From Real Estate History
8 Historical Event found
سن 2020 میں نیوزی لینڈ میں اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ 2020 نافذ ہوا، جس نے ملک کے بڑی پیچیدہ رہائشی و شہری ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک نیا قانونی نظام متعارف کرایا۔ اس قانون کو 6 اگست 2020 کو شاہی منظوری ملی تھی اور یہ اگلے روز نافذ ہوگیا۔ اس کے ذریعے سرکاری رہائش اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ذمہ دار ادارے کائنگا اورا کے شہری ترقی سے متعلق کردار اور اختیارات میں نمایاں توسیع کی گئی۔ اس وقت نیوزی لینڈ کے بڑے شہروں کو مکانات کی قلت، جائیداد کی بڑھتی قیمتوں، زمین کی منقسم ملکیت اور ناکافی انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ بڑے منصوبے اکثر اس لیے آگے نہیں بڑھ پاتے تھے کہ زمین، منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، تعمیراتی اجازت اور مالی وسائل مختلف اداروں اور نظاموں کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ مذکورہ قانون نے ان رکاوٹوں کے حل کے لیے ’’مخصوص ترقیاتی منصوبے‘‘ کا نیا طریقہ متعارف کرایا۔ اس نظام کے تحت کائنگا اورا کو مقامی حکومتوں، ماؤری برادریوں، زمین مالکان، شہریوں اور نجی ڈویلپرز کے ساتھ مل کر بڑے شہری منصوبے تیار کرنے کا اختیار ملا۔ منظور شدہ منصوبوں کے لیے ادارے کو زمین کے مختلف قطعات یکجا کرنے، بعض منصوبہ بندی ضوابط میں تبدیلی، تعمیراتی اجازت ناموں کے انتظام، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر کی فنڈنگ کے لیے مخصوص محصولات عائد کرنے جیسے اختیارات دیے گئے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ قانون کا مقصد صرف زیادہ عمارتیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ مکمل اور مربوط آبادیاں قائم کرنا ہے۔ ایسی آبادیوں میں سرکاری رہائش، کم قیمت مکانات اور مارکیٹ ریٹ پر دستیاب گھروں کے ساتھ ٹرانسپورٹ، روزگار، پارکس، کھلی جگہیں اور کمیونٹی سہولتیں بھی شامل ہوں۔ چونکہ قانون میں زمین کے حصول اور منصوبہ بندی سے متعلق وسیع اختیارات شامل تھے، اس لیے عوامی مشاورت، ماحول، ثقافتی ورثے اور ماؤری زمین کے تحفظ کے لیے حفاظتی شرائط بھی رکھی گئیں۔ ماؤری روایتی زمین، مخصوص محفوظ اراضی اور معاہدوں کے تحت واپس کی گئی زمین کے لیے خصوصی تحفظ فراہم کیا گیا۔ یہ قانون نیوزی لینڈ کی شہری اور رئیل اسٹیٹ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی تھا۔ اس نے رہائش، زمین، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو الگ الگ مسائل سمجھنے کے بجائے ایک مربوط شہری ترقیاتی نظام کا حصہ بنایا۔ یہ تاریخی قدم اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ تیزی سے بڑھتے شہروں میں صرف انفرادی ہاؤسنگ منصوبوں کی منظوری کافی نہیں ہوتی۔ کامیاب شہری ترقی کے لیے زمین کی مربوط پالیسی، بنیادی سہولتوں میں سرمایہ کاری اور ایسی طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے جو محض مکانات نہیں بلکہ مکمل اور قابلِ رہائش محلے تشکیل دے۔
مزید پڑھیں
سنگاپور کے گورنر اِن کونسل نے ملک کے پہلے قانونی ماسٹر پلان کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ سنگاپور میں زمین کے استعمال، رہائشی تعمیرات، کمرشل پراپرٹی اور منظم شہری ترقی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس منظوری کے بعد پورے جزیرے میں زمین اور عمارتوں کے مستقبل کے استعمال کو ایک مشترکہ قانونی منصوبے کے تحت منظم کرنے کی بنیاد قائم ہوگئی۔ ماسٹر پلان کی تیاری کیلئے تشخیصی سروے جنوری 1952 میں شروع کیا گیا تھا، جبکہ اس کا ابتدائی مسودہ 1955 کے آخر میں غور کیلئے پیش کیا گیا۔ کئی برس کی تحقیق، نقشہ سازی اور منصوبہ بندی کے بعد حتمی ماسٹر پلان 5 اگست 1958 کو منظور ہوا۔ اس کی منظوری کا سرکاری نوٹیفکیشن 8 اگست کو جاری کیا گیا اور اسی روز منصوبہ باقاعدہ طور پر نافذ ہوگیا۔ یہ ماسٹر پلان سنگاپور کے مختلف علاقوں پر مشتمل 53 رنگین نقشوں اور ایک تفصیلی تحریری دستاویز پر مشتمل تھا۔ ان نقشوں میں مستقبل کے رہائشی علاقوں، تجارتی مراکز، صنعتی زمین، اہم سڑکوں، سرکاری سہولیات، کمیونٹی مقامات اور تفریحی و کھلی جگہوں کی منصوبہ بندی دکھائی گئی تھی۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے کیلئے اس منصوبے کی اہمیت یہ تھی کہ اس نے زمین کی ترقی اور تعمیرات میں زیادہ نظم اور یقین پیدا کیا۔ سرکاری ادارے، زمین مالکان اور ڈویلپرز کسی بھی نئی تعمیر یا لینڈ یوز میں تبدیلی کو ایک منظور شدہ منصوبے کی روشنی میں جانچ سکتے تھے۔ اس کے ذریعے رہائش کو منظم کرنے اور مکانات، صنعت، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولیات کیلئے زمین محفوظ رکھنے میں بھی مدد ملی۔ یہ منصوبہ ایسے دور میں سامنے آیا جب سنگاپور کو رہائش کی شدید قلت، گنجان آبادی، ٹریفک کے دباؤ اور محدود شہری زمین جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ بعد کے برسوں میں تیز رفتار آبادی، صنعتی ترقی اور بڑے پیمانے پر عوامی ہاؤسنگ کی تعمیر کے باعث مزید جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں 1971 کا کانسیپٹ پلان سامنے آیا۔ اس کے باوجود 1958 کے ماسٹر پلان نے سنگاپور کے جدید شہری منصوبہ بندی نظام کی قانونی اور انتظامی بنیاد قائم کردی۔ آج بھی سنگاپور کا ماسٹر پلان زمین اور جائیداد کی آئندہ ترقی کی رہنمائی کرنے والی بنیادی قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں
2 اگست 1935 کو برطانیہ میں ہاؤسنگ ایکٹ 1935 کو شاہی منظوری دی گئی، جس نے شہری رہائش، گنجان آبادی اور پرانے محلوں کی ازسرنو تعمیر سے متعلق حکومتی پالیسی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔ یہ قانون ایسے وقت سامنے آیا جب لندن سمیت کئی صنعتی شہروں میں بڑی تعداد میں خاندان محدود کمروں، ناقص سہولتوں اور غیر صحت مند ماحول میں رہ رہے تھے۔ برطانوی پارلیمان کے ریکارڈ کے مطابق قانون کو اسی روز شاہی منظوری ملی، جبکہ اس کا بنیادی مقصد گنجان رہائش کی روک تھام، شہری علاقوں کی تعمیر نو اور خستہ عمارتوں کی بحالی تھا۔ قانون کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس نے پہلی بار ملک گیر سطح پر یہ طے کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی معیار فراہم کیا کہ کسی گھر کو کب حد سے زیادہ گنجان سمجھا جائے گا۔ اس معیار میں گھر کے کمروں، ان کے رقبے، رہائشی افراد کی تعداد، عمر اور بعض حالات میں مرد و خواتین کے لیے الگ سونے کی جگہ کو مدنظر رکھا گیا۔ اس سے پہلے گنجان رہائش کو ایک مسئلہ تو سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کی واضح اور یکساں قانونی تعریف موجود نہیں تھی۔ پارلیمانی بحث میں اسے ہاؤسنگ قانون سازی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا، کیونکہ پہلی مرتبہ مقامی اداروں کو ایک مشترکہ پیمانہ میسر آیا۔ ہاؤسنگ ایکٹ نے مقامی حکومتوں کو اپنے علاقوں میں رہائشی حالات کا سروے کرنے، گنجان گھروں کی نشاندہی کرنے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے متبادل رہائش کے منصوبے تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دی۔ قانون میں شہری تعمیر نو، پرانی عمارتوں کی مرمت، مقامی حکومتوں کے زیرانتظام گھروں کی بہتری اور ہاؤسنگ مشاورتی انتظامات کے لیے بھی دفعات شامل تھیں۔ اس طرح رہائش کو صرف نجی ملکیت کا معاملہ نہیں بلکہ صحت، شہری منصوبہ بندی اور مقامی حکومت کی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اس قانون کا اثر بعد کی برطانوی ہاؤسنگ قانون سازی تک جاری رہا۔ ہاؤس آف کامنز لائبریری کے مطابق 1935 میں متعارف کرایا گیا قانونی اوورکراؤڈنگ معیار طویل عرصے تک بنیادی حوالہ بنا رہا اور آج بھی اس کے اصول جدید قانون میں دکھائی دیتے ہیں۔ 2 اگست 1935 کا یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ کامیاب شہری ترقی صرف نئی عمارتیں بنانے کا نام نہیں، بلکہ ہر خاندان کو محفوظ، مناسب اور باوقار رہائش فراہم کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
فلپائن میں صدارتی فرمان نمبر 757 کے ذریعے نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں سرکاری رہائش، نئی رہائشی آبادیوں اور لوگوں کی منتقلی سے متعلق مختلف پروگراموں کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کرنا تھا۔ اسی فرمان کے ذریعے پہلے سے کام کرنے والے متعدد سرکاری ہاؤسنگ ادارے ختم کرکے ان کی ذمہ داریاں نئی اتھارٹی کو منتقل کر دی گئیں۔ 1970 کی دہائی کے دوران فلپائن، خصوصاً میٹرو منیلا، کو تیز رفتار شہری آبادی، دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی اور کم آمدن خاندانوں کے لیے مناسب گھروں کی کمی کا سامنا تھا۔ حکومتی فرمان میں تسلیم کیا گیا کہ رہائش کا مسئلہ اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اسے محدود اور الگ الگ منصوبوں کے بجائے بڑے، منظم اور مسلسل ہاؤسنگ پروگرام کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کو جامع ہاؤسنگ پروگرام تیار کرنے، رہائشی منصوبے بنانے، بے گھر یا متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری، زمین حاصل کرنے اور سرکاری و نجی شعبے کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ پروگرام میں ہاؤسنگ فنانس، کم لاگت تعمیراتی طریقوں، شہری زمین کے بہتر استعمال اور مختلف آمدن رکھنے والے خاندانوں کی ضروریات کو بھی شامل کیا گیا۔ اتھارٹی کو سرکاری اور نجی زمین حاصل کرنے، رہائشی منصوبوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور اپنے پروگراموں کے لیے بانڈز یا دیگر مالی ذرائع استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس طرح ادارے کا کردار صرف گھر بنانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں زمین، شہری منصوبہ بندی، تعمیر، فنانسنگ اور آبادکاری کے مختلف مراحل شامل تھے۔ یہ ادارہ بعد کے برسوں میں قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں، غیر رسمی آبادیوں کے رہائشیوں اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے باعث منتقل ہونے والے لوگوں کے لیے رہائشی اور آبادکاری منصوبوں کا اہم ذریعہ بنا۔ اس کے پروگراموں کو مالی وسائل، زمین کی دستیابی اور بعض منصوبوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا رہا۔ اس کے باوجود 31 جولائی 1975 کا فیصلہ ایشیا میں ریاستی سطح پر منظم ہاؤسنگ پالیسی کی ایک اہم مثال ہے۔ اس نے واضح کیا کہ تیزی سے بڑھتے شہروں میں رہائش کا مسئلہ صرف عمارتوں کی تعمیر سے نہیں بلکہ زمین، روزگار، ٹرانسپورٹ، بنیادی سہولتوں اور شہری منصوبہ بندی کو ایک ساتھ دیکھنے سے حل کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
30 جولائی 1904 کو ہانگ کانگ کی سڑکوں پر پہلی برقی ٹرام نے سفر شروع کیا اور شہر کی نقل و حمل، شہری منصوبہ بندی اور رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ ہوا۔ ابتدائی نظام میں 26 یک منزلہ ٹرامیں شامل تھیں، جبکہ پہلا راستہ کینیڈی ٹاؤن سے کازوے بے تک قائم کیا گیا۔ بعد میں اسے شاؤ کی وان تک توسیع دے دی گئی۔ ٹرام کا راستہ ہانگ کانگ جزیرے کے شمالی ساحلی علاقے سے گزرتا تھا، جہاں بندرگاہ، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر، بازار اور رہائشی بستیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ اس سے قبل شہریوں کو مختلف علاقوں کے درمیان سفر کے لیے نسبتاً سست اور محدود ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ٹرام نے سفر کو زیادہ باقاعدہ، سستا اور قابل اعتماد بنا دیا۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے ٹرام کے آغاز کا سب سے اہم اثر شہری زمین تک رسائی میں بہتری تھا۔ جن علاقوں کو نئی ٹرام لائن سے رابطہ ملا، وہاں رہائشی اور تجارتی جائیدادوں کی افادیت بڑھنے لگی۔ لوگ مرکزی کاروباری علاقوں سے نسبتاً دور رہائش اختیار کر کے روزانہ کام پر آ جا سکتے تھے، جبکہ دکانوں اور دفاتر کو ٹرام اسٹاپس کے قریب زیادہ گاہک اور بہتر کاروباری مواقع میسر آنے لگے۔ وقت کے ساتھ ٹرام کے راستے سے منسلک محلوں میں کثیرالمنزلہ رہائش، تجارتی عمارتوں، بازاروں اور عوامی سہولتوں کی ترقی نے رفتار پکڑی۔ اس طرح ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر نے صرف موجودہ آبادی کی ضروریات پوری نہیں کیں بلکہ مستقبل میں شہر کے پھیلاؤ کی سمت بھی متعین کی۔ ابتدائی یک منزلہ ٹراموں کی جگہ بعد میں دو منزلہ ٹراموں نے لے لی، جو اپنی گھنٹی کی آواز کے باعث مقامی طور پر “ڈنگ ڈنگ” کے نام سے مشہور ہوئیں۔ یہ ٹرامیں ایک صدی سے زیادہ عرصے کے دوران ہانگ کانگ کی شہری شناخت اور روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنی رہیں۔ 30 جولائی 1904 کا واقعہ اس اصول کی نمایاں مثال ہے کہ جدید پبلک ٹرانسپورٹ کسی شہر میں صرف آمدورفت بہتر نہیں کرتی بلکہ زمین کی قدر، جائیداد کی طلب، تجارتی سرگرمی اور رہائشی ترقی کو بھی نئی شکل دیتی ہے۔
مزید پڑھیں
29 جولائی 1836 کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں آرک ڈی ٹرائمف کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ یہ عظیم تعمیراتی یادگار تقریباً 30 سال کے طویل عرصے میں مکمل ہوئی اور بعد میں پیرس کی سب سے نمایاں شہری اور تعمیراتی یادگاروں میں شامل ہو گئی۔ اس یادگار کی تعمیر کا منصوبہ 1806 میں نپولین بوناپارٹ کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ اسے شانزے لیزے کے مغربی سرے پر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ یہ شہر کے اہم شاہی اور عوامی راستوں سے واضح طور پر نظر آ سکے۔ آج یہ پلیس ڈی لیتیوال، جسے اب پلیس شارل ڈی گال کہا جاتا ہے، کے وسط میں قائم ہے۔ تعمیر کے دوران سیاسی تبدیلیوں، حکومتوں کی تبدیلی اور مالی و انتظامی مشکلات کے باعث کام کئی مرتبہ رکا۔ اس کے باوجود منصوبہ مکمل کیا گیا اور 29 جولائی کو اس کا افتتاح ہوا۔ سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بڑی افتتاحی تقریب منسوخ کر دی گئی تھی اور محدود تعداد میں حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ رئیل اسٹیٹ اور شہری ترقی کی تاریخ میں آرک ڈی ٹرائمف صرف ایک یادگار نہیں بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ ایک نمایاں عوامی عمارت کس طرح شہر کی شناخت، سڑکوں کی ترتیب، سیاحت اور اردگرد کے تعمیراتی ماحول کا مستقل حصہ بن سکتی ہے۔ آج یہ پیرس کے مرکزی شہری منظر، ثقافتی ورثے اور عالمی شناخت کا اہم نشان ہے۔
مزید پڑھیں
28 جولائی 1893 کو اسپین کے شمالی علاقے میں ویزکایا برج عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے دنیا کا پہلا ٹرانسپورٹر برج قرار دیا جاتا ہے، جس نے پلوں کی تعمیر، شہری رابطے اور صنعتی علاقوں کے درمیان آمدورفت کا ایک نیا طریقہ متعارف کرایا۔ یہ پل بلباؤ کے قریب دریائی دہانے پر پرتگالیتے اور گیتشو کے شہری علاقوں کو ملاتا ہے۔ روایتی پل کے برعکس اس کے بلند فولادی ڈھانچے کے نیچے ایک لٹکتا ہوا پلیٹ فارم یا گونڈولا چلتا ہے، جو مسافروں اور گاڑیوں کو دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتا ہے۔ اس ڈیزائن سے بڑے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی تھی۔ پل کو باسک معمار البرٹو ڈی پلاسیو نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس میں لوہے اور فولادی تاروں کی نئی تکنیک استعمال کی گئی، جس نے بعد کے عشروں میں دنیا کے مختلف ممالک میں ٹرانسپورٹر پلوں کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔ اسپین کی خانہ جنگی کے دوران نقصان کے باعث پل 1937 سے 1941 تک بند رہا، لیکن بحالی کے بعد دوبارہ فعال کردیا گیا۔ بعد میں اس کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا اور حفاظتی نظام بہتر بنائے گئے۔ ویزکایا برج کو 2006 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا اور یہ آج بھی ایک فعال سفری رابطہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور شہری منصوبہ بندی کے نقطہ نظر سے ویزکایا برج اس اصول کی نمایاں مثال ہے کہ شہروں کی ترقی صرف نئی عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ بہتر سڑکیں، پل اور سفری رابطے رہائشی اور تجارتی علاقوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے اور شہری زمین کے استعمال کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1898 کو نیویارک شہر کی موجودہ شکل وجود میں آئی جسے تاریخی طور پر Greater New York کہا جاتا ہے۔ اسی دن مین ہٹن، برونکس، بروکلین، کوئینز اور اسٹیٹن آئی لینڈ کو ایک واحد شہری اکائی میں ضم کیا گیا۔ اس سے قبل بروکلین ایک خود مختار شہر تھا اور آبادی کے لحاظ سے امریکا کا چوتھا بڑا شہر شمار ہوتا تھا جبکہ کوئینز اور اسٹیٹن آئی لینڈ زیادہ تر زرعی، نیم دیہی اور آزاد انتظامی حیثیت رکھتے تھے۔ برونکس بھی الگ کاؤنٹی اسٹرکچر کے تحت تھا اور مین ہٹن محدود جغرافیے میں شدید آبادی دباؤ کا شکار تھا۔ رئیل اسٹیٹ کے زاویے سے الحاق کا یہ فیصلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 1898 کے بعد مین ہٹن، جو پہلے ہی مہنگا تھا، اس کی زمین نے فنانشل ڈسٹرکٹ اور مڈ ٹاؤن کی صورت میں عمودی ترقی اختیار کی، جبکہ بروکلین اور کوئینز پہلی بار بڑے پیمانے پر رہائشی زونز کے طور پر ابھرے۔ اسٹیٹن آئی لینڈ بندرگاہی اور لاجسٹک سرگرمیوں سے جڑا جبکہ برونکس صنعتی اور بعد ازاں مڈل کلاس رہائش کا مرکز بنا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے نیویارک میں زوننگ کے جدید تصورات نے جنم لیا اور بعد ازاں شہروں میں زمین کے استعمال کو رہائش، تجارت اور صنعت میں واضح طور پر تقسیم کیا جانے لگا۔ شہروں میں اربن ٹرانسپورٹ کا جدید تصور بھی یہیں سے ابھرا جب 1904 میں New York City میں سب وے کا آغاز ہوا۔ ایک منظم انڈرگراؤنڈ ریلوے نیٹ ورک کی بدولت کوئینز، بروکلین اور برونکس میں بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ ممکن ہوئی۔ آج نیویارک کی رئیل اسٹیٹ ویلیوز میں جو جغرافیائی تسلسل اور پھیلاؤ نظر آتا ہے، اس کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔ تاریخی طور پر اس الحاق کا رئیل اسٹیٹ پر اثر غیر معمولی تھا کیونکہ پہلی مرتبہ ایک ایسا میگا سٹی تشکیل پایا جس میں بندرگاہ، صنعت، مالیاتی مرکز، رہائش اور ٹرانسپورٹ ایک مربوط شہری نظام میں یکجا ہو گئے۔ زمین کی قیمتوں میں طویل المدتی اضافہ اسی فیصلے کی پیداوار بنا، جبکہ شہری زوننگ، سب وے نیٹ ورک اور کمرشل اسکیل کی منظم ترقی یکم جنوری 1898 کے بعد ہی ممکن ہوئی، اور یوں نیویارک دنیا کی سب سے مہنگی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ رکھنے والے شہروں کی صف میں شامل ہو گیا۔ یکم جنوری 1898 کو نیو یارک کا دوسرے علاقوں، جنہیں تاریخی اصطلاح میں بورو (Boroughs) کہا جاتا ہے، سے الحاق دنیا کے پہلے جدید میگا سٹی ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔ بعد ازاں لندن، پیرس، ٹوکیو اور دیگر عالمی شہروں نے اسی ماڈل کو اپنے اپنے انداز میں اپنایا۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نیو یارک کا نام یکم جنوری 1898 کے الحاق کے بعد نہیں بلکہ اس سے تقریباً دو سو سال پہلے وجود میں آ چکا تھا۔ موجودہ نیو یارک سٹی کو 1664 میں اس وقت نیو یارک کہا گیا جب برطانوی سلطنت نے ڈچ آبادکاری نیو ایمسٹرڈیم پر قبضہ کیا اور اسے ڈیوک آف یارک کے نام پر New York کا نام دیا۔ 1898 میں ہونے والی تبدیلی نام کی نہیں بلکہ شہر کی ساخت کی تھی جسے تاریخی طور پر Greater New York کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں