From Real Estate History
2 Historical Event found
13 ستمبر 1889 کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں دریائے سرخ پر ایک بڑے فولادی پل کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جو بعد میں لانگ بیان پل کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ پل صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ ہنوئی کی شہری، تجارتی اور ٹرانسپورٹ تاریخ کا اہم سنگِ میل بن گیا۔ اس منصوبے کا سنگِ بنیاد فرانسیسی ہند چین کے گورنر جنرل پال دومر کی نگرانی میں رکھا گیا۔ مقصد ہنوئی کو دریائے سرخ کے دوسری جانب واقع علاقوں اور شمالی ویتنام کے اہم تجارتی راستوں سے بہتر طور پر جوڑنا تھا۔ اس وقت دریائے سرخ شہر کی توسیع اور نقل و حرکت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا، جبکہ ایک مستقل پل کی تعمیر سے ہنوئی کی بندرگاہوں، ریلوے اور شمالی علاقوں کے ساتھ رابطے میں نمایاں بہتری آنا تھی۔ پل کا ڈیزائن فرانسیسی انجینئرنگ کمپنی دے دے اینڈ پیلے نے تیار کیا۔ اس میں فولادی ساخت کے 19 بڑے حصے اور 20 ستون شامل تھے۔ پل کے درمیان ریلوے کے لیے راستہ جبکہ دونوں اطراف گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے راستے رکھے گئے تھے۔ اس کی بنیادی ساخت تقریباً 1,862 میٹر طویل تھی، جس نے اسے اپنے زمانے کے بڑے فولادی پلوں میں شامل کر دیا۔ تعمیر کے دوران دریائے سرخ کے بلند و پست پانی اور تیز بہاؤ نے انجینئرز کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کیے۔ پل کی بنیادیں دریا کی سطح سے تقریباً 30 میٹر تک گہرائی میں تیار کی گئیں۔ منصوبہ بالآخر 1902 میں مکمل ہوا اور ابتدا میں اسے پال دومر کے نام سے منسوب کیا گیا۔ لانگ بیان پل نے ہنوئی کی شہری ترقی پر گہرا اثر ڈالا۔ یہ پل ریلوے، سڑک اور پیدل آمدورفت کو ایک ہی راستے میں جوڑنے والا اہم بنیادی ڈھانچہ بن گیا اور شہر کو شمالی ویتنام کے وسیع تر تجارتی و صنعتی نیٹ ورک سے منسلک کرنے میں مدد دی۔ وقت کے ساتھ یہ پل جنگوں، بمباری اور شدید استعمال کے باوجود ہنوئی کی شناخت کا حصہ بنا رہا۔ آج لانگ بیان پل کو ہنوئی کی تاریخ، تعمیراتی ورثے اور شہری ارتقا کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہنوئی کے سرکاری ثقافتی ادارے اسے شہر کی تاریخ کا ایک اہم ’’تاریخی گواہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
10 جنوری 1992 کو پاکستان میں لاہور–اسلام آباد موٹر وے (M-2) کے منصوبے کی باضابطہ تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ اس دن منصوبے کی لانچنگ اور حکومتی سطح پر منظوری کا اعلان ہوا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید موٹر وے نیٹ ورک کے تصور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے (M-2) ملک کی پہلی مکمل موٹر وے تھی، جس نے عالمی معیار کی سڑک، محفوظ سفر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر منصوبہ بندی کو قومی ترقی کے ایجنڈے کا حصہ بنایا۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے ایم ٹو کا منصوبہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں شروع کیا گیا، اور اس کی تعمیر جنوبی کوریا کی کمپنی Daewoo Corporation نے ڈیزائن کم تعمیر (Design and Build) کی بنیاد پر مکمل کی۔ یہ موٹر وے تقریباً 367 کلومیٹر طویل ہے، اور اس پر اُس وقت مجموعی طور پر تقریباً 23 سے 25 ارب روپے لاگت آئی۔ اگرچہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر حکومت پاکستان کا تھا، تاہم Daewoo نے محض ایک ٹھیکیدار کے طور پر نہیں بلکہ سپلائر کریڈٹ (Supplier Credit) اور کنٹریکٹر فنانسنگ (Contractor Financing) کے ذریعے مالی معاونت بھی فراہم کی، جس سے منصوبہ بروقت مکمل ہو سکا۔ بعد کے برسوں میں ڈائیوو کمپنی سے موٹر وے کے آپریشن، مرمت اور بحالی کے لیے طویل المدتی کنسیشن معاہدے کیے گئے، جن کے تحت ٹول وصولی کے ذریعے اخراجات اور سرمایہ کاری کی واپسی کا انتظام کیا گیا۔ موٹر وے کے آغاز نے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے جغرافیے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔ موٹر وے کے اطراف ہاؤسنگ اسکیموں، صنعتی علاقوں، سروس ایریاز اور تجارتی مراکز کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں قریبی علاقوں میں زمین کے استعمال اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ موٹر وے انٹرچینجز کے گرد واقع دیہی اور نیم دیہی علاقوں نے تیزی سے شہری توسیع کی شکل اختیار کی، جہاں رہائشی منصوبوں کے ساتھ ساتھ گوداموں، لاجسٹکس مراکز اور صنعتی یونٹس قائم ہونا شروع ہوئے۔ بہتر رسائی اور کم سفری وقت نے سرمایہ کاروں کو بڑے شہروں کے دباؤ سے نکل کر موٹر وے سے منسلک علاقوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا، جس سے زمین کی نوعیت زرعی سے تجارتی اور رہائشی استعمال میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ اس عمل نے نہ صرف زمین کی قدر میں اضافہ کیا بلکہ آبادی کی نئی تقسیم اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ ایم ٹو موٹر وے نے یہ تصور مضبوط کیا کہ انفراسٹرکچر محض نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ زمین کی قدر میں اضافے، شہری توسیع اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کا بنیادی محرک بھی ہوتا ہے۔ اس منصوبے نے ریاستی سطح پر یہ فہم پیدا کیا کہ بڑی شاہراہیں شہروں کے درمیان رابطے ہی نہیں بناتیں بلکہ نئے شہری مراکز، صنعتی زونز اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹس کو جنم دیتی ہیں۔ بعد کے برسوں میں پاکستان میں موٹر ویز، ایکسپریس ویز اور بائی پاسز پر مبنی ترقیاتی منصوبے اسی ماڈل کو سامنے رکھ کر ترتیب دیے گئے۔لاہور اسلام آباد موٹر وے کو عوامی استعمال کے لیے نومبر 1997 میں باضابطہ طور پر کھولا گیا۔
مزید پڑھیں