Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

25 July

Home

Select Date

2 Historical Event found for 25 July
1

25 جولائی 1668

چین میں 8.5 شدت کا تانچینگ زلزلہ، جس نے منصوبہ سازوں، ماہرین تعمیرات کی سوچ کو نئے رخ پر ڈال دیا

چین میں 8.5 شدت کا تانچینگ زلزلہ، جس نے منصوبہ سازوں، ماہرین تعمیرات کی سوچ کو نئے رخ پر ڈال دیا

25 جولائی 1668 کی شام موجودہ چینی صوبے شانڈونگ کے تانچینگ علاقے کے قریب ایک انتہائی طاقتور زلزلہ آیا۔ تاریخی زلزلہ ریکارڈ اس کا مرکز تقریباً 35 درجے شمالی عرض بلد اور 118.6 درجے مشرقی طول بلد کے قریب بتاتے ہیں، جبکہ اس کی اندازاً شدت 8.5 مقرر کی گئی ہے۔ جدید تحقیق اسے مشرقی چین کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ اور براعظم کے اندر آنے والے انتہائی طاقتور زلزلوں میں شمار کرتی ہے۔

یہ زلزلہ تان لو فالٹ نظام کے ساتھ آیا۔ فالٹ زمین کی تہوں میں موجود بڑی دراڑ کو کہتے ہیں جہاں چٹانیں حرکت کرسکتی ہیں۔ چونکہ اس دور میں سائنسی آلات موجود نہیں تھے، اس لیے ماہرین نے سرکاری تحریروں، عمارتوں کے گرنے، زمین میں تبدیلی اور متاثرہ علاقوں کی رپورٹوں سے اس کی شدت اور مقام کا اندازہ لگایا۔ انہی تاریخی ریکارڈز کی مدد سے آج بھی اس کے مرکز اور زمین پھٹنے کے ممکنہ راستے پر تحقیق جاری ہے۔

اس آفت میں انسانی اور تعمیراتی نقصان بہت بڑا تھا۔ علمی تحقیقات کے مطابق تقریباً 43 ہزار سے 50 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تانچینگ، جو کاؤنٹی، لینی اور آس پاس کی بستیوں میں شدید تباہی ہوئی، جبکہ جھٹکے ایک وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔ اس زمانے کے گھر، سرکاری عمارتیں، سڑکیں اور پانی کا نظام ایسی شدید زمینی حرکت برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔

یہ واقعہ آج کے شہری منصوبہ سازوں کو یاد دلاتا ہے کہ بڑے زلزلے صرف سمندری کناروں یا زمینی پلیٹوں کی سرحدوں پر نہیں آتے۔ طویل خاموشی کسی علاقے کو محفوظ ثابت نہیں کرتی۔

اس سانحے کا عملی سبق یہ ہے کہ فعال فالٹ علاقوں کو نقشوں میں واضح کیا جائے، اہم عمارتوں کے لیے مضبوط حفاظتی معیار ہوں، پرانی عمارتوں کی جانچ اور مضبوطی کی جائے، جبکہ ہنگامی راستے اور کھلی جگہیں محفوظ رکھی جائیں۔ تاریخی ریکارڈ بھی شہری منصوبہ بندی کے لیے اہم ہیں، کیونکہ وہ ایسے خطرات سامنے لاتے ہیں جو حالیہ اعدادوشمار میں واضح نہیں ہوتے۔

Views
2
2

25 جولائی 315 AD

روم میں آرچ آف کانسٹنٹائن کا افتتاح، تعمیرات کو شاہی یادداشت میں بدل دیا گیا

روم میں آرچ آف کانسٹنٹائن کا افتتاح، تعمیرات کو شاہی یادداشت میں بدل دیا گیا

25 جولائی 315ء کو روم میں آرچ آف کانسٹنٹائن کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ رومی سینیٹ نے یہ یادگار شہنشاہ کانسٹنٹائن کی 312 میں میلویئن پل کی جنگ میں میکسینٹیئس کے خلاف فتح کی یاد میں بنوائی تھی۔ اس موقع کا تعلق کانسٹنٹائن کی حکومت کے دسویں سال کے آغاز سے بھی تھا۔ کولوزیم کے قریب قدیم شاہی جلوسوں کے راستے پر کھڑی یہ محراب صرف ایک دروازہ نہیں بلکہ طاقت، فتح اور حکومت کی قانونی حیثیت کا عوامی اعلان بھی تھی۔

اس عمارت کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی بہت سی پتھروں پر کی گئی سجاوٹ پہلے سے موجود رومی یادگاروں سے لی گئی۔ ٹریجن، ہیڈرین اور مارکس اوریلیئس کے زمانے کے نقش و نگار، مجسمے اور سنگی تختیاں نئی ترتیب کے ساتھ محراب میں نصب کی گئیں۔ بعض پرانے شہنشاہوں کے چہروں کو بھی بدل کر کانسٹنٹائن سے مشابہ بنایا گیا۔ یوں پہلے دور کی عمارتوں کے حصوں کو ایک نئی سیاسی کہانی سنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس عمل سے قیمتی رومی فن محفوظ بھی ہوگیا، لیکن اس کے اصل مطلب میں تبدیلی بھی آگئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ محراب دکھاتی ہے کہ ایک عمارت وقت کے ساتھ کئی معنی اختیار کرسکتی ہے۔ جو تعمیر پہلے شاہی تشہیر کے لیے بنائی گئی، وہ بعد میں تاریخی ثبوت، سیاحتی مقام اور محفوظ ثقافتی ورثہ میں بدل گئی۔

آج آرچ آف کانسٹنٹائن قدیم روم کی سب سے بڑی محفوظ اعزازی محراب سمجھی جاتی ہے۔ اس کی دیکھ بھال میں سنگ مرمر، نقش و نگار اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ جدید شہروں کے لیے اس کا سبق واضح ہے: عمارتیں صرف پتھر نہیں ہوتیں، وہ طاقت، اجتماعی یادداشت اور شہر کی شناخت بھی بناتی ہیں۔

Views
2

مزید خبریں "On This Date" سے

news
بیک بے ریکلیمیشن منصوبہ سمندر سے حاصل ہونے والی زمین کی لاگت اور قیمت پر بمبئی اسمبلی میں بحث

بمبئی میں آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے، اس وقت کے بمبئی کے اہم انگریزی اخبارات The Times of India، Bombay Chronicle اور The Bombay میں یہ خبر 16 جنوری 1926 کو شا...

مزید پڑھیں
news
23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے دیہی علاقوں میں شاملات اراضی کی ملکیت کا قانون نافذ کر دیا گیا

23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان نے پنجاب اراضی تصرفات تحفظِ شاملات آرڈیننس 1959 (Punjab Land Dispositions Saving of Shamil...

مزید پڑھیں
news
ہانگ کانگ کے بینک آف چائنا ٹاور نے تعمیر کا تاریخی سنگ میل عبور کیا، جو بعد ازاں ایشیا کی بلند ترین عمارت بن گیا

ہانگ کانگ کی مشہور کمرشل عمارت بینک آف چائنا ٹاور کی تعمیر ایک اہم مرحلے میں داخل ہوئی جب اس کی ٹاپنگ آؤٹ تقریب منعقد کی گئی۔ بعد ازاں یہ عمارت نہ صرف ہانگ کانگ...

مزید پڑھیں
news
پہلے قومی بلڈنگ کوڈ کے معیارات قائم ہوئے

20 اکتوبر 1901 کو ملک بھر میں تعمیرات کے لیے پہلی جامع قومی بلڈنگ کوڈ کے معیارات قائم کیے گئے، جنہوں نے تعمیراتی قوانین کو یکساں شکل دی۔ اس تاریخی قانون سازی می...

مزید پڑھیں
news
ہوبوکن اراضی و ترقیاتی کمپنی کی عمارت تاریخی فہرست میں شامل

3 جولائی 1979 کو امریکی ریاست نیو جرسی میں واقع ہوبوکن اراضی و ترقیاتی کمپنی کی عمارت کو قومی فہرست برائے تاریخی مقامات میں شامل کیا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے عمار...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں