Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Landscape Architecture, Parks and Gardens in Real Estate Development

2 Historical Event found

امریکا نے لاکھوں ایکڑ زمین کو صرف تعمیر و تجارت کا ذریعہ نہیں بلکہ محفوظ قومی اثاثہ بنانے کا باقاعدہ نظام قائم کردیا

25 اگست 1916 کو امریکی صدر ووڈرو ولسن نے ایک تاریخی قانون پر دستخط کرکے نیشنل پارک سروس قائم کی، جس نے امریکا میں زمین کے استعمال، قدرتی علاقوں اور تاریخی مقامات کے تحفظ کو ایک منظم وفاقی نظام کے تحت لانے کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے امریکا میں یلو سٹون سمیت متعدد قومی پارک اور محفوظ مقامات قائم ہوچکے تھے، لیکن ان کے انتظام کیلئے کوئی ایک مرکزی ادارہ موجود نہیں تھا۔ نئے قانون کے تحت نیشنل پارک سروس کو محکمہ داخلہ کے ماتحت قائم کیا گیا اور اسے قومی پارکوں، یادگاروں اور محفوظ زمینوں کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی۔ قانون کا بنیادی تصور یہ تھا کہ قدرتی مناظر، تاریخی مقامات اور جنگلی حیات کو محفوظ رکھا جائے، جبکہ عوام کو ان سے فائدہ اٹھانے اور انہیں دیکھنے کی سہولت بھی دی جائے، لیکن اس انداز میں کہ یہ اثاثے آنے والی نسلوں کیلئے نقصان کے بغیر برقرار رہیں۔ رئیل اسٹیٹ اور زمین کے استعمال کی تاریخ میں اس فیصلے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اس نے یہ تصور مضبوط کیا کہ قیمتی زمین کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس پر کتنی عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں یا اسے کتنی قیمت میں فروخت کیا جاسکتا ہے۔ زمین کی تاریخی، ماحولیاتی، ثقافتی اور عوامی قدر بھی اس کے مستقبل کا تعین کرسکتی ہے۔ بعد کے عشروں میں اس نظام کا دائرہ قدرتی پارکوں سے بڑھ کر تاریخی عمارتوں، جنگی میدانوں، یادگاروں، تفریحی علاقوں اور ثقافتی ورثے تک پھیل گیا۔ آج نیشنل پارک سروس 433 مقامات پر 85 ملین ایکڑ سے زیادہ رقبے کا انتظام کرتی ہے۔ 25 اگست کا یہ واقعہ شہری منصوبہ بندی اور رئیل اسٹیٹ کیلئے ایک اہم تاریخی سبق چھوڑتا ہے: ہر قیمتی زمین کا بہترین استعمال تعمیر نہیں، بعض اوقات اس کا سب سے بڑا مستقبل اسے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

آندرے لے نوتر کی پیدائش جدید باغات، پارکوں اور لینڈ اسکیپ ڈیزائن کے تصور کے بانی

12 مارچ 1613 کو فرانس کے شہر پیرس میں آندرے لے نوتر (André Le Nôtre) پیدا ہوئے۔ وہ ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو کئی نسلوں سے شاہی باغات اور محلاتی باغبانی کے کام سے وابستہ تھا۔ ان کے والد ژاں لے نوتر (Jean Le Nôtre) فرانس کے شاہی محل کے باغات کے نگران تھے اور ان کے دادا بھی اسی پیشے سے وابستہ رہے تھے۔ اس طرح آندرے لے نوتر نے بچپن ہی سے محلاتی باغات، درختوں کی ترتیب اور زمین کی منصوبہ بندی کا ماحول دیکھا اور اسی ماحول میں ان کی تربیت ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ بچپن سے ہی ان کی دلچسپی زمین، باغات اور مناظر کی ترتیب میں پیدا ہو گئی۔ انہوں نے زمین، درختوں، پانی کے ذخائر، راستوں اور کھلی جگہوں کو اس طرح ترتیب دینے کا نظریہ پیش کیا کہ پورا منظر ایک منظم اور متوازن جیومیٹری میں ڈھل جائے۔ اس طرز کو بعد میں فرانسیسی طرزِ باغات کا نام دیا گیا۔ سترہویں صدی میں جب آندرے لے نوتر پیدا ہوئے تو اس زمانے میں باغبانی، لینڈ اسکیپ ڈیزائن اور فن تعمیر کے لیے آج کی طرح باقاعدہ یونیورسٹی ڈگریاں عام نہیں تھیں۔ زیادہ تر مہارتیں استاد شاگرد کے نظام (Apprenticeship) کے ذریعے سیکھی جاتی تھیں۔ آندرے لے نوتر بھی ایسے ہی ماحول میں پروان چڑھے۔ ان کے والد ژاں لے نوتر فرانس کے شاہی باغات کے نگران تھے، اس لیے انہوں نے بچپن ہی سے محلوں کے باغات میں کام کرنے والے ماہرین کے درمیان رہ کر عملی تربیت حاصل کی۔ بعد میں پیرس میں فنکاروں اور معماروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے ڈرائنگ، جیومیٹری اور زمین کی ترتیب کے اصول سیکھے، اور یہی عملی تجربہ انہیں یورپ کا عظیم لینڈ اسکیپ ڈیزائنر بنانے کا سبب بنا۔ آندرے لے نوتر کی شہرت اس وقت بہت زیادہ بڑھی جب انہیں فرانس کے بادشاہ لوئی چودھویں (Louis XIV) کے دور میں شاہی منصوبوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کا سب سے مشہور کام فرانس کے شاہی محل ورسیلز (Palace of Versailles) کے عظیم باغات کا ڈیزائن تھا۔ ورسیلز کے باغات میں لمبی سیدھی شاہراہیں، پانی کے وسیع تالاب، فوارے اور درختوں کی قطاریں اس انداز سے ترتیب دیں کہ وہ ضرب المثل بن گئیں۔ ورسیلز کے علاوہ آندرے لے نوتر نے فرانس کے کئی اہم شاہی منصوبوں پر بھی کام کیا۔ ان میں وو لو ویکومت (Vaux le Vicomte)، شانتیئی (Chantilly)، سین کلو (Saint Cloud) اور تیوئیلری (Tuileries) کے باغات شامل ہیں۔ ان کے ڈیزائن صرف شاہی محلوں کے باغات تک محدود نہیں رہے بلکہ آگے چل کر ان کے تصورات نے یورپ کے شہروں، عوامی پارکوں اور بڑی رہائشی اسٹیٹس کے لینڈ اسکیپ ڈیزائن کو بھی متاثر کیا۔ آندرے لے نوتر نے طویل زندگی پائی اور اپنے دور میں یورپ کے سب سے بااثر لینڈ اسکیپ ڈیزائنر کے طور پر پہچانے گئے۔ ان کا انتقال 1700 میں پیرس میں ہوا، مگر ان کا طرزِ منصوبہ بندی آج بھی دنیا بھر میں باغات، پارکوں، شہری سبز علاقوں اور بڑی رہائشی اسٹیٹس کے ڈیزائن میں ایک کلاسیکی مثال کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں