Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Historical Urban Disasters

3 Historical Event found

ہیروشیما کی تعمیرِ نو کیلئے خصوصی قانون نافذ، تباہ شہر کو جدید پُرامن شہر بنانے کا آغاز

جاپان میں ہیروشیما پیس میموریل سٹی کنسٹرکشن لا نافذ کیا گیا، جس نے جنگ کے نتیجے میں تباہ ہونے والے ہیروشیما کی منظم تعمیرِ نو، شہری منصوبہ بندی اور زمین کے نئے استعمال کے لیے قانونی بنیاد فراہم کی۔ یہ قانون جاپانی آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت منظور کیا گیا ایک خصوصی قانون تھا، جس کا اطلاق صرف ہیروشیما شہر پر ہوتا تھا۔ مقامی ریفرنڈم کے بعد نافذ ہونے والے قانون نے شہر کی بحالی کو محض مقامی حکومت کی ذمہ داری کے بجائے قومی منصوبے کی حیثیت دے دی۔ جنگ کے بعد ہیروشیما کو شدید مالی مشکلات، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور رہائش کی قلت کا سامنا تھا۔ مقامی حکومت کے پاس سڑکوں، گھروں، نکاسی آب، تعلیمی اداروں اور بنیادی شہری سہولتوں کی تعمیر کے لیے مطلوبہ وسائل موجود نہیں تھے۔ نئے قانون کے تحت وفاقی حکومت کی ملکیت سابق فوجی اور دوسری سرکاری اراضی شہر کو تعمیرِ نو کے لیے منتقل کی گئی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تقریباً 35 ہیکٹر قومی اراضی بلا معاوضہ ہیروشیما کو دی گئی، جسے تعلیمی، فراہمی آب، صفائی، فلاحی اور دیگر شہری سہولتوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس قانون کے تحت 1952 میں ہیروشیما پیس میموریل سٹی کنسٹرکشن پلان منظور کیا گیا۔ منصوبے میں پیس میموریل پارک کی تعمیر، مرکزی شہر میں بڑے عوامی پارکس، دریاؤں کے کنارے گرین بیلٹس، جنگلات کا تحفظ، گرڈ پیٹرن پر مرکزی شاہراہوں کی تشکیل اور جدید سیوریج و ڈرینیج نظام شامل تھا۔ شہری مرکز سے گزرنے والی 100 میٹر چوڑی شاہراہ کو نئے روڈ نیٹ ورک کا بنیادی محور بنایا گیا، جبکہ زمین کی دوبارہ ترتیب کے منصوبوں کے ذریعے تباہ شدہ علاقوں کو رہائش، کاروبار اور عوامی استعمال کے لیے ازسرنو منظم کیا گیا۔ اس قانونی فریم ورک کے نتیجے میں ہیروشیما میں سرکاری رہائش، جدید سڑکوں، پلوں، پارکوں اور شہری اداروں کی تعمیر ممکن ہوئی۔ 1951 میں دریائے کیوباشی کے کنارے تعمیر ہونے والے “پیس اپارٹمنٹس” جنگ کے بعد شہر کی پہلی مضبوط کنکریٹ سے تعمیر شدہ میونسپل رہائشی عمارتوں میں شامل تھے۔ ہیروشیما کا تجربہ رئیل اسٹیٹ اور شہری ترقی کی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ اس نے ثابت کیا کہ تباہ شدہ شہری زمین کو واضح قانون، سرکاری اراضی کی منتقلی، مالی معاونت اور طویل مدتی ماسٹر پلان کے ذریعے دوبارہ قابل رہائش اور معاشی طور پر فعال بنایا جاسکتا ہے۔ 6 اگست 1949 کا یہ قانون آج بھی ہیروشیما کی شہری منصوبہ بندی اور امن پر مبنی شناخت کی بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

چین میں 8.5 شدت کا تانچینگ زلزلہ، جس نے منصوبہ سازوں، ماہرین تعمیرات کی سوچ کو نئے رخ پر ڈال دیا

25 جولائی 1668 کی شام موجودہ چینی صوبے شانڈونگ کے تانچینگ علاقے کے قریب ایک انتہائی طاقتور زلزلہ آیا۔ تاریخی زلزلہ ریکارڈ اس کا مرکز تقریباً 35 درجے شمالی عرض بلد اور 118.6 درجے مشرقی طول بلد کے قریب بتاتے ہیں، جبکہ اس کی اندازاً شدت 8.5 مقرر کی گئی ہے۔ جدید تحقیق اسے مشرقی چین کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ اور براعظم کے اندر آنے والے انتہائی طاقتور زلزلوں میں شمار کرتی ہے۔ یہ زلزلہ تان لو فالٹ نظام کے ساتھ آیا۔ فالٹ زمین کی تہوں میں موجود بڑی دراڑ کو کہتے ہیں جہاں چٹانیں حرکت کرسکتی ہیں۔ چونکہ اس دور میں سائنسی آلات موجود نہیں تھے، اس لیے ماہرین نے سرکاری تحریروں، عمارتوں کے گرنے، زمین میں تبدیلی اور متاثرہ علاقوں کی رپورٹوں سے اس کی شدت اور مقام کا اندازہ لگایا۔ انہی تاریخی ریکارڈز کی مدد سے آج بھی اس کے مرکز اور زمین پھٹنے کے ممکنہ راستے پر تحقیق جاری ہے۔ اس آفت میں انسانی اور تعمیراتی نقصان بہت بڑا تھا۔ علمی تحقیقات کے مطابق تقریباً 43 ہزار سے 50 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تانچینگ، جو کاؤنٹی، لینی اور آس پاس کی بستیوں میں شدید تباہی ہوئی، جبکہ جھٹکے ایک وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔ اس زمانے کے گھر، سرکاری عمارتیں، سڑکیں اور پانی کا نظام ایسی شدید زمینی حرکت برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ یہ واقعہ آج کے شہری منصوبہ سازوں کو یاد دلاتا ہے کہ بڑے زلزلے صرف سمندری کناروں یا زمینی پلیٹوں کی سرحدوں پر نہیں آتے۔ طویل خاموشی کسی علاقے کو محفوظ ثابت نہیں کرتی۔ اس سانحے کا عملی سبق یہ ہے کہ فعال فالٹ علاقوں کو نقشوں میں واضح کیا جائے، اہم عمارتوں کے لیے مضبوط حفاظتی معیار ہوں، پرانی عمارتوں کی جانچ اور مضبوطی کی جائے، جبکہ ہنگامی راستے اور کھلی جگہیں محفوظ رکھی جائیں۔ تاریخی ریکارڈ بھی شہری منصوبہ بندی کے لیے اہم ہیں، کیونکہ وہ ایسے خطرات سامنے لاتے ہیں جو حالیہ اعدادوشمار میں واضح نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں

دامغان - انسانی تاریخ کا مہلک ترین زلزلہ جس میں 2 لاکھ افراد ہلاک ہوۓ۔

آج سے تقریباً 1169 سال قبل، 22 دسمبر 856 عیسوی کو فارس کے شمالی علاقے قومس میں واقع شہر دامغان اور اس کے گردونواح میں ایک ایسا تباہ کن زلزلہ آیا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاریخی روایات اور معتبر حوالوں کے مطابق یہ زلزلہ اپنی شدت اور جانی نقصان کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ مورخین کے اندازوں کے مطابق اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر تقریباً 7.9 تھی، جبکہ جانی نقصان لگ بھگ دو لاکھ افراد تک بتایا جاتا ہے۔ اگرچہ نویں صدی میں باقاعدہ مردم شماری کا نظام موجود نہیں تھا، تاہم قدیم اسلامی اور فارسی تواریخ اس بات پر متفق ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔ اس دور میں دامغان عباسی خلافت کے زیرِ انتظام ایک اہم تجارتی مرکز اور قدیم ایران کا گنجان آباد شہر تھا۔ زلزلے کے نتیجے میں شہر کے بیشتر مکانات، مساجد، قلعے اور عوامی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، جبکہ متعدد قریبی بستیاں مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ مؤرخین کے مطابق زلزلے کے بعد کئی دن تک آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے، جس کے باعث زندہ بچ جانے والی آبادی شدید خوف، بدحالی اور عدم تحفظ کا شکار رہی۔ بعد کے ادوار میں جب جدید تاریخ نویسی اور سائنسی تحقیق کا آغاز ہوا (تقریباً 1880 تا 1930 عیسوی)، تو محققین نے قدیم قمری تاریخوں کو فلکیاتی حساب کے ذریعے عیسوی کیلنڈر میں منتقل کیا۔ اسی تحقیق کے نتیجے میں اس زلزلے کی تاریخ 22 دسمبر 856 عیسوی قرار دی گئی، جسے آج بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر قبول کیا جاتا ہے۔ دامغان کا یہ سانحہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں ایک گہری تبدیلی کی علامت بھی تھا۔ اس واقعے دامغان کے اس ہولناک زلزلے کے بعد اس خطے میں تعمیرات کے طریقوں اور بستیوں کے انتخاب پر ازسرِنو غور کیا گیا۔ پہاڑی علاقوں کے بجائے نسبتاً محفوظ میدانی خطوں کی تلاش شروع ہوئی، اور رہائش کے تصورات میں قدرتی آفات کو پہلی بار سنجیدگی سے لیا گیا۔

مزید پڑھیں