From Real Estate History
2 Historical Event found
18 ستمبر 1793 کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کیپیٹل بلڈنگ کا سنگ بنیاد ایک تاریخی تقریب میں رکھا گیا، جس میں امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے شرکت کی۔ یہ واقعہ صرف ایک عمارت کی تعمیر کا آغاز نہیں تھا بلکہ نئے وفاقی دارالحکومت کی شہری منصوبہ بندی اور ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل بھی ثابت ہوا۔ اس وقت واشنگٹن ڈی سی ایک نئے دارالحکومت کے طور پر تشکیل پا رہا تھا۔ کیپیٹل بلڈنگ کا منصوبہ محض ایک سرکاری عمارت کی تعمیر تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ ایک بڑے شہری وژن کا حصہ تھا، جس کا مقصد ایسے شہر کی بنیاد رکھنا تھا جہاں اہم قومی ادارے، عوامی عمارتیں اور انفراسٹرکچر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ترقی کر سکیں۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب اپنے وقت کا ایک نمایاں عوامی واقعہ تھی، جس میں صدر جارج واشنگٹن نے رسمی تقریب کے ذریعے تعمیراتی منصوبے کا آغاز کیا۔ آنے والی دہائیوں میں اس عمارت میں مختلف توسیعات اور تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں یہ دنیا کی معروف تاریخی عمارتوں میں شامل ہو گئی۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے کیپیٹل بلڈنگ اس بات کی مثال ہے کہ بڑے ادارہ جاتی منصوبے کس طرح پورے شہر کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایسی عمارتیں اپنے اردگرد کے علاقوں میں انفراسٹرکچر، زمین کی اہمیت، کاروباری سرگرمیوں اور شہری شناخت کو فروغ دیتی ہیں۔ آج امریکی کیپیٹل بلڈنگ صرف ایک حکومتی عمارت نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، تاریخی ورثے اور تعمیراتی وژن کی ایک مثال ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک اہم تعمیراتی منصوبہ کئی نسلوں تک شہر کی شناخت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
واشنگٹن ڈی سی: امریکہ میں وفاقی سرکاری جائیدادوں کے نظام سے متعلق ایک اہم پینل رپورٹ 11 مارچ 2019 کو سامنے آئی جسے Public Buildings Reform Board نے جاری کیا۔ یہ بورڈ امریکی کانگریس کے قانون Federal Assets Sale and Transfer Act 2016 کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد وفاقی حکومت کی ملکیت میں موجود غیر ضروری یا کم استعمال ہونے والی عمارتوں اور جائیدادوں کی نشاندہی کر کے ان کے بارے میں اصلاحی تجاویز دینا تھا۔ اس رپورٹ نے بنیادی طور پر امریکی وفاقی رئیل اسٹیٹ کے پورے نظام کا جائزہ لیا اور متعلقہ انتظامی اداروں خصوصاً General Services Administration یعنی GSA کو سفارشات پیش کیں کیونکہ امریکہ میں وفاقی سرکاری عمارتوں اور جائیدادوں کے انتظام و انصرام کا بنیادی ادارہ یہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے پاس مجموعی طور پر تقریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار سرکاری عمارتیں اور دیگر جائیدادیں موجود ہیں جن میں سے تقریباً آٹھ سے نو ہزار بڑی وفاقی عمارتیں براہ راست GSA کے انتظام میں ہیں اور ان کا مجموعی رقبہ تقریباً تین سو ستر ملین مربع فٹ بنتا ہے۔ وقت کے ساتھ ان میں سے بہت سی عمارتیں پرانی ہو چکی ہیں، متعدد کم استعمال ہو رہی ہیں جبکہ کچھ مکمل طور پر خالی پڑی ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے مرمت اور دیکھ بھال کے وہ کام جو بروقت نہیں ہو سکے ایک بڑے maintenance backlog کی صورت اختیار کر گئے اور اندازہ لگایا گیا کہ ان زیر التوا مرمتوں اور بحالی کے اخراجات مجموعی طور پر تقریباً 170 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی پس منظر میں پینل نے سفارش کی کہ وفاقی حکومت کو اپنی ملکیت میں موجود سرکاری عمارتوں کے پورٹ فولیو کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے، غیر ضروری یا کم استعمال ہونے والی عمارتوں کو فروخت کرنا چاہیے، بعض اداروں کو ایک ہی عمارت میں منتقل کر کے جگہ کو مؤثر بنانا چاہیے اور وفاقی رئیل اسٹیٹ کے نظام کو زیادہ معاشی بنیادوں پر منظم کرنا چاہیے۔ ان سفارشات کے بعد وفاقی حکومت اور GSA نے بتدریج کچھ اقدامات بھی کیے جن کے تحت کئی سرکاری جائیدادوں کو فروخت یا منتقل کیا گیا اور مختلف منصوبوں کے ذریعے وفاقی پورٹ فولیو کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور امریکہ میں وفاقی سرکاری عمارتوں کی بڑی تعداد اور ان کی مرمت کے بڑھتے اخراجات اب بھی پالیسی سطح پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں