Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

دیہی رئیل اسٹیٹ

دیہی رئیل اسٹیٹ banner

2 Historical Event found

23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے دیہی علاقوں میں شاملات اراضی کی ملکیت کا قانون نافذ کر دیا گیا

23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان نے پنجاب اراضی تصرفات تحفظِ شاملات آرڈیننس 1959 (Punjab Land Dispositions Saving of Shamilat Ordinance 1959) جاری کیا۔ اس آرڈیننس کے ذریعے دیہات کی مشترکہ زمین یعنی شاملات کی ملکیت اور اس کی منتقلی کے اصول واضح کیے گئے، جس سے زمین کے ریکارڈ اور انتقال کے نظام کو بہتر بنایا گیا اور دیہی علاقوں میں زمین کے پرانے تنازعات کے حل کی بنیاد پڑی۔ اس آرڈیننس کی اصل قانونی تاریخِ نفاذ 23 جنوری 1959 ہے، جب اسے گورنر کی جانب سے جاری کیا گیا۔ بعد ازاں 27 جنوری 1959 کو یہ آرڈیننس West Pakistan Gazette Extraordinary میں صفحات 455 سے 456 پر شائع ہوا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ گاؤں کی مشترکہ زمین، چراگاہیں، راستے، آب رسانی کے مقامات اور دیگر اجتماعی استعمال کی اراضی کے بارے میں یہ طے کیا جا سکے کہ کون سی زمین نجی ملکیت میں منتقل ہو سکتی ہے اور کن حالات میں ایسی منتقلی قانونی طور پر درست مانی جائے گی۔ اس آرڈیننس نے واضح کیا کہ ماضی میں کی گئی بعض منتقلیاں اگر نیک نیتی اور رائج قوانین کے تحت ہوئیں تو انہیں تحفظ دیا جائے گا، جبکہ غیر قانونی یا من مانے قبضوں کو قانونی جواز حاصل نہیں ہوگا۔ یہ قانون بعد کے عشروں میں پنجاب اور دیگر صوبوں میں زمین سے متعلق متعدد قوانین، عدالتی فیصلوں اور ریونیو اصلاحات کی بنیاد بنا۔ آج بھی پنجاب میں انتقالِ اراضی، فرد، جمعبندی، اور زمین کے تنازعات سے متعلق ہزاروں مقدمات میں اس آرڈیننس کے اصول براہِ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں بھی اسے ایک زندہ اور مؤثر قانون کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ 23 جنوری 2026 کو اس آرڈیننس کے نفاذ کو 67 سال مکمل ہو چکے ہیں، مگر اس کی عملی اور قانونی افادیت آج بھی برقرار ہے۔ اگرچہ اس آرڈیننس کے عنوان میں پنجاب کا لفظ درج ہے، تاہم یہ قانون 23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر کی جانب سے One Unit کے نظام کے تحت جاری کیا گیا تھا اور اس کا اطلاق مغربی پاکستان کے تمام دیہی علاقوں پر ہوتا تھا۔ چونکہ اس دور میں زمین اور ریونیو سے متعلق زیادہ تر قوانین پنجاب کے قانونی فریم ورک پر مبنی تھے، اس لیے آرڈیننس کے نام میں پنجاب شامل رکھا گیا۔ بعد ازاں One Unit کے خاتمے کے بعد دیگر صوبوں نے اپنے علیحدہ قوانین تشکیل دے لیے، جبکہ پنجاب میں یہی آرڈیننس برقرار رہا اور آج بھی عملی اور عدالتی سطح پر اسی صوبے میں نافذ العمل ہے۔

مزید پڑھیں

پنجاب نے نہری علاقوں کے دیہات میں دیہی واٹر سپلائی کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا

22 نومبر 1991 کو پنجاب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے نہری نظام کے ساتھ واقع دیہات میں دیہی واٹر سپلائی کی بحالی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا۔ 1980 اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں ان علاقوں میں پانی کی کوالٹی تیزی سے خراب ہورہی تھی کیونکہ نہری رساؤ، زرعی کیمیکلز، اور پرانے ہینڈ پمپ نظام پانی کو آلودہ کررہے تھے۔ اس منصوبے کا مقصد پرانے واٹر ڈرا سسٹمز کو جدید ڈیپ بور موٹرائزڈ پمپوں سے بدلنا، آئرن ریموول فلٹریشن یونٹ نصب کرنا، اور محفوظ پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے صاف پانی کو دیہاتی اسٹینڈ پوسٹس تک پہنچانا تھا۔ یہ منصوبہ کئی سال کی گراؤنڈ واٹر ٹیسٹنگ، سرویز اور دیہاتی مشاورت پر مبنی تھا۔ اس میں کمیونٹی واٹر کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں جو نظام کی نگرانی کرتی تھیں، جبکہ حکومت اور عوام کے اشتراک سے مینٹیننس فنڈنگ کا ماڈل متعارف کرایا گیا۔ اس اقدام نے نہری علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی بہتر کی، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کمی کی، اور عوامی صحت کے نتائج بہتر بنائے۔ وقت کے ساتھ یہ منصوبہ پنجاب کی 1990 کی دہائی کی دیہی واٹر سپلائی پالیسیوں کی بنیاد بنا، جس نے واٹر کوالٹی کے ٹیسٹنگ کے نظام، گراؤنڈ واٹر مانیٹرنگ اور کمیونٹی شمولیت کو مضبوط کیا۔ اس کی طویل المدتی میراث نہری علاقوں میں محفوظ پانی کے شعور کو عام کرنا ہے۔

مزید پڑھیں