Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Disaster and Urban Destruction

1 Historical Event found

ٹوئن ٹاورز ،زمین کے ایک بڑے منصوبے سے عالمی تاریخ کے المناک نشان تک

کسی شہر کی شناخت بعض اوقات کسی عمارت سے اس قدر جڑ جاتی ہے کہ عمارت محض اینٹ، فولاد اور شیشے کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ پورے شہر کی علامت بن جاتی ہے۔ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز بھی ایسی ہی عمارتیں تھیں۔ ان کا سفر ایک بڑے شہری و تجارتی منصوبے کے تصور سے شروع ہوا، کئی برس کی پیچیدہ تعمیر سے گزرا، دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوا اور بالآخر 11 ستمبر 2001 کو جدید تاریخ کے ایک المناک ترین واقعے کا مرکز بن گیا۔ لیکن ٹوئن ٹاورز کی اصل کہانی 11 ستمبر 2001 سے کئی دہائیاں پہلے شروع ہو چکی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی تجارت کا حجم تیزی سے بڑھ رہا تھا اور نیویارک پہلے ہی دنیا کے اہم ترین کاروباری مراکز میں شامل تھا۔ شہر کے زیریں حصے، خصوصاً مین ہٹن کے مغربی علاقے، کو ایک ایسے بڑے تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کا تصور سامنے آیا جو عالمی تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے مخصوص ہو۔ اسی مقصد کے تحت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے منصوبے نے جنم لیا۔ اس بڑے منصوبے کی ذمہ داری پورٹ اتھارٹی آف نیویارک اینڈ نیو جرسی نے سنبھالی۔ منصوبہ صرف دو عمارتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں ایک مکمل تجارتی کمپلیکس تشکیل دینا مقصود تھا۔ 1962 میں گائے ٹوزولی کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی ترقی، تعمیر اور انتظام کی ذمہ داری دی گئی اور معروف جاپانی نژاد امریکی معمار مینوورو یاماساکی کو منصوبے کا مرکزی معمار مقرر کیا گیا۔ ابتدائی تصور میں عمارتوں کی تعداد اور بلندی مختلف تھی، لیکن منصوبہ آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسے غیر معمولی فیصلے تک پہنچا جس نے نیویارک کے افق کو ہمیشہ کے لیے بدل دینا تھا: دو انتہائی بلند ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے۔ 1964 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حتمی منصوبے کی نقاب کشائی ہوئی۔ اس میں دو 110 منزلہ ٹاورز شامل تھے۔ یہ دونوں عمارتیں صرف بلند نہیں ہونی تھیں بلکہ ان کے اندر لاکھوں مربع فٹ دفتری جگہ پیدا کی جانی تھی، تاکہ عالمی تجارت سے وابستہ اداروں اور کمپنیوں کو ایک ہی بڑے کاروباری مرکز میں جگہ فراہم کی جا سکے۔ یہ اس زمانے میں رئیل اسٹیٹ اور شہری منصوبہ بندی کے اعتبار سے ایک غیر معمولی تصور تھا۔ ایک محدود شہری علاقے میں افقی طور پر پھیلنے کے بجائے کاروباری جگہ کو عمودی سمت میں آسمان کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ لیکن اتنی بڑی عمارتیں تعمیر کرنے سے پہلے زمین کو تیار کرنا بھی ایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا مقام مین ہٹن کے انتہائی مصروف اور گنجان علاقے میں تھا۔ اس لیے یہاں تعمیر کا مطلب صرف دو بلند عمارتیں کھڑی کرنا نہیں تھا؛ زمین کے بڑے حصے کو کھودنا، بنیادوں کو مضبوط بنانا، زیرِ زمین پانی کو قابو میں رکھنا اور مستقبل کے ٹاورز کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ تیار کرنا بھی ضروری تھا۔ منصوبے کے لیے ایک بہت بڑا زیرِ زمین حصہ تیار کیا گیا، جس میں مستقبل کے ٹاورز کی بنیادوں کے علاوہ نقل و حمل اور تجارتی سہولیات کے لیے بھی جگہ رکھی گئی۔ تعمیراتی سرگرمیوں نے مین ہٹن کے اس حصے کی شہری ساخت ہی بدل دی۔ اس کے بعد کئی برس تک نیویارک کے مرکز میں ایک ایسا تعمیراتی منظر جاری رہا جس میں ہزاروں کارکن، انجینئرز، معمار اور مختلف شعبوں کے ماہرین شامل تھے۔ مینوورو یاماساکی کے ڈیزائن کی سب سے نمایاں خصوصیت ٹاورز کا بیرونی ساختی نظام تھا۔ عمارتوں کے بیرونی حصے میں بڑی تعداد میں فولادی ستون ایک دوسرے کے قریب ترتیب دیے گئے تھے، جبکہ اندرونی حصے میں ایک مرکزی ساختی حصہ موجود تھا۔ اس نظام نے عمارتوں کو انتہائی بلندی تک پہنچنے کے باوجود مضبوطی فراہم کی اور اندرونی منزلوں میں نسبتاً وسیع اور کھلے دفتری حصے پیدا کرنے میں مدد دی۔ ٹوئن ٹاورز کی تعمیر میں ہزاروں ٹن فولاد استعمال ہوا۔ ان کے بیرونی حصے پر عمودی فولادی ستونوں کی باقاعدہ ترتیب نے عمارتوں کو وہ مخصوص شکل دی جو بعد میں دنیا بھر میں ان کی شناخت بن گئی۔ زمین سے دیکھنے پر یہ ستون ایک مسلسل عمودی جال کی مانند دکھائی دیتے تھے، جس کے درمیان نسبتاً تنگ کھڑکیاں عمارتوں کو ایک مضبوط اور یکساں ظاہری شکل دیتی تھیں۔ یہ ڈیزائن صرف خوب صورتی کے لیے نہیں تھا؛ اس کے پیچھے ایک واضح انجینئرنگ تصور موجود تھا جس کا مقصد بلند عمارت کو ساختی استحکام فراہم کرنا تھا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد شمالی ٹاور کی بلندی تقریباً 1,368 فٹ اور جنوبی ٹاور کی بلندی تقریباً 1,362 فٹ تھی۔ دونوں میں 110 منزلیں تھیں۔ 4 اپریل 1973 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی باضابطہ افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ اس وقت تک یہ منصوبہ صرف نیویارک کا نہیں بلکہ دنیا کے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں شمار ہونے لگا تھا۔ دونوں ٹاورز نے ایک عرصے تک دنیا کی بلند ترین عمارتوں کا اعزاز بھی اپنے نام رکھا۔ تقریباً ایک کروڑ مربع فٹ دفتری جگہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو عالمی کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک غیر معمولی مرکز بنا دیا۔ ہزاروں افراد یہاں کام کرتے اور روزانہ بڑی تعداد میں لوگ کاروباری، تجارتی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے آتے تھے۔ اس طرح ایک ایسا رئیل اسٹیٹ منصوبہ جو ابتدا میں نیویارک کے تجارتی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے بنایا گیا تھا، آہستہ آہستہ شہر کی شناخت میں تبدیل ہو گیا۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ٹوئن ٹاورز نیویارک کے افق کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ فلموں، اخبارات، ٹیلی وژن اور دنیا بھر سے آنے والی تصویروں میں ان کا شمار نیویارک کی نمایاں ترین علامتوں میں ہونے لگا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے وسیع عوامی علاقے اور پلازہ بھی کمپلیکس کا اہم حصہ تھے۔ یاماساکی نے بلند عمارتوں کو محض دفتری جگہ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ان کے درمیان ایک ایسا شہری ماحول تشکیل دینے کی کوشش کی جس میں عوامی آمدورفت اور کھلی جگہ بھی موجود ہو۔ یوں ٹوئن ٹاورز کا رئیل اسٹیٹ تصور صرف عمارتوں کی تعمیر نہیں تھا؛ یہ زمین، دفتری جگہ، تجارت، نقل و حمل اور شہری زندگی کو ایک ہی منصوبے میں سمیٹنے کی کوشش تھی۔ تقریباً تین دہائیوں تک ٹوئن ٹاورز نیویارک کے کاروباری منظرنامے میں قائم رہے۔ پھر 11 ستمبر 2001 کی صبح نے ان کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں نے چار مسافر طیاروں کو ہائی جیک کیا۔ ان میں سے دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے۔ ایک طیارہ شمالی ٹاور اور دوسرا جنوبی ٹاور سے ٹکرایا۔ ٹکراؤ کے نتیجے میں دونوں عمارتوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور عمارتوں کا ساختی نظام انتہائی شدید حرارتی اور ضربی اثرات کا شکار ہوا۔ نیویارک کے فائر فائٹرز، پولیس اہلکاروں، امدادی کارکنوں اور عام شہریوں نے لوگوں کو عمارتوں سے نکالنے کی کوشش کی۔ اس دوران بڑی تعداد میں امدادی اہلکار بھی جان سے گئے۔ جنوبی ٹاور صبح 9:59 بجے منہدم ہوا، جبکہ شمالی ٹاور 10:28 بجے گر گیا۔ یوں وہ دونوں عمارتیں، جو کئی دہائیوں تک جدید انجینئرنگ، عالمی تجارت اور نیویارک کی شناخت کی علامت رہی تھیں، چند گھنٹوں میں تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ ٹوئن ٹاورز کے انہدام کے بعد ان کی جگہ صرف خالی زمین نہیں رہی۔ یہ مقام آنے والے برسوں میں ایک ایسے پیچیدہ شہری منصوبے کا مرکز بن گیا جس میں یادگار، عجائب گھر، دفاتر، نقل و حمل، عوامی مقامات اور نئی بلند عمارتیں سب شامل تھے۔ سب سے پہلے متاثرین کی یاد کو محفوظ کرنے کا سوال سامنے آیا۔ بعد میں یہاں نائن الیون میموریل قائم کیا گیا، جبکہ زیرِ زمین نائن الیون میموریل میوزیم نے اس سانحے اور اس سے جڑی تاریخ کو محفوظ کیا۔ ساتھ ہی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تجارتی شناخت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے نئے تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے۔

مزید پڑھیں