From Real Estate History
3 Historical Event found
مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اعلان کیا کہ نہر سویز چلانے والی کمپنی کو قومی ملکیت میں لے کر اس کا انتظام مصر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ سکندریہ میں ایک بڑے عوامی جلسے کے دوران کیے گئے اس اعلان نے مشرق وسطیٰ کی سیاست بدل دی اور برطانیہ اور فرانس کے اثر و رسوخ کو بڑا چیلنج پیش کیا۔ نہر سویز 1869 میں کھولی گئی تھی۔ یہ بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے اور یورپ سے ایشیا جانے والے بحری جہازوں کا سفر مختصر کرتی ہے۔ نہر مصر کی سرزمین سے گزرتی تھی، مگر اسے چلانے والی کمپنی پر برطانوی اور فرانسیسی مفادات کا غلبہ تھا۔ یورپی ملکوں کے لیے یہ تجارت، تیل کی ترسیل اور ایشیا سے رابطے کا اہم راستہ تھی۔ جمال عبدالناصر کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکا اور برطانیہ نے مصر کے اسوان ہائی ڈیم کے لیے مالی مدد واپس لے لی۔ مصری حکومت کا کہنا تھا کہ نہر سے حاصل ہونے والی آمدن کو ڈیم کی تعمیر اور ملک کی معاشی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ مصر اور عرب دنیا میں اس اقدام کو خود مختاری، معاشی آزادی اور نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا گیا۔ برطانیہ اور فرانس نے مصر کے فیصلے کی سخت مخالفت کی۔ اکتوبر 1956 میں اسرائیل نے مصر کے جزیرہ نما سینا پر حملہ کیا، جس کے بعد برطانیہ اور فرانس بھی فوجی کارروائی میں شامل ہو گئے۔ اقوام متحدہ، امریکا اور سوویت یونین کے دباؤ کے باعث حملہ آور ملکوں کو واپس جانا پڑا اور نہر مصر کے کنٹرول میں رہی۔ اس بحران کے بعد عرب دنیا میں جمال عبدالناصر کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، جبکہ برطانیہ اور فرانس کی عالمی حیثیت متاثر ہوئی۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ یورپی نوآبادیاتی دور ختم ہو رہا تھا اور دنیا میں طاقت کا نیا نظام وجود میں آ رہا تھا۔ آج بھی نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ قومی وقار، معاشی اختیار اور اہم قومی تنصیبات پر ریاستی کنٹرول کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
20 جولائی 2003 کو جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا نے جوہانسبرگ میں اپنے نام سے منسوب نیلسن منڈیلا برج کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ افتتاحی تقریب ان کی 85 ویں سالگرہ کے دو روز بعد منعقد ہوئی اور شہر کی تعمیر نو، بہتر رابطے اور نسل کی بنیاد پر ہونے والی جغرافیائی تقسیم کو ختم کرکے شہریوں کو دوبارہ جوڑنے کی علامت بن گئی۔ تقریباً 284 میٹر طویل کیبل سٹے برج نے براہم فونٹین کے کاروباری اور تعلیمی علاقے کو نیو ٹاؤن کے ثقافتی ضلع سے ملایا۔ اس کی تعمیر 42 فعال ریلوے لائنوں کے اوپر کی گئی، جبکہ منصوبے پر کام کے دوران ٹرینوں کی آمدورفت جاری رکھی گئی۔ پل پر گاڑیوں کے لیے دو لینز کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے راستے بھی بنائے گئے۔ نیلسن منڈیلا برج محض ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر نہیں تھا۔ جوہانسبرگ ڈویلپمنٹ ایجنسی کے مطابق یہ 300 ملین رینڈ کے اندرون شہر بحالی منصوبے کا مرکزی حصہ تھا، جس کا مقصد نیو ٹاؤن اور مرکزی کاروباری ضلع میں کاروباری لوگوں اور سرمایہ کاروں کی واپسی کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ نیو ٹاؤن کی وسیع تر ترقی میں میری فٹزجیرالڈ سکوائر کی بہتری، فنون و ثقافت کے مراکز، سکیورٹی، پارکنگ اور رہائشی منصوبے شامل تھے۔ سرکاری منصوبہ بندی میں 2,200 نئے ہاؤسنگ یونٹس بھی شامل کیے گئے، جن میں نصف کو کرایہ داری میں رعایت دینے کے لیے مختص کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔ اس پل نے ریلوے یارڈ سے جدا دونوں شہری حصوں کے درمیان رسائی آسان بنائی اور نیو ٹاؤن کو شمالی جوہانسبرگ سے آنے والوں کے لیے نمایاں داخلی راستہ فراہم کیا۔ بہتر رابطوں کی بحالی سے ثقافتی سرگرمیوں، دفاتر، رہائش اور عوامی مقامات کے لیے علاقے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ سٹریٹجک پبلک انفراسٹرکچر کسی نظر انداز شدہ شہری علاقے میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کس قدر مفید اور ضروری ہوتا ہے۔ نقل و حمل میں بہتر ی اور منزل تک جلد رسائی سے کمرشل پراپرٹیز کے اطراف سرگرمیاں بڑھانے، رہائشی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور پرانے اندرون شہر علاقوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔ 20 جولائی 2003 کا افتتاح اس حقیقت کی مثال بن گیا کہ ایک پل محض دو علاقوں کو آ پس میں نہیں ملاتا بلکہ درست شہری منصوبہ بندی کے ساتھ وہ منقسم زمین، کمزور ہوتی پراپرٹی مارکیٹ اور نظر انداز کیے گئے علاقوں اور محلوں کو نئی معاشی شناخت بھی دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
19 جون 1913 کو جنوبی افریقہ کا نیٹوز لینڈ ایکٹ قانون بن گیا، جو ملک کی زمین اور جائیداد کی تاریخ کے نہایت اہم واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس قانون کے تحت افریقی باشندوں کی زمین کی ملکیت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور سیاہ فام جنوبی افریقیوں کو محدود محفوظ علاقوں تک محدود کر دیا گیا، جو ابتدا میں ملک کی کل زمین کے تقریباً 7 فیصد حصے پر مشتمل تھے۔ بعد میں یہ حصہ بڑھا کر تقریباً 13 فیصد کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود اکثریتی آبادی کو زمین، ملکیتی حقوق اور معاشی مواقع تک مؤثر رسائی سے محروم رکھا گیا۔ اس قانون نے آبادکاری کے انداز بدل دیے، متعدد افریقی خاندانوں کو زرخیز زمینوں سے بے دخل کیا اور نسلی و علاقائی عدم مساوات کو مضبوط کیا۔ اس کے اثرات زراعت سے آگے بڑھ کر رہائش، نقل مکانی، محنت کی منڈیوں اور شہری ترقی تک پھیل گئے۔ یہ قانون بعد کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی بنیاد بنا اور آج بھی زمینی اصلاحات اور تاریخی انصاف کی بحث میں ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں