Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

6 Historical Event found

ڈچ نوآبادی پر برطانوی کنٹرول کے بعد نیویارک کا نیا نام رکھا گیا

2 فروری 1665 کو برطانوی افواج نے ڈچ نوآبادی نیو ایمسٹرڈم پر باضابطہ کنٹرول مستحکم کر لیا، جو آج کے مین ہٹن کے علاقے میں واقع تھی، اور اسی موقع پر اس شہر کا نام تبدیل کر کے نیو یارک رکھا گیا۔ اس علاقے کا پہلا معروف نام مینہاٹا یا ماناہاٹا (Mannahatta) تھا، جو مقامی لیناپی قبائل استعمال کرتے تھے، اور جس کا مفہوم عموماً جزیرہ یا پہاڑی زمین سے جوڑا جاتا ہے۔ بعد ازاں ڈچ نوآبادی دور میں، جب یہ علاقہ ڈچ ویسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِ انتظام آیا، تو اس کا نام نیو ایمسٹرڈم (New Amsterdam) رکھا گیا۔ برطانوی کنٹرول قائم ہونے پر اس بستی کا نام یارک کے ڈیوک (Duke of York) کے نام پر نیو یارک رکھا گیا، جو اس وقت جیمز تھے اور بعد میں برطانیہ کے بادشاہ جیمز دوم (James II) بنے، اور یہ نام آج تک رائج ہے۔ یوں ایک ہی زمین نے وقت کے ساتھ مختلف قوموں کے زیرِ اثر مختلف نام اختیار کیے، اور ہر نیا نام اس علاقے کے بدلتے ہوئے اقتدار کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم 1776 کے بعد جب امریکہ ایک آزاد ریاست بنا تو اگرچہ کئی شہروں اور مقامات کے ناموں پر بحث ضرور ہوئی، لیکن نیو یارک اس وقت تک ایک مکمل تجارتی، قانونی اور شہری نظام کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، اس لیے اس کا نام تبدیل کرنے کی نہ کوئی مضبوط سیاسی ضرورت محسوس کی گئی اور نہ ہی عوامی سطح پر ایسا کوئی مطالبہ سامنے آیا۔

مزید پڑھیں

کولکتہ دوبارہ انگریزوں کے قبضے میں آ گیا۔

31 جنوری 1757 کو رابرٹ کلائیو نے سراج الدولہ کے ساتھ معاہدۂ علی نگر پر دستخط کیے، جس کے نتیجے میں کلکتہ، جو آج کولکتہ کہلاتا ہے، دوبارہ برطانوی کنٹرول میں آ گیا۔ بظاہر یہ ایک امن معاہدہ تھا، مگر حقیقت میں یہی وہ معاہدہ تھا جس نے بنگال میں برطانوی راج اور بعد میں پورے ہندوستان پر حکمرانی کی راہ ہموار کی۔ اس معاہدے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ جون 1756 میں سراج الدولہ نے فورٹ ولیم پر قبضہ کر کے برطانوی راج کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے جواب میں رابرٹ کلائیو نے جنوری 1757 میں فوجی کارروائی کے ذریعے کلکتہ واپس حاصل کر لیا۔ معاہدۂ علی نگر کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی کو کلکتہ میں دوبارہ تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے، قلعہ بندی مضبوط کرنے اور اپنے پرانے مراعاتی حقوق واپس لینے کی اجازت مل گئی۔ اس معاہدے نے کمپنی کو یہ حقوق دیے: • اپنے سکے ڈھالنے کا حق (معاشی خودمختاری)۔ • کلکتہ کی قلعہ بندی کا حق (فوجی خودمختاری)۔ • زمینوں کا محصول (Revenue) خود جمع کرنے کا حق۔ یہیں سے زمینداری نظام کے خاتمے اور ماڈرن ٹائٹل ڈیڈز کی بنیاد پڑی۔ انگریزوں نے زمین کو ایک تجارتی شے (Commodity) بنا دیا جسے بیچا، خریدا اور رجسٹر کیا جا سکتا تھا۔ اس سے پہلے زمین بادشاہ کی ملکیت ہوتی تھی جو رعایا کو استعمال کے لیے دی جاتی تھی۔ اسی معاہدے کے زیرِ اثر کلکتہ (Calcutta)، جو ابتدا میں محض تین دیہات، سوتانوتی، کالی گھاٹ اور گووند پور، پر مشتمل تھا، برطانوی اقتدار کے پھیلاؤ کے ساتھ باقاعدہ طور پر ایک Presidency Town کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کے بعد برطانوی ریاست نے پہلی مرتبہ زمین کے نظم و نسق کو ایک باقاعدہ مالی نظام کی شکل دی اور کلکٹر کے دفتر، ریونیو نظام اور زمینی رجسٹریشن کے وہ اصول متعارف کرائے جنہیں آج ہم لینڈ ریکارڈز اور کلکٹر آفس کے نام سے جانتے ہیں۔

مزید پڑھیں

بیک بے ریکلیمیشن منصوبہ سمندر سے حاصل ہونے والی زمین کی لاگت اور قیمت پر بمبئی اسمبلی میں بحث

بمبئی میں آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے، اس وقت کے بمبئی کے اہم انگریزی اخبارات The Times of India، Bombay Chronicle اور The Bombay میں یہ خبر 16 جنوری 1926 کو شائع ہوئی، جس میں اطلاع دی گئی کہ برطانوی ہند کے ایک اہم سرکاری اجلاس میں Back Bay Reclamation Scheme سے متعلق انکوائری رپورٹ پر تفصیلی بحث ہوئی ہے۔ (بیک بے ریکلیمیشن اُس عمل کو کہتے ہیں جس کے تحت سمندر کے ایک حصے کو سائنسی بنیادوں پر نئی قابلِ استعمال زمین میں تبدیل کیا جاتا ہے، تاکہ اسے رہائشی، تجارتی یا عوامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔) یہ اجلاس بمبئی لیجسلیٹو کونسل میں منعقد ہوا، جہاں منصوبے کے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے اور سمندر سے حاصل کی جانے والی زمین کی قیمتوں کے تعین پر سخت سوالات اٹھائے گئے، جیسا کہ: کیا سمندر سے زمین واپس لینا مالی طور پر درست ہے؟ کیا ایسی زمین کی کوئی حقیقی قیمت ہو سکتی ہے؟ اور کیا ریاست کو اس پر سرمایہ لگانا چاہیے؟ اُس وقت کے کئی ارکان نے اسے فضول خرچی اور پیسے کا زیاں قرار دیا۔ کونسل کے اراکین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ریکلیمیشن کے ذریعے حاصل ہونے والی زمین آیا اپنی لاگت پوری کر سکے گی یا نہیں۔ بحث کے دوران انکوائری رپورٹ کے نکات پیش کیے گئے، جن میں منصوبے کی مالی منصوبہ بندی، انجینئرنگ اخراجات، اور مستقبل میں زمین کی فروخت یا استعمال سے ممکنہ آمدن کا جائزہ شامل تھا۔ متعدد اراکین نے اسے برطانوی ہند کا سب سے متنازع اور مہنگا شہری ترقیاتی منصوبہ قرار دیا۔ 1920 کی دہائی میں بمبئی میں کی جانے والی سمندری ریکلیمیشن اگرچہ آج کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نہیں تھی، مگر اپنے زمانے کی سب سے آزمودہ انجینئرنگ سمجھی جاتی تھی۔ اس دور میں ساحل کے ساتھ مضبوط سی وال اور پتھریلے حفاظتی بند تعمیر کیے گئے تاکہ لہروں اور مد و جزر کے دباؤ کو روکا جا سکے۔ سمندر کے اندر سے ریت اور مٹی نکال کر ہائیڈرولک فلنگ کے ذریعے بھرائی کی گئی، اور زمین کو برسوں تک قدرتی طور پر بیٹھنے دیا گیا تاکہ اس میں موجود پانی خارج ہو جائے اور مٹی مستحکم ہو سکے۔ جہاں تعمیر مقصود تھی وہاں لکڑی اور ابتدائی کنکریٹ کے گہرے پائلز استعمال کیے گئے جو نرم تہوں کو عبور کر کے نیچے مضبوط سطح تک پہنچتے تھے۔ اگرچہ اس زمانے میں کمپیوٹر یا جدید ماڈلنگ دستیاب نہیں تھی، مگر برطانوی انجینئر مد و جزر اور ساحلی بہاؤ کے طویل مشاہدات اور دستی حسابات کے ذریعے ڈیزائن تیار کرتے تھے۔ انہی طریقوں کے باعث بمبئی کی یہ زمینیں ابتدائی خدشات کے باوجود رفتہ رفتہ مستحکم ہوئیں اور بعد کی دہائیوں میں دنیا کی قیمتی ترین شہری رئیل اسٹیٹ میں شمار ہونے لگیں۔ اس زمانے میں سمندر سے زمین نکال کر اسے شہر اور کاروبار کے لیے استعمال کرنا ایک نیا اور غیر معمولی خیال تھا۔ زیادہ تر لوگ اسے مہنگا، خطرناک اور انتظامی طور پر مشکل منصوبہ سمجھتے تھے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہی منصوبہ بمبئی کے شہر کی شکل بدلنے، زمین کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور اسے عالمی سطح پر ایک اہم ریئل اسٹیٹ شہر بنانے کا سبب بنا۔ [img:Images/otd-16-jan-2nd.jpeg | desc:جو زمین محض سو سال پہلے برطانوی انتظامیہ کے لیے بوجھ سمجھی جا رہی تھی، وقت کے ساتھ شہر کی سب سے بڑی دولت بن گئی۔ سمندر سے حاصل کی گئی یہ زمین آج ممبئی شہر کی معاشی شناخت بن چکی ہے۔] اگرچہ اس وقت یہ خبر ایک انتظامی اور مالیاتی مسئلے کے طور پر دیکھی گئی، مگر بعد کی دہائیوں میں یہی زمینیں بمبئی کی سب سے قیمتی شہری جائیدادوں میں شمار ہوئیں اور شہر کی عالمی معاشی شناخت کی بنیاد بنیں۔ آج ممبئی میں نریمن پوائنٹ (Nariman Point)، میرین ڈرائیو (Marine Drive)، کف پریڈ (Cuffe Parade)، کولابا (Colaba) اور چرچ گیٹ (Churchgate) جیسے علاقے اسی سمندر سے حاصل کی گئی زمینوں پر قائم ہیں، جہاں عالمی مالیاتی ادارے، کارپوریٹ ہیڈ کوارٹرز، بلند رہائشی عمارتیں اور مہنگی ترین شہری جائیدادیں موجود ہیں، اور یہی علاقے ممبئی کو ایشیا کی نمایاں ترین ریئل اسٹیٹ اور معاشی مراکز میں شامل کرنے کا جواز مہیا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

برطانیہ نے وینکوور آئی لینڈ کے نظم و نسق چلانے کا اختیار ایک تجارتی کمپنی کے سپرد کر دیا

13 جنوری 1849 کو برطانوی حکومت نے Vancouver Island کا انتظام Hudson’s Bay Company کے سپرد کر دیا۔ اس فیصلے کے تحت حکومت نے خود براہِ راست جزیرے کا انتظام سنبھالنے کے بجائے ایک نجی تجارتی کمپنی کو اختیار دیا کہ وہ علاقے میں نظم و نسق قائم کرے، ضرورت مندوں میں زمین تقسیم کرے، شہر آباد کرے تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرے اور نظام حکومت اپنے انداز سے چلاۓ۔ نوآبادیاتی دور میں کینیڈا کو چلانے کا برطانوی انداز کچھ ایسا ہی تھا جیسے آج ایک گیٹڈ کمیونٹی کو چلایا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح گیٹڈ کمیونٹی میں زمین کسی فرد کی نہیں بلکہ ایک مرکزی اتھارٹی کی ہوتی ہے۔ قواعد و ضوابط اوپر سے طے ہوتے ہیں۔ سیکیورٹی، ٹیکس نما فیس، منصوبہ بندی اور نظم و نسق ایک منظم نظام کے تحت چلتا ہے۔ رہنے والوں کو سہولتیں ملتی ہیں، مگر حتمی اختیار ان کے پاس نہیں ہوتا۔ اسی طرح نوآبادیاتی کینیڈا میں بھی زمین کو Crown Land کہا گیا۔ قوانین لندن میں بنتے تھے۔ گورنر اور افسران اوپر سے مقرر ہوتے تھے۔ مقامی آبادی کو نظم، تحفظ اور ترقی تو ملی، مگر فیصلہ سازی ان کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ گیٹڈ کمیونٹی میں رہائشی اپنی مرضی سے شامل ہوتے ہیں، جبکہ نوآبادیاتی نظام میں لوگ اس نظام کا حصہ بننے پر مجبور تھے۔ یہ حکمتِ عملی برطانوی سلطنت کے لیے کوئی نیا تجربہ نہیں تھی۔ اس سے قبل برطانیہ یہی ماڈل برصغیر میں East India Company کے ذریعے آزما چکا تھا، جہاں ابتدا میں تجارت کے نام پر قدم رکھا گیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ زمین، محصولات اور حکمرانی کے اختیارات بتدریج کمپنی کے ہاتھ آتے چلے گئے، حتیٰ کہ ریاستی اقتدار عملاً ایک تجارتی ادارے کے زیرِ اثر آ گیا۔ [img:Images/otd-13-jan-2nd.jpeg | desc:یہ تصاویر فوٹوگراف نہیں بلکہ انیسویں صدی کی engraved illustrations ہیں۔ اگرچہ یہ کیمرے سے لی گئی اصل تصاویر نہیں، مگر ان کی مدد سے اُس دور کے وینکوور آئی لینڈ کے تجارتی قلعوں، بستیوں اور نوآبادیاتی نظم و نسق کی مجموعی صورت کو سمجھا جا سکتا ہے۔] وینکوور آئی لینڈ میں بھی یہی سوچ کارفرما تھی کہ مقبوضہ علاقے میں براہِ راست حکمرانی کی بجائے نجی کمپنیوں کے ذریعے معاملات چلانا زیادہ آسان، کم خرچ اور بے پناہ فائدہ مند ہے۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں کینیڈا کے مغربی علاقوں میں، جو بعد ازاں British Columbia کہلائے، بڑے پیمانے پر زمین کی منتقلی اور آبادکاری کی بنیاد رکھی گئی۔ یوں وینکوور آئی لینڈ کا ماڈل دراصل برصغیر میں کیے گئے نوآبادیاتی تجربے ہی کی ایک نئی شکل تھی، مگر طریقہ وہی پرانا اور جانا پہچانا تھا۔ اس ماڈل کے تحت Hudson’s Bay Company نے چند ہی برسوں میں وینکوور آئی لینڈ پر اپنی انتظامی گرفت قائم کر لی، مگر جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ ایک تجارتی کمپنی کے لیے مستقل حکمرانی، عدالتی نظام، عوامی نظم اور سیاسی ذمہ داریاں نبھانا آسان نہیں۔ کمپنی کا اصل مقصد منافع اور تجارت تھا، جبکہ آبادکاروں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ سیاسی نمائندگی، شفاف قانون سازی اور عوامی حقوق کے مطالبات بھی سر اٹھانے لگے۔ 1858 میں فریزر ریور گولڈ رش کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ آبادی میں تیز اضافے، زمین کے تنازعات اور انتظامی دباؤ کے باعث برطانوی حکومت نے محسوس کیا کہ نجی کمپنی کے ذریعے حکمرانی اب قابلِ عمل نہیں رہی۔ نتیجتاً 1858 میں British Columbia کو ایک باقاعدہ کراؤن کالونی قرار دیا گیا اور 1859 میں وینکوور آئی لینڈ سے Hudson’s Bay Company کا حکومتی کردار ختم کر دیا گیا۔ یوں وہی انجام سامنے آیا جو برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ ہو چکا تھا کہ جب 1857 میں نجی کمپنی ریاستی بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی تو اقتدار براہِ راست تاجِ برطانیہ نے سنبھال لیا۔ بعد ازاں 1866 میں وینکوور آئی لینڈ اور برٹش کولمبیا کو یکجا کر دیا گیا اور 1871 میں یہ علاقہ باقاعدہ طور پر Canada کی وفاقی ریاست میں شامل ہو گیا۔ اس مرحلے پر نوآبادیاتی کمپنی راج کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ آسان الفاظ میں بات یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ آج وینکوور آئی لینڈ ایک ترقی یافتہ اور خود مختار علاقہ ہے، مگر اس کی زمین، شہروں کا نظام اور معیشت کی سمت اب بھی برطانوی دور کے ان فیصلوں کی عکاس ہے جو نوآبادیاتی زمانے میں کیے گئے تھے۔ اُس وقت جو نقشے بنائے گئے، جو زمینیں بانٹی گئیں اور جن شہروں کی بنیاد رکھی گئی، وہی نظام آج بھی رواں دواں ہے۔ بالکل اسی طرح برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی ختم ہو گئی، مگر اس کے بنائے ہوئے قوانین، دفتری نظام اور حکمرانی کے طریقے ختم نہیں ہوئے۔ کمپنی تو چلی گئی، لیکن اس کی سوچ، اس کا نظام اور طاقت کا وہی غیر متوازن طریقۂ کار ہمارے ہاں آج بھی کئی شکلوں میں موجود ہے۔

مزید پڑھیں

برطانوی ہندوستان میں نئی دہلی کے لئے زمین کا باضابطہ حصول اور نوٹیفیکیشن

21 دسمبر 1911 ء کو برطانوی راج کے دور میں نیو دہلی کے لئے زمین کے حصول کا باضابطہ نوٹس Punjab Gazette میں شائع کیا گیا۔ یہ نوٹیفیکیشن اس اعلان کے صرف نو دن بعد جاری ہوا تھا جس میں 12 دسمبر 1911 ء کو برطانوی راج کے بادشاہ King George V نے کلکتہ کی جگہ دہلی کو برطانوی ہندوستان کی نئی راجدھانی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس نوٹیفیکیشن کے ذریعے موجودہ دہلی کے جنوب مغرب میں واقع ہزاروں ایکڑ زرعی زمینوں کے حصول کا باقاعدہ آغاز ہوا جن پر بعد ازاں Rashtrapati Bhavan جو اس وقت وائسرائے ہاؤس کہلاتا تھا، Parliament House جسے ابتدا میں کونسل ہاؤس کہا گیا، North Block اور South Block پر مشتمل مرکزی سیکریٹریٹ، اعلیٰ انتظامی و دفاعی دفاتر اور ریاستی طاقت کی علامت سرکاری عمارتیں تعمیر کی گئیں، جبکہ ان عمارتوں کو آپس میں جوڑنے کے لئے Rajpath جیسی شاہراہ اور یادگاری مقاصد کے لئے India Gate قائم کی گئی۔ اسی منصوبہ بندی کے تحت Connaught Place کو نیو دہلی کا مرکزی تجارتی علاقہ قرار دیا گیا جہاں بینک، انشورنس دفاتر اور ریٹیل کمرشل سرگرمیاں مرکوز ہوئیں، جبکہ رہائشی اعتبار سے Lutyens’ Bungalow Zone، Civil Lines اور Karol Bagh جیسے علاقے وائسرائے، اعلیٰ نوآبادیاتی افسران، سول سروس اور متوسط طبقے کے لئے منظم رہائشی بستیوں کے طور پر ابھرے۔ یہ تمام عمل Land Acquisition Act 1894 کے تحت انجام دیا گیا تاکہ زمینوں کو عوامی اور سرکاری مقصد کے لئے قانونی طور پر حاصل کر کے برطانوی ہندوستان کے نئے دارالحکومت کی منظم شہری اور رئیل اسٹیٹ بنیاد رکھی جا سکے۔ برطانوی انتظامیہ نے اس اعلان کے بعد جلد از جلد زمین کے حصول کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے 21 دسمبر 1911 ء کو پنجاب گزٹ میں ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس سے زمین کی مالیت اسی دن کے مطابق طے ہو گئی تاکہ زرعی زمین مالکان کو اجارہ داری سے پہلے ہی قیمت دی جا سکے۔ اس کے نتیجے میں Malcha, Raisina اور دیگر قریبی دیہات کی زمینیں حاصل کی گئیں جہاں آج پارلیمنٹ ہاؤس، صدر مقام اور دیگر اہم سرکاری حکومتی عمارتیں موجود ہیں۔ یہ تاریخی واقعہ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں اہم اس لئے ہے کہ برصغیر میں برطانوی دور کا سب سے بڑا زمین حصول اور نئی دارالحکومت کی تعمیر کا عمل اسی دن باقاعدہ طور پر قانونی شکل اختیار کر گیا، جس نے نہ صرف شہری منصوبہ بندی اور جائیداد کی قیمتوں کو تبدیل کیا بلکہ آنے والی دہائیوں میں شہروں میں زمین کے استعمال اور حیثیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔

مزید پڑھیں

برٹش سرکار نے کولکتہ کی بجائے دہلی کو دارالحکومت بنانے کے لیے نئی دہلی کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظوری دے دی

29 نومبر 1912 کو گورنمنٹ آف انڈیا گزٹ پارٹ ون میں وہ فیصلہ کن نوٹیفکیشن شائع کیا گیا جس نے برطانوی ہند کے نئے دارالحکومت نئی دہلی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کے بڑے پیمانے پر حصول کی قانونی بنیاد فراہم کی۔ یہ نوٹیفکیشن 1911 کے دہلی دربار کے بعد سامنے آیا، جب بادشاہ جارج پنجم نے دارالحکومت کو کولکتہ سے دہلی منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا اور برطانوی حکومت کو اس نئے شہر کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب اور فوری اراضی کی فراہمی درکار تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق Land Acquisition Act 1894 کی دفعہ تین اور چھ کے تحت دہلی کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو لازمی حصول کی حدود میں شامل کیا گیا، جن میں Raisina Hill، Malcha، Revenue District Mehrauli، اور دریائے جمنا کے مغربی کنارے تک کے وسیع رقبے شامل تھے۔ حاصل کی جانے والی زمین میں وہ تمام علاقے شامل تھے جنہیں وائسرائے ہاؤس، مرکزی سیکریٹریٹ، سول لائنز، مرکزی ایونیو اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن میں برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ نئی دہلی صرف ایک سیاسی شہر نہیں ہوگا بلکہ جدید منصوبہ بندی سے بنایا گیا مرکزی شہری مرکز ہوگا جہاں سرکاری ادارے، شاہراہیں، رہائشی بستیاں اور تجارتی مراکز ہوں گے۔ گورنمنٹ ریکارڈ کے مطابق یہ اراضی زیادہ تر زرعی، جنگلاتی اور چھوٹے دیہاتی استعمال کی حامل تھی، جسے برطانوی حکومت نے ایک مربوط شہری منصوبے میں تبدیل کرنے کے لیے Town Planning Committee 1912 کی سفارشات پر شامل کیا۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے کلکٹر دہلی کو ہدایت دی گئی کہ وہ فوری طور پر زمین کا سروے، حد بندی، نقشہ سازی، تخمینہ کاری، مقامی ریکارڈ کی تصدیق اور حصول کی کارروائی مکمل کرے، تاکہ ڈی لوٹیئنز دہلی بروقت تعمیر کیا جا سکے۔ ڈی لوٹیئنز (Lutyens Delhi) نئی دہلی کا وہ علاقہ ہے جسے برطانوی آرکیٹیکٹ سر ایڈون لوٹیئنز نے پلان کیا تھا۔ اس حصے میں وائسرائے ہاؤس (موجودہ راشٹرپتی بھون)، پارلیمنٹ ہاؤس، نارتھ بلاک، ساوتھ بلاک اور مرکزی سیکریٹریٹ جیسی اہم سرکاری عمارتیں بنائی گئیں۔ چوڑی سڑکوں اور منظم اربن پلان کی وجہ سے یہ علاقہ آج نئی دہلی کی اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ 29 نومبر 1912 کا یہ گزٹ نوٹیفکیشن برصغیر کی اراضی کے حصول، شہری منصوبہ بندی، نوآبادیاتی طرزِ تعمیر اور زمین کے ریاستی کنٹرول کی تاریخ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ برطانوی حکومت کے یہ سرکاری ریکارڈ آج نیشنل آرکائیوز آف انڈیا اور برٹش لائبریری کے India Office Records میں محفوظ ہیں، جہاں 29 نومبر 1912 کی اسی کارروائی کو نئی دہلی کے قیام کی اصل بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں