From Real Estate History
12 Historical Event found
9 ستمبر 1987 دنیا کی رئیل اسٹیٹ تاریخ میں ایک غیر معمولی دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس روز چین کے شہر شینژن میں ایک ایسا تجربہ کیا گیا جس نے آنے والے برسوں میں نہ صرف چینی پراپرٹی مارکیٹ بلکہ شہری ترقی اور زمین کے انتظام کے پورے نظام کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس تجربے میں حکومت نے زمین کی ملکیت کسی نجی شخص یا کمپنی کو فروخت نہیں کی تھی۔ اس کے بجائے زمین کی ملکیت ریاست کے پاس رکھتے ہوئے اس کے استعمال کا حق ایک سرمایہ کار کو منتقل کیا گیا۔ تحقیقی سٹڈیز کے مطابق 9 ستمبر 1987 کو شینژن میں تقریباً 5,321.8 مربع میٹر رقبے کے ایک قطعہ زمین کے استعمال کا حق ایک مقامی کمپنی کو 200 یوآن فی مربع میٹر کے حساب سے مذاکرات کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ یہ فیصلہ بظاہر ایک محدود نوعیت کا انتظامی تجربہ تھا، لیکن حقیقت میں اس نے چین کے زمین اور رئیل اسٹیٹ نظام میں ایک بنیادی سوال اٹھا دیا: اگر زمین ریاست کی ملکیت ہے تو کیا اس کے استعمال کے حق کو مارکیٹ میں منتقل کیا جا سکتا ہے؟ اس وقت چین میں زمین کے بارے میں ریاستی کنٹرول انتہائی مضبوط تھا۔ زمین کو عام تجارتی شے کے طور پر خریدنے اور فروخت کرنے کا تصور موجودہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ سے بالکل مختلف تھا۔ شینژن، جو اس وقت اصلاحات اور کھلے پن کے تجربات کے لیے ایک اہم خصوصی اقتصادی زون بن رہا تھا، تیزی سے ترقی کے لیے نئے مالی وسائل تلاش کر رہا تھا۔ چنانچہ زمین کی ملکیت اور استعمال کے حق کو الگ کرنے کا تصور سامنے آیا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے بعد میں چین کے موجودہ زمین کے نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ 9 ستمبر کے اس تجربے کے صرف چند ماہ بعد، یکم دسمبر 1987 کو شینژن میں چین کی تاریخ کی پہلی باقاعدہ عوامی زمین نیلامی منعقد ہوئی۔ شینژن حکومت نے زمین کے استعمال کے حق کو کھلے عام نیلام کیا اور بولی کے ذریعے سرمایہ کار کو زمین استعمال کرنے کا حق دیا۔ شینژن کی سرکاری تاریخ کے مطابق یہ نیلامی چین کے سرزمین پر زمین کے انتظام کے نظام میں اصلاحات کا ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔ اس پہلے تجربے نے رفتہ رفتہ ایک ایسا نظام تشکیل دینے میں مدد دی جس میں زمین کی اصل ملکیت ریاست کے پاس رہ سکتی تھی، لیکن اس کے استعمال کے حقوق مقررہ مدت کے لیے مارکیٹ میں منتقل کیے جا سکتے تھے۔ بعد کے برسوں میں یہی تصور چین کے شہری رئیل اسٹیٹ نظام کا بنیادی حصہ بن گیا۔ تحقیقی ذرائع کے مطابق بعد میں شہری زمین کے استعمال کے حقوق کے لیے مختلف مدتیں مقرر ہوئیں، جن میں رہائشی استعمال کے لیے 70 سال، صنعتی استعمال کے لیے 50 سال اور تجارتی استعمال کے لیے 40 سال کی مدت شامل ہے۔ یہ تبدیلی صرف قانونی یا انتظامی نوعیت کی نہیں تھی۔ اس نے چین کے شہروں کی تعمیر، حکومت کی آمدنی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو بھی متاثر کیا۔ زمین کے استعمال کے حقوق کی منتقلی نے شہری زمین کو اقتصادی سرگرمی کا حصہ بنایا اور حکومتوں کو شہری ترقی کے لیے زمین کو ایک مالی وسیلے کے طور پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس تجربے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بعد میں چین کے آئین میں بھی تبدیلی کی گئی۔ 12 اپریل 1988 کو آئین کے آرٹیکل 10 میں ترمیم کے ذریعے زمین کے استعمال کے حقوق کی منتقلی کی گنجائش پیدا کی گئی، جس کے بعد شینژن کا تجربہ بتدریج وسیع تر قومی نظام کا حصہ بن گیا۔ آج جب دنیا چین کے بلند و بالا شہروں، بڑے ہاؤسنگ منصوبوں، کمرشل ڈسٹرکٹس اور اربوں ڈالر کی پراپرٹی مارکیٹ کو دیکھتی ہے تو شاید بہت کم لوگ اس چھوٹے سے تاریخی تجربے کو یاد کرتے ہیں۔ لیکن رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں 9 ستمبر 1987 اس لیے غیر معمولی ہے کہ اسی روز ایک ایسا سوال عملی طور پر آزمایا گیا جس نے بعد میں پورے ملک کے زمین کے نظام کو بدل دیا: زمین ریاست کی ملکیت رہے، لیکن اس کے استعمال کا حق مارکیٹ میں خریدا اور فروخت کیا جا سکے—کیا یہ ممکن ہے؟ شینژن نے اس سوال کا عملی جواب دیا، اور یہی تجربہ بعد میں چین کے جدید رئیل اسٹیٹ نظام کی ایک اہم بنیاد بن گیا
مزید پڑھیں
2 ستمبر 1922 کو نیویارک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں ایسی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو چکے تھے جو بعد ازاں مین ہٹن کے مختلف علاقوں کی شکل بدلنے کا باعث بنی۔ اس دور کے اہم پراپرٹی اور تعمیراتی جریدے دی رئیل اسٹیٹ ریکارڈ اینڈ بلڈرز گائیڈ نے تھرڈ ایونیو میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر ایک اہم رپورٹ شائع کی، جس میں خرید و فروخت، ازسرنو ترقی اور جدید تعمیرات کے ذریعے مین ہٹن کی قدیم شمالی جنوبی تجارتی شاہراہوں میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کیا گیا۔ یہ رپورٹ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایسے وقت میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی تصویر پیش کی جب پرانی عمارتوں کو صرف خستہ حال یا فرسودہ جائیداد سمجھنے کے بجائے نئی تعمیر اور ترقی کے مواقع کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا۔ تھرڈ ایونیو، جو باؤری اور کوپر سکوائر سے شروع ہو کر دریائے ہارلم کی سمت جاتی تھی، گزشتہ چھ ماہ کے دوران پراپرٹی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ جریدے کے مطابق پیشہ ور رئیل اسٹیٹ آپریٹرز اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد بھی جائیداد کی خریداری میں تیزی سے دلچسپی لے رہے تھے۔ پرانی ٹینیمنٹ عمارتوں سے جدید پراپرٹی تک تھرڈ ایونیو کی تاریخ نقل و حمل اور تجارت سے گہری وابستہ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ شاہراہ ابتدائی دور میں گھوڑا گاڑیوں کی ٹرام سروس اور بعد ازاں نیویارک کے اولین ایلیویٹڈ ریلوے روٹس میں سے ایک کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی تھی۔ اس کے اطراف میں آبادی کا گنجان ہونا مقامی کاروبار اور دکانوں کے لیے ایک مضبوط صارف مارکیٹ فراہم کرتا تھا۔ تاہم ایونیو کے بڑے حصے میں عمارتوں کا پرانا ڈھانچہ برقرار تھا۔ تین اور چار منزلہ ٹینیمنٹ عمارتیں، جن کے گراؤنڈ فلور پر دکانیں قائم تھیں، کئی مقامات پر نمایاں تھیں۔ ان میں سے بہت سی عمارتیں کئی دہائیاں قبل تعمیر ہوئی تھیں اور ان میں جدید کاروباری ضروریات کے مطابق اسٹور فرنٹس اور دیگر سہولیات موجود نہیں تھیں۔ 1922 کی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان فرسودہ عمارتوں نے بعض علاقوں میں پراپرٹی ویلیوز میں کمی پیدا کی تھی، تاہم یہی صورتحال جدید تعمیرات کے لیے ایک موقع بھی بن رہی تھی۔ پرانی عمارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرکے زمین اور جائیداد کی قدر میں دوبارہ اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ اس بحالی کے عمل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں موجودہ دکاندار اور کاروباری افراد بھی اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ بعض تاجر بڑھتے ہوئے کرایوں سے بچنے کے لیے ان عمارتوں کو ہی خریدنے لگے جہاں ان کے کاروبار قائم تھے۔ ان خریداریوں نے پیشہ ور رئیل اسٹیٹ آپریٹرز کی توجہ بھی حاصل کی، جنہوں نے پرانے مالکان سے فرسودہ جائیدادیں خرید کر انہیں بہتر بنایا اور بعد ازاں کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو فروخت یا کرائے پر دینا شروع کیا۔ ٹرانزٹ، تجارت اور پراپرٹی ویلیوز میں اضافہ نقل و حمل بھی اس رئیل اسٹیٹ بحالی کا ایک اہم عنصر تھا۔ رپورٹ میں قریبی لیکسنگٹن ایونیو سے گزرنے والے تیز رفتار ٹرانزٹ روٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جس نے تھرڈ ایونیو کو شہر کے ایک اور بڑے ٹرانسپورٹیشن کوریڈور سے جوڑ دیا۔ سڑک کے بدلتے ہوئے تجارتی ماحول کے اثرات بھی واضح طور پر دکھائی دینے لگے تھے۔ بعض مقامات پر سیلونز کی جگہ ریستوران قائم ہو رہے تھے، جبکہ خصوصی نوعیت کی دکانیں، کتابوں کی دکانیں، فرنیچر اسٹورز، جیولرز، پھول فروش، دوا ساز اور دیگر کاروبار بھی تیزی سے پھیل رہے تھے۔ طویل مدتی تجارتی لیز بھی عام ہوتی جا رہی تھیں۔ رپورٹ میں یونائیٹڈ سگار سٹورز کی ایک قابل ذکر مثال دی گئی، جس نے تھرڈ ایونیو اور ایسٹ 86th سٹریٹ پر واقع پرانی عمارتیں 21 سال کے لیے لیز پر حاصل کیں، جبکہ معاہدے میں تجدید کا اختیار بھی شامل تھا۔ مجموعی کرایہ تقریباً 5 لاکھ ڈالر نیٹ بتایا گیا اور توقع تھی کہ اس مقام پر ایک جدید کاروباری عمارت تعمیر کی جائے گی۔ رپورٹ نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی اس بحالی کو پہلی جنگ عظیم کے بعد کے وسیع تر معاشی حالات سے بھی جوڑا۔ تعمیراتی لاگت میں نمایاں اضافے نے موجودہ عمارتوں کو نسبتاً زیادہ قیمتی بنا دیا تھا، جبکہ کم لاگت والے تجارتی مقامات کی تلاش میں کاروباری افراد کی توجہ بھی تھرڈ ایونیو کی جانب بڑھ رہی تھی۔ 2 ستمبر 1922 کی یہ رپورٹ محض نیویارک کی ایک قدیم پراپرٹی مارکیٹ کی تصویر نہیں بلکہ شہری رئیل اسٹیٹ کی تبدیلی کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پرانی عمارتیں، بہتر ٹرانسپورٹیشن، بڑھتی ہوئی تجارتی طلب، سرمایہ کاری اور تعمیر نو جب ایک ساتھ آ جائیں تو کسی بھی شہری کوریڈور کی پراپرٹی ویلیو اور معاشی اہمیت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تاریخی واقعہ اس بات کی قابل ذکر مثال ہے کہ بنیادی ڈھانچے، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیر نو کا امتزاج کس طرح کسی علاقے کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
30 اگست 1957 کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں شہری توسیع، ہاؤسنگ اور زمین کے استعمال سے متعلق ایک اہم واقعہ پیش آیا، جب دہلی کے مضافاتی علاقوں کے تقریباً ایک ہزار کسان اپنی زمینیں سرکاری ہاؤسنگ سکیم اور ایک بڑے طبی ادارے کی عمارت کے لیے حاصل کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی رہائش گاہ پہنچے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق کسان چار دیہات سے آئے تھے اور انہیں اپنی زرعی زمین کے شہری منصوبوں کے لیے حصول پر اعتراض تھا۔ اس وقت نئی دہلی تیزی سے پھیل رہا تھا اور شہری آبادی میں اضافے کے باعث اردگرد کے دیہی علاقوں کی زمینیں ہاؤسنگ اور دیگر تعمیراتی منصوبوں کے لیے اہم ہوتی جا رہی تھیں۔ کسانوں کو اندیشہ تھا کہ ان کی زمینیں بڑی کمپنیوں یا ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پاس چلی جائیں گی، جہاں انہیں کم قیمت پر زمین خرید کر زیادہ قیمت پر فروخت کرنے سے بھاری منافع حاصل ہوگا۔ نہرو نے بھی اس خدشے کو نظرانداز نہیں کیا اور ماضی میں بعض ہاؤسنگ کمپنیوں کی جانب سے زمین سستے داموں خرید کر مہنگے داموں فروخت کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ نہرو کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ دہلی کی بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور پھیلاؤ کو کیسے منظم کیا جائے۔ ان کے مطابق بڑے شہر کی ترقی کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن یہ توسیع منصوبہ بند یا بے ہنگم دونوں طریقوں سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر شہری پھیلاؤ بغیر منصوبہ بندی کے جاری رہا تو سب سے زیادہ نقصان اردگرد کے کسانوں کو ہوگا، کیونکہ وہ اپنی زمین کے چھوٹے چھوٹے حصے فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں اور ان کی مستقبل کی رہائش کے لیے مناسب انتظام نہیں ہوگا۔ یہ واقعہ رئیل اسٹیٹ اور اربن ڈویلپمنٹ کی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ اس نے شہری توسیع، زمین کے حصول، ہاؤسنگ، زرعی زمین کے تحفظ اور منصوبہ بند ترقی کے درمیان تعلق کو نمایاں کیا۔ نہرو نے فوری طور پر حتمی فیصلہ دینے کے بجائے معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے طریقہ کار کو دیکھنے کا وعدہ کیا۔ 30 اگست 1957 کا یہ واقعہ آج بھی اس بنیادی سوال کی یاد دلاتا ہے کہ شہروں کی ترقی کے ساتھ زمین کے مالکان، کسانوں اور مقامی آبادی کے مفادات کو کس طرح متوازن کیا جائے۔
مزید پڑھیں
آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں نئے ٹاؤن ہال کے افتتاح کی خوشی میں ایک عظیم الشان تقریب ہوئی، جو آنے والے برسوں میں شہری، سیاسی اور تعمیراتی شناخت کی علامت بننے والی اس عمارت کی تاریخ کا یادگار حصہ بن گئی۔ نئے میلبورن ٹاؤن ہال کی تعمیر ایسے وقت میں ہوئی جب سونے کی دریافت کے بعد شہر تیزی سے پھیل رہا تھا اور پرانا ٹاؤن ہال بڑھتی ہوئی شہری اور انتظامی ضروریات کیلئے ناکافی ہوچکا تھا۔ نئے اور زیادہ شاندار شہری مرکز کیلئے تعمیراتی خاکے کا مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں معروف آ رکیٹیکچرل فرم ریڈ اینڈ بارنز کا منصوبہ منتخب ہوا۔ نئی عمارت کا سنگ بنیاد 29 نومبر 1867 کو پرنس الفریڈ، ڈیوک آف ایڈنبرا نے رکھا۔ مقامی نیلے پتھر اور تسمانیہ سے لائے گئے تراشیدہ پتھر کے امتزاج سے تعمیر ہونے والی عمارت میں بڑے شہری اجلاسوں کیلئے ہال، بلدیاتی دفاتر، میئر کے کمرے، کونسل چیمبر اور نمایاں گھڑیال ٹاور شامل تھے۔ عمارت کا سرکاری افتتاح 9 اگست 1870 کو ہوا، تاہم دو روز بعد 11 اگست کو میئر سیموئل ایمس نے اپنے ذاتی خرچ پر ایک عظیم الشان ملبوساتی تقریب منعقد کی، جس نے نئے ٹاؤن ہال کے افتتاح کو شہر کی ایک بڑی سماجی تقریب میں بدل دیا۔ اس تقریب کا اصل دعوت نامہ آج بھی میلبورن کے شہری و تاریخی ذخیرے میں محفوظ ہے۔ وقت کے ساتھ میلبورن ٹاؤن ہال صرف بلدیاتی انتظامیہ کا مرکز نہیں رہا بلکہ شہر کی سیاسی بحث، عوامی اجتماعات، ثقافتی تقریبات اور اہم شہری فیصلوں کا مرکزی مقام بن گیا۔ آسٹریلیا کے وفاق کے قیام سے متعلق کئی اہم عوامی اجتماعات بھی اسی عمارت میں منعقد ہوئے۔ 1925 میں ایک بڑی آگ نے مرکزی ہال اور موسیقی کے بڑے ساز کو تباہ کردیا، جس کے بعد عمارت کی تعمیر نو اور توسیع کی گئی۔ آج میلبورن ٹاؤن ہال ایک محفوظ تاریخی عمارت اور شہر کے نمایاں شہری نشانات میں شمار ہوتا ہے۔ یوں 11 اگست 1870 کی افتتاحی تقریب صرف ایک عمارت کا جشن نہیں تھی، بلکہ تیزی سے ترقی کرتے میلبورن کیلئے ایک نئے شہری مرکز کے عروج کی علامت بھی تھی۔
مزید پڑھیں
سن 2020 میں نیوزی لینڈ میں اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ 2020 نافذ ہوا، جس نے ملک کے بڑی پیچیدہ رہائشی و شہری ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک نیا قانونی نظام متعارف کرایا۔ اس قانون کو 6 اگست 2020 کو شاہی منظوری ملی تھی اور یہ اگلے روز نافذ ہوگیا۔ اس کے ذریعے سرکاری رہائش اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ذمہ دار ادارے کائنگا اورا کے شہری ترقی سے متعلق کردار اور اختیارات میں نمایاں توسیع کی گئی۔ اس وقت نیوزی لینڈ کے بڑے شہروں کو مکانات کی قلت، جائیداد کی بڑھتی قیمتوں، زمین کی منقسم ملکیت اور ناکافی انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ بڑے منصوبے اکثر اس لیے آگے نہیں بڑھ پاتے تھے کہ زمین، منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، تعمیراتی اجازت اور مالی وسائل مختلف اداروں اور نظاموں کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ مذکورہ قانون نے ان رکاوٹوں کے حل کے لیے ’’مخصوص ترقیاتی منصوبے‘‘ کا نیا طریقہ متعارف کرایا۔ اس نظام کے تحت کائنگا اورا کو مقامی حکومتوں، ماؤری برادریوں، زمین مالکان، شہریوں اور نجی ڈویلپرز کے ساتھ مل کر بڑے شہری منصوبے تیار کرنے کا اختیار ملا۔ منظور شدہ منصوبوں کے لیے ادارے کو زمین کے مختلف قطعات یکجا کرنے، بعض منصوبہ بندی ضوابط میں تبدیلی، تعمیراتی اجازت ناموں کے انتظام، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر کی فنڈنگ کے لیے مخصوص محصولات عائد کرنے جیسے اختیارات دیے گئے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ قانون کا مقصد صرف زیادہ عمارتیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ مکمل اور مربوط آبادیاں قائم کرنا ہے۔ ایسی آبادیوں میں سرکاری رہائش، کم قیمت مکانات اور مارکیٹ ریٹ پر دستیاب گھروں کے ساتھ ٹرانسپورٹ، روزگار، پارکس، کھلی جگہیں اور کمیونٹی سہولتیں بھی شامل ہوں۔ چونکہ قانون میں زمین کے حصول اور منصوبہ بندی سے متعلق وسیع اختیارات شامل تھے، اس لیے عوامی مشاورت، ماحول، ثقافتی ورثے اور ماؤری زمین کے تحفظ کے لیے حفاظتی شرائط بھی رکھی گئیں۔ ماؤری روایتی زمین، مخصوص محفوظ اراضی اور معاہدوں کے تحت واپس کی گئی زمین کے لیے خصوصی تحفظ فراہم کیا گیا۔ یہ قانون نیوزی لینڈ کی شہری اور رئیل اسٹیٹ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی تھا۔ اس نے رہائش، زمین، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو الگ الگ مسائل سمجھنے کے بجائے ایک مربوط شہری ترقیاتی نظام کا حصہ بنایا۔ یہ تاریخی قدم اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ تیزی سے بڑھتے شہروں میں صرف انفرادی ہاؤسنگ منصوبوں کی منظوری کافی نہیں ہوتی۔ کامیاب شہری ترقی کے لیے زمین کی مربوط پالیسی، بنیادی سہولتوں میں سرمایہ کاری اور ایسی طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے جو محض مکانات نہیں بلکہ مکمل اور قابلِ رہائش محلے تشکیل دے۔
مزید پڑھیں
سنگاپور کے گورنر اِن کونسل نے ملک کے پہلے قانونی ماسٹر پلان کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ سنگاپور میں زمین کے استعمال، رہائشی تعمیرات، کمرشل پراپرٹی اور منظم شہری ترقی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس منظوری کے بعد پورے جزیرے میں زمین اور عمارتوں کے مستقبل کے استعمال کو ایک مشترکہ قانونی منصوبے کے تحت منظم کرنے کی بنیاد قائم ہوگئی۔ ماسٹر پلان کی تیاری کیلئے تشخیصی سروے جنوری 1952 میں شروع کیا گیا تھا، جبکہ اس کا ابتدائی مسودہ 1955 کے آخر میں غور کیلئے پیش کیا گیا۔ کئی برس کی تحقیق، نقشہ سازی اور منصوبہ بندی کے بعد حتمی ماسٹر پلان 5 اگست 1958 کو منظور ہوا۔ اس کی منظوری کا سرکاری نوٹیفکیشن 8 اگست کو جاری کیا گیا اور اسی روز منصوبہ باقاعدہ طور پر نافذ ہوگیا۔ یہ ماسٹر پلان سنگاپور کے مختلف علاقوں پر مشتمل 53 رنگین نقشوں اور ایک تفصیلی تحریری دستاویز پر مشتمل تھا۔ ان نقشوں میں مستقبل کے رہائشی علاقوں، تجارتی مراکز، صنعتی زمین، اہم سڑکوں، سرکاری سہولیات، کمیونٹی مقامات اور تفریحی و کھلی جگہوں کی منصوبہ بندی دکھائی گئی تھی۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے کیلئے اس منصوبے کی اہمیت یہ تھی کہ اس نے زمین کی ترقی اور تعمیرات میں زیادہ نظم اور یقین پیدا کیا۔ سرکاری ادارے، زمین مالکان اور ڈویلپرز کسی بھی نئی تعمیر یا لینڈ یوز میں تبدیلی کو ایک منظور شدہ منصوبے کی روشنی میں جانچ سکتے تھے۔ اس کے ذریعے رہائش کو منظم کرنے اور مکانات، صنعت، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولیات کیلئے زمین محفوظ رکھنے میں بھی مدد ملی۔ یہ منصوبہ ایسے دور میں سامنے آیا جب سنگاپور کو رہائش کی شدید قلت، گنجان آبادی، ٹریفک کے دباؤ اور محدود شہری زمین جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ بعد کے برسوں میں تیز رفتار آبادی، صنعتی ترقی اور بڑے پیمانے پر عوامی ہاؤسنگ کی تعمیر کے باعث مزید جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں 1971 کا کانسیپٹ پلان سامنے آیا۔ اس کے باوجود 1958 کے ماسٹر پلان نے سنگاپور کے جدید شہری منصوبہ بندی نظام کی قانونی اور انتظامی بنیاد قائم کردی۔ آج بھی سنگاپور کا ماسٹر پلان زمین اور جائیداد کی آئندہ ترقی کی رہنمائی کرنے والی بنیادی قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں
2 اگست 1935 کو برطانیہ میں ہاؤسنگ ایکٹ 1935 کو شاہی منظوری دی گئی، جس نے شہری رہائش، گنجان آبادی اور پرانے محلوں کی ازسرنو تعمیر سے متعلق حکومتی پالیسی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔ یہ قانون ایسے وقت سامنے آیا جب لندن سمیت کئی صنعتی شہروں میں بڑی تعداد میں خاندان محدود کمروں، ناقص سہولتوں اور غیر صحت مند ماحول میں رہ رہے تھے۔ برطانوی پارلیمان کے ریکارڈ کے مطابق قانون کو اسی روز شاہی منظوری ملی، جبکہ اس کا بنیادی مقصد گنجان رہائش کی روک تھام، شہری علاقوں کی تعمیر نو اور خستہ عمارتوں کی بحالی تھا۔ قانون کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس نے پہلی بار ملک گیر سطح پر یہ طے کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی معیار فراہم کیا کہ کسی گھر کو کب حد سے زیادہ گنجان سمجھا جائے گا۔ اس معیار میں گھر کے کمروں، ان کے رقبے، رہائشی افراد کی تعداد، عمر اور بعض حالات میں مرد و خواتین کے لیے الگ سونے کی جگہ کو مدنظر رکھا گیا۔ اس سے پہلے گنجان رہائش کو ایک مسئلہ تو سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کی واضح اور یکساں قانونی تعریف موجود نہیں تھی۔ پارلیمانی بحث میں اسے ہاؤسنگ قانون سازی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا، کیونکہ پہلی مرتبہ مقامی اداروں کو ایک مشترکہ پیمانہ میسر آیا۔ ہاؤسنگ ایکٹ نے مقامی حکومتوں کو اپنے علاقوں میں رہائشی حالات کا سروے کرنے، گنجان گھروں کی نشاندہی کرنے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے متبادل رہائش کے منصوبے تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دی۔ قانون میں شہری تعمیر نو، پرانی عمارتوں کی مرمت، مقامی حکومتوں کے زیرانتظام گھروں کی بہتری اور ہاؤسنگ مشاورتی انتظامات کے لیے بھی دفعات شامل تھیں۔ اس طرح رہائش کو صرف نجی ملکیت کا معاملہ نہیں بلکہ صحت، شہری منصوبہ بندی اور مقامی حکومت کی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اس قانون کا اثر بعد کی برطانوی ہاؤسنگ قانون سازی تک جاری رہا۔ ہاؤس آف کامنز لائبریری کے مطابق 1935 میں متعارف کرایا گیا قانونی اوورکراؤڈنگ معیار طویل عرصے تک بنیادی حوالہ بنا رہا اور آج بھی اس کے اصول جدید قانون میں دکھائی دیتے ہیں۔ 2 اگست 1935 کا یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ کامیاب شہری ترقی صرف نئی عمارتیں بنانے کا نام نہیں، بلکہ ہر خاندان کو محفوظ، مناسب اور باوقار رہائش فراہم کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
فلپائن میں صدارتی فرمان نمبر 757 کے ذریعے نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں سرکاری رہائش، نئی رہائشی آبادیوں اور لوگوں کی منتقلی سے متعلق مختلف پروگراموں کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کرنا تھا۔ اسی فرمان کے ذریعے پہلے سے کام کرنے والے متعدد سرکاری ہاؤسنگ ادارے ختم کرکے ان کی ذمہ داریاں نئی اتھارٹی کو منتقل کر دی گئیں۔ 1970 کی دہائی کے دوران فلپائن، خصوصاً میٹرو منیلا، کو تیز رفتار شہری آبادی، دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی اور کم آمدن خاندانوں کے لیے مناسب گھروں کی کمی کا سامنا تھا۔ حکومتی فرمان میں تسلیم کیا گیا کہ رہائش کا مسئلہ اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اسے محدود اور الگ الگ منصوبوں کے بجائے بڑے، منظم اور مسلسل ہاؤسنگ پروگرام کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کو جامع ہاؤسنگ پروگرام تیار کرنے، رہائشی منصوبے بنانے، بے گھر یا متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری، زمین حاصل کرنے اور سرکاری و نجی شعبے کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ پروگرام میں ہاؤسنگ فنانس، کم لاگت تعمیراتی طریقوں، شہری زمین کے بہتر استعمال اور مختلف آمدن رکھنے والے خاندانوں کی ضروریات کو بھی شامل کیا گیا۔ اتھارٹی کو سرکاری اور نجی زمین حاصل کرنے، رہائشی منصوبوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور اپنے پروگراموں کے لیے بانڈز یا دیگر مالی ذرائع استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس طرح ادارے کا کردار صرف گھر بنانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں زمین، شہری منصوبہ بندی، تعمیر، فنانسنگ اور آبادکاری کے مختلف مراحل شامل تھے۔ یہ ادارہ بعد کے برسوں میں قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں، غیر رسمی آبادیوں کے رہائشیوں اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے باعث منتقل ہونے والے لوگوں کے لیے رہائشی اور آبادکاری منصوبوں کا اہم ذریعہ بنا۔ اس کے پروگراموں کو مالی وسائل، زمین کی دستیابی اور بعض منصوبوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا رہا۔ اس کے باوجود 31 جولائی 1975 کا فیصلہ ایشیا میں ریاستی سطح پر منظم ہاؤسنگ پالیسی کی ایک اہم مثال ہے۔ اس نے واضح کیا کہ تیزی سے بڑھتے شہروں میں رہائش کا مسئلہ صرف عمارتوں کی تعمیر سے نہیں بلکہ زمین، روزگار، ٹرانسپورٹ، بنیادی سہولتوں اور شہری منصوبہ بندی کو ایک ساتھ دیکھنے سے حل کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
30 جولائی 1904 کو ہانگ کانگ کی سڑکوں پر پہلی برقی ٹرام نے سفر شروع کیا اور شہر کی نقل و حمل، شہری منصوبہ بندی اور رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ ہوا۔ ابتدائی نظام میں 26 یک منزلہ ٹرامیں شامل تھیں، جبکہ پہلا راستہ کینیڈی ٹاؤن سے کازوے بے تک قائم کیا گیا۔ بعد میں اسے شاؤ کی وان تک توسیع دے دی گئی۔ ٹرام کا راستہ ہانگ کانگ جزیرے کے شمالی ساحلی علاقے سے گزرتا تھا، جہاں بندرگاہ، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر، بازار اور رہائشی بستیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ اس سے قبل شہریوں کو مختلف علاقوں کے درمیان سفر کے لیے نسبتاً سست اور محدود ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ٹرام نے سفر کو زیادہ باقاعدہ، سستا اور قابل اعتماد بنا دیا۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے ٹرام کے آغاز کا سب سے اہم اثر شہری زمین تک رسائی میں بہتری تھا۔ جن علاقوں کو نئی ٹرام لائن سے رابطہ ملا، وہاں رہائشی اور تجارتی جائیدادوں کی افادیت بڑھنے لگی۔ لوگ مرکزی کاروباری علاقوں سے نسبتاً دور رہائش اختیار کر کے روزانہ کام پر آ جا سکتے تھے، جبکہ دکانوں اور دفاتر کو ٹرام اسٹاپس کے قریب زیادہ گاہک اور بہتر کاروباری مواقع میسر آنے لگے۔ وقت کے ساتھ ٹرام کے راستے سے منسلک محلوں میں کثیرالمنزلہ رہائش، تجارتی عمارتوں، بازاروں اور عوامی سہولتوں کی ترقی نے رفتار پکڑی۔ اس طرح ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر نے صرف موجودہ آبادی کی ضروریات پوری نہیں کیں بلکہ مستقبل میں شہر کے پھیلاؤ کی سمت بھی متعین کی۔ ابتدائی یک منزلہ ٹراموں کی جگہ بعد میں دو منزلہ ٹراموں نے لے لی، جو اپنی گھنٹی کی آواز کے باعث مقامی طور پر “ڈنگ ڈنگ” کے نام سے مشہور ہوئیں۔ یہ ٹرامیں ایک صدی سے زیادہ عرصے کے دوران ہانگ کانگ کی شہری شناخت اور روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنی رہیں۔ 30 جولائی 1904 کا واقعہ اس اصول کی نمایاں مثال ہے کہ جدید پبلک ٹرانسپورٹ کسی شہر میں صرف آمدورفت بہتر نہیں کرتی بلکہ زمین کی قدر، جائیداد کی طلب، تجارتی سرگرمی اور رہائشی ترقی کو بھی نئی شکل دیتی ہے۔
مزید پڑھیں
29 جولائی 1836 کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں آرک ڈی ٹرائمف کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ یہ عظیم تعمیراتی یادگار تقریباً 30 سال کے طویل عرصے میں مکمل ہوئی اور بعد میں پیرس کی سب سے نمایاں شہری اور تعمیراتی یادگاروں میں شامل ہو گئی۔ اس یادگار کی تعمیر کا منصوبہ 1806 میں نپولین بوناپارٹ کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ اسے شانزے لیزے کے مغربی سرے پر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ یہ شہر کے اہم شاہی اور عوامی راستوں سے واضح طور پر نظر آ سکے۔ آج یہ پلیس ڈی لیتیوال، جسے اب پلیس شارل ڈی گال کہا جاتا ہے، کے وسط میں قائم ہے۔ تعمیر کے دوران سیاسی تبدیلیوں، حکومتوں کی تبدیلی اور مالی و انتظامی مشکلات کے باعث کام کئی مرتبہ رکا۔ اس کے باوجود منصوبہ مکمل کیا گیا اور 29 جولائی کو اس کا افتتاح ہوا۔ سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بڑی افتتاحی تقریب منسوخ کر دی گئی تھی اور محدود تعداد میں حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ رئیل اسٹیٹ اور شہری ترقی کی تاریخ میں آرک ڈی ٹرائمف صرف ایک یادگار نہیں بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ ایک نمایاں عوامی عمارت کس طرح شہر کی شناخت، سڑکوں کی ترتیب، سیاحت اور اردگرد کے تعمیراتی ماحول کا مستقل حصہ بن سکتی ہے۔ آج یہ پیرس کے مرکزی شہری منظر، ثقافتی ورثے اور عالمی شناخت کا اہم نشان ہے۔
مزید پڑھیں
28 جولائی 1893 کو اسپین کے شمالی علاقے میں ویزکایا برج عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے دنیا کا پہلا ٹرانسپورٹر برج قرار دیا جاتا ہے، جس نے پلوں کی تعمیر، شہری رابطے اور صنعتی علاقوں کے درمیان آمدورفت کا ایک نیا طریقہ متعارف کرایا۔ یہ پل بلباؤ کے قریب دریائی دہانے پر پرتگالیتے اور گیتشو کے شہری علاقوں کو ملاتا ہے۔ روایتی پل کے برعکس اس کے بلند فولادی ڈھانچے کے نیچے ایک لٹکتا ہوا پلیٹ فارم یا گونڈولا چلتا ہے، جو مسافروں اور گاڑیوں کو دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتا ہے۔ اس ڈیزائن سے بڑے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی تھی۔ پل کو باسک معمار البرٹو ڈی پلاسیو نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس میں لوہے اور فولادی تاروں کی نئی تکنیک استعمال کی گئی، جس نے بعد کے عشروں میں دنیا کے مختلف ممالک میں ٹرانسپورٹر پلوں کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔ اسپین کی خانہ جنگی کے دوران نقصان کے باعث پل 1937 سے 1941 تک بند رہا، لیکن بحالی کے بعد دوبارہ فعال کردیا گیا۔ بعد میں اس کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا اور حفاظتی نظام بہتر بنائے گئے۔ ویزکایا برج کو 2006 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا اور یہ آج بھی ایک فعال سفری رابطہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور شہری منصوبہ بندی کے نقطہ نظر سے ویزکایا برج اس اصول کی نمایاں مثال ہے کہ شہروں کی ترقی صرف نئی عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ بہتر سڑکیں، پل اور سفری رابطے رہائشی اور تجارتی علاقوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے اور شہری زمین کے استعمال کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1898 کو نیویارک شہر کی موجودہ شکل وجود میں آئی جسے تاریخی طور پر Greater New York کہا جاتا ہے۔ اسی دن مین ہٹن، برونکس، بروکلین، کوئینز اور اسٹیٹن آئی لینڈ کو ایک واحد شہری اکائی میں ضم کیا گیا۔ اس سے قبل بروکلین ایک خود مختار شہر تھا اور آبادی کے لحاظ سے امریکا کا چوتھا بڑا شہر شمار ہوتا تھا جبکہ کوئینز اور اسٹیٹن آئی لینڈ زیادہ تر زرعی، نیم دیہی اور آزاد انتظامی حیثیت رکھتے تھے۔ برونکس بھی الگ کاؤنٹی اسٹرکچر کے تحت تھا اور مین ہٹن محدود جغرافیے میں شدید آبادی دباؤ کا شکار تھا۔ رئیل اسٹیٹ کے زاویے سے الحاق کا یہ فیصلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 1898 کے بعد مین ہٹن، جو پہلے ہی مہنگا تھا، اس کی زمین نے فنانشل ڈسٹرکٹ اور مڈ ٹاؤن کی صورت میں عمودی ترقی اختیار کی، جبکہ بروکلین اور کوئینز پہلی بار بڑے پیمانے پر رہائشی زونز کے طور پر ابھرے۔ اسٹیٹن آئی لینڈ بندرگاہی اور لاجسٹک سرگرمیوں سے جڑا جبکہ برونکس صنعتی اور بعد ازاں مڈل کلاس رہائش کا مرکز بنا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے نیویارک میں زوننگ کے جدید تصورات نے جنم لیا اور بعد ازاں شہروں میں زمین کے استعمال کو رہائش، تجارت اور صنعت میں واضح طور پر تقسیم کیا جانے لگا۔ شہروں میں اربن ٹرانسپورٹ کا جدید تصور بھی یہیں سے ابھرا جب 1904 میں New York City میں سب وے کا آغاز ہوا۔ ایک منظم انڈرگراؤنڈ ریلوے نیٹ ورک کی بدولت کوئینز، بروکلین اور برونکس میں بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ ممکن ہوئی۔ آج نیویارک کی رئیل اسٹیٹ ویلیوز میں جو جغرافیائی تسلسل اور پھیلاؤ نظر آتا ہے، اس کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔ تاریخی طور پر اس الحاق کا رئیل اسٹیٹ پر اثر غیر معمولی تھا کیونکہ پہلی مرتبہ ایک ایسا میگا سٹی تشکیل پایا جس میں بندرگاہ، صنعت، مالیاتی مرکز، رہائش اور ٹرانسپورٹ ایک مربوط شہری نظام میں یکجا ہو گئے۔ زمین کی قیمتوں میں طویل المدتی اضافہ اسی فیصلے کی پیداوار بنا، جبکہ شہری زوننگ، سب وے نیٹ ورک اور کمرشل اسکیل کی منظم ترقی یکم جنوری 1898 کے بعد ہی ممکن ہوئی، اور یوں نیویارک دنیا کی سب سے مہنگی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ رکھنے والے شہروں کی صف میں شامل ہو گیا۔ یکم جنوری 1898 کو نیو یارک کا دوسرے علاقوں، جنہیں تاریخی اصطلاح میں بورو (Boroughs) کہا جاتا ہے، سے الحاق دنیا کے پہلے جدید میگا سٹی ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔ بعد ازاں لندن، پیرس، ٹوکیو اور دیگر عالمی شہروں نے اسی ماڈل کو اپنے اپنے انداز میں اپنایا۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نیو یارک کا نام یکم جنوری 1898 کے الحاق کے بعد نہیں بلکہ اس سے تقریباً دو سو سال پہلے وجود میں آ چکا تھا۔ موجودہ نیو یارک سٹی کو 1664 میں اس وقت نیو یارک کہا گیا جب برطانوی سلطنت نے ڈچ آبادکاری نیو ایمسٹرڈیم پر قبضہ کیا اور اسے ڈیوک آف یارک کے نام پر New York کا نام دیا۔ 1898 میں ہونے والی تبدیلی نام کی نہیں بلکہ شہر کی ساخت کی تھی جسے تاریخی طور پر Greater New York کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں