Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Real Estate Bubbles, Crashes & Lessons

Real Estate Bubbles, Crashes & Lessons

8 Historical Event found

2008 : ہاؤسنگ اور مارگیج بحران نے عالمی مالیاتی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا

7 اکتوبر 2008 عالمی مالیاتی اور رئیل اسٹیٹ تاریخ کے اہم دنوں میں شمار ہوتا ہے، جب امریکا اور دیگر بڑی معیشتوں کے مالیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار تھے اور ہاؤسنگ و مارگیج بحران عالمی مالیاتی عدم استحکام کا مرکزی سبب بن چکا تھا۔ اسی روز امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین بین برنانکے نے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور دنیا کے کئی دیگر حصوں کے مالیاتی نظام غیر معمولی دباؤ میں ہیں، خصوصاً کریڈٹ اور منی مارکیٹس شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ اس بحران کی بنیادی جڑ امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ میں طویل عرصے تک قیمتوں میں تیز اضافے، آسان قرضوں اور کمزور مارگیج معیار میں تھی۔ جب مکانوں کی قیمتیں گرنا شروع ہوئیں تو قرض نادہندگی اور فورکلوژرز میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مارگیج سے منسلک مالیاتی اثاثوں اور سکیورٹیز کی قدر بھی تیزی سے کم ہونے لگی۔ فیڈرل ریزرو کے مطابق ہاؤسنگ مارکیٹ کی گراوٹ اور خراب قرض دینے کے طریقوں نے مالیاتی اداروں کو بڑے نقصانات سے دوچار کیا اور بحران کو مزید سنگین بنایا۔ 7 اکتوبر 2008 کو فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی نے ایک ہنگامی کانفرنس کال بھی کی۔ اس اجلاس میں چیئرمین برنانکے نے صورتحال کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف ایک مارکیٹ تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام کریڈٹ مارکیٹس شدید دباؤ میں ہیں۔ اسی دن امریکی فیڈرل ریزرو نے کمرشل پیپر فنڈنگ فیسیلٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ منجمد ہوتی کریڈٹ مارکیٹس میں نقدی اور قرض کی دستیابی بہتر بنائی جا سکے۔ اگلے روز یعنی 8 اکتوبر 2008 کو، فیڈرل ریزرو، بینک آف انگلینڈ، یورپی مرکزی بینک اور دیگر بڑے مرکزی بینکوں نے غیر معمولی مشترکہ اقدام کرتے ہوئے شرح سود میں کمی کی۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں اس دور کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے ثابت کیا کہ ہاؤسنگ مارکیٹ کا بحران صرف مکانوں کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتا۔ جب مارگیج قرض بینکنگ، سرمایہ کاری اور سکیورٹائزیشن کے نظام کے ساتھ گہرائی سے منسلک ہوں تو پراپرٹی مارکیٹ میں گراوٹ پورے مالیاتی نظام کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ 2008 کے بحران کے بعد دنیا بھر میں مارگیج قرضوں، بینکوں کے سرمایہ جاتی تقاضوں، قرض لینے والوں کی اہلیت کی جانچ اور پراپرٹی سے منسلک مالیاتی اثاثوں کی نگرانی سخت کی گئی۔ امریکی فیڈرل ریزرو نے بعد میں ہاؤسنگ سے منسلک حکومتی اداروں اور مارگیج بیکڈ سکیورٹیز کی خریداری کیلئے بڑے پروگرام بھی شروع کیے تاکہ مارگیج مارکیٹ اور مالیاتی نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔ 7 اکتوبر 2008 کا دن رئیل اسٹیٹ تاریخ میں اس سبق کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے کہ غیر معمولی پراپرٹی قیمتیں، آسان قرض، کمزور قرض دہی کے معیار اور حد سے زیادہ مالیاتی خطرات مل کر ایک مقامی ہاؤسنگ بحران کو عالمی مالیاتی بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ کی گراوٹ، سب پرائم مارگیجز اور مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز کے نقصانات نے مالیاتی بحران کو عالمی سطح پر پھیلا دیا۔

مزید پڑھیں

27 ستمبر 2007: امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ میں بحران کے آثار، عالمی رئیل اسٹیٹ پر گہرے اثرات

27 ستمبر 2007 امریکی ہاؤسنگ بحران کے دوران ایک اہم تاریخ ثابت ہوئی، جب تازہ اعدادوشمار نے پراپرٹی مارکیٹ میں آنے والی مندی کی شدت واضح کردی۔ یہ بحران بتدریج رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے نکل کر وسیع تر مالیاتی نظام کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق اگست 2007 میں نئے سنگل فیملی گھروں کی فروخت میں 8.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ فروخت سات سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ نئے گھر کی اوسط قیمت بھی ایک سال کے دوران 7.5 فیصد کم ہوکر تقریباً 225,000 ڈالر رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ پہلے ہی کمزور طلب، بڑھتے ہوئے مکانات کے ذخیرے اور رہائشی قرضوں کی سخت ہوتی شرائط کے دباؤ میں تھی۔ ہاؤسنگ مارکیٹ کی صورتحال بگڑنے کی ایک بڑی وجہ سب پرائم مارگیج مارکیٹ کے مسائل تھے، جہاں نسبتاً زیادہ کریڈٹ رسک رکھنے والے افراد کو ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے گئے تھے۔ جب گھروں کی قیمتوں میں اضافہ رک گیا اور کئی مارکیٹوں میں قیمتیں گرنے لگیں تو محدود ایکویٹی رکھنے والے قرض داروں کے لیے اپنے قرضوں کی ری فنانسنگ مشکل ہوگئی۔ نتیجتاً قرضوں کی عدم ادائیگی اور گھروں کو ضبط کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا، جس سے مزید مکانات کمزور ہوتی پراپرٹی مارکیٹ میں شامل ہوگئے۔ اس بحران کے اثرات صرف امریکی گھر مالکان یا مقامی پراپرٹی مارکیٹ تک محدود نہیں رہے۔ رہائشی قرضوں کو بڑی تعداد میں سکیورٹیز کی شکل دے کر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو فروخت کیا گیا تھا، جس سے رئیل اسٹیٹ، بینکوں، سرمایہ کاری اداروں اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہوگیا۔ مارگیج نقصانات کے خدشات بڑھنے پر سرمایہ کاروں نے مارگیج سے متعلق سکیورٹیز سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کیا جبکہ قرض دینے والے اداروں نے کریڈٹ مزید سخت کردیا۔ 27 ستمبر کے اعدادوشمار محض امریکی گھروں کی فروخت میں کمی کی نشاندہی نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ان واقعات کی ایک کڑی تھے جنہوں نے بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کی بنیاد مضبوط کی۔ اس بحران کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر گھروں کی ضبطی، پراپرٹی کی قیمتوں میں کمی، قرضوں کی سخت شرائط اور مالیاتی ضوابط میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ رئیل اسٹیٹ کے تناظر میں یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال بن گیا کہ ہاؤسنگ مارکیٹ کس طرح بینکاری، سرمایہ کاری اور عالمی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ گھروں اور مارگیج سے شروع ہونے والی مندی نے بالآخر جدید دور کے انتہائی اہم مالیاتی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا۔

مزید پڑھیں

اورسن ویلز کے وار آف دی ورلڈز نے پراپرٹی ویلیو میں خوف و ہراس پیدا کیا

30 اکتوبر 1938 کو اورسن ویلز کے 'وار آف دی ورلڈز' کے مشہور ریڈیو براڈکاسٹ نے امریکی سامعین میں وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پھیلایا۔ نیو جرسی کے متاثرہ علاقوں میں پراپرٹی کی قیمتیں عارضی طور پر گر گئیں کیونکہ رہائشیوں نے 'حملے کے زون' سے منتقل ہونے پر غور کیا۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں نے ملاحظات منسوخ اور لین دین میں تاخیر کی اطلاع دی۔ اگرچہ مارکیٹ ہفتوں کے اندر مستحکم ہو گئی، لیکن اس واقعے نے ثابت کیا کہ میڈیا سے پیدا ہونے والا خوف مقامی پراپرٹی مارکیٹوں اور صارفین کے اعتماد کو فوری طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی ہاؤسنگ بلب مالیاتی بحران سے پہلے عروج پر پہنچا

26 اکتوبر 2005 کو، امریکی ہاؤسنگ بلب اپنے عروج پر پہنچا، جو غیر پائیدار قیمتوں کی نمو کے عروج کی نشاندہی کرتا ہے جو جلد ہی عالمی مالیاتی بحران کو متحرک کرے گا۔ پراپرٹی ویلیو قیاس آرائی کی سرمایہ کاری، سب پرائم قرضے دینے کے طریقوں، اور مالیاتی اختراعات کی وجہ سے غیر معمولی سطحوں تک پہنچ گئی تھی جو بنیادی خطرات کو چھپا رہی تھیں۔

مزید پڑھیں

لیہمین برادرز کے دیوالیہ پن سے عالمی پراپرٹی مارکیٹ شدید کساد بازاری کا شکار

2008 میں لیہمین برادرز کے دیوالیہ پن نے عالمی پراپرٹی مارکیٹ کو تباہ کر دیا، قیمتیں 30-50 فیصد گر گئیں اور رئیل اسٹیٹ فنانسنگ میں مکمل اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ اس واقعے کے اثرات زمین کے استعمال، تعمیراتی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے رویّے اور شہری منصوبہ بندی پر دیرپا رہے ہیں، اور آج بھی ان سے ملنے والے اسباق پراپرٹی مارکیٹس اور ریگولیٹری فریم ورک میں نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں

پراپرٹی ببل کا تجزیہ اور مارکیٹ کریکشنز

2019: فوربز میں نمایاں ہونے والے مالیاتی تجزیے میں امریکی رئیل اسٹیٹ تاریخ میں پراپرٹی ببلز کے بار بار سامنے آنے والے رجحان کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے میں “انڈر پرائسڈ ڈیفالٹ آپشن” کے تصور پر توجہ دی گئی، جس کے مطابق 1790 کی دہائی تک پھیلے بڑے تاریخی رئیل اسٹیٹ بومز عموماً اس وقت طویل مدتی اوسط کی طرف واپس آتے ہیں جب قرض دہی اور مالیاتی نظام کی بنیادی کمزوریاں سامنے آنے لگتی ہیں۔

مزید پڑھیں

2014: برطانوی کمپنی پرائس لائن نے اوپن ٹیبل کو 2.6 ارب ڈالر میں خرید لیا

13 جون 2014 کو سفری خدمات فراہم کرنے والی برطانوی کمپنی پرائس لائن ( Priceline ) نے ریسٹورنٹ ریزرویشن پلیٹ فارم "اوپن ٹیبل" (OpenTable) کو 2.6 ارب ڈالر میں خرید لیا۔ اگرچہ یہ بنیادی طور پر ٹیکنالوجی اور مہمان نوازی (Hospitality) کے شعبے سے متعلق ایک کاروباری معاہدہ تھا، تاہم اس نے جائیداد، ہوٹل انڈسٹری، سیاحت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان بڑھتے ہوئے انضمام کو اجاگر کیا۔ اس رجحان نے کمرشل رئیل اسٹیٹ اور ہوٹل سرمایہ کاری کے شعبوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے اور یہ ظاہر کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کس طرح پراپرٹی اور ہوٹلنگ/ مہمان نوازی کی صنعتوں کے مستقبل کو تشکیل دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

عظیم مالی بحران کے بعد رئیل اسٹیٹ میں بحالی کے ابتدائی آثار

2010: عالمی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے 2008 کے سب بڑے مارگیج بحران کے بعد کئی سالہ جمود سے نکلنے کے ابتدائی اور محتاط اشارے دینا شروع کیے۔ یہ عرصہ پراپرٹی سیکٹر کے لیے ایک تکنیکی موڑ سمجھا گیا، کیونکہ مارکیٹیں جدید تاریخ کے شدید ترین رئیل اسٹیٹ بحرانوں میں سے آہستہ آہستہ باہر آنا شروع ہو رہی تھیں۔

مزید پڑھیں