From Real Estate History
2 Historical Event found
11 جولائی 2007 کو دنیا کی توجہ انسانی تاریخ میں آبادی کی ایک غیر معمولی تبدیلی کی جانب مبذول ہوئی۔ دنیا ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہی تھی جس میں پہلی مرتبہ دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہروں میں رہنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہونے والی تھی۔ اس روز عالمی بینک کی جانب سے اقوام متحدہ کے نئے آبادیاتی اعدادوشمار کی بنیاد پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کی مجموعی آبادی تقریباً 6.6 ارب تک پہنچ چکی ہے اور اس کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ شہری علاقوں میں آباد ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی رپورٹ سٹیٹ آف ورلڈ پاپولیشن 2007 میں 2008 کو وہ باقاعدہ تاریخی سال قرار دیا گیا جب پہلی مرتبہ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی، یعنی تقریباً 3.3 ارب افراد، شہروں اور قصبوں میں آباد ہونے والی تھی۔ آبادیاتی اندازوں میں چند ماہ کا فرق اپنی جگہ، لیکن اصل اہمیت اس تاریخی تبدیلی کی تھی جس کے تحت انسانی آبادی تیزی سے شہری شکل اختیار کر رہی تھی۔ اس تبدیلی نے عالمی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ، رہائشی ضروریات، زمین کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے نظام اور شہروں کی مجموعی ساخت کو ہمیشہ کے لیے بدلنا شروع کر دیا۔ صدیوں تک دنیا کی بیشتر آبادی دیہات، زرعی آبادیوں اور چھوٹی دیہی بستیوں میں رہتی رہی۔ صنعتی انقلاب کے بعد یہ صورت حال بتدریج تبدیل ہوئی۔ فیکٹریوں، بندرگاہوں، ریلوے نیٹ ورکس اور تجارتی مراکز کے قیام نے روزگار کے مواقع پیدا کیے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو شہروں کی جانب متوجہ کیا۔ اکیسویں صدی کے آغاز تک شہری نقل مکانی کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا، خصوصاً ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں۔ لوگ بہتر روزگار، تعلیم، علاج، تحفظ اور بنیادی سہولتوں کی تلاش میں دیہی علاقوں سے شہروں کا رخ کرنے لگے۔ شہر میں منتقل ہونے والے ہر نئے فرد کو رہائش کے ساتھ سڑک، ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، نکاسی آب، تعلیم اور صحت کی سہولتیں درکار تھیں۔ یوں آبادی میں اضافہ براہ راست رہائشی پلاٹس، اپارٹمنٹس، کرائے کے مکانات، دفاتر، تجارتی مراکز، گوداموں، سکولوں اور ہسپتالوں کی بڑھتی ہوئی طلب سے منسلک ہوگیا۔ اس آبادیاتی تبدیلی نے شہری زمین کی اہمیت اور قدر کو بھی تبدیل کر دیا۔ روزگار کے مراکز، پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور کاروباری علاقوں کے قریب واقع جائیدادوں کی مانگ اور قیمت میں اضافہ ہونے لگا۔ بڑے شہروں کے نواح میں موجود زرعی اور غیر ترقی یافتہ زمینیں بتدریج ہاؤسنگ سوسائٹیوں، صنعتی زونز، سیٹلائٹ ٹاؤنز اور مخلوط استعمال کے منصوبوں میں تبدیل ہونے لگیں۔ شہری زمین محدود ہونے کے باعث ڈویلپرز نے بلند عمارتوں اور زیادہ کثافت والے رہائشی منصوبوں کی تعمیر کو ترجیح دینا شروع کی۔ اپارٹمنٹ کلچر کو فروغ ملا جبکہ ایسے مخلوط منصوبے بھی مقبول ہوئے جن میں رہائش، دفاتر، دکانیں اور تفریحی سہولتیں ایک ہی علاقے میں فراہم کی جاتی تھیں۔ انفراسٹرکچر رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والی سب سے طاقتور قوتوں میں شامل ہوگیا۔ موٹرویز، میٹرو سسٹمز، ریلوے سٹیشنز، پلوں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر نے ترقی کے لیے نئے علاقے کھولے۔ جو زمین کبھی دور دراز یا کاروباری لحاظ سے غیر اہم سمجھی جاتی تھی، مرکزی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے منسلک ہونے کے بعد اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہونے لگا۔ تاہم تیز رفتار شہری آبادی نے سنگین مسائل بھی پیدا کیے۔ متعدد ترقی پذیر ممالک میں مکانات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر آبادی میں اضافے کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکی۔ اس کے نتیجے میں زمین اور کرایوں کی قیمتیں بڑھیں، سستی رہائش کی قلت پیدا ہوئی اور غیر رسمی آبادیوں کا دائرہ وسیع ہونے لگا۔ کم آمدنی رکھنے والے خاندانوں کو اکثر شہروں کے دور دراز علاقوں میں منتقل ہونا پڑا، جہاں سے روزگار کے مراکز، سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر ضروری سہولتوں تک رسائی مشکل تھی۔ کئی مقامات پر لوگ مناسب اور قانونی رہائش حاصل نہ کر سکنے کے باعث خطرناک زمینوں، ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں یا گنجان آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے اپنی 2007 کی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ ایشیا اور افریقہ کی شہری آبادی ایک نسل سے بھی کم مدت میں دوگنی ہوسکتی ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا کہ حکومتیں شہری مسائل پیدا ہونے کے بعد محض ردعمل دینے کے بجائے مستقبل کی ترقی کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں، رہائشی تعمیرات کے لیے زمین مختص کریں اور سڑکوں، پانی، نکاسی آب اور پبلک ٹرانسپورٹ کا مناسب بندوبست یقینی بنائیں۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے اس تبدیلی کا مطلب یہ تھا کہ کامیاب شہری ترقی کو صرف تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ پائیدار شہروں کے لیے شفاف لینڈ ریکارڈ، مؤثر زوننگ قوانین، سستی رہائش کی پالیسیاں، ماحولیاتی تحفظ اور بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل انفراسٹرکچر بھی ناگزیر ہیں۔ 11 جولائی کو عالمی یوم آبادی کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ اس دن کے انتخاب کا تعلق 11 جولائی 1987 کے اس تاریخی موقع سے ہے جب دنیا کی آبادی کے پانچ ارب تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور اسے ’’فائیو بلین ڈے‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ 2007 میں سامنے آنے والے شہری آبادی کے اس تاریخی سنگ میل نے پراپرٹی ڈویلپمنٹ کی نوعیت بدل دی۔ رئیل اسٹیٹ اب صرف انفرادی مکان، پلاٹ یا کمرشل عمارت کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہا تھا۔ یہ اس وسیع سوال کا مرکزی حصہ بن چکا تھا کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں اربوں انسان کہاں رہیں گے، کیسے سفر کریں گے، کہاں کام کریں گے اور اپنی آبادیاں کس طرح تشکیل دیں گے۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں 11 جولائی 2007 ایک نئے شہری عہد کی علامت ہے، ایک ایسا عہد جس میں آبادی کا پھیلاؤ، سستی رہائش، زمین کا مؤثر انتظام اور انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی انسانی ترقی کے مستقبل سے ناقابلِ تنسیخ طور پر وابستہ ہوگئے۔
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1959 کو کیوبا میں کیوبن انقلاب کامیاب ہوا اور فیدل کاسترو اقتدار میں آئے۔ یہ وہ دن ہے جس نے جدید تاریخ میں رئیل اسٹیٹ اور نجی ملکیت کے تصور کو سب سے زیادہ شدت سے نقصان پہنچایا۔ اس انقلاب کے فوراً بعد کیوبا میں بڑے پیمانے پر زمین، رہائشی مکانات، کمرشل عمارتیں، ہوٹلز اور صنعتی املاک ریاست کی ملکیت میں لے لی گئیں۔ نجی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ عملاً ختم کر دی گئی، بیرونی سرمایہ کاری ضبط ہوئی، ہزاروں مالکان ایک ہی دن میں اپنی جائیدادوں سے محروم ہو گئے اور پورے ملک کا اربن لینڈ اسٹرکچر ریاستی کنٹرول میں چلا گیا۔ رئیل اسٹیٹ کی عالمی تاریخ میں یہ واقعہ اس لیے منفرد اور سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے کہ یہ دنیا میں ایک دن میں پورے ملک کی نجی ملکیت (Ownership) کے خاتمے کی واحد مثال ہے۔ اس نے شہری منصوبہ بندی، ہاؤسنگ، کرایہ داری اور زمین کی ملکیت کے تصورات کو الٹ دیا۔ اور یہ فیصلہ آج بھی کیوبا کی معیشت، شہروں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اثر انداز ہے۔ کاسترو کے انقلاب کے بعد جو تبدیلیاں آئیں، ان میں سب سے اہم اربن ریفارم لا (Urban Reform Law) تھا۔ انقلاب کے فوراً بعد 1960 میں ایک قانون پاس کیا گیا جس کے تحت “ایک خاندان، ایک گھر” کی پالیسی اپنائی گئی۔ جن لوگوں کے پاس ایک سے زائد مکانات تھے، ریاست نے وہ ضبط کر لیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرایہ داروں کو موقع دیا گیا کہ وہ جو کرایہ ادا کر رہے ہیں، وہ دراصل گھر کی قیمت کی قسط تصور ہوگا اور کچھ عرصہ بعد وہ گھر کے مالک بن جائیں گے۔ فیدل کاسترو کے لائے گئے اس انقلاب سے پہلے ہوانا (Havana) دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا، جہاں امریکی اشرافیہ کی مہنگی ترین جائیدادیں موجود تھیں۔ انقلاب کے بعد جب مالکان ملک چھوڑ کر چلے گئے تو ان عالیشان محلات کو یا تو سرکاری دفاتر بنا دیا گیا یا غریب خاندانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آج بھی ہوانا کی گلیوں میں وہ قدیم اور خستہ حال عمارتیں اس دور کی یاد دلاتی ہیں، اور عالمی سطح پر انہیں ہوانا کے بھوت بنگلے (Ghost Mansions) کہا جاتا ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ 1959 سے لے کر 2011 تک، تقریباً 52 سال، کیوبا میں گھروں کی خرید و فروخت قانونی طور پر ممنوع تھی اور لوگ صرف اپنی جائیداد کا صرف تبادلہ (Permuta) کر سکتے تھے، یعنی ایک گھر کے بدلے دوسرا گھر لینا۔ باقاعدہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا وجود ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ کاسترو دور میں ہزاروں ایسے خاندان، جو امریکہ ہجرت کر گئے تھے، اپنی ان جائیدادوں کے قانونی کاغذات سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جو 1959 میں ان سے چھین لی گئی تھیں۔ اور اب ان کلیمز کی مالیت اربوں ڈالر میں جا پہنچی ہے اس وقت یہ معاملہ کیوبا اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر رئیل اسٹیٹ میں لوکیشن کی وجہ سے زمین کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن کیوبا میں دہائیوں تک زمین کی کوئی تجارتی قیمت نہیں رہی کیونکہ ریاست ہی واحد مالک تھی۔ جس کے نتیجے میں شہروں کی قدرتی ترقی (Natural Development) آگے بڑھنے کی بجائے ختم ہوتی چلی گئی جس نے سرمایہ کاری کے رسک (Sovereign Risk) کو جنم دیا۔ اور دنیا کو سوشلسٹ ہاؤسنگ ماڈل کا ایک ایسا تجربہ دکھایا جو آج بھی بحث کا موضوع ہے۔ فیدل کاسترو 2006 میں شدید بیماری کے بعد عملی سیاست سے الگ ہو گئے اور 2008 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کے حوالے کر دیا تھا۔ 2011 میں راؤل کاسترو نے کیوبا کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم اصلاحاتی اقدامات کیے، انہوں نے محسوس کیا کہ ملک کی معیشت کو بچانے کے لیے نجی ملکیت کی طرف واپسی ناگزیر ہے۔ چنانچہ نومبر 2011 میں، پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد، کیوبا کے شہریوں کو پہلی بار جائیداد خریدنے اور بیچنے کی قانونی اجازت دی گئی۔ اس سے پہلے لوگ صرف گھر کا تبادلہ (Permuta) کر سکتے تھے، جس میں اکثر کالے دھن کا استعمال ہوتا تھا۔ اس فیصلے نے کیوبا میں ایک سوئی ہوئی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ تاہم آج بھی کیوبا میں ایک گھر کی شرط برقرار ہے۔ آج بھی ایک کیوبن شہری کو صرف دو گھر رکھنے کی اجازت ہے، ایک وہ جہاں وہ مستقل رہائش رکھتا ہو، اور دوسرا وہ جو کسی تفریحی مقام یعنی ویکیشن ہوم پر ہو۔ یہ شرط اس لیے رکھی گئی تاکہ بڑے سرمایہ دار یا مافیا مارکیٹ پر قبضہ کر کے قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ کر دیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک عام غیر ملکی آج بھی کیوبا میں براہ راست زمین یا گھر نہیں خرید سکتا۔ تاہم غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی شراکت داری کے ذریعے بڑے ہوٹلز یا لگژری ریزورٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ عام گھروں کی خرید و فروخت صرف کیوبن شہریوں یا وہاں کی مستقل رہائش رکھنے والے غیر ملکیوں تک محدود ہے۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کھلنے کا سب سے بڑا فائدہ سیاحت کو ہوا۔ کیوبا کے لوگوں نے اپنے گھروں کے کمرے Airbnb کے ذریعے سیاحوں کو کرائے پر دینا شروع کر دیے۔ آج ہوانا کی قدیم عمارتوں میں موجود Casas Particulares یعنی نجی گیسٹ ہاؤسز پوری دنیا میں مشہور ہیں اور کیوبن عوام کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ میں کیوبا اور اس سے ملحقہ ممالک بہاماس، ہیٹی، جمیکا اور خصوصاً ڈومینیکن ریپبلک کی رئیل اسٹیٹ کا جب بھی مطالعہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان ممالک کے تقابل میں کیوبا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں پاکستان کی طرح قیمتوں کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ ہوانا کے پوش علاقوں میں ایک پرانا اپارٹمنٹ پچاس ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک فروخت ہو سکتا ہے، جبکہ ایک عام کیوبن کی اوسط سرکاری تنخواہ اصلاحات کے باوجود ماہانہ تقریباً چار ہزار تا پانچ ہزار کیوبن پیسو ہے، جو ڈالر میں بدلنے پر لگ بھگ پینتیس تا پینتالیس امریکی ڈالر بنتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک عام سرکاری ملازم کی سالانہ نقد آمدنی عموماً چار سو سے پانچ سو پچاس امریکی ڈالر سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس کے برعکس کیوبا کی فی کس آمدنی نو ہزار سے دس ہزار امریکی ڈالر سالانہ ظاہر کی جاتی ہے، لیکن یہ دراصل فی کس جی ڈی پی پر مبنی ایک اعدادی اوسط ہے، جو نہ تو عام شہری کی حقیقی نقد آمدنی کی عکاسی کرتی ہے اور نہ ہی اس کی روزمرہ معاشی حقیقت کو درست طور پر بیان کرتی ہے۔ اس تضاد سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کیوبا کی پراپرٹی مارکیٹ مقامی آمدنی پر نہیں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے ڈالرز پر چل رہی ہے، یعنی عملی طور پر یہ مارکیٹ ریمیٹینس اکانومی کے رحم و کرم پر ہے۔ وہ خاندان جن کے رشتہ دار بیرون ملک، خصوصاً امریکہ میں رہتے ہیں اور ڈالر بھیجتے ہیں، وہی دراصل کیوبا میں جائیداد کے خریدار بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں