From Real Estate History
3 Historical Event found
27 اگست 2018 کو سنگاپور کی شہری اور رئیل اسٹیٹ ترقی کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہوئی، جب ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نے پسیر رس سینٹر میں واقع ایک اہم سرکاری زمین کو ترقیاتی منصوبے کے لیے عوامی ٹینڈر پر پیش کردیا۔ یہ منصوبہ روایتی رہائشی تعمیرات سے مختلف تھا، کیونکہ اس میں رہائش، تجارت، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولتوں کو ایک ہی مربوط شہری منصوبے کے تحت یکجا کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت اس مقام کو ایک جدید مخلوط استعمال کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کی تجویز دی گئی۔ مجوزہ ترقیاتی منصوبے میں نجی رہائشی یونٹس کے ساتھ تجارتی جگہیں، بس انٹرچینج، پولی کلینک اور ٹاؤن پلازا سمیت مختلف عوامی سہولتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کا تصور شامل تھا۔ سرکاری معلومات کے مطابق اس مقام پر تقریباً 600 نجی رہائشی یونٹس تعمیر کیے جانے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ پسیر رس سینٹر کا یہ منصوبہ سنگاپور کے شہری ترقیاتی وژن کا حصہ تھا، جس کا مقصد رہائشی علاقوں کو صرف گھروں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں مکمل اور مربوط شہری مراکز میں تبدیل کرنا تھا۔ اس تصور کے تحت رہائشی علاقے کو سفر، خریداری، صحت اور دیگر روزمرہ سہولتیں ایک ہی علاقے میں فراہم کرنے پر توجہ دی گئی۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطۂ نظر سے یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید شہری ترقی میں زمین کے استعمال کا تصور کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ مخلوط استعمال کے منصوبوں میں رہائشی، تجارتی اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو یکجا کرکے نہ صرف زمین کا بہتر استعمال ممکن بنایا جاتا ہے بلکہ کسی علاقے کی جائیداد اور سرمایہ کاری کی کشش میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ آج پسیر رس سینٹر کا یہ منصوبہ ایشیا میں مربوط شہری منصوبہ بندی اور جدید رئیل اسٹیٹ ترقی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
26 اگست 1920 لاس اینجلس کی جائیداد اور شہری ترقی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جب ایک بڑے رہائشی منصوبے کی تشہیری مہم نے بالآخر دنیا کی سب سے پہچانی جانے والی علامتوں میں سے ایک کی بنیاد رکھ دی۔ مشہور ہالی ووڈ سائن دراصل ابتدا میں فلمی صنعت کی علامت نہیں تھا بلکہ ایک نئی رہائشی بستی کی تشہیر کے لیے بنایا گیا تھا۔ ہالی وڈ لینڈ منصوبے کے منتظمین نے لاس اینجلس کی پہاڑیوں پر ایک بڑا روشن بورڈ نصب کیا تاکہ نئی رہائشی ترقی کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جا سکے اور ممکنہ خریداروں کو اس علاقے میں جائیداد خریدنے کی ترغیب دی جائے۔ اس وقت لاس اینجلس تیزی سے پھیل رہا تھا۔ آبادی میں اضافے کے باعث نئی رہائشی آبادیوں کی ضرورت بڑھ رہی تھی اور تعمیراتی و جائیداد کے منصوبہ ساز ایسے نئے طریقے تلاش کر رہے تھے جن کے ذریعے ابھی زیرِ ترقی علاقوں میں خریداروں کو راغب کیا جا سکے۔ پہاڑی پر نصب یہ عظیم الشان بورڈ شہر کے دور دراز حصوں سے بھی دکھائی دیتا تھا اور یوں یہ جائیداد کی تشہیر کا ایک غیر معمولی ذریعہ بن گیا۔ اصل بورڈ پر HOLLYWOODLAND لکھا ہوا تھا، جو براہِ راست اس رہائشی منصوبے کی تشہیر کرتا تھا۔ اگرچہ اسے عارضی تشہیری منصوبے کے طور پر نصب کیا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ پورے علاقے کی شناخت سے جڑ گیا۔ بعد کے برسوں میں اس کے آخری چار حروف ہٹا دیے گئے اور صرف HOLLYWOOD باقی رہ گیا۔ یوں ایک رہائشی منصوبے کی تشہیر کے لیے بنایا گیا بورڈ رفتہ رفتہ لاس اینجلس، امریکی فلمی صنعت اور عالمی ثقافت کی علامت بن گیا۔ یہ واقعہ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ گھروں کی فروخت کے لیے بنایا گیا ایک تشہیری ذریعہ آخرکار خود اس منصوبے سے کہیں زیادہ قیمتی اور عالمی شناخت رکھنے والی علامت بن گیا۔ 26 اگست 1920 آج بھی جدید جائیداد کی صنعت کے لیے ایک سبق رکھتا ہے: مقام کی شناخت، نمایاں تشہیر اور مؤثر برانڈنگ بعض اوقات کسی منصوبے کو صرف جائیداد سے بڑھا کر ایک مستقل شناخت میں تبدیل کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
آج کی تاریخ میں اس دن سر اسٹیمفورڈ ریفلز (Sir Stamford Raffles)، جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک اعلیٰ منتظم تھے اور اس وقت بینکولن سماٹرا (Bencoolen Sumatra) کے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے تعینات تھے، برطانوی تجارتی مفادات کے تحفظ اور ڈچ تجارتی اجارہ داری (Dutch Monopoly) کا توڑ کرنے کے لیے ایک نئی بندرگاہ کی تلاش میں نکلے اور ایک ایسے جزیرے پر پہنچے جسے آج دنیا سنگاپور کے نام سے جانتی ہے۔ اس وقت سنگاپور کوئی شہر، ریاست یا ملک نہیں تھا بلکہ چند مچھیروں کی بستیاں تھیں، اور یہ علاقہ سلطنتِ جوہر کے زیر اثر سمجھا جاتا تھا۔ ریفلز نے صرف یہ فیصلہ کیا کہ اس جگہ کو ایک بندرگاہی تجارتی اڈے (Trading Post) کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ دراصل زمین کے انتخاب کا ایک غیر معمولی قدم تھا جسے آج کی زبان میں سائٹ سلیکشن کہا جاتا ہے۔ ریفلز نے اس مقام کو اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کی بنیاد پر منتخب کیا کیونکہ یہ ایشیا کی سب سے اہم بحری تجارتی گزرگاہ درۂ ملکا (Strait of Malacca) کے دہانے پر واقع تھا۔ درۂ ملکا صدیوں سے چین، ہندوستان، عرب دنیا اور یورپ کے درمیان سمندری تجارت کا مرکزی راستہ رہا ہے۔ اس مقام کا انتخاب ایسا تھا جیسے کوئی شخص دنیا کی سب سے بڑی شاہراہ کے عین چوراہے پر دکان کھول دے۔ جو بھی جہاز مشرق اور مغرب کے درمیان سفر کرتا تھا، اس کے لیے یہاں رکنا فطری امر بن سکتا تھا۔ ریفلز نے سمجھ لیا تھا کہ اگر اس مقام پر ایک محفوظ بندرگاہ قائم کر دی جائے تو تجارت خود بخود یہاں کھنچی چلی آئے گی، اور جہاں تجارت آتی ہے وہاں آبادی، تعمیرات اور شہری ترقی بھی جنم لیتی ہے۔ [img:Images/otd-29-jan-2nd.jpeg | desc:یہ تصاویر سنگاپور کی اُس عبوری کیفیت کی شہادت ہیں جو 1819 میں سر اسٹیمفورڈ ریفلز کے آمد اور زمین کے انتخاب کے بعد پیدا ہوئی یہاں دکھائی دینے والا ساحلی منظر محض ایک بندرگاہی سرگرمی نہیں بلکہ اُس ابتدائی معاشی ڈھانچے کی جھلک ہے جس پر بعد میں سنگاپور کی شہری معیشت استوار ہوئی لکڑی کی کشتیوں، عارضی گھاٹوں اور ساحل کے ساتھ قائم گوداموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ اب بھی غیر رسمی مگر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا دوسری تصویر میں نوآبادیاتی طرز کی گلی اور شاپ ہاؤسز اس تدریجی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے ذریعے بندرگاہی بستی ایک منظم شہری فضا میں تبدیل ہو رہی تھی ان دونوں مناظر کو یکجا دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ سنگاپور کی ترقی کسی اچانک منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ زمین کے انتخاب، تجارت کے ارتقا اور شہری انفراسٹرکچر کی بتدریج تشکیل کا حاصل ہے، جس نے بعد ازاں اسے عالمی سطح کا تجارتی مرکز اور عظیم الشان شہر بنایا۔ (سید شایان۔ آرکائیو ہیڈ)] اس وقت سنگاپور میں زمین کی جدید قانونی ملکیت کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا۔ زمین نجی جائیداد کے طور پر نہیں بلکہ مقامی حکمرانوں کے اختیار کے تحت سمجھی جاتی تھی۔ چند دن بعد، 6 فروری 1819 کو، سلطانِ جوہر اور مقامی حکمران (Temenggong of Johor) کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں برطانوی انتظام قائم ہوا اور سنگاپور کو فری پورٹ (Free Port) کی حیثیت دی گئی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسٹیمفورڈ ریفلز کے اسی ایک فیصلے کے نتیجے میں جو ایک معمولی بندرگاہ وجود میں آئی، آگے چل کر وہی بندرگاہ شہر بنی، شہر ریاست میں بدلا، اور بالآخر 1965 میں سنگاپور ایک خود مختار ملک (Independent State) بن گیا۔ اور سر اسٹیمفورڈ ریفلز اس سنگا پور کے بانی ٹہرے۔ آج وہی مچھیروں کی ایک بستی جس کا انتخاب 29 جنوری 1819 کو سر اسٹیمفورڈ ریفلز نے ایک بندرگاہ کے طور پر کیا تھا، دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہے اور سنگاپور کے نام سے ایک آزاد ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سنگاپور کی بندرگاہ کو دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اور کنٹینر ٹریفک کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں اسے عموماً دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔ یہ بندرگاہ دنیا کا سب سے بڑا transshipment hub بھی ہے، یعنی عالمی شپنگ نیٹ ورک میں سب سے زیادہ مربوط اور فعال مرکز، جہاں کنٹینرز ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ منتقل کیے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں