Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

2 September

Home

Select Date

2 Historical Event found for 2 September
1

2 ستمبر 1922

وہ دن جب نیویارک کی تھرڈ ایونیو میں رئیل اسٹیٹ کی بحالی نے توجہ حاصل کی

وہ دن جب نیویارک کی تھرڈ ایونیو میں رئیل اسٹیٹ کی بحالی نے توجہ حاصل کی

2 ستمبر 1922 کو نیویارک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں ایسی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو چکے تھے جو بعد ازاں مین ہٹن کے مختلف علاقوں کی شکل بدلنے کا باعث بنی۔ اس دور کے اہم پراپرٹی اور تعمیراتی جریدے دی رئیل اسٹیٹ ریکارڈ اینڈ بلڈرز گائیڈ نے تھرڈ ایونیو میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر ایک اہم رپورٹ شائع کی، جس میں خرید و فروخت، ازسرنو ترقی اور جدید تعمیرات کے ذریعے مین ہٹن کی قدیم شمالی جنوبی تجارتی شاہراہوں میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کیا گیا۔

یہ رپورٹ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایسے وقت میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی تصویر پیش کی جب پرانی عمارتوں کو صرف خستہ حال یا فرسودہ جائیداد سمجھنے کے بجائے نئی تعمیر اور ترقی کے مواقع کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا۔ تھرڈ ایونیو، جو باؤری اور کوپر سکوائر سے شروع ہو کر دریائے ہارلم کی سمت جاتی تھی، گزشتہ چھ ماہ کے دوران پراپرٹی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ جریدے کے مطابق پیشہ ور رئیل اسٹیٹ آپریٹرز اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد بھی جائیداد کی خریداری میں تیزی سے دلچسپی لے رہے تھے۔

پرانی ٹینیمنٹ عمارتوں سے جدید پراپرٹی تک

تھرڈ ایونیو کی تاریخ نقل و حمل اور تجارت سے گہری وابستہ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ شاہراہ ابتدائی دور میں گھوڑا گاڑیوں کی ٹرام سروس اور بعد ازاں نیویارک کے اولین ایلیویٹڈ ریلوے روٹس میں سے ایک کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی تھی۔ اس کے اطراف میں آبادی کا گنجان ہونا مقامی کاروبار اور دکانوں کے لیے ایک مضبوط صارف مارکیٹ فراہم کرتا تھا۔

تاہم ایونیو کے بڑے حصے میں عمارتوں کا پرانا ڈھانچہ برقرار تھا۔ تین اور چار منزلہ ٹینیمنٹ عمارتیں، جن کے گراؤنڈ فلور پر دکانیں قائم تھیں، کئی مقامات پر نمایاں تھیں۔ ان میں سے بہت سی عمارتیں کئی دہائیاں قبل تعمیر ہوئی تھیں اور ان میں جدید کاروباری ضروریات کے مطابق اسٹور فرنٹس اور دیگر سہولیات موجود نہیں تھیں۔

1922 کی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان فرسودہ عمارتوں نے بعض علاقوں میں پراپرٹی ویلیوز میں کمی پیدا کی تھی، تاہم یہی صورتحال جدید تعمیرات کے لیے ایک موقع بھی بن رہی تھی۔ پرانی عمارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرکے زمین اور جائیداد کی قدر میں دوبارہ اضافہ کیا جا سکتا تھا۔

اس بحالی کے عمل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں موجودہ دکاندار اور کاروباری افراد بھی اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ بعض تاجر بڑھتے ہوئے کرایوں سے بچنے کے لیے ان عمارتوں کو ہی خریدنے لگے جہاں ان کے کاروبار قائم تھے۔ ان خریداریوں نے پیشہ ور رئیل اسٹیٹ آپریٹرز کی توجہ بھی حاصل کی، جنہوں نے پرانے مالکان سے فرسودہ جائیدادیں خرید کر انہیں بہتر بنایا اور بعد ازاں کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو فروخت یا کرائے پر دینا شروع کیا۔

ٹرانزٹ، تجارت اور پراپرٹی ویلیوز میں اضافہ

نقل و حمل بھی اس رئیل اسٹیٹ بحالی کا ایک اہم عنصر تھا۔ رپورٹ میں قریبی لیکسنگٹن ایونیو سے گزرنے والے تیز رفتار ٹرانزٹ روٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جس نے تھرڈ ایونیو کو شہر کے ایک اور بڑے ٹرانسپورٹیشن کوریڈور سے جوڑ دیا۔

سڑک کے بدلتے ہوئے تجارتی ماحول کے اثرات بھی واضح طور پر دکھائی دینے لگے تھے۔ بعض مقامات پر سیلونز کی جگہ ریستوران قائم ہو رہے تھے، جبکہ خصوصی نوعیت کی دکانیں، کتابوں کی دکانیں، فرنیچر اسٹورز، جیولرز، پھول فروش، دوا ساز اور دیگر کاروبار بھی تیزی سے پھیل رہے تھے۔

طویل مدتی تجارتی لیز بھی عام ہوتی جا رہی تھیں۔ رپورٹ میں یونائیٹڈ سگار سٹورز کی ایک قابل ذکر مثال دی گئی، جس نے تھرڈ ایونیو اور ایسٹ 86th سٹریٹ پر واقع پرانی عمارتیں 21 سال کے لیے لیز پر حاصل کیں، جبکہ معاہدے میں تجدید کا اختیار بھی شامل تھا۔ مجموعی کرایہ تقریباً 5 لاکھ ڈالر نیٹ بتایا گیا اور توقع تھی کہ اس مقام پر ایک جدید کاروباری عمارت تعمیر کی جائے گی۔

رپورٹ نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی اس بحالی کو پہلی جنگ عظیم کے بعد کے وسیع تر معاشی حالات سے بھی جوڑا۔ تعمیراتی لاگت میں نمایاں اضافے نے موجودہ عمارتوں کو نسبتاً زیادہ قیمتی بنا دیا تھا، جبکہ کم لاگت والے تجارتی مقامات کی تلاش میں کاروباری افراد کی توجہ بھی تھرڈ ایونیو کی جانب بڑھ رہی تھی۔

2 ستمبر 1922 کی یہ رپورٹ محض نیویارک کی ایک قدیم پراپرٹی مارکیٹ کی تصویر نہیں بلکہ شہری رئیل اسٹیٹ کی تبدیلی کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پرانی عمارتیں، بہتر ٹرانسپورٹیشن، بڑھتی ہوئی تجارتی طلب، سرمایہ کاری اور تعمیر نو جب ایک ساتھ آ جائیں تو کسی بھی شہری کوریڈور کی پراپرٹی ویلیو اور معاشی اہمیت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تاریخی واقعہ اس بات کی قابل ذکر مثال ہے کہ بنیادی ڈھانچے، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیر نو کا امتزاج کس طرح کسی علاقے کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو نئی سمت دے سکتا ہے۔

Views
0
2

2 ستمبر 2008

برج خلیفہ وہ تعمیراتی داستان جس نے عالمی رئیل اسٹیٹ کا منظرنامہ بدل دیا

برج خلیفہ وہ تعمیراتی داستان جس نے عالمی رئیل اسٹیٹ کا منظرنامہ بدل دیا

جدید تاریخ میں چند ہی تعمیراتی منصوبے ایسے ہیں جنہوں نے کسی شہر کی شناخت کو اتنے نمایاں انداز میں تبدیل کیا جتنا برج دبئی نے کیا، جسے بعد ازاں برج خلیفہ کا نام دیا گیا۔ یہ عمارت 3 ستمبر 2008 کو دنیا کی بلند ترین عمارت قرار پائی۔یہ محض ایک بلند عمارت نہیں تھی بلکہ دبئی کے اس عزم کی علامت بن گئی کہ شہر کو عالمی سرمایہ کاری، سیاحت، کاروبار اور لگژری رئیل اسٹیٹ کا اہم مرکز بنایا جائے۔

اس منصوبے کی کہانی جنوری 2004 میں شروع ہوئی، جب اس مقام پر کھدائی کا کام شروع کیا گیا جہاں بعد میں ڈاؤن ٹاؤن دبئی وجود میں آیا۔ منصوبے کا ڈویلپر ایمار پراپرٹیز تھا، جبکہ اس کے ڈیزائن اور انجینئرنگ کی ذمہ داری شکاگو میں قائم فرم سکڈمور، اوونگز اینڈ میرل اور معروف ماہرِ تعمیرات ایڈرین سمتھ نے سنبھالی۔ عمارت کو صرف بلند بنانے کے بجائے بلند ترین عمارتوں کی تعمیر میں ایک نیا معیار قائم کرنے کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

دبئی کی ریتلی زمین پر اتنی بلند عمارت کی تعمیر انجینئرز کے لیے ایک بڑا چیلنج تھی۔ عمارت کی بنیاد مضبوط مسلح کنکریٹ کے ایک بڑے فاؤنڈیشن سسٹم پر قائم کی گئی، جسے گہری پائلز کا سہارا دیا گیا۔ انجینئرز نے عمارت کے لیے منفرد Y شکل کا سٹرکچرل پلان تیار کیا، جس میں اسلامی طرزِ تعمیر سے متاثر تین بازو ایک مضبوط مرکزی ڈھانچے کو سہارا دیتے ہیں۔ اس ڈیزائن نے عمارت کو غیر معمولی بلندی پر استحکام فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تعمیراتی رفتار میں اضافے کے ساتھ برج دبئی نے تکمیل سے پہلے ہی کئی عالمی ریکارڈ اپنے نام کرنا شروع کر دیے۔ جولائی 2007 میں یہ تعمیراتی بلندی کے اعتبار سے دنیا کی بلند ترین عمارت بن گئی۔ اسی سال ستمبر میں یہ دنیا کا بلند ترین آزادانہ طور پر کھڑا رہنے والا ڈھانچہ قرار پایا، جبکہ اپریل 2008 میں اس نے انسانی ساختہ بلند ترین ڈھانچے کا سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

اس منصوبے کے تعمیراتی اعداد و شمار بھی غیر معمولی ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار مکعب میٹر کنکریٹ اور 39 ہزار ٹن مسلح فولاد استعمال ہوا، جبکہ تعمیراتی عمل میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افرادی گھنٹے صرف ہوئے۔ انجینئرز نے تقریباً 601 میٹر کی بلندی تک اعلیٰ معیار کا کنکریٹ پہنچا کر عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔

تاہم برج دبئی کی اہمیت صرف انجینئرنگ تک محدود نہیں تھی۔ یہ ڈاؤن ٹاؤن دبئی کا مرکزی نقطہ بن گیا، جس کے اردگرد رہائشی، کمرشل، ہوٹل، ریٹیل اور دیگر رئیل اسٹیٹ منصوبے تشکیل پاتے گئے۔ یوں اس منصوبے نے یہ ثابت کیا کہ ایک منفرد اور عالمی معیار کی عمارت پورے شہری علاقے کی ترقی اور پراپرٹی مارکیٹ کے لیے مرکزی محرک بن سکتی ہے۔

2008 کا عالمی مالیاتی بحران دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کے لیے بھی ایک مشکل دور ثابت ہوا، تاہم برج دبئی کی تعمیر جاری رہی۔ عمارت کا اسٹرکچرل ڈھانچہ جنوری 2009 میں مکمل کیا گیا، بیرونی تعمیراتی کام ستمبر 2009 میں مکمل ہوا، جبکہ 4 جنوری 2010 کو عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ اس وقت عمارت کی حتمی بلندی 828 میٹر تھی اور اس میں 160 رہائشی منزلیں تھیں۔

بعد ازاں اس منصوبے کا نام تبدیل کرکے برج خلیفہ رکھ دیا گیا اور افتتاح کے بعد یہ دنیا کے معروف ترین رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی لینڈ مارکس میں شامل ہوگیا۔

برج دبئی کا سب سے بڑا سبق شاید یہ ہے کہ ایک منفرد اور تاریخی عمارت پورے شہری علاقے کی قدر اور شناخت تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ محض صحرا میں بلند ہونے والا ایک ٹاور نہیں تھا بلکہ ایک وسیع تر شہری ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جس میں پراپرٹی، سیاحت، ریٹیل، ہوٹلنگ اور عالمی سرمایہ کاری کو ایک دوسرے سے جوڑا گیا۔

آج بھی برج خلیفہ 828 میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے۔ اس کی تعمیر نے یہ ثابت کیا کہ جدید رئیل اسٹیٹ صرف زمین کو ترقی دینے کا نام نہیں بلکہ ایسی عالمی شناخت تخلیق کرنے کا عمل بھی ہے جو کسی شہر کی معاشی اور تجارتی اہمیت کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔

برج دبئی نے بالآخر یہ سوال بدل دیا کہ ایک شہر کتنا تعمیر کر سکتا ہے، اور دنیا کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ ایک شہر کی امنگیں آخر کتنی بلند ہو سکتی ہیں۔

Views
0

مزید خبریں "On This Date" سے

news
مصر نے نہر سویز قومی ملکیت میں لے لی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑا بحران پیدا ہو گیا

مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اعلان کیا کہ نہر سویز چلانے والی کمپنی کو قومی ملکیت میں لے کر اس کا انتظام مصر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ سکندریہ میں ایک بڑے عوامی ج...

مزید پڑھیں
news
ہوبوکن اراضی و ترقیاتی کمپنی کی عمارت تاریخی فہرست میں شامل

3 جولائی 1979 کو امریکی ریاست نیو جرسی میں واقع ہوبوکن اراضی و ترقیاتی کمپنی کی عمارت کو قومی فہرست برائے تاریخی مقامات میں شامل کیا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے عمار...

مزید پڑھیں
news
امریکی ہاؤسنگ بلب مالیاتی بحران سے پہلے عروج پر پہنچا

26 اکتوبر 2005 کو، امریکی ہاؤسنگ بلب اپنے عروج پر پہنچا، جو غیر پائیدار قیمتوں کی نمو کے عروج کی نشاندہی کرتا ہے جو جلد ہی عالمی مالیاتی بحران کو متحرک کرے گا۔ ...

مزید پڑھیں
news
نازی جرمنی نے یہودی جائیدادوں کی جبری ضبطی کا فرمان جاری کر دیا

(برلن) 3 دسمبر 1938 کو نازی حکومت نے “Verordnung über den Einsatz des jüdischen Vermögens” کے نام سے ایک سنگین ریاستی فرمان نافذ کیا، جس کے تحت یہودی شہریوں ...

مزید پڑھیں
news
کوریائی جنگ بندی معاہدے پر دستخط، تین سالہ خونریز لڑائی رک گئی

27 جولائی 1953 کو شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تین سال سے جاری خونریز جنگ روکنے کے لیے کوریائی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یہ تاریخی معاہدہ کوریا کے سر...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں