Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Properties Preserved in History

2 Historical Event found

جب ماسکو نے 20 ہزار ٹن وزنی تاریخی عمارت گرانے کے بجائے پوری کی پوری دوسری جگہ منتقل کردی

16 ستمبر 1939 کو ماسکو میں شہری ترقی اور تعمیراتی انجینئرنگ کی تاریخ کا ایک ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب ایک بڑی شاہراہ کو کشادہ کرنے کی راہ میں آنے والی تاریخی سرکاری عمارت کو منہدم کرنے کے بجائے تقریباً 20 ہزار ٹن وزنی پوری عمارت کو 13.65 میٹر پیچھے منتقل کردیا گیا۔ یہ عمارت اس وقت ماسکو کی شہری کونسل کا صدر دفتر تھی اور آج اسی تاریخی عمارت میں ماسکو کی شہری حکومت کے مرکزی دفاتر قائم ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت ابتدا میں ماسکو کے گورنر جنرل کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی اور وقت کے ساتھ شہر کے اہم انتظامی اور تعمیراتی ورثے کا حصہ بن گئی۔ 1930 کی دہائی میں ماسکو کی بڑے پیمانے پر تعمیر نو شروع ہوئی تو شہر کی مرکزی شاہراہ تورسکایا، جسے اس وقت گورکی سٹریٹ کہا جاتا تھا، کو کشادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نئی شہری منصوبہ بندی کے تحت سڑک کے کنارے عمارتوں کے لیے نئی حد مقرر کی گئی لیکن تاریخی سرکاری عمارت اس حد سے تقریباً 13.65 میٹر آگے موجود تھی۔ اسے گرانا بظاہر سب سے آسان حل تھا، مگر حکام نے تاریخی عمارت کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انجینئروں کو پوری عمارت پیچھے منتقل کرنے کا غیر معمولی کام سونپ دیا۔ یہ ایک انتہائی مشکل تعمیراتی منصوبہ تھا۔ عمارت ڈیڑھ صدی سے زیادہ پرانی تھی، اس کا وزن تقریباً 20 ہزار ٹن تھا اور اس میں اہم سرکاری دفاتر اور قیمتی دستاویزات کا ذخیرہ بھی موجود تھا۔ منتقلی سے پہلے عمارت کو مضبوط دھاتی سہاروں کے ذریعے محفوظ کیا گیا، اسے پرانی بنیاد سے الگ کیا گیا اور اس کے نئے مقام پر پہلے سے نئی بنیاد تیار کی گئی۔ عمارت کے نیچے دھاتی پٹریاں، برقی جیک، کھینچنے والی مشینیں اور دوسرے خصوصی آلات نصب کیے گئے تاکہ اتنے بڑے وزن کو نقصان پہنچائے بغیر حرکت دی جا سکے۔ 16 ستمبر 1939 کی صبح 9 بج کر 16 منٹ پر مشینیں چلائی گئیں اور پوری عمارت آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگی۔ اگلے روز شائع ہونے والے سوویت اخبار ترود کی رپورٹ کے مطابق ابتدا میں 25 برقی جیکوں نے عمارت کو حرکت دینے میں مدد دی جبکہ بعد میں دو برقی کھینچنے والی مشینوں نے مرکزی قوت فراہم کی۔ عمارت کو پٹریوں کے 18 مجموعوں پر آگے بڑھایا گیا اور صرف 41 منٹ میں اسے اپنی اصل جگہ سے 13.65 میٹر پیچھے منتقل کردیا گیا۔ اس دوران عمارت کی رفتار تقریباً 16 سے 22 میٹر فی گھنٹہ رہی جو اس کے غیر معمولی وزن، جسامت اور عمر کے لحاظ سے ایک حیران کن تعمیراتی کامیابی تھی۔ اس واقعے کا شاید سب سے دلچسپ پہلو یہ تھا کہ عمارت کے اندر معمول کا سرکاری کام بھی جاری رہا۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق اہلکار اپنے دفاتر میں کام کرتے رہے جبکہ ان کے نیچے موجود پوری عمارت اپنی جگہ تبدیل کر رہی تھی۔ ماسکو کی شہری کونسل اور علاقائی انتظامیہ کا کام منتقلی کے دوران بند نہیں کیا گیا۔ کئی ماہ کی منصوبہ بندی اور تیاری کے بعد اصل کارروائی ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہوگئی۔ یہ عمارت منتقلی کے بعد بھی ماسکو کے انتظامی منظرنامے کا اہم حصہ رہی۔ بعد کے برسوں میں اس کی مزید تعمیر نو کی گئی اور اس پر دو اضافی منزلیں تعمیر کی گئیں، جس کے بعد اسے وہ شکل ملی جو آج ماسکو کی شہری حکومت کی معروف عمارت کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔ تقریباً نو دہائیاں گزرنے کے باوجود 16 ستمبر 1939 کا یہ واقعہ جدید شہری منصوبہ بندی اور جائیداد کے شعبے کے لیے ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں میں سڑکوں کی توسیع، نئی تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اکثر تاریخی عمارتوں سے ٹکراتے ہیں اور ایسی صورت میں انہدام کو سب سے آسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔ ماسکو نے اس کے برعکس یہ ثابت کیا کہ شہری ترقی اور تاریخی ورثے کا تحفظ لازماً ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ شہر نے شاہراہ بھی کشادہ کی اور 20 ہزار ٹن وزنی تاریخی عمارت کو صرف 13.65 میٹر پیچھے لے جا کر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بھی کرلیا۔

مزید پڑھیں

دنیا کا شاید واحد گھر جس کا ایڈریس ایک عظیم واقعے کی تاریخ سے منسوب ہے۔

برلا بھون لٹینز زون دہلی کے اندر واقع ہے، جو ہندوستان کا سب سے پوش، محفوظ اور مہنگا ترین رہائشی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں غیر ملکی سفیروں کی رہائش گاہیں، مرکزی وزراء کی کوٹھیاں اور ہندوستان کے اہم آئینی ادارے قائم ہیں۔ اسی برلا بھون کے لان میں 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کو گولی مار کر شہید کیا گیا تھا۔ یہ گھر اصل میں مشہور صنعتکار گھنیش داس برلا، المعروف جی ڈی برلا، کی ملکیت تھا۔ وہ برطانوی دورِ ہند کے سب سے طاقتور اور بااثر صنعت کاروں میں شمار ہوتے تھے اور Birla Group کے بانی تھے، جو آج بھی ہندوستان کے بڑے صنعتی گھرانوں میں شامل ہے۔ انہوں نے 1928 میں اپنی رہائش کی غرض سے یہاں سکونت اختیار کی تھی۔ اس وقت اس کا پوسٹل ایڈریس 2، البوکرک روڈ، نیو دہلی (Albuquerque Road) تھا۔ دہلی کی فضا میں جب انگریزی راج اپنے عروج پر تھا، تب یہ عمارت بھی اسی وقار کے ساتھ ابھری۔ اس کے کشادہ صحن، بلند چھتیں اور سفید رنگ سے آراستہ ساخت برطانوی دور کے نوآبادیاتی تعمیراتی معیار کی گواہی دیتی تھی۔ لٹینز دہلی کے ہرے بھرے درختوں کے درمیان یہ گھر یوں کھڑا تھا جیسے تاریخ نے خود اپنے لیے ایک ٹھکانہ چن لیا ہو۔ 1947 کے بعد، جب ہندوستان تقسیم کے نتیجے میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کا شکار تھا، مہاتما گاندھی دہلی میں سیاسی قیادت، مسلم نمائندوں، سکھ رہنماؤں اور کانگریس قیادت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے۔ جی ڈی برلا کا گھر دہلی میں ایک محفوظ، نسبتاً غیر سیاسی مگر بااثر مقام تھا۔ اسی وجہ سے گاندھی جی نے اپنی زندگی کے آخری 144 دن (ستمبر 1947 سے 30 جنوری 1948 تک) اسی مکان میں قیام کیا۔ یہ قیام ذاتی آرام کے لیے نہیں بلکہ امن و مفاہمت کو جگانے کی کوشش تھا۔ گو کہ گاندھی جی کا طرزِ زندگی سادگی اور فقر پر مبنی تھا، لیکن برلا خاندان سے ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر انہیں یہ قیام میسر آیا۔ یہاں نہ صرف ان کی رہائش تھی بلکہ یہ جگہ سیاسی مشاورت، غیر رسمی ملاقاتوں اور اہم قومی فیصلوں کا مرکز بن گئی تھی۔ اس گھر کے لان میں روزانہ شام کو دعائیہ نشستیں ہوا کرتی تھیں، جہاں گاندھی جی لوگوں کے ساتھ عبادت کرتے، بات چیت کرتے اور قومی حالات پر غور کرتے۔ 30 جنوری 1948 کو بھی وہ ایک ایسی ہی دعائیہ نشست کے لیے اپنے کمرے سے نکلے تھے جب ناتھورام گوڈسے نے ان پر گولیاں چلائیں، اور یوں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ اس واقعے کے کافی عرصے بعد اس گھر کو ایک “قومی یادگار” بنا دیا گیا۔ 1971 میں بھارتی حکومت نے اس عمارت کو برلا خاندان سے خرید لیا، اور 1973 میں اسے “گاندھی سمرتی” کے نام سے ایک قومی میوزیم اور یادگار میں تبدیل کر دیا گیا۔ آج بھی اس عمارت کے کمرے، وہ لان، وہ راہداری، وہ ستون سب کچھ گواہ ہیں اُس آخری دن کے۔ یہاں ایک مستقل نمائش بھی موجود ہے جو گاندھی جی کی زندگی، نظریات اور آخری لمحوں کو محفوظ کرتی ہے۔ برلا ہاؤس کی اہمیت صرف اس بات تک محدود نہیں کہ گاندھی جی کو وہاں قتل کیا گیا، بلکہ اس وجہ سے بھی ہے کہ اس گھر نے آزادی کے بعد کے ہندوستان کی ابتدائی ریاستی تشکیل، مذہبی کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں اور ایک شخص کی قربانی کو مجسم صورت میں محفوظ کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں