Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

انسانی رہائش اور ریاست

انسانی رہائش اور ریاست banner

5 Historical Event found

پاناما کینال کھلی، نئی آبی راہداری نے عالمی تجارت کے ساتھ شہری تعمیر اور زمین کے استعمال کی سمت بھی بدل دی

پاناما کینال باقاعدہ طور پر عالمی بحری آمدورفت کیلئے کھول دی گئی اور ایس ایس اینکون (SS Ancon) نامی بحری جہاز نے نئی آبی گزرگاہ سے تاریخی سفر کرکے اس کا افتتاح کیا۔ بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والا یہ منصوبہ بیسویں صدی کے سب سے اہم تعمیراتی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار ہوا۔ لیکن رئیل اسٹیٹ اور شہری ترقی کی تاریخ میں پاناما کینال کی اہمیت صرف بحری جہازوں کیلئے ایک مختصر راستہ بنانے تک محدود نہیں۔ اس منصوبے کیلئے زمین، رہائشی عمارتیں، سڑکیں، ریلوے، ہسپتال، کام کی جگہیں اور ہزاروں کارکنوں کیلئے باقاعدہ آبادیاں تعمیر کرنا پڑیں۔ یوں پاناما کینال اس بات کی ایک بڑی تاریخی مثال بن گئی کہ کس طرح ایک انفراسٹرکچر منصوبہ صرف آمدورفت نہیں بلکہ اپنے اردگرد زمین کے استعمال اور شہری تعمیر کا پورا نقشہ تبدیل کرسکتا ہے۔ کینال کی امریکی دور کی تعمیر 1904 میں شروع ہوئی اور تقریباً دس سال جاری رہی۔ 1903 کے معاہدے کے تحت امریکا کو پاناما کے آرپار ایک مخصوص زمینی پٹی میں کینال کی تعمیر اور انتظام سے متعلق حقوق حاصل ہوئے۔ تعمیراتی کام بڑھنے کے ساتھ علاقے میں غیر معمولی شہری ترقی بھی شروع ہوگئی۔ پاناما کینال اتھارٹی کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق کارکنوں کو رہائش اور سہولتیں فراہم کرنے کیلئے پوری آبادیاں قائم کی گئیں۔ ان میں گھر، کھانے کے مراکز، ہسپتال، ہوٹل، اسکول، گرجا گھر، کولڈ اسٹوریج، کلب ہاؤسز اور کپڑے دھونے کی سہولتیں تک شامل تھیں۔ ایک مرحلے پر تقریباً 24 ہزار افراد پر مشتمل افرادی قوت میں سے قریب نصف افراد عمارتوں کی تعمیر سے متعلق کاموں میں مصروف تھے۔ اس منصوبے کے اثرات تعمیراتی علاقے تک محدود نہیں رہے۔ پاناما کینال اتھارٹی کے مطابق کولون اور پاناما سٹی میں سڑکیں پختہ کی گئیں جبکہ پانی اور سیوریج کے نظام بھی قائم کیے گئے۔ یہی پہلو اسے رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کیلئے خاص طور پر اہم بناتا ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے عموماً اپنے اردگرد زمین کے استعمال کو تبدیل کرتے ہیں۔ جہاں نئی آمدورفت، ملازمت اور کاروباری سرگرمی پیدا ہوتی ہے وہاں رہائش، تجارتی عمارتوں، گوداموں اور صنعتی زمین کی ضرورت بھی پیدا ہوتی ہے۔ پاناما کینال اس عمل کی ایک تاریخی مثال تھی۔ اس منصوبے کیلئے صرف نہر نہیں کھودی گئی بلکہ موجودہ زمینی اور آمدورفت کے نظام کو بھی بڑے پیمانے پر تبدیل کیا گیا۔ ریلوے لائنوں کی ترتیب بدلی گئی، بڑے پیمانے پر زمین کھودی گئی، لاکس، ڈیم اور مصنوعی جھیلیں تعمیر ہوئیں۔ لائبریری آف کانگریس کے تاریخی ریکارڈ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کینال کے منصوبے کے تحت پاناما ریلوے کے بعض حصوں کا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ 15 اگست 1914 کو کینال کے کھلنے کے بعد بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے درمیان بحری سفر کیلئے تقریباً 80 کلومیٹر طویل نئی راہداری دستیاب ہوگئی۔ اس راستے نے متعدد بحری سفر مختصر کیے اور وقت اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں کمی کا ذریعہ بنا۔ اس تبدیلی کے اثرات بندرگاہی اور تجارتی رئیل اسٹیٹ تک بھی پہنچے۔ عالمی تجارت کے راستے تبدیل ہونے سے بندرگاہوں، سامان ذخیرہ کرنے کے مراکز، صنعتی مقامات اور لاجسٹکس سے متعلق زمین کی اہمیت بھی نئی بنیادوں پر طے ہونے لگی۔ پاناما میں خود کینال اور شہری ترقی کا تعلق تعمیر مکمل ہونے کے بعد بھی برقرار رہا۔ پاناما کینال اتھارٹی کے مطابق کینال آج بھی ملک کے بحری شعبے اور معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے جبکہ پاناما سٹی اور کولون کو پینے کے پانی کی فراہمی میں بھی کینال کا نظام اہم ہے۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود پاناما کینال رئیل اسٹیٹ اور شہری منصوبہ بندی کیلئے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ شہروں اور جائیدادوں کی بڑی تبدیلی ہمیشہ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی یا عمارت کی تعمیر سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی ایک نئی سڑک، ریلوے، بندرگاہ، ہوائی اڈہ یا آبی گزرگاہ یہ فیصلہ کردیتی ہے کہ لوگ کہاں آباد ہوں گے، کاروبار کہاں جائیں گے، صنعت کہاں قائم ہوگی اور کون سی زمین مستقبل میں زیادہ اہم ہوجائے گی۔ 15 اگست 1914 کو پاناما کینال نے صرف دو سمندروں کے درمیان راستہ نہیں کھولا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ ایک بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ زمین، تعمیرات، آبادکاری اور کاروباری سرگرمیوں کے جغرافیے کو کس طرح تبدیل کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

سنگاپور نے اپنا پہلا بڑا عوامی ہاؤسنگ پروگرام پیش کیا

سنگاپور میں ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ (ایچ ڈی بی) کے پہلے پانچ سالہ تعمیراتی پروگرام کی تکمیل کے موقع پر ایک بڑی عوامی نمائش منعقد کی گئی۔ اس وقت کے وزیر اعظم لی کوان یو نے سابق آؤٹرم جیل کی جگہ قائم ہونے والی اس نمائش کا افتتاح کرنا تھا۔ نمائش کا مقصد شہریوں کو یہ دکھانا تھا کہ صرف پانچ برس کے دوران سنگاپور نے گنجان آبادی، جھونپڑیوں، غیر محفوظ عمارتوں اور ناقص رہائشی حالات سے نمٹنے کے لیے کس تیزی سے جدید فلیٹس تعمیر کیے۔ اس روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگلے پانچ سالہ منصوبے میں تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کے لیے مزید رہائش فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ منصوبے کی لاگت تقریباً 150 ملین ڈالر بتائی گئی، جبکہ نئی آبادیوں میں 16 پرائمری اور آٹھ سیکنڈری سکول قائم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ ایچ ڈی بی کا 51 ہزارواں مکان اگلے ماہ مکمل ہونے کی توقع تھی۔ 1964 کے اختتام تک تقریباً چار لاکھ افراد کو ایچ ڈی بی کے تعمیر کردہ فلیٹس میں منتقل کیا جا چکا تھا، جو اس وقت سنگاپور کی مجموعی آبادی کا تقریباً 23 فیصد بنتے تھے۔ اسی دور میں توا پایوہ کی تعمیر بھی شروع ہوئی۔ یہ ایچ ڈی بی کا پہلا مکمل منصوبہ بند شہر تھا، جہاں رہائش کے ساتھ سڑکیں، سکول، بازار، کھیل کے میدان، پارک اور سماجی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ 21 جولائی کی یہ نمائش صرف تعمیراتی کامیابی کا جشن نہیں تھی۔ اس نے سنگاپور کی اس قومی سوچ کو نمایاں کیا کہ مناسب رہائش سماجی استحکام، شہری بہبود اور معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ بعد میں یہی منصوبہ بند آبادیاں، سستے فلیٹس اور گھر کی ملکیت کی پالیسیاں سنگاپور کے عالمی شہرت یافتہ عوامی ہاؤسنگ ماڈل کی بنیاد بنیں۔

مزید پڑھیں

زمین، انسان اور جنگلی حیات کے مطالعے کے لیے نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا قیام

27 جنوری 1888 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل جیوگرافک سوسائٹی قائم کی گئی۔ اس ادارے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کی زمینوں، پہاڑوں، دریاؤں، شہروں، مختلف علاقوں اور ان میں آباد انسانی اور جنگلی حیات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور ان کے نقشے تیار کیے جائیں۔ اس سے پہلے لوگ زمین کو محض ایک جگہ سمجھتے تھے، لیکن نیشنل جیوگرافک نے یہ تصور متعارف کرایا کہ زمین کو ناپا جا سکتا ہے، اس کا درست ریکارڈ رکھا جا سکتا ہے، اور یہ جانچا جا سکتا ہے کہ کون سی زمین کس استعمال کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اسی علمی کام کے نتیجے میں بعد ازاں یہ سمجھ پیدا ہوئی کہ شہروں کو کہاں پھیلانا چاہیے، سڑکیں کہاں بننی چاہئیں، زراعت کہاں بہتر ہو سکتی ہے اور زمین کی قیمت کیسے طے ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں، نیشنل جیوگرافک نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ زمین صرف مٹی نہیں ہوتی بلکہ ایک قیمتی اثاثہ ہوتی ہے، جس کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ نیشنل جیوگرافک نے ابتدائی طور پر زمین کے درست نقشے تیار کیے، زمین کی صحیح پیمائش کی، اور یہ واضح کیا کہ کسی علاقے کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں ختم ہوتی ہیں، جسے زمین کی حد بندی کہا جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کون سی زمین رہائش کے لیے بہتر ہے، کون سی کھیتی باڑی کے لیے، اور کون سی صنعت یا سڑکوں کے لیے استعمال ہونی چاہیے، جسے زمین کے استعمال کی درجہ بندی کہا جاتا ہے۔ جب یہ تمام پہلو واضح ہوئے تو شہروں کی منصوبہ بندی کے ساتھ توسیع، علاقوں کی زوننگ، اور زمین سے متعلق قوانین کی تشکیل میں آسانی پیدا ہوئی۔ لوگوں کو یہ سمجھ آنے لگی کہ شہر اکثر دریاؤں، ساحلوں، پہاڑوں، راستوں اور قدرتی وسائل کے قریب کیوں بنتے ہیں، اور کیوں کچھ مقامات زیادہ اہم اور قیمتی ہو جاتے ہیں، جنہیں اسٹریٹجک لوکیشن کہا جاتا ہے۔ نیشنل جیوگرافک نے یہ بھی واضح کیا کہ زمین کی قیمت محض جگہ کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق وہاں موجود خصوصیات سے ہوتا ہے، جیسے پانی کا نظام، مٹی کی زرخیزی اور معدنی وسائل کی دستیابی۔ اس طرح زمین کی معاشی قدر اور اس پر سرمایہ کاری کی صلاحیت کو جانچنے کا ایک سائنسی طریقہ سامنے آیا۔ [img:Images/otd-27-jan-2nd.jpeg | desc:نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا مشہورِ زمانہ میگزین National Geographic دستاویزی اور تحقیقی صحافت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس میگزین کے یہ تین سرورق اس کے فکری سفر کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں فطرت، انسان اور ماحول کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موضوعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے یہ تینوں سرورق نیشنل جیوگرافک کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کو دکھاتے ہیں۔ پہلا سرورق جنگلی جانوروں اور قدرتی ماحول کی بات کرتا ہے، دوسرا انسان اور جنگ سے جڑی مشکلات کو دکھاتا ہے، اور تیسرا آج کے دور کے ماحولیاتی مسئلے، خاص طور پر پلاسٹک کی آلودگی، کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان سب کا ایک ہی پیغام ہے کہ زمین، انسان اور ماحول آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔] بعد ازاں جب ہوائی جہازوں سے تصویریں لینے کا عمل شروع ہوا، یعنی فضائی فوٹوگرافی، اور پھر سیٹلائٹ کے ذریعے مشاہدہ ممکن ہوا تو زمین سے متعلق جغرافیائی ڈیٹا مزید درست ہوتا چلا گیا۔ اسی بنیاد پر آج کے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ اور جدید لینڈ ایڈمنسٹریشن کے نظام وجود میں آئے۔ سادہ الفاظ میں، نیشنل جیوگرافک نے دنیا کو یہ سکھایا کہ زمین صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک جغرافیائی اثاثہ اور وسائل پر مبنی سرمایہ ہے، جسے سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی سوچ آج بھی رئیل اسٹیٹ ویلیوایشن، شہری توسیع اور پالیسی سازی کی بنیاد بنی ہوئی ہے۔ نیشنل جیوگرافک کو دنیا بھر میں جانوروں، جنگلات، زمینوں، سمندروں اور قدرتی ماحول پر کی گئی فوٹوگرافی، ڈاکیومنٹریز اور تحقیقی کام کی وجہ سے بھی سراہا جاتا ہے۔ نقشہ سازی بھی نیشنل جیوگرافک کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے، جس میں اس ادارے نے وقت کے ساتھ خاص مہارت حاصل کی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی نے اپنے معروف اور عالمی سطح پر مشہور میگزین نیشنل جیوگرافک کے ذریعے ایسے نقشے شائع کیے جو واضح انداز، درست معلومات اور گہری تحقیق پر مبنی ہوتے تھے۔ یہ نقشے روزمرہ سرکاری استعمال کے لیے نہیں تھے بلکہ دنیا، مختلف خطوں، سمندروں، سرحدوں اور قدرتی نظام کو سمجھانے کے لیے تیار کیے جاتے تھے۔ اسی لیے تعلیمی اداروں، محققین اور عام قارئین نے انہیں بڑے اعتماد کے ساتھ استعمال کیا۔ یوں اگرچہ نقشہ سازی نیشنل جیوگرافک کا مرکزی کام نہیں تھی، مگر اس کے میگزین میں شائع ہونے والے معیاری نقشوں نے اس ادارے کی ساکھ کو مضبوط کیا اور اسے عالمی سطح پر ایک معتبر اور سنجیدہ علمی ادارے کے طور پر شناخت دلائی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی قائم کرنے کا خیال 1888 میں واشنگٹن ڈی سی میں چند ماہرینِ جغرافیہ، سائنس دانوں اور دانشوروں کو آیا، جن میں سب سے نمایاں نام گارڈنر گرین ہبارڈ کا تھا، جو اس کے پہلے صدر بنے۔ ان افراد کا مقصد یہ تھا کہ دنیا، زمین، فطرت اور انسان کے باہمی تعلق کو سائنسی بنیادوں پر سمجھا اور سمجھایا جائے۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی ایک غیر منافع بخش، عوامی اور تعلیمی ادارہ ہے جو کسی حکومت کے تحت نہیں چلتا۔ اس کی مالی معاونت عوامی عطیات، ممبرشپ فیس، اشاعتی اور میڈیا آمدن، اور تحقیقی گرانٹس سے ہوتی ہے۔ انہی ذرائع سے اس کا اسٹاف، تحقیق، ڈاکیومنٹریز اور فیلڈ ورک چلایا جاتا ہے۔ اسی خود مختار حیثیت کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں ایک آزاد، معتبر اور غیر جانبدار علمی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

جب فرانس کی پارلیمنٹ میں ہر شہری کے لیے رہائش کو بنیادی حق قرار دینے کی قرارداد پیش ہوئی.

فرانس کی تاریخ میں عام آدمی کو رہائش کے لازمی حق سے متعلق قراداد کا مسودہ ، جسے فرانسیسی حکومت نے حقِ رہائش یعنی DALO (Droit au logement opposable) کا نام دیا باضابطہ طور پر 17 جنوری 2007 کو کابینہ میں پیش کیا۔ اس اقدام کا مقصد ہر انسان کے لیے رہائش کو بنیادی قانونی حق بنانا تھا جس کا مطالبہ شہری عدالت کے ذریعے کر سکیں، اور اگر ریاست یا مقامی انتظامیہ کسی اہل فرد کو رہائش فراہم کرنے میں ناکام رہے تو متاثرہ شہری ریاست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکے۔ پارلیمانی بحث اور قانونی مراحل کی تکمیل کے بعد یہ قانون 5 مارچ 2007 کو باضابطہ طور پر منظور ہوا اور اسی تاریخ سے نافذ العمل قرار پایا۔ اس قانون کی امتیازی حیثیت یہ تھی کہ اس نے رہائش کو محض ایک آئینی اصول یا سماجی پالیسی کے بجائے ایک ایسا justiciable right یعنی عدالتی طور پر قابلِ نفاذ قانونی حق بنا دیا، جس کا مطالبہ شہری انتظامی عدالتوں کے ذریعے کر سکتے تھے، اور جس کے تحت ریاست اور مقامی انتظامیہ کو Conseil d’Éta (فرانس کی اعلیٰ انتظامی عدالت) کے دائرۂ اختیار میں براہِ راست جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا تھا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی ہاؤسنگ پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی آئی، جہاں رہائش پہلی مرتبہ ریاستی ذمہ داری کے ایک ایسے قانونی تصور میں ڈھلی جو محض پالیسی وعدہ نہیں بلکہ عدالتی نفاذ کے ساتھ وابستہ تھا، اور جس کے اثرات فلاحی ریاست کے تصور پر دور رس ثابت ہوئے۔ پارلیمانی بحث اور قانونی مراحل کی تکمیل کے بعد یہ قانون 5 مارچ 2007 کو باضابطہ طور پر منظور ہوا اور اسی تاریخ سے نافذ العمل قرار پایا، جس کے نتیجے میں عالمی ہاؤسنگ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رہائش کو عملی طور پر بنیادی حق کی حیثیت ملی، اور ریاستی ذمہ داری کے تصور پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ اس قانون کے تحت ریاست پر قانونی طور پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ اپنے شہریوں کو چھت فراہم کرے۔ اگر کوئی شخص بے گھر ہو یا انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہ رہا ہو تو اسے یہ حق حاصل ہوا کہ وہ عدالت سے رجوع کرے، اور حکومتی ناکامی کی صورت میں ریاست کے خلاف مقدمہ دائر کر سکے۔ اس اقدام کے ساتھ فرانس دنیا کا وہ دوسرا ملک بنا، اسکاٹ لینڈ کے بعد، جہاں رہائش کو ایسا حق تسلیم کیا گیا جس کا مطالبہ عدالت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس تبدیلی نے پورے یورپ میں ہاؤسنگ پالیسیوں کی سمت بدل دی اور ریاستوں کو کم آمدنی والے طبقات کے لیے قابلِ احتساب نظام وضع کرنے پر مجبور کیا۔ قانون کے نفاذ کے بعد انسانی رہائش کی ضروریات کے لیے Social Housing کے تصور کے تحت زمین کے استعمال اور تعمیراتی قواعد و ضوابط میں نمایاں اصلاحات کی گئیں، تاکہ کم آمدنی والے افراد کے لیے سستے اور قابلِ رسائی گھروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں

پاکستان نے پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے 'ریچارج پاکستان' منصوبہ شروع کیا

2 نومبر 2021 کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے ورلڈ بینک اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تعاون سے 'ریچارج پاکستان' منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کا مقصد زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بحال کرنا، دلدلی علاقوں کو محفوظ بنانا، اور سیلابی پانی کے بہتر استعمال کے ذریعے پانی کی پائیدار فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ پاکستان کے تقریباً 90 فیصد میٹھے پانی کا استعمال زراعت میں ہوتا ہے، اس لیے منصوبے نے بارش کے پانی کے ذخیرے اور جدید آبپاشی کے طریقوں پر توجہ دی۔ یہ منصوبہ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب جیسے علاقوں میں آبی قلت کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوا۔

مزید پڑھیں