From Real Estate History
3 Historical Event found
4 اکتوبر 1869 کو ماسکو میں روس کے معروف انجینئر اور معمار ایوان ایوانووچ رَیربرگ پیدا ہوئے، جن کے ڈیزائن اور تعمیراتی کام نے بعد میں روسی دارالحکومت کے شہری منظرنامے پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔ رَیربرگ کا شمار 19 ویں صدی کے اختتام اور 20 ویں صدی کے ابتدائی عشروں کے ان روسی انجینئرز اور معماروں میں ہوتا ہے جنہوں نے روایتی فن تعمیر کو جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی اور شہری ضروریات کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان سے وابستہ ماسکو کی نمایاں عمارتوں میں کیفسکی ریلوے ٹرمینل اور سینٹرل ٹیلی گراف شامل ہیں، جبکہ انہوں نے کریملن کی ایک اہم انتظامی عمارت کے منصوبے پر بھی کام کیا۔ رَیربرگ انجینئرز کے ایک خاندان کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 1896 میں سینٹ پیٹرزبرگ کی فوجی انجینئرنگ اکیڈمی سے تعلیم مکمل کی اور اپنے پیشہ ورانہ سفر کے دوران عمارتوں کے ڈھانچوں میں جدید تعمیراتی طریقوں کے استعمال پر خصوصی توجہ دی۔ کیفسکی ریلوے ٹرمینل ان کے نمایاں ترین منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماسکو کے اہم ریلوے مراکز میں شامل اس عمارت نے بڑے عوامی بنیادی ڈھانچے اور شہری فن تعمیر کو یکجا کیا اور وقت کے ساتھ شہر کی تعمیراتی شناخت کا حصہ بن گئی۔ ان کے بعد کے اہم منصوبوں میں ماسکو کی تورسکایا سٹریٹ پر واقع سینٹرل ٹیلی گراف کی عمارت بھی شامل ہے، جو 1925 سے 1927 کے دوران تعمیر ہوئی۔ اس عمارت میں مضبوط کنکریٹ کے ڈھانچے اور کشادہ اندرونی جگہوں جیسے اس دور کے نسبتاً جدید تعمیراتی تصورات استعمال کیے گئے۔ رَیربرگ کے کام میں انجینئرنگ، عملی ضرورت اور فن تعمیر کا امتزاج نمایاں تھا۔ ان کی عمارتوں میں اپنے دور کی جدید دھاتی اور مضبوط کنکریٹ تعمیرات کو روسی کلاسیکی فن تعمیر کے عناصر کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ ایوان رَیربرگ 1932 میں ماسکو میں انتقال کرگئے، تاہم ان سے وابستہ کئی عمارتیں آج بھی روسی دارالحکومت کے تعمیراتی ورثے اور شہری تاریخ کا حصہ ہیں۔ 4 اکتوبر 1869 کو ان کی پیدائش روسی تعمیراتی تاریخ میں ایک ایسے انجینئر اور معمار کی آمد کی علامت بنی جس کے منصوبوں نے ماسکو کے بدلتے ہوئے شہری منظرنامے میں مستقل جگہ بنائی۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ماسکو میں منعقدہ اپنے 112ویں اجلاس کے دوران چین کے دارالحکومت بیجنگ کو 2008 کے موسم گرما کے اولمپک مقابلوں کی میزبانی کیلئے منتخب کیا۔ یہ فیصلہ بیجنگ کی جدید شہری ترقی اور تعمیراتی ماحول کیلئے ایک اہم تاریخی موڑ ثابت ہوا۔ اولمپکس کی میزبانی ملنے کے بعد بیجنگ کے وسیع علاقوں کی ازسرنو ترقی کا عمل تیز ہوگیا۔ خصوصاً نئے اولمپک گرین کے اطراف کھیلوں کے میدانوں، رہائشی عمارتوں، تجارتی سہولتوں، عوامی مقامات اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔ اولمپک ضلع کے اردگرد موجود زمین کو جامع منصوبہ بندی کے ذریعے ایک نئے شہری علاقے میں تبدیل کیا گیا۔ بیجنگ نیشنل سٹیڈیم، جسے برڈز نیسٹ کہا جاتا ہے، نیشنل ایکواٹکس سینٹر اور اولمپک ولیج جیسے نمایاں منصوبوں نے اس علاقے کی شناخت اور ملحقہ جائیدادوں کی ترقیاتی اہمیت میں اضافہ کیا۔ اولمپک مقابلوں نے بیجنگ کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بھی تیز کیا۔ زیرِ زمین ریل کے نظام کو وسعت دی گئی، سڑکوں اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنایا گیا، ہوائی اڈے کو جدید بنایا گیا اور رہائشی، تجارتی اور اولمپک علاقوں کے درمیان عوامی نقل و حمل کے رابطے مضبوط کیے گئے۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے ساتھ شہر کے توانائی کے نظام، حرارتی سہولتوں، صنعتی علاقوں اور ماحولیاتی بنیادی ڈھانچے میں بھی نمایاں اصلاحات کی گئیں۔ ان اقدامات نے بیجنگ کے متعدد علاقوں کی جسمانی اور شہری ساخت کو نئی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطۂ نظر سے 13 جولائی 2001 کا فیصلہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ ایک عالمی کھیلوں کا مقابلہ کس طرح زمین کے استعمال کو تبدیل، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو تیز اور نئے رہائشی، تجارتی اور مخلوط استعمال کے شہری علاقے تشکیل دے سکتا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر ہونے والی تعمیرِ نو، عمارتوں کے انہدام اور بعض رہائشیوں کی منتقلی پر بحث بھی سامنے آئی، جس نے شہری ترقی کے ساتھ رہائشی اور سماجی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
مزید پڑھیں
1969: جدید تعمیرات، شہری منصوبہ بندی اور رئیل اسٹیٹ ڈیزائن کی تاریخ کی ایک غیر معمولی شخصیت والٹر گروپیئس کا انتقال ہوا۔ گروپیئس جرمن نژاد معمار، شہری ڈیزائنر اور مشہور باہاؤس سکول کے بانی تھے، جس نے بیسویں صدی میں عمارت سازی کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ باہاؤس کا نظریہ یہ تھا کہ عمارت صرف ظاہری خوبصورتی کے لیے نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے انسان کی عملی ضرورت، روشنی، ہوا، سادگی، کم لاگت، پائیداری اور مؤثر استعمال کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جانا چاہیے۔ یہی سوچ بعد میں جدید اپارٹمنٹس، دفاتر، تعلیمی اداروں، صنعتی عمارتوں اور شہری رہائشی منصوبوں میں نمایاں ہوئی۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے والٹر گروپیئس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ انہوں نے عمارت کو محض زمین، دیواروں اور چھت کا مجموعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے بہتر طرزِ زندگی، سماجی ترقی اور شہری سہولت کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے نظریات نے دنیا بھر میں planned communities، جدید ہاؤسنگ سکیموں، کھلے اندرونی حصوں، شفاف شیشے والی عمارتوں اور functional architecture کو فروغ دیا۔ آج بھی دنیا کے کئی شہروں میں جدید اپارٹمنٹ بلاکس، دفاتر، یونیورسٹی کیمپس اور رہائشی منصوبے باہاؤس کے اصولوں سے متاثر نظر آتے ہیں۔ 5 جولائی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رئیل اسٹیٹ صرف خرید و فروخت یا تعمیرات کا شعبہ نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی، شہری ثقافت اور مستقبل کے رہن سہن کو تشکیل دینے والی قوت بھی ہے۔
مزید پڑھیں