Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

29 January

Home

Select Date

1 Historical Event found for 29 January
1

29 جنوری 1819

آج کے سنگاپور کے لیے زمین کا انتخاب کیا گیا تھا

آج کے سنگاپور کے لیے زمین کا انتخاب کیا گیا تھا

آج کی تاریخ میں اس دن سر اسٹیمفورڈ ریفلز (Sir Stamford Raffles)، جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک اعلیٰ منتظم تھے اور اس وقت بینکولن سماٹرا (Bencoolen Sumatra) کے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے تعینات تھے، برطانوی تجارتی مفادات کے تحفظ اور ڈچ تجارتی اجارہ داری (Dutch Monopoly) کا توڑ کرنے کے لیے ایک نئی بندرگاہ کی تلاش میں نکلے اور ایک ایسے جزیرے پر پہنچے جسے آج دنیا سنگاپور کے نام سے جانتی ہے۔ اس وقت سنگاپور کوئی شہر، ریاست یا ملک نہیں تھا بلکہ چند مچھیروں کی بستیاں تھیں، اور یہ علاقہ سلطنتِ جوہر کے زیر اثر سمجھا جاتا تھا۔

ریفلز نے صرف یہ فیصلہ کیا کہ اس جگہ کو ایک بندرگاہی تجارتی اڈے (Trading Post) کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ دراصل زمین کے انتخاب کا ایک غیر معمولی قدم تھا جسے آج کی زبان میں سائٹ سلیکشن کہا جاتا ہے۔ ریفلز نے اس مقام کو اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کی بنیاد پر منتخب کیا کیونکہ یہ ایشیا کی سب سے اہم بحری تجارتی گزرگاہ درۂ ملکا (Strait of Malacca) کے دہانے پر واقع تھا۔

درۂ ملکا صدیوں سے چین، ہندوستان، عرب دنیا اور یورپ کے درمیان سمندری تجارت کا مرکزی راستہ رہا ہے۔ اس مقام کا انتخاب ایسا تھا جیسے کوئی شخص دنیا کی سب سے بڑی شاہراہ کے عین چوراہے پر دکان کھول دے۔ جو بھی جہاز مشرق اور مغرب کے درمیان سفر کرتا تھا، اس کے لیے یہاں رکنا فطری امر بن سکتا تھا۔ ریفلز نے سمجھ لیا تھا کہ اگر اس مقام پر ایک محفوظ بندرگاہ قائم کر دی جائے تو تجارت خود بخود یہاں کھنچی چلی آئے گی، اور جہاں تجارت آتی ہے وہاں آبادی، تعمیرات اور شہری ترقی بھی جنم لیتی ہے۔

article image

یہ تصاویر سنگاپور کی اُس عبوری کیفیت کی شہادت ہیں جو 1819 میں سر اسٹیمفورڈ ریفلز کے آمد اور زمین کے انتخاب کے بعد پیدا ہوئی یہاں دکھائی دینے والا ساحلی منظر محض ایک بندرگاہی سرگرمی نہیں بلکہ اُس ابتدائی معاشی ڈھانچے کی جھلک ہے جس پر بعد میں سنگاپور کی شہری معیشت استوار ہوئی لکڑی کی کشتیوں، عارضی گھاٹوں اور ساحل کے ساتھ قائم گوداموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ اب بھی غیر رسمی مگر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا دوسری تصویر میں نوآبادیاتی طرز کی گلی اور شاپ ہاؤسز اس تدریجی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے ذریعے بندرگاہی بستی ایک منظم شہری فضا میں تبدیل ہو رہی تھی ان دونوں مناظر کو یکجا دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ سنگاپور کی ترقی کسی اچانک منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ زمین کے انتخاب، تجارت کے ارتقا اور شہری انفراسٹرکچر کی بتدریج تشکیل کا حاصل ہے، جس نے بعد ازاں اسے عالمی سطح کا تجارتی مرکز اور عظیم الشان شہر بنایا۔ (سید شایان۔ آرکائیو ہیڈ)

اس وقت سنگاپور میں زمین کی جدید قانونی ملکیت کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا۔ زمین نجی جائیداد کے طور پر نہیں بلکہ مقامی حکمرانوں کے اختیار کے تحت سمجھی جاتی تھی۔ چند دن بعد، 6 فروری 1819 کو، سلطانِ جوہر اور مقامی حکمران (Temenggong of Johor) کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں برطانوی انتظام قائم ہوا اور سنگاپور کو فری پورٹ (Free Port) کی حیثیت دی گئی۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسٹیمفورڈ ریفلز کے اسی ایک فیصلے کے نتیجے میں جو ایک معمولی بندرگاہ وجود میں آئی، آگے چل کر وہی بندرگاہ شہر بنی، شہر ریاست میں بدلا، اور بالآخر 1965 میں سنگاپور ایک خود مختار ملک (Independent State) بن گیا۔ اور سر اسٹیمفورڈ ریفلز اس سنگا پور کے بانی ٹہرے۔

آج وہی مچھیروں کی ایک بستی جس کا انتخاب 29 جنوری 1819 کو سر اسٹیمفورڈ ریفلز نے ایک بندرگاہ کے طور پر کیا تھا، دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہے اور سنگاپور کے نام سے ایک آزاد ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سنگاپور کی بندرگاہ کو دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اور کنٹینر ٹریفک کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں اسے عموماً دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔ یہ بندرگاہ دنیا کا سب سے بڑا transshipment hub بھی ہے، یعنی عالمی شپنگ نیٹ ورک میں سب سے زیادہ مربوط اور فعال مرکز، جہاں کنٹینرز ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ منتقل کیے جاتے ہیں۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس:
‏Turnbull C M
A History of Modern Singapore 1819 to 2005
National University of Singapore Press
Views
14

مزید خبریں "On This Date" سے

news
کراچی ماسٹر پلان کمیشن قائم

کراچی: وفاقی کابینہ نے آج کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA) کے تحت ماسٹر پلان یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ملک کی پہلی باقاعدہ میٹروپولیٹن منصوبہ ساز اتھارٹی...

مزید پڑھیں
news
وارسا کا پیلس آف کلچر اینڈ سائنس عوام کیلئے کھول دیا گیا

22 جولائی 1955 کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں واقع پیلس آف کلچر اینڈ سائنس پہلی مرتبہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ عمارت کی تعمیر یکم مئی 1952 کو شروع ہوئی تھی ...

مزید پڑھیں
news
برطانیہ کی مردم شماری میں اہم آبادیاتی معلومات جمع کی گئیں

19 جون 1921 کو برطانیہ میں قومی مردم شماری کی گئی، جسے اپریل سے مؤخر کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت وسیع پیمانے پر صنعتی بے چینی پائی جاتی تھی۔ اس مردم شماری میں آ...

مزید پڑھیں
news
امریکی کانگریس نے ٹیکساس کو ریاستہائے متحدہ میں شامل کرنے کی مشترکہ قرارداد منظور کی

امریکی کانگریس نے ٹیکساس کو امریکہ میں شامل کرنے کی مشترکہ قرارداد کو حتمی طور پر 28 فروری 1845 کو منظور کر لیا۔ اس سے ایک روز پہلے، 27 فروری کو سینیٹ میں یہ ...

مزید پڑھیں
news
اسلام آباد کی ترقی کے لیے سی ڈی اے آرڈیننس جاری ہوا

اس دن کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس (سی ڈی اے ) جاری کیا گیا، جس کے ذریعے پاکستان کے نئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی منصوبہ بندی، ریگولیشن اور ترقی کے لیے ک...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں