From Real Estate History
5 Historical Event found
یکم اگست 1964 کو سنگاپور کے ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے تحت اربن رینیول یونٹ کا قیام عمل میں آیا، جس نے آنے والی دہائیوں میں اس چھوٹی سی شہری ریاست کی تعمیر، رہائش اور زمین کے استعمال کا نقشہ بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب سنگاپور کے مرکزی علاقوں میں گنجان آبادی، کچی بستیاں، خستہ حال عمارتیں، ناقص صفائی اور بنیادی سہولیات کی کمی بڑے شہری مسائل بن چکے تھے۔ نئے یونٹ کو مرکزی شہر کی ازسرنو منصوبہ بندی، غیر محفوظ آبادیوں کی بحالی اور زمین کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ منصوبے کے تحت کچی اور غیر معیاری آبادیوں کی جگہ جدید رہائشی عمارتوں، تجارتی مراکز، دفاتر، سڑکوں اور شہری سہولیات کی تعمیر پر توجہ دی گئی۔ حکومت کا مقصد صرف پرانی عمارتیں ہٹانا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا منظم شہری ماحول تشکیل دینا تھا جہاں رہائش، کاروبار، نقل و حمل اور عوامی خدمات کو باہم مربوط کیا جا سکے۔ اربن رینیول یونٹ نے نئے ٹاؤنز کی منصوبہ بندی، مرکزی کاروباری علاقے کی تنظیم نو اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمین کی نشاندہی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس عمل کے دوران رہائشیوں کی منتقلی اور انہیں بہتر متبادل رہائش فراہم کرنا ایک اہم حکومتی ذمہ داری بن گیا۔ ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے بڑے پیمانے پر تعمیر کیے جانے والے سرکاری فلیٹس نے اس شہری تبدیلی کو عملی بنیاد فراہم کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اربن رینیول یونٹ کو مزید اختیارات اور ذمہ داریاں دی گئیں اور یہ اربن رینیول ڈیپارٹمنٹ میں تبدیل ہوا۔ یہی ادارہ بعد میں موجودہ اربن ری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا پیش رو بنا، جو آج سنگاپور کی طویل مدتی شہری منصوبہ بندی، زمین کے استعمال اور ترقیاتی پالیسیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ یکم اگست 1964 کا یہ فیصلہ اس حقیقت کی نمایاں مثال ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط اداروں اور مستقل پالیسی کے ذریعے محدود زمین رکھنے والا ملک بھی جدید، منظم اور عالمی معیار کا شہر تعمیر کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
برطانیہ میں ہاؤسنگ، ٹاؤن پلاننگ اینڈ ایکٹ 1919 قانون بنا، جسے اس وقت کے وزیر صحت ڈاکٹر کرسٹوفر ایڈیسن کے نام پر عام طور پر ایڈیسن ایکٹ کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے برطانیہ میں عام اور کم آمدن رکھنے والے شہریوں کے لیے گھروں کی تعمیر کو مقامی اداروں کی محدود سرگرمی سے نکال کر قومی حکومت کی ذمہ داری بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو گھروں کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ بڑی تعداد میں فوجی جنگ سے واپس آئے تھے، جبکہ صنعتی شہروں میں بہت سے خاندان تنگ، خراب اور غیر صحت مند گھروں میں رہ رہے تھے۔ حکومت نے واپس آنے والے فوجیوں اور مزدور خاندانوں کے لیے بہتر رہائش فراہم کرنے کا وعدہ کیا، جسے بعد میں ’’ہیروز کے رہنے کے قابل گھر‘‘ کے تصور سے شہرت ملی۔ ایڈیسن ایکٹ کے تحت مقامی حکومتوں کو اپنے علاقوں میں رہائش کی ضرورت کا جائزہ لینے، نئے ہاؤسنگ منصوبے تیار کرنے اور ضرورت کے مطابق گھر تعمیر کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ مرکزی حکومت نے ان منصوبوں کے لیے مالی مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ابتدائی ہدف تین سال کے دوران پانچ لاکھ گھر تعمیر کرنا تھا، جو اس دور کے لحاظ سے ایک بہت بڑا سرکاری ہاؤسنگ پروگرام تھا۔ اقتصادی مشکلات اور سرکاری اخراجات میں کمی کے باعث پانچ لاکھ گھروں کا ہدف مکمل نہ ہو سکا، تاہم اس قانون کے تحت دو لاکھ سے زائد گھر تعمیر ہوئے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ قانون نے یہ اصول قائم کیا کہ مناسب رہائش صرف نجی مارکیٹ کا معاملہ نہیں بلکہ حکومت کی سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ایڈیسن ایکٹ کے بعد برطانیہ کے مختلف شہروں میں کھلی جگہوں، باغات، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے ساتھ نئی کونسل ہاؤسنگ کالونیز تعمیر ہوئیں۔ 1939 تک مقامی حکومتیں تقریباً 11 لاکھ گھر تعمیر کر چکی تھیں اور ملک کی تقریباً 10 فیصد آبادی سرکاری یا سماجی رہائش میں مقیم تھی۔ یوں 31 جولائی 1919 کا قانون جدید سرکاری رہائش، منصوبہ بند آبادیوں اور قابل برداشت گھروں کی تاریخ میں ایک اہم موڑ بن گیا۔
مزید پڑھیں
23 جولائی 1952 کو مصر میں فوج کے فری آفیسرز موومنٹ نے بادشاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس واقعے کو مصر کا جولائی انقلاب کہا جاتا ہے۔ انقلاب نے صرف ملک کا سیاسی نظام نہیں بدلا بلکہ زمین کی ملکیت، کرایہ داری اور بڑے زرعی رقبوں کی تقسیم میں بھی بنیادی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی۔ اس وقت مصر کی زیادہ تر قابلِ کاشت زمین چند بڑے جاگیردار خاندانوں کے قبضے میں تھی، جبکہ لاکھوں کسان اپنی زمین کے مالک بننے کے بجائے کرایہ دار یا کھیت مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ انقلاب کے چند ہفتوں بعد نئی حکومت نے پہلا زرعی اصلاحات کا قانون نافذ کیا، جس کے تحت ایک شخص کی زرعی زمین کی ملکیت زیادہ سے زیادہ 200 فدان تک محدود کردی گئی۔ ایک فدان تقریباً ایک ایکڑ کے برابر مصری پیمانہ ہے اور 200 فدان تقریباً 84 ہیکٹر بنتے ہیں۔ مقررہ حد سے زیادہ زمین حکومت کے اختیار میں لے کر چھوٹے کسانوں اور بے زمین خاندانوں کو دینے کا عمل شروع کیا گیا۔ قانون میں زرعی زمین کے کرایوں کو قابو کرنے، کرایہ دار کسانوں کو زیادہ تحفظ دینے اور چھوٹے زمین مالکان کیلئے زرعی تعاون کی تنظیمیں بنانے کے اقدامات بھی شامل تھے۔ یہ اصلاحات جدید مصر کی زمین اور جائیداد کی تاریخ کا اہم موڑ بنیں۔ پہلی مرتبہ ریاست نے بڑے نجی زمینی اثاثوں پر حد مقرر کرکے ملکیت کو نسبتاً وسیع آبادی تک منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس سے دیہی علاقوں میں زمین صرف دولت اور سیاسی طاقت کی علامت نہیں رہی بلکہ چھوٹے کسانوں کیلئے رہائش، روزگار اور معاشی تحفظ کا ذریعہ بھی بنی۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ انقلاب 23 جولائی کو آیا تھا، جبکہ زمین کی اصلاح کا باقاعدہ قانون بعد میں ستمبر 1952 میں نافذ کیا گیا۔ اس لیے 23 جولائی کو اس بڑی زمینی تبدیلی کی ابتدا سمجھا جاتا ہے، قانون کے نفاذ کی تاریخ نہیں۔
مزید پڑھیں
18 جولائی 1994 کو چین کی سٹیٹ کونسل نے شہری ہاؤسنگ سسٹم میں اصلاحات کو مزید گہرا کرنے کا تاریخی فیصلہ جاری کیا، جس نے ملک میں رہائش کو سرکاری یا ملازمت سے منسلک فلاحی سہولت سمجھنے کے پرانے تصور کو بتدریج تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی۔ اس پالیسی کو چین کی جدید رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی تشکیل میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل چین کے شہری علاقوں میں سرکاری ادارے اور سرکاری ملکیتی کمپنیاں اپنے ملازمین کیلئے مکانات تعمیر کرنے، مختص کرنے اور ان کی دیکھ بھال کی بڑی ذمہ داری اٹھاتی تھیں۔ بیشتر ملازمین کو گھر ذاتی اثاثے کے بجائے ملازمت کے ساتھ ملنے والی سہولت کے طور پر دستیاب ہوتے تھے۔ 1994 کے فیصلے نے رہائشی تعمیرات کے اخراجات کو صرف حکومت اور اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے حکومت، اداروں اور افراد کے درمیان تقسیم کرنے کی پالیسی پیش کی۔ اس کے ساتھ شہریوں کو سرکاری مکانات فروخت کرنے، ذاتی خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور ہاؤسنگ کی تقسیم کو مالی معاوضے سے منسلک کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ اصلاحات کے تحت کم اور متوسط آمدن والے خاندانوں کیلئے نسبتاً کم قیمت اقتصادی مکانات جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والوں کیلئے کمرشل ہاؤسنگ کا تصور متعارف کرایا گیا۔ ہاؤسنگ پروویڈنٹ فنڈ، رہائشی بچت اور ہاؤسنگ کریڈٹ سسٹم کے قیام کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا تاکہ گھروں کی خریداری کیلئے مالی وسائل پیدا کیے جا سکیں۔ اگرچہ 1994 کی اصلاحات نے فلاحی ہاؤسنگ سسٹم کو فوری طور پر مکمل ختم نہیں کیا، تاہم انہوں نے نجی ملکیت، رہائشی فنانس اور کمرشل ڈیولپمنٹ کی سمت واضح کر دی۔ اس عمل کو 1998 میں مزید آگے بڑھایا گیا، جب سرکاری اداروں کی جانب سے مکانات کی براہ راست تقسیم روکنے اور ہاؤسنگ کو مکمل طور پر مالی اور مارکیٹ سسٹم سے منسلک کرنے کا اعلان کیا گیا۔ آج چین کے بڑے شہروں میں نظر آنے والی وسیع رہائشی تعمیرات، اپارٹمنٹ مارکیٹ اور ہاؤسنگ فنانس سسٹم کی تاریخی جڑیں بڑی حد تک اسی اصلاحاتی دور سے وابستہ ہیں۔
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1863 کو امریکہ میں ایک اہم قانون نافذ ہوا جسے ہوم اسٹیڈ ایکٹ (Homestead Act) کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے پہلی مرتبہ عام شہریوں کو یہ حق دیا کہ وہ حکومت کی خالی پڑی زمین پر قانونی دعویٰ (Land Claim) دائر کر سکیں اور اسے آباد کرنے کے بعد اس کے مالک بن سکیں۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شہری کو اجازت دی گئی کہ وہ مخصوص سرکاری زمین پر دعویٰ کرے، وہاں رہائش اختیار کرے، زمین کو قابلِ استعمال بنائے اور کم از کم پانچ سال تک اسے آباد رکھے۔ مقررہ مدت پوری ہونے پر حکومت اس زمین کی مستقل ملکیت (Permanent Ownership) اس شخص کے نام منتقل کر دیتی تھی۔ قانون کے نفاذ کے فوراً بعد نیبراسکا (Nebraska) میں زمین پر پہلا عوامی قانونی دعویٰ دائر کیا گیا۔ اس دعوے کے ذریعے زمین پر آبادکاری کا عمل شروع ہوا، تاہم اس مرحلے پر زمین کی ملکیت فوری طور پر منتقل نہیں ہوئی بلکہ آبادکاری کی شرائط پوری کرنا لازمی تھا۔ یہ واقعہ اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ اسی سے امریکہ میں مغربی علاقوں کی آبادکاری (Westward Expansion) کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ لوگ مشرقی ریاستوں سے نکل کر نئی زمینوں پر بسنے لگے، کھیت وجود میں آئے، بستیاں آباد ہوئیں اور رفتہ رفتہ قصبے اور شہر قائم ہوئے۔ ہوم اسٹیڈ ایکٹ کے نتیجے میں لاکھوں افراد زمین کے دعوے دار بنے اور بعد ازاں مستقل مالکان قرار پائے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا اور وہ علاقے جو پہلے غیر آباد تھے، آہستہ آہستہ منظم آبادیوں میں تبدیل ہو گئے۔ بعد کے برسوں میں انہی آبادیوں کے گرد بازار، سڑکیں، ریلوے لائنیں اور شہری مراکز قائم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق ہوم اسٹیڈ ایکٹ امریکی رئیل اسٹیٹ نظام (American Real Estate System) کی بنیادوں میں شامل ہے، کیونکہ اسی قانون کے ذریعے زمین کو ریاستی تحویل سے نکال کر عوامی ملکیت میں منتقل کرنے کا منظم طریقہ متعارف کروایا گیا۔ یہ قانون اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ایک حکومتی پالیسی زمین کی ملکیت، آبادکاری اور رئیل اسٹیٹ کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں