سنجیدہ کوشش کی۔ اس اقدام کا ایک نمایاں پہلو بٹائی داروں اور مزارعین کے تحفظ کی بنیاد رکھنا تھا۔ ان کسانوں کو قانونی تحفظ دینے کی سمت پہلا قدم اٹھایا گیا جو دوسروں کی زمینوں پر کاشتکاری کرتے تھے، تاکہ مالکان کی ہجرت یا ملکیت کی تبدیلی کے باعث انہیں اچانک بے دخل نہ کیا جا سکے۔ یوں یہ نوٹیفکیشن محض ایک عبوری انتظامی حکم نہیں بلکہ مستقبل کی زرعی اور زمینی اصلاحات کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ فائدہ ان غریب کسانوں اور مزارعین کو ہوا جو ان زمینوں پر نسلوں سے محنت کر رہے تھے۔ حکومت نے 2 جنوری کو یہ واضح کر دیا کہ جب تک زمینوں کے نئے کاغذات تیار نہیں ہو جاتے، تب تک کسی بھی کاشتکار کو اس کی زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام نے نہ صرف قبضوں کا راستہ روکا بلکہ عام آدمی کو یہ تحفظ بھی دیا کہ اس کی روزی روٹی کا ذریعہ، یعنی زمین، محفوظ ہے۔ اس اقدام سے صدیوں پرانا جاگیردارانہ نظام کمزور ہوا اور ایک منظم سرکاری ریکارڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ اگرچہ اس وقت یہ فیصلہ ایک سرکاری حکم نامے کی صورت میں تھا، لیکن اسی کی بنیاد پر آگے چل کر زمینوں کی ملکیت سے متعلق بڑے قوانین بنے۔ ماہرینِ اراضی اور تاریخی کتب اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جنوری 1948 کا آغاز ہی وہ وقت تھا جب عام کسان کو زمین کا اصل حق دار تسلیم کرنے کی کارروائی شروع ہوئی۔ آج بھی زمینوں کے ریکارڈ کی درستی اور پٹوار خانے کے نظام میں اس دن کی اہمیت کو ایک سنگ میل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

31 دسمبر پاکستان میں لینڈ ریکارڈ اور ریونیو رجسٹرز کی سالانہ کلوزنگ

پاکستان بھر میں 31 دسمبر کو ریونیو نظام کا سالانہ Close قرار دیا جاتا ہے، جس کے تحت بورڈ آف ریونیو کے ماتحت زمین اور جائیداد سے متعلق تمام ریکارڈ سال کے حساب سے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں پٹوار نظام سے لے کر جدید کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ دفاتر تک، تمام انتظامی سطحیں شامل ہوتی ہیں۔ 31 دسمبر کو زمین کے انتقال (Mutation)، جمع بندی (Record of Rights) اور دیگر اندراجات کو سالانہ بنیاد پر حتمی شکل دی جاتی ہے، جبکہ ریونیو سے متعلق مالیہ (Land Revenue) اور آبیانہ (Water Charges) کے حسابات بند کر کے نئے سال کے لیے منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ ریونیو نظام میں اس دن کی سب سے نمایاں علامت لال کتاب (Lal Kitab) ہے، جسے پٹوار نظام کا بنیادی اور کلاسک رجسٹر تصور کیا جاتا ہے۔ لال کتاب میں زمین کی نوعیت، قدرتی اثرات، فصلوں کی صورتحال اور علاقے کے زرعی وسائل سے متعلق وہ معلومات درج ہوتی ہیں جو عام رجسٹرز میں شامل نہیں ہوتیں۔ سال کے اختتام پر اس ریکارڈ کی تجدید کو غیر رسمی طور پر زمین کی تاریخِ ملکیت (History of Title) کا خلاصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ریئل اسٹیٹ اینالسٹ کے مطابق 31 دسمبر کی یہ سالانہ بندش سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اسی بنیاد پر آئندہ سال زمین کی قانونی حیثیت، ٹیکس ذمہ داریوں اور ریونیو تشخیص کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں پرانا سال زمینی ریکارڈ کے لحاظ سے بند اور نیا سال نئے اندراجات کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ ریونیو حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کا مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے، تاہم زمین کے ریکارڈ اور پٹوار نظام میں 31 دسمبر کو آج بھی ایک عملی ڈیڈ لائن تصور کیا جاتا ہے، جو صدیوں پرانے انتظامی تسلسل کی عکاس ہے۔ زمین کی ملکیت کا ڈیجیٹل ریکارڈ بھی پاکستان سمیت دنیا کے کئی حصوں میں 31 دسمبر کو منجمد (Freeze) کر دیا جاتا ہے، اور رات 12 بجے زمین کا ریکارڈ اگلے سال کے لیے نیا رجسٹر (یا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس) کھولا جاتا ہے۔ یہ عمل اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے یہ طے ہوتا ہے کہ سال بھر میں کتنی مالیت کی زمین کی ملکیت تبدیل ہوئی۔

مزید پڑھیں