From Real Estate History
14 Historical Event found
6 اکتوبر 2014 کو ماسکو کا معروف ایوولوشن ٹاور مکمل کرکے آپریشن میں لائے جانے کی اطلاع سامنے آئی، جس نے ماسکو انٹرنیشنل بزنس سینٹر، جسے عام طور پر ماسکو سٹی کہا جاتا ہے، کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل کی۔ اپنی منفرد گھومتی ہوئی ساخت کے باعث یہ عمارت جلد ہی روسی دارالحکومت کی نمایاں کمرشل رئیل اسٹیٹ عمارتوں میں شامل ہوگئی اور ماسکو کے جدید مالیاتی اور کارپوریٹ مرکز میں تبدیل ہونے کی علامت بنی۔ پریسننسکایا ایمبینکمنٹ پر واقع ایوولوشن ٹاور کی بلندی تقریباً 246 میٹر ہے اور اس میں 55 منزلیں ہیں۔ عمارت کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا گھومتا ہوا ڈیزائن ہے، جس میں ہر منزل پچھلی منزل کے مقابلے میں قدرے زاویہ بدلتی ہے۔ ماسکو سٹی کی تاریخی معلومات کے مطابق ہر منزل تقریباً تین ڈگری گھومتی ہے، جس کے نتیجے میں پوری عمارت مجموعی طور پر تقریباً 156 ڈگری کا خم پیدا کرتی ہے۔ اس منصوبے کی ابتدا ایک پہلے تصور سٹی پیلس سے ہوئی تھی، جبکہ بعد میں گورپروجیکٹ نے اس کی حتمی ڈیزائننگ کی، جس میں RMJM کے ابتدائی اسپائرل ٹاور تصور کو آگے بڑھایا گیا۔ تعمیر 2011 میں شروع ہوئی اور منصوبے میں جدید انجینئرنگ، توانائی کی بچت اور بلڈنگ سروسز کے تقاضوں کو شامل کیا گیا۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے ایوولوشن ٹاور صرف ایک منفرد عمارت نہیں تھا بلکہ ماسکو سٹی کو پریمیم دفاتر، کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز، ریٹیل اور اعلیٰ مالیت کی کمرشل پراپرٹی کے بڑے مرکز میں تبدیل کرنے والے منصوبوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی تکمیل نے ماسکو کے مرکزی کاروباری ضلع کی شناخت مزید مضبوط کی اور روس میں ہائی رائز کمرشل ڈیولپمنٹ کے رجحان کو نمایاں کیا۔ بعد ازاں روسی پائپ لائن کمپنی ٹرانس نیفٹ نے اس عمارت کو اپنے ہیڈکوارٹر کیلئے حاصل کیا۔ آج ایوولوشن ٹاور اپنی منفرد شکل اور ماسکو سٹی میں مرکزی مقام کے باعث جدید روسی کمرشل فن تعمیر کی معروف ترین مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ 246 میٹر بلند گھومتی ساخت والا آفس ٹاور ماسکو سٹی بزنس ڈسٹرکٹ کی ترقی اور روس میں جدید کمرشل پراپرٹی کے نئے دور کی نمایاں مثال بنا۔
مزید پڑھیں
3 اکتوبر 1939 کو سنگاپور میں کیتھے بلڈنگ کا افتتاح ہوا، جو جنوب مشرقی ایشیا میں بلند عمارتوں، جدید شہری ترقی اور رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ سنگاپور کے ہینڈی روڈ پر دھوبی گھاٹ کے قریب تعمیر ہونے والی اس آرٹ ڈیکو عمارت نے شہر میں بڑے پیمانے پر جدید پراپرٹی ڈویلپمنٹ کے ایک نئے دور کی نمائندگی کی۔ یہ منصوبہ مسز لوک یو اور ان کے بیٹے لوک وان تھو نے تیار کیا جبکہ اس کا منفرد آرکیٹیکچرل ڈیزائن برطانوی معمار فرینک ڈبلیو بریور نے بنایا تھا۔ تقریباً 83.5 میٹر بلند کیتھے بلڈنگ سنگاپور کی پہلی فلک بوس عمارت بنی جبکہ افتتاح کے وقت یہ ملایا کی بلند ترین عمارت بھی تھی۔ اس دور میں سنگاپور کے شہری منظرنامے پر زیادہ تر کم بلندی والی عمارتیں موجود تھیں، اس لیے کیتھے بلڈنگ نے شہر کی اسکائی لائن کو ایک نئی شناخت دی۔ اس منصوبے کی اہمیت صرف اس کی بلندی تک محدود نہیں تھی۔ اس میں تفریحی سہولیات اور رہائشی جگہوں کو ایک ہی کمپلیکس میں یکجا کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے سنگاپور میں جدید مکسڈ یوز ڈویلپمنٹ کے ابتدائی نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ منصوبے کا اہم ترین حصہ کیتھے سنیما تھا، جس کا باقاعدہ افتتاح 3 اکتوبر 1939 کو فلم دی فور فیدرز کی نمائش کے ساتھ ہوا۔ یہ سنگاپور کا پہلا ایئرکنڈیشنڈ سنیما بھی تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی یہ عمارت اہم رہی۔ 1942 میں سنگاپور پر جاپانی قبضے کے بعد اسے جاپانی حکام نے استعمال کیا جبکہ جنگ کے بعد یہ اتحادی افواج کے استعمال میں بھی رہی۔ بعد کی دہائیوں میں سنگاپور کی تیز رفتار شہری ترقی کے ساتھ کیتھے سائٹ بھی تبدیل ہوتی گئی۔ بالآخر اصل عمارت کا بڑا حصہ جدید منصوبے کی تعمیر کیلئے منہدم کردیا گیا، تاہم اس کا تاریخی آرٹ ڈیکو فرنٹ محفوظ رکھا گیا۔ آج یہ محفوظ تاریخی حصہ جدید ’’دی کیتھے‘‘ کا حصہ ہے اور سنگاپور کے موجودہ شہری منظرنامے کو اس دور سے جوڑتا ہے جب کیتھے بلڈنگ نے آٹھ دہائیوں سے بھی پہلے شہر میں بلند اور مکسڈ یوز رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے نئے دور کی بنیاد رکھی تھی۔
مزید پڑھیںایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شہر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن کے 'مڈ ٹاؤن ساؤتھ' میں واقع 102 منزلہ ایک انتہائی بلند و بالا عمارت (skyscraper) ہے۔ اس عمارت کا ڈیزائن 'شریو، لیمب اینڈ ہارمن' (Shreve, Lamb & Harmon) نے 'آرٹ ڈیکو' (Art Deco) طرزِ تعمیر میں تیار کیا تھا اور اس کی تعمیر 1930 سے 1931 کے درمیان ہوئی۔ اس کا نام نیویارک ریاست کے عرفی نام "ایمپائر اسٹیٹ" سے ماخوذ ہے۔ عمارت کی چھت کی اونچائی 1,250 فٹ (380 میٹر) ہے اور اپنے اینٹینا سمیت اس کی کل بلندی 1,454 فٹ (443.2 میٹر) ہے۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ 1970 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے 'نارتھ ٹاور' کی تعمیر مکمل ہونے تک دنیا کی بلند ترین عمارت رہی؛ 2001 میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد، یہ دوبارہ نیویارک شہر کی بلند ترین عمارت بن گئی، یہاں تک کہ 2012 میں 'ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر' نے اس کا ریکارڈ توڑ دیا۔ 2025 تک، یہ عمارت نیویارک شہر کی آٹھویں بلند ترین، ریاستہائے متحدہ میں مکمل ہونے والی دسویں بلند ترین اور دنیا میں مکمل ہونے والی 59 ویں بلند ترین فلک بوس عمارت ہے۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کا مقام، جو 'ففتھ ایونیو' (Fifth Avenue) کے مغربی جانب 'ویسٹ 33 ویں' اور '34 ویں' گلیوں کے درمیان واقع ہے، 1893 میں 'والڈورف-ایسٹوریا ہوٹل' کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1929 میں، 'ایمپائر اسٹیٹ انک' (Empire State Inc.) نے یہ جگہ حاصل کی اور وہاں ایک فلک بوس عمارت تعمیر کرنے کے منصوبے بنائے۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے ڈیزائن میں پندرہ بار تبدیلیاں کی گئیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ دنیا کی بلند ترین عمارت بنے۔ اس کی تعمیر کا آغاز 17 مارچ 1930 کو ہوا اور عمارت ساڑھے تیرہ ماہ بعد یکم مئی 1931 کو کھول دی گئی۔ عمارت کی تعمیر کے حوالے سے مثبت تشہیر کے باوجود، 'عظیم کسادِ بازاری' (Great Depression) اور دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے، اس کے مالکان 1950 کی دہائی کے اوائل تک کوئی منافع نہ کما سکے۔ عمارت کے 'آرٹ ڈیکو' طرزِ تعمیر، بلندی اور مشاہداتی ڈیک (observation decks) نے اسے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ دنیا بھر سے تقریباً 40 لاکھ سیاح سالانہ اس عمارت کی 86 ویں اور 102 ویں منزل پر واقع مشاہداتی مراکز (observatories) کا دورہ کرتے ہیں۔ 2019 میں 80ویں منزل پر ایک اضافی انڈور (عمارت کے اندر واقع) مشاہدہ گاہ کا افتتاح کیا گیا۔ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ ایک بین الاقوامی ثقافتی علامت ہے: 1933 میں فلم 'کنگ کانگ' کی ریلیز کے بعد سے اسے 250 سے زائد ٹیلی ویژن سیریز اور فلموں میں دکھایا جا چکا ہے۔ اس عمارت کے حجم کو دیگر تعمیرات کی اونچائی اور لمبائی بیان کرنے کے لیے ایک پیمانے یا معیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ نیویارک شہر کی علامت سمجھی جانے والی اس عمارت کو 'امریکن سوسائٹی آف سول انجینئرز' نے جدید دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ 2007 میں 'امریکن انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس' کی جانب سے امریکہ کی پسندیدہ ترین تعمیرات کی فہرست میں اسے پہلی پوزیشن دی گئی تھی۔ مزید برآں، 1980 میں 'نیویارک سٹی لینڈ مارکس پریزرویشن کمیشن' نے ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ اور اس کی نچلی منزل کے اندرونی حصے کو شہر کی اہم تاریخی نشانیوں (لینڈ مارکس) کا درجہ دیا، اور 1986 میں اسے 'نیشنل ہسٹورک لینڈ مارک' کے طور پر 'نیشنل رجسٹر آف ہسٹورک پلیسز' میں شامل کیا گیا۔
مزید پڑھیں
جدید تاریخ میں چند ہی تعمیراتی منصوبے ایسے ہیں جنہوں نے کسی شہر کی شناخت کو اتنے نمایاں انداز میں تبدیل کیا جتنا برج دبئی نے کیا، جسے بعد ازاں برج خلیفہ کا نام دیا گیا۔ یہ عمارت 3 ستمبر 2008 کو دنیا کی بلند ترین عمارت قرار پائی۔یہ محض ایک بلند عمارت نہیں تھی بلکہ دبئی کے اس عزم کی علامت بن گئی کہ شہر کو عالمی سرمایہ کاری، سیاحت، کاروبار اور لگژری رئیل اسٹیٹ کا اہم مرکز بنایا جائے۔ اس منصوبے کی کہانی جنوری 2004 میں شروع ہوئی، جب اس مقام پر کھدائی کا کام شروع کیا گیا جہاں بعد میں ڈاؤن ٹاؤن دبئی وجود میں آیا۔ منصوبے کا ڈویلپر ایمار پراپرٹیز تھا، جبکہ اس کے ڈیزائن اور انجینئرنگ کی ذمہ داری شکاگو میں قائم فرم سکڈمور، اوونگز اینڈ میرل اور معروف ماہرِ تعمیرات ایڈرین سمتھ نے سنبھالی۔ عمارت کو صرف بلند بنانے کے بجائے بلند ترین عمارتوں کی تعمیر میں ایک نیا معیار قائم کرنے کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ دبئی کی ریتلی زمین پر اتنی بلند عمارت کی تعمیر انجینئرز کے لیے ایک بڑا چیلنج تھی۔ عمارت کی بنیاد مضبوط مسلح کنکریٹ کے ایک بڑے فاؤنڈیشن سسٹم پر قائم کی گئی، جسے گہری پائلز کا سہارا دیا گیا۔ انجینئرز نے عمارت کے لیے منفرد Y شکل کا سٹرکچرل پلان تیار کیا، جس میں اسلامی طرزِ تعمیر سے متاثر تین بازو ایک مضبوط مرکزی ڈھانچے کو سہارا دیتے ہیں۔ اس ڈیزائن نے عمارت کو غیر معمولی بلندی پر استحکام فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تعمیراتی رفتار میں اضافے کے ساتھ برج دبئی نے تکمیل سے پہلے ہی کئی عالمی ریکارڈ اپنے نام کرنا شروع کر دیے۔ جولائی 2007 میں یہ تعمیراتی بلندی کے اعتبار سے دنیا کی بلند ترین عمارت بن گئی۔ اسی سال ستمبر میں یہ دنیا کا بلند ترین آزادانہ طور پر کھڑا رہنے والا ڈھانچہ قرار پایا، جبکہ اپریل 2008 میں اس نے انسانی ساختہ بلند ترین ڈھانچے کا سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ اس منصوبے کے تعمیراتی اعداد و شمار بھی غیر معمولی ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار مکعب میٹر کنکریٹ اور 39 ہزار ٹن مسلح فولاد استعمال ہوا، جبکہ تعمیراتی عمل میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افرادی گھنٹے صرف ہوئے۔ انجینئرز نے تقریباً 601 میٹر کی بلندی تک اعلیٰ معیار کا کنکریٹ پہنچا کر عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ تاہم برج دبئی کی اہمیت صرف انجینئرنگ تک محدود نہیں تھی۔ یہ ڈاؤن ٹاؤن دبئی کا مرکزی نقطہ بن گیا، جس کے اردگرد رہائشی، کمرشل، ہوٹل، ریٹیل اور دیگر رئیل اسٹیٹ منصوبے تشکیل پاتے گئے۔ یوں اس منصوبے نے یہ ثابت کیا کہ ایک منفرد اور عالمی معیار کی عمارت پورے شہری علاقے کی ترقی اور پراپرٹی مارکیٹ کے لیے مرکزی محرک بن سکتی ہے۔ 2008 کا عالمی مالیاتی بحران دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کے لیے بھی ایک مشکل دور ثابت ہوا، تاہم برج دبئی کی تعمیر جاری رہی۔ عمارت کا اسٹرکچرل ڈھانچہ جنوری 2009 میں مکمل کیا گیا، بیرونی تعمیراتی کام ستمبر 2009 میں مکمل ہوا، جبکہ 4 جنوری 2010 کو عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ اس وقت عمارت کی حتمی بلندی 828 میٹر تھی اور اس میں 160 رہائشی منزلیں تھیں۔ بعد ازاں اس منصوبے کا نام تبدیل کرکے برج خلیفہ رکھ دیا گیا اور افتتاح کے بعد یہ دنیا کے معروف ترین رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی لینڈ مارکس میں شامل ہوگیا۔ برج دبئی کا سب سے بڑا سبق شاید یہ ہے کہ ایک منفرد اور تاریخی عمارت پورے شہری علاقے کی قدر اور شناخت تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ محض صحرا میں بلند ہونے والا ایک ٹاور نہیں تھا بلکہ ایک وسیع تر شہری ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جس میں پراپرٹی، سیاحت، ریٹیل، ہوٹلنگ اور عالمی سرمایہ کاری کو ایک دوسرے سے جوڑا گیا۔ آج بھی برج خلیفہ 828 میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے۔ اس کی تعمیر نے یہ ثابت کیا کہ جدید رئیل اسٹیٹ صرف زمین کو ترقی دینے کا نام نہیں بلکہ ایسی عالمی شناخت تخلیق کرنے کا عمل بھی ہے جو کسی شہر کی معاشی اور تجارتی اہمیت کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ برج دبئی نے بالآخر یہ سوال بدل دیا کہ ایک شہر کتنا تعمیر کر سکتا ہے، اور دنیا کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ ایک شہر کی امنگیں آخر کتنی بلند ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں
18 اگست 1927 کو امریکی شہر کلیولینڈ میں زیر تعمیر ٹرمینل ٹاور ایک اہم مرحلے پر پہنچی، جب اس کا فولادی ڈھانچہ اپنی مکمل بلندی تک پہنچ گیا اور اس کامیابی کی علامت کے طور پر عمارت کے اوپر پرچم لہرایا گیا۔ کلیولینڈ سٹیٹ یونیورسٹی کے محفوظ تاریخی ریکارڈ میں 18 اگست 1927 کی اس پیش رفت کا باقاعدہ ذکر موجود ہے۔ ٹرمینل ٹاور بعد میں 52 منزلہ اور 708 فٹ بلند عمارت کے طور پر مکمل ہوئی۔ لیکن جائیداد اور شہری ترقی کی تاریخ میں اس عمارت کی اہمیت صرف اس کی بلندی نہیں تھی۔ ٹرمینل ٹاور دراصل بہت بڑے کلیولینڈ یونین ٹرمینل منصوبے کا مرکزی حصہ تھی، جس میں ریلوے سٹیشن کے ساتھ دفاتر، دکانیں، ہوٹل اور دوسری کاروباری سہولتیں ایک ہی شہری مرکز میں جمع کی گئی تھیں۔ اس منصوبے کے پیچھے اوریس پی وان سویرنگن اور مینٹس جے وان سویرنگن نامی دو بھائی تھے، جو جائیداد کی ترقی کے ساتھ ریلوے کے کاروبار سے بھی وابستہ تھے۔ ان کی ابتدائی دلچسپی اپنے تیار کردہ رہائشی علاقے شیکر ہائٹس کو شہر کے مرکزی کاروباری علاقے سے بہتر آمدورفت کے ذریعے جوڑنا تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ منصوبہ ایک بہت بڑے شہری اور تجارتی منصوبے میں تبدیل ہوگیا۔ جائیداد کے شعبے کیلئے اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو یہی تھا۔ منصوبہ سازوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ بہتر آمدورفت صرف سفر آسان نہیں کرتی بلکہ اس سے کسی علاقے کی زمین، دفاتر، دکانوں اور دوسری جائیدادوں کی اہمیت بھی بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے ریلوے سٹیشن کو الگ عمارت کے طور پر تعمیر کرنے کے بجائے اسے بڑے تجارتی اور شہری منصوبے کے ساتھ جوڑ دیا۔ آج ایسے منصوبوں میں آمدورفت کے بڑے مرکز کے اردگرد رہائش، دفاتر، کاروبار اور دوسری سہولتیں قائم کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو سفر اور روزمرہ ضروریات ایک ہی علاقے میں میسر آسکیں۔ کلیولینڈ یونین ٹرمینل کی تعمیر کا حجم بھی غیر معمولی تھا۔ کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق منصوبے کیلئے ٹرمینل ٹاور کی بنیادیں تقریباً 250 فٹ گہرائی تک پہنچائی گئیں، ایک ہزار سے زیادہ عمارتیں مسمار کی گئیں اور ریلوے کیلئے متعدد پل اور راستے تعمیر کیے گئے۔ ٹرمینل ٹاور اس پورے منصوبے کی سب سے نمایاں عمارت بن گئی۔ 708 فٹ بلند یہ ٹاور مکمل ہونے کے وقت نیویارک سے باہر دنیا کی بلند ترین عمارت تھی اور 1953 تک یہ مقام برقرار رہا۔ تاہم جائیداد کے نقطۂ نظر سے اصل اہمیت اس کے اردگرد بننے والے پورے منصوبے کی تھی۔ 1930 میں یونین ٹرمینل کے باقاعدہ افتتاح کے بعد مسافر ایک ہی عمارت میں دکانوں اور مختلف خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے تھے، جبکہ ایک بڑا کاروباری سٹور اور ہوٹل بھی اسی منصوبے سے منسلک تھے۔ کلیولینڈ کے تاریخی ریکارڈ میں اس منصوبے کو ایک ایسے کثیرالمقاصد شہری مرکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جہاں آمدورفت، کاروبار اور دوسری شہری سہولتوں کو ایک جگہ جمع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے نے کلیولینڈ شہر کے کاروباری نقشے کو بھی متاثر کیا۔ اس سے پہلے شہر کی بعض بڑی سرکاری اور شہری ترقیاتی سرگرمیوں کا رخ جھیل کے کنارے کی طرف رکھنے کا منصوبہ تھا، لیکن پبلک سکوائر میں نئے ٹرمینل کی تعمیر نے کاروباری سرگرمیوں اور ترقی کا مرکز دوبارہ شہر کے موجودہ مرکزی علاقے کی طرف مضبوط کردیا۔ جائیداد کے شعبے کیلئے اس تاریخ میں ایک اہم سبق موجود ہے۔ کوئی بڑا ریلوے سٹیشن، شہری ریل، موٹروے یا ہوائی اڈہ صرف لوگوں کی آمدورفت نہیں بدلتا بلکہ یہ بھی طے کرسکتا ہے کہ مستقبل میں کون سی زمین زیادہ اہم ہوگی، دفاتر اور دکانیں کہاں بنیں گی اور سرمایہ کار کس علاقے کا رخ کریں گے۔ ٹرمینل ٹاور اور اس کے اردگرد قائم ہونے والے منصوبے نے تقریباً ایک صدی پہلے یہی اصول عملی طور پر دکھایا تھا۔ 18 اگست 1927 کو ٹرمینل ٹاور کے اوپر لہرایا جانے والا پرچم صرف ایک بلند عمارت کے فولادی ڈھانچے کی تکمیل کی علامت نہیں تھا بلکہ ایسے شہری ترقیاتی تصور کی نشانی بھی تھا جس میں آمدورفت اور جائیداد کو ایک ہی منصوبے کے دو اہم حصوں کے طور پر دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں
ہانگ کانگ کی مشہور کمرشل عمارت بینک آف چائنا ٹاور کی تعمیر ایک اہم مرحلے میں داخل ہوئی جب اس کی ٹاپنگ آؤٹ تقریب منعقد کی گئی۔ بعد ازاں یہ عمارت نہ صرف ہانگ کانگ کی سکائی لائن کی نمایاں شناخت بنی بلکہ ایشیا میں بلند کمرشل عمارتوں کی تعمیر کے ایک نئے دور کی علامت بھی ثابت ہوئی۔ تقریب کے لیے 8 اگست 1988 کا انتخاب بھی خصوصی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ چینی ثقافت میں ہندسہ آٹھ خوش بختی، ترقی اور خوشحالی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہانگ کانگ کے مرکزی کاروباری علاقے میں واقع بینک آف چائنا ٹاور کو عالمی شہرت یافتہ معمار آئی ایم پے نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کا منفرد جیومیٹرک ڈیزائن، مثلث نما ساخت اور بیرونی حصے پر نمایاں ترچھی لکیریں اسے اپنے دور کی روایتی دفتری عمارتوں سے ممتاز کرتی تھیں۔ 1990 میں عمارت کی تکمیل کے بعد اس کی مرکزی چھت کی بلندی تقریباً 315 میٹر جبکہ اوپر نصب مَسٹ سمیت مجموعی بلندی تقریباً 367 میٹر تک پہنچ گئی۔ اس وقت یہ ہانگ کانگ اور ایشیا کی بلند ترین عمارت بن گئی۔ بینک آف چائنا ٹاور کی تعمیر اس دور میں ہانگ کانگ کی تیزی سے بڑھتی کمرشل رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی بھی عکاسی کرتی تھی۔ محدود شہری زمین، بلند جائیداد قیمتوں اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں مالیاتی اداروں کی بڑھتی تعداد نے بلند و بالا دفتری عمارتوں کی تعمیر کو فروغ دیا۔ آج بینک آف چائنا ٹاور ہانگ کانگ کی عالمی شناخت کا اہم حصہ اور جدید فن تعمیر، انجینئرنگ اور کمرشل رئیل اسٹیٹ کے امتزاج کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیںلاہور | ری نیوز پاکستان پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے خاتمے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے شیخوپورہ میں نیسلے فیکٹری کے بائیو ماس سٹیم پلانٹ کا ڈیجیٹل افتتاح کردیا۔ شیخوپورہ نیسلے فیکٹری میں یہ جدید ترین بائیو ماس اسٹیم پلانٹ تقریباً 45 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے قائم کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ماحول دوست منصوبہ فصلوں کی باقیات جلانے کا پائیدار اور متبادل حل فراہم کرے گا اور زرعی فضلے کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کی پیداوار کو فروغ دے گا۔ منصوبے کے تحت سالانہ تقریباً 72 ہزار ٹن زرعی باقیات بطور ایندھن استعمال کی جائیں گی جبکہ یہ پلانٹ فی گھنٹہ 30 ٹن سٹیم پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے سے ایندھن کی مد میں سالانہ تقریباً 21 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی بچت متوقع ہے جبکہ اس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 24 ہزار 345 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی بھی آئے گی۔ بائیو ماس سٹیم پلانٹ نیسلے کے ماحولیاتی پائیداری کے پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ فصلوں کی باقیات سر عام جلانے کی حوصلہ شکنی سے فضائی معیار میں بہتری آئے گی اور سموگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو پاکستان میں نیسلے کی خدمات اور ماحولیاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نیسلے کی عوامی اور ماحولیاتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بائیو ماس سٹیم پلانٹ پاکستان میں سرکلر اکانومی اور قابل تجدید توانائی کی نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت پنجاب کی ماحولیاتی تحفظ، صاف فضا اور صنعتی ترقی کی ترجیحات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی بہتری کے لیے بھرپور معاونت جاری رکھی جائے گی اور نیسلے سمیت ہر اس ادارے کے لیے دروازے کھلے ہیں جو ماحولیاتی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
17 جولائی 2008 کو چین کے شہر شنگھائی کے علاقے پڈونگ میں شنگھائی ورلڈ فنانشل سینٹر کی تعمیر مکمل ہوئی۔ یہ واقعہ ایشیائی رئیل اسٹیٹ اور بلند عمارتوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ 101 منزلہ اور 492 میٹر بلند یہ کثیر المقاصد منصوبہ دفاتر، ریٹیل مراکز، کانفرنس سہولیات، لگژری ہوٹل اور بلند ترین جگہ سے نظارہ کرنے کے مقامات پر مشتمل تھا۔ جاپان کی موری بلڈنگ کمپنی کے تیار کردہ اس منصوبے کا ڈیزائن عالمی شہرت یافتہ آرکیٹیکچرل ادارے کوہن پیڈرسن فاکس نے بنایا۔ منصوبے کا بنیادی مقصد شنگھائی کے ابھرتے ہوئے مالیاتی ضلع میں عالمی کمپنیوں کے لیے جدید کاروباری مرکز قائم کرنا تھا۔ عمارت کی چوٹی پر موجود منفرد خلا اس کی نمایاں شناخت بنا، جس کے باعث اسے غیر رسمی طور پر ’’بوتل کھولنے والا‘‘ بھی کہا جانے لگا۔ اس منصوبے کی تاریخ بڑے رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے وابستہ مالی خطرات اور بحالی کی بھرپور مثال ہے۔ تعمیر 1997 میں شروع ہوئی، لیکن ایشیائی مالیاتی بحران کے باعث کام روکنا پڑا۔ بہتر معاشی حالات، نئے ڈیزائن اور نظرثانی شدہ بلندی کے ساتھ 2003 میں تعمیر دوبارہ شروع ہوئی۔ عمارت کا بنیادی ڈھانچہ ستمبر 2007 میں مکمل بلندی تک پہنچا، جبکہ بیرونی شیشوں، لفٹوں اور داخلی سہولیات پر کام جولائی 2008 تک جاری رہا۔ تکمیل کے وقت یہ دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں شامل اور مین لینڈ چین کی بلند ترین مکمل عمارت تھی۔ اسے 28 اگست 2008 کو باضابطہ طور پر کھولا گیا۔ شنگھائی ورلڈ فنانشل سینٹر نے نہ صرف پڈونگ کی زمین اور کمرشل جائیداد کی قدر بڑھائی بلکہ لوجیازوئی کو عالمی مالیاتی اور کارپوریٹ رئیل اسٹیٹ کے نمایاں مرکز میں تبدیل کرنے میں بھی مدد دی۔ کونسل آن ٹال بلڈنگز اینڈ اربن ہیبی ٹیٹ نے اسے 2008 کی دنیا کی بہترین بلند عمارت قرار دیا، جو اس کے آرکیٹیکچر، انجینئرنگ اور شہری ترقی میں کردار کا عالمی اعتراف تھا۔
مزید پڑھیں
جس عمارت کو آج دنیا Burj Khalifa کے نام سے جانتی ہے، اس منصوبے کا آغاز ابتدا میں برج دبئی کے نام سے کیا گیا تھا۔ تاہم ایک اہم اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس عمارت کا افتتاح جان بوجھ کر 4 جنوری 2010 کو رکھا گیا، تاکہ یہ تاریخ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی تخت نشینی کی سالگرہ سے مطابقت رکھے۔ درحقیقت 4 جنوری 2006 کو اسی دن شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے دبئی کے حکمران کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تھا، جو مکتوم قیادت کے ایک نئے دور کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم عمارت کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر ایک اہم فیصلہ سامنے آیا، جب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان، جو اس وقت متحدہ عرب امارات کے صدر تھے، کے اعزاز میں اس عمارت کا نام برج خلیفہ رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام نہ صرف قومی قیادت کے احترام کی علامت تھا بلکہ متحدہ عرب امارات کی وفاقی وحدت اور سیاسی ہم آہنگی کی بھی عکاسی کرتا تھا۔ بہرحال 4 جنوری یو اے ای کی تاریخ میں ایک امر دن ہے کہ اس روز برج خلیفہ کو عام عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ یہ ایک آف پلان لگژری رئیل اسٹیٹ منصوبہ تھا، جس نے نہ صرف دبئی بلکہ پوری خلیجی ریاستوں میں رئیل اسٹیٹ کی عالمی حیثیت کو یکسر بدل دیا۔ (آف پلان لگژری رئیل اسٹیٹ off plan luxury real estate سے مراد ایسا اعلیٰ معیار کا رہائشی یا تجارتی منصوبہ ہوتا ہے جو عمارت کی تکمیل سے پہلے فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں خریدار نقشوں اور ڈیزائنز کی بنیاد پر پراپرٹی خریدتا ہے، نہ کہ تیار شدہ عمارت دیکھ کر۔ ایسی سرمایہ کاری عموماً اقساط میں کی جاتی ہے اور مستقبل میں قدر بڑھنے کی توقع رکھی جاتی ہے۔) اس منصوبے کی لانچ کے ساتھ ہی دبئی نے خود کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنجیدہ اور جدید اربن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ [img:Images/2-jan-2-otd.jpeg | desc:] برج خلیفہ کا منصوبہ باضابطہ طور پر 6 جنوری 2004 کو شروع ہوا، جس کا تصور دبئی کی معروف ڈویلپمنٹ کمپنی Emaar Properties نے پیش کیا جبکہ اس کا معماری ڈیزائن عالمی شہرت یافتہ معمار Adrian Smith نے Skidmore Owings and Merrill کے پلیٹ فارم سے تیار کیا۔ یہ منصوبہ تقریباً 6 سال کے عرصے میں 4 جنوری 2010 کو مکمل ہوا، یعنی لگ بھگ 2190 دن میں اس کی تعمیر پایہ تکمیل تک پہنچی۔ برج خلیفہ کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے شہری ترقی کے افقی تصور کو بدل کر عمودی اربن ڈیولپمنٹ کو عالمی معیار پر متعارف کرایا اور دبئی کو سرمایہ کاری، سیاحت اور لگژری رہائش کے عالمی نقشے پر نمایاں مقام دلایا۔ اس عمارت میں کل 163 قابل استعمال منزلیں ہیں، جن میں Armani Hotel کے تقریباً 304 کمرے اور سوئٹس، لگ بھگ 900 لگژری رہائشی اپارٹمنٹس، متعدد کمرشل اور دفتری فلورز، اور دنیا کے بلند ترین عوامی مشاہداتی ڈیک observation deck شامل ہیں، یوں برج خلیفہ اکیسویں صدی کی شہری منصوبہ بندی، انجینئرنگ مہارت اور رئیل اسٹیٹ وژن کی ایک جامع علامت بن کر سامنے آیا۔ (عوامی مشاہداتی ڈیک observation deck عمارت کا وہ بلند، باقاعدہ منصوبہ بند اور تجارتی طور پر قابل استعمال حصہ ہوتا ہے جو عام لوگوں کے لیے کھلا ہو اور جہاں سے شہر، اردگرد کے مناظر اور افق کو اونچائی سے محفوظ اور منظم انداز میں دیکھا جا سکے۔) آج برج خلیفہ دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت ہی نہیں بلکہ دبئی کی معاشی خود اعتمادی اور عالمی رئیل اسٹیٹ وژن کی عملی تصویر بن چکی ہے۔ 2010 میں تکمیل کے بعد سے آج تک یہ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے اور جدید انجینئرنگ، شہری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے امتزاج کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ مارکیٹ ڈیٹا 2026 کے مطابق ایک درمیانے سائز کا رہائشی اپارٹمنٹ عموماً ایک بیڈروم یونٹ ہوتا ہے جس کا رقبہ تقریباً 800 سے 1,100 مربع فٹ کے درمیان ہوتا ہے، اور اس کی قیمت عام طور پر 7 لاکھ سے 11 لاکھ امریکی ڈالر کے درمیان دیکھی جاتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 20 کروڑ سے 31 کروڑ روپے بنتی ہے، جبکہ یہاں سب سے چھوٹا رہائشی یونٹ اسٹوڈیو اپارٹمنٹ ہوتا ہے جس کا رقبہ تقریباً 540 سے 600 مربع فٹ ہوتا ہے۔ اسی عمارت میں کمرشل پراپرٹی کے طور پر دفاتر کا کم از کم سائز عموماً 1,000 سے 1,500 مربع فٹ سے شروع ہوتا ہے، جسے درمیانے سائز کا آفس یونٹ سمجھا جاتا ہے، اور ایسے آفس کی قیمت موجودہ مارکیٹ میں تقریباً 40 لاکھ سے 60 لاکھ امریکی ڈالر کے درمیان رہتی ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 112 کروڑ سے 168 کروڑ روپے کے مساوی بنتی ہے۔
مزید پڑھیں31 اکتوبر 2003 کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پیٹروناس ٹاورز نے باضابطہ طور پر دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 452 میٹر بلند یہ جڑواں ٹاورز ملائیشیا کی تیز رفتار ترقی اور عالمی تعمیراتی طاقت کے طور پر ابھرتی ہوئی حیثیت کی علامت بن گئے۔ مشہور معمار سیسر پیلی کے ڈیزائن کردہ یہ ٹاورز اسلامی فنِ تعمیر کے اصولوں اور جدید انجینئرنگ کا حسین امتزاج ہیں۔ اس کامیابی نے ملائیشیا کی تعمیراتی صنعت کو عالمی سطح پر متعارف کروایا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ جنوب مشرقی ایشیا کی طرف مبذول کرائی۔ پیٹروناس ٹاورز نے نہ صرف کوالالمپور کے افق کو بدل دیا بلکہ ملک کی سیاحت اور لگژری رہائشی مارکیٹ کو نئی سمت عطا کی۔
مزید پڑھیں
29 اکتوبر 2004 کو دبئی کے برج خلیفہ کی تعمیر کا آغاز ہوا، جس نے عالمی رئیل اسٹیٹ کے تصورات کو تبدیل کیا اور مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی پراپرٹی ڈویلپمنٹ ہب کے طور پر قائم کیا۔ دنیا کی بلند ترین عمارت کے منصوبے نے اردگرد کے علاقوں میں لگژری پراپرٹیز کی غیر معمولی مانگ پیدا کی اور بین الاقوامی سطح پر بلند و بالا تعمیرات کے نئے معیارات طے کیے۔ اس میگا پراجیکٹ نے ثابت کیا کہ کس طرح آرکیٹیکچرل عزائم خطے کی معاشی ترقی اور پراپرٹی ویلیو میں اضافے کو فروغ دے سکتے ہیں، جبکہ دبئی کو عالمی لگژری رئیل اسٹیٹ منزل کے طور پر قائم کیا۔
مزید پڑھیں
28 اکتوبر 1895 کو، تعمیراتی صنعت کے سٹیل فریم ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر اپنانے نے جدید اسکائسکریپرز کی پہلی نسل کو ممکن بنایا، جو عالمی سطح پر شہری ترقی کو بنیادی طور پر تبدیل کرتا ہے۔ اس انجینئرنگ کی کامیابی نے عمارتوں کو غیر معمولی اونچائی تک پہنچنے کی اجازت دی، جو آرکیٹیکچرل امکانات میں انقلاب برپا کرتی ہے اور کامرسل تعمیر کے لیے نئے معیارات قائم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
1889 میں ایفل ٹاور کی تکمیل نے عالمی تعمیراتی طریقوں کو بدل دیا، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ لوہا نہ صرف مضبوط بلکہ خوبصورت عمارتوں کے لیے بھی موزوں مواد ہو سکتا ہے۔ اس کامیابی نے دنیا بھر میں بلند و بالا اور پائیدار عمارتوں کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔ تیار شدہ لوہے کے حصے، درست انجینئرنگ اور ماڈیولر تعمیراتی تکنیک نے صنعتی تعمیرات کی بنیاد رکھی۔ فن، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے امتزاج کی علامت بننے والا یہ ٹاور جدید شہری تعمیرات کا نقطۂ آغاز بن گیا۔
مزید پڑھیں
19 اکتوبر 1895 کو تعمیراتی صنعت نے ایک انقلابی دور میں قدم رکھا جب آسمان چھوتی عمارتوں کے لیے اسٹیل فریم ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا۔ اس جدت نے تعمیرات اور انجینئرنگ کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر بدل دیا، جس سے عمارتیں پہلے سے کہیں زیادہ بلند تعمیر کی جانے لگیں۔ شکاگو میں اس دہائی کے آغاز میں مکمل ہونے والی “ہوم انشورنس بلڈنگ” نے اسٹیل فریم ڈھانچے کی مضبوطی اور لچک کو ثابت کیا۔ 1895 تک یہ طریقہ کار نیویارک، شکاگو اور لندن جیسے بڑے شہروں میں تجارتی و بلند عمارتوں کے لیے ایک معیار بن چکا تھا۔ اس انقلاب نے شہری مناظر کو بدل دیا، شہروں کو افقی کے بجائے عمودی سمت میں ترقی کرنے کا موقع دیا، اور شہری منصوبہ بندی، عمارتوں کی سلامتی، اور رئیل اسٹیٹ کے جدید طریقوں کے لیے نئے اصول قائم کیے۔ بالآخر، اسٹیل فریم ٹیکنالوجی نے جدید تہذیب کی پہچان بننے والے عظیم الشان اسکائی لائنز کی بنیاد رکھی۔
مزید پڑھیں