From Real Estate History
Hong Kong’s landmark Bank of China Tower reached a major construction milestone on August 8, 1988, when its topping-out ceremony was held, marking an important stage in the development of a skyscraper that would later transform the city’s skyline.
The date, written as 8/8/88, was deliberately chosen because the number eight is traditionally associated with prosperity, success and good fortune in Chinese culture.
Located in Hong Kong’s Central business district, the Bank of China Tower was designed by internationally renowned architect I. M. Pei. Its distinctive geometric form, triangular sections and exposed diagonal structural framework made it markedly different from conventional office towers of the period.
Following its completion in 1990, the building rose approximately 315 metres to its main roof and around 367 metres including its masts. It became the tallest building in Hong Kong and Asia at the time.
The development also reflected the rapid growth of Hong Kong’s commercial real estate market. Limited urban land, high property values and the concentration of financial institutions in the Central business district encouraged increasingly vertical and technologically advanced office development.
The Bank of China Tower subsequently became one of Hong Kong’s most recognisable landmarks and remains a prominent example of the relationship between architecture, engineering and commercial real estate in shaping the identity of a global financial centre.
▪️Syed Shayan
Real Estate Archive
▪ Reference(s):
ہانگ کانگ کی مشہور کمرشل عمارت بینک آف چائنا ٹاور کی تعمیر ایک اہم مرحلے میں داخل ہوئی جب اس کی ٹاپنگ آؤٹ تقریب منعقد کی گئی۔ بعد ازاں یہ عمارت نہ صرف ہانگ کانگ کی سکائی لائن کی نمایاں شناخت بنی بلکہ ایشیا میں بلند کمرشل عمارتوں کی تعمیر کے ایک نئے دور کی علامت بھی ثابت ہوئی۔
تقریب کے لیے 8 اگست 1988 کا انتخاب بھی خصوصی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ چینی ثقافت میں ہندسہ آٹھ خوش بختی، ترقی اور خوشحالی سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ہانگ کانگ کے مرکزی کاروباری علاقے میں واقع بینک آف چائنا ٹاور کو عالمی شہرت یافتہ معمار آئی ایم پے نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کا منفرد جیومیٹرک ڈیزائن، مثلث نما ساخت اور بیرونی حصے پر نمایاں ترچھی لکیریں اسے اپنے دور کی روایتی دفتری عمارتوں سے ممتاز کرتی تھیں۔
1990 میں عمارت کی تکمیل کے بعد اس کی مرکزی چھت کی بلندی تقریباً 315 میٹر جبکہ اوپر نصب مَسٹ سمیت مجموعی بلندی تقریباً 367 میٹر تک پہنچ گئی۔ اس وقت یہ ہانگ کانگ اور ایشیا کی بلند ترین عمارت بن گئی۔
بینک آف چائنا ٹاور کی تعمیر اس دور میں ہانگ کانگ کی تیزی سے بڑھتی کمرشل رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی بھی عکاسی کرتی تھی۔ محدود شہری زمین، بلند جائیداد قیمتوں اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں مالیاتی اداروں کی بڑھتی تعداد نے بلند و بالا دفتری عمارتوں کی تعمیر کو فروغ دیا۔
آج بینک آف چائنا ٹاور ہانگ کانگ کی عالمی شناخت کا اہم حصہ اور جدید فن تعمیر، انجینئرنگ اور کمرشل رئیل اسٹیٹ کے امتزاج کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔
30 اکتوبر 1980 کو پاکستان نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنی پہلی جامع ہاؤسنگ پالیسی کا اعلان کیا، جس نے قومی رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے نقطہ نظر میں اہم تبدیلی ...
مزید پڑھیں26 اکتوبر 2005 کو، امریکی ہاؤسنگ بلب اپنے عروج پر پہنچا، جو غیر پائیدار قیمتوں کی نمو کے عروج کی نشاندہی کرتا ہے جو جلد ہی عالمی مالیاتی بحران کو متحرک کرے گا۔ ...
مزید پڑھیں
25 اکتوبر 1992 کو حکومتِ پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس پالیسی متعارف کرائی جس کا مقصد عوام کے لیے گھر کی ملکیت کو آسان بنانا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا تھا۔ اس...
مزید پڑھیں
22 نومبر 1991 کو پنجاب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے نہری نظام کے ساتھ واقع دیہات میں دیہی واٹر سپلائی کی بحالی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا۔ 1980 اور 1990 کی...
مزید پڑھیں13 نومبر 1872 کو برطانوی پارلیمنٹ نے لندن میں رہائش کے ناقص حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ہاؤسنگ ریفارم ایکٹ منظور کیا۔ اس قانون کے تحت گنجان اور غیر صحت مند ب...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!