Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

War & Disputed Lands

2 Historical Event found

کوریائی جنگ بندی معاہدے پر دستخط، تین سالہ خونریز لڑائی رک گئی

27 جولائی 1953 کو شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تین سال سے جاری خونریز جنگ روکنے کے لیے کوریائی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یہ تاریخی معاہدہ کوریا کے سرحدی گاؤں پان من جوم میں طے پایا، جس کے بعد جزیرہ نما کوریا میں بڑی فوجی کارروائیاں بند ہو گئیں۔ کوریائی جنگ 25 جون 1950 کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب شمالی کوریا کی فوج نے جنوبی کوریا میں داخل ہو کر بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ جنوبی کوریا کی حمایت میں اقوام متحدہ کے تحت مختلف ممالک کی افواج میدان میں آئیں، جبکہ چین نے شمالی کوریا کی فوجی مدد کی۔ اس جنگ نے جلد ہی عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑے ٹکراؤ کی شکل اختیار کر لی۔ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جولائی 1951 میں شروع ہوئے، مگر قیدیوں کی واپسی، سرحد کے تعین اور نگرانی کے طریقہ کار پر اختلافات کے باعث یہ عمل دو سال تک جاری رہا۔ طویل مذاکرات اور 158 باقاعدہ اجلاسوں کے بعد بالآخر معاہدے پر اتفاق ہوا۔ معاہدے کے تحت دونوں جانب کی فوجوں کو محاذ جنگ سے پیچھے ہٹانے اور تقریباً چار کلومیٹر چوڑا غیر فوجی علاقہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی علاقے کو آج کوریائی غیر فوجی پٹی کہا جاتا ہے، جو شمالی اور جنوبی کوریا کو الگ کرتی ہے۔ جنگی قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بھی باقاعدہ نظام بنایا گیا۔ جنوبی کوریا کے صدر سنگمن ری نے اس معاہدے کی مخالفت کی اور جنوبی کوریا نے اس پر دستخط نہیں کیے۔ یہ بھی ایک مستقل امن معاہدہ نہیں تھا، اس لیے قانونی اور سیاسی طور پر کوریائی جنگ کا مکمل خاتمہ آج تک نہیں ہو سکا۔ اس معاہدے نے لاکھوں جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد لڑائی تو روک دی، مگر کوریا کی تقسیم برقرار رہی۔ آج بھی غیر فوجی سرحد دنیا کے سخت ترین نگرانی والے علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ 27 جولائی کا معاہدہ جنگ روکنے میں سفارت کاری کی کامیابی اور مستقل سیاسی حل نہ ہونے کی ایک نمایاں مثال ہے۔معاہدہ 27 جولائی 1953 کو پان من جوم میں طے پایا، مذاکرات دو سال اور 158 اجلاسوں تک جاری رہے، جبکہ جنوبی کوریا نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔

مزید پڑھیں

مارشل پلان مذاکرات نے یورپی تعمیر نو کی راہ ہموار کی

19 جون 1947 کو برطانیہ اور فرانس نے دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد یورپی ممالک کو پیرس مدعو کیا تاکہ ایک مشترکہ بحالی پروگرام پر بات چیت کی جا سکے۔ انہی مذاکرات نے بعد میں مارشل پلان کی شکل اختیار کی، جو یورپ کی تعمیر نو کے لیے ایک بڑا امریکی حمایت یافتہ منصوبہ تھا۔ اس پروگرام نے جنگ سے متاثرہ معیشتوں کی بحالی، صنعتی پیداوار کی بحالی، نقل و حمل کے نظام کی بہتری اور مغربی یورپ کے شہروں، رہائش اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مالی امداد سے آگے بڑھ کر مارشل پلان نے یورپی ریاستوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا اور جنگ کے بعد شہری بحالی، معاشی استحکام اور تعمیر نو کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

مزید پڑھیں