Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

East India Company

2 Historical Event found

دریائے ہگلی کے کنارے ایک تجارتی پڑاؤ، جو آگے چل کر دنیا کے بڑے شہروں میں شامل کلکتہ کی شہری توسیع کا مرکز بنا

24 اگست 1690 کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندے جاب چارنک نے دریائے ہگلی کے کنارے واقع سوتانوتی میں دوبارہ قیام کیا۔ یہ واقعہ صدیوں تک کلکتہ، موجودہ کولکتہ، کے قیام کی تاریخ سمجھا جاتا رہا اور چارنک کو شہر کا بانی قرار دیا جاتا رہا۔ تاہم اس مقام پر شہری اور تجارتی زندگی چارنک کی آمد سے بہت پہلے موجود تھی۔ سوتانوتی ایک معروف کپڑا اور دھاگہ منڈی تھی، جبکہ اس کے قریب کالیکاتا اور گوبندپور نامی بستیاں بھی آباد تھیں۔ یہی تین بستیاں بعد میں اس شہری علاقے کی بنیاد بنیں جو بتدریج کلکتہ میں تبدیل ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے علاقے کو بنگال میں اپنے تجارتی مرکز کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ 1698 میں کمپنی نے سوتانوتی، کالیکاتا اور گوبندپور کے زمینی حقوق حاصل کیے، جس کے بعد تجارتی دفاتر، گودام، رہائش اور بعد ازاں فورٹ ولیم سمیت شہری تعمیرات میں تیزی آئی۔ دریائے ہگلی تک رسائی نے علاقے کو تجارت، نقل و حمل اور زمین کی ترقی کیلئے غیر معمولی اہمیت دی۔ وقت کے ساتھ تین بستیاں ایک بڑے تجارتی اور انتظامی شہر میں تبدیل ہوگئیں اور کلکتہ برطانوی ہندوستان کے اہم ترین شہری مراکز میں شامل ہوگیا۔ لیکن اس تاریخ میں ایک اہم موڑ 2003 میں آیا، جب کلکتہ ہائیکورٹ نے ماہرین کی رپورٹ کی بنیاد پر قرار دیا کہ جاب چارنک کو شہر کا بانی نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی 24 اگست 1690 کو کلکتہ کی باقاعدہ تاریخِ پیدائش قرار دینا تاریخی طور پر درست ہے۔ عدالت کے مطابق شہر کئی پرانی آبادیوں کے تدریجی ملاپ اور ترقی سے وجود میں آیا۔ رئیل اسٹیٹ اور شہری تاریخ کے اعتبار سے 24 اگست ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بڑے شہر اکثر ایک دن میں نہیں بنتے؛ زمین، تجارت، نقل و حمل، آبادی اور مسلسل تعمیر و ترقی مل کر کئی نسلوں میں شہر کی شکل بناتے ہیں۔

مزید پڑھیں

27 مارچ 1668 کو بمبئی انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیا گیا

جو ممبئی آج ہم دیکھتے ہیں، 1668 میں وہ ایسا نہیں تھا۔ اس وقت یہ کوئی ایک باقاعدہ شہر نہیں بلکہ سات الگ الگ جزائر پر مشتمل ایک علاقہ تھا، جن کے درمیان سمندر کا پانی آتا جاتا تھا۔ جگہ جگہ دلدلیں تھیں، نمک زار تھے، اور ایک جزیرے سے دوسرے تک جانا بھی ایک مہم سے کم نہیں تھا۔ 27 مارچ 1668 کو ایک رائل چارٹر کے تحت بمبئی کے سات جزائر انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیے گئے، اور یہ علاقہ محض سالانہ 10 پاؤنڈ کے عوض کمپنی کو دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ جزائر پرتگالیوں کے قبضے میں تھے، جو 1661 میں انگلینڈ کے بادشاہ چارلس دوم اور پرتگال کی شہزادی کیتھرین آف براگانزا کی شادی کے معاہدے کے تحت انگلینڈ کو منتقل ہوئے، اور بعد ازاں برطانوی تاج نے اسے براہ راست اپنے پاس رکھنے کے بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپرد کر دیا تاکہ اسے تجارتی اور انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ کمپنی نے لوگوں کو یہاں آ کر آباد ہونے کی ترغیب دی، جس سے آبادی بڑھنے لگی اور رہنے اور کاشت کے لیے زیادہ زمین درکار ہونے لگی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان جزائر کے درمیان سمندر کا پانی آتا تھا اور بہت سے علاقے دلدلی تھے، جہاں ملیریا بھی پھیلتا تھا۔ اسی وجہ سے دلدل خشک کرنے، پانی کا راستہ روکنے اور کچھ حصوں میں سمندر سے زمین نکالنے کا کام شروع کیا گیا تاکہ یہ علاقہ رہنے اور استعمال کے قابل بن سکے۔ 1670 کی دہائی میں گورنر جیرالڈ آنگیئر کے دور میں یہاں انتظام مزید بہتر کیا گیا، بندرگاہ کو مضبوط بنایا گیا اور شہر کو باقاعدہ انداز میں چلانا شروع کیا گیا۔ اس کے بعد آنے والے سالوں میں مختلف بند اور راستے بنائے گئے تاکہ یہ جزائر آپس میں جڑ سکیں۔ آہستہ آہستہ یہ سب حصے ملتے گئے اور آخرکار 1838 تک یہ ایک مکمل جڑا ہوا شہر بن گیا۔ اسی عمل نے بمبئی کو ایک اہم تجارتی اور بندرگاہی مرکز بنا دیا اور یہی سے اس خطے میں باقاعدہ شہری ترقی کی بنیاد پڑی۔

مزید پڑھیں