Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

منصوبہ بندی، فنِ تعمیر اور ہیومن ڈیزائن

منصوبہ بندی، فنِ تعمیر اور ہیومن ڈیزائن banner

17 Historical Event found

1869: ماسکو کی شناخت بدلنے والے معمار ایوان رَیربرگ پیدا ہوئے

4 اکتوبر 1869 کو ماسکو میں روس کے معروف انجینئر اور معمار ایوان ایوانووچ رَیربرگ پیدا ہوئے، جن کے ڈیزائن اور تعمیراتی کام نے بعد میں روسی دارالحکومت کے شہری منظرنامے پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔ رَیربرگ کا شمار 19 ویں صدی کے اختتام اور 20 ویں صدی کے ابتدائی عشروں کے ان روسی انجینئرز اور معماروں میں ہوتا ہے جنہوں نے روایتی فن تعمیر کو جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی اور شہری ضروریات کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان سے وابستہ ماسکو کی نمایاں عمارتوں میں کیفسکی ریلوے ٹرمینل اور سینٹرل ٹیلی گراف شامل ہیں، جبکہ انہوں نے کریملن کی ایک اہم انتظامی عمارت کے منصوبے پر بھی کام کیا۔ رَیربرگ انجینئرز کے ایک خاندان کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 1896 میں سینٹ پیٹرزبرگ کی فوجی انجینئرنگ اکیڈمی سے تعلیم مکمل کی اور اپنے پیشہ ورانہ سفر کے دوران عمارتوں کے ڈھانچوں میں جدید تعمیراتی طریقوں کے استعمال پر خصوصی توجہ دی۔ کیفسکی ریلوے ٹرمینل ان کے نمایاں ترین منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماسکو کے اہم ریلوے مراکز میں شامل اس عمارت نے بڑے عوامی بنیادی ڈھانچے اور شہری فن تعمیر کو یکجا کیا اور وقت کے ساتھ شہر کی تعمیراتی شناخت کا حصہ بن گئی۔ ان کے بعد کے اہم منصوبوں میں ماسکو کی تورسکایا سٹریٹ پر واقع سینٹرل ٹیلی گراف کی عمارت بھی شامل ہے، جو 1925 سے 1927 کے دوران تعمیر ہوئی۔ اس عمارت میں مضبوط کنکریٹ کے ڈھانچے اور کشادہ اندرونی جگہوں جیسے اس دور کے نسبتاً جدید تعمیراتی تصورات استعمال کیے گئے۔ رَیربرگ کے کام میں انجینئرنگ، عملی ضرورت اور فن تعمیر کا امتزاج نمایاں تھا۔ ان کی عمارتوں میں اپنے دور کی جدید دھاتی اور مضبوط کنکریٹ تعمیرات کو روسی کلاسیکی فن تعمیر کے عناصر کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ ایوان رَیربرگ 1932 میں ماسکو میں انتقال کرگئے، تاہم ان سے وابستہ کئی عمارتیں آج بھی روسی دارالحکومت کے تعمیراتی ورثے اور شہری تاریخ کا حصہ ہیں۔ 4 اکتوبر 1869 کو ان کی پیدائش روسی تعمیراتی تاریخ میں ایک ایسے انجینئر اور معمار کی آمد کی علامت بنی جس کے منصوبوں نے ماسکو کے بدلتے ہوئے شہری منظرنامے میں مستقل جگہ بنائی۔

مزید پڑھیں

2006 : پاکستان کو ہاؤسنگ پروگرام کیلئے عالمی اعزاز ملا

2 اکتوبر 2006 کو اٹلی کے شہر نیپلز میں ہونے والی عالمی یومِ رہائش کی تقریب میں پاکستان کے آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروس (AKPBS) کے بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن امپروومنٹ پروگرام (BACIP) کو 2006 کا ورلڈ ہیبی ٹیٹ ایوارڈ دیا گیا۔ شہزادی زہرا آغا خان نے یہ اعزاز پاکستان کی جانب سے وصول کیا۔ یہ ایوارڈ پاکستان میں بہتر، محفوظ اور کم لاگت رہائش کے فروغ کیلئے BACIP کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ مذکورہ پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے بالخصوص شمالی اور دور دراز علاقوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کے گھروں کو زیادہ محفوظ، صحت مند اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر بنانا تھا۔ پروگرام کے تحت ایسے تعمیراتی طریقے اور گھریلو مصنوعات متعارف کرائی گئیں جنہیں مقامی حالات اور لوگوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا۔ ان میں ایندھن کی بچت کرنے والے چولہے، گھروں کی موصلیت، پانی گرم کرنے کے نظام، وینٹیلیشن اور دیگر کم لاگت حل شامل تھے۔ 2006 تک BACIP نے 60 سے زیادہ کم لاگت مصنوعات اور تعمیراتی حل تیار کیے تھے، جن میں زلزلہ مزاحم اور توانائی و وسائل کی بچت کرنے والے طریقے بھی شامل تھے۔ اس وقت تک 15 ہزار سے زائد توانائی بچانے والی مصنوعات تقریباً 7 ہزار گھرانوں میں نصب کی جا چکی تھیں، جن سے 50 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوئے۔ اس پروگرام کی اہمیت صرف گھروں کی تعمیر تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے پاکستان کے تعمیراتی شعبے میں مقامی ضروریات، ماحولیاتی پائیداری اور قدرتی آفات سے تحفظ کو بھی اہمیت دی۔ آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروس کا کام رہائشی ڈیزائن اور تعمیرات کے ساتھ ساتھ دیہی منصوبہ بندی، قدرتی خطرات سے بچاؤ، پانی و نکاسی آب اور تعمیراتی معیار میں بہتری جیسے شعبوں تک پھیلا ہوا تھا۔ ورلڈ ہیبی ٹیٹ ایوارڈ ایسے منصوبوں کو دیا جاتا ہے جو رہائش کے موجودہ مسائل کے عملی، اختراعی اور پائیدار حل پیش کریں اور جنہیں مختلف علاقوں میں اپنایا جا سکے۔ 2006 میں BACIP کے ساتھ جنوبی افریقہ کی ہاؤسنگ کمپنی کو بھی یہ اعزاز دیا گیا۔ پاکستان کیلئے یہ اعزاز اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اس سے پہلے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ 2001 میں ورلڈ ہیبی ٹیٹ ایوارڈ حاصل کر چکا تھا۔ یوں BACIP پاکستان کا یہ اعزاز حاصل کرنے والا دوسرا ادارہ بنا۔ 2 اکتوبر 2006 کا یہ واقعہ پاکستان میں ہاؤسنگ کی تاریخ کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جب رہائشی ترقی کو صرف نئے گھروں کی تعمیر کے بجائے محفوظ تعمیرات، توانائی کی بچت، مقامی تعمیراتی ٹیکنالوجی اور کم آمدنی والے خاندانوں کے معیارِ زندگی سے جوڑنے پر توجہ دی جا رہی تھی۔

مزید پڑھیں

بیجنگ میں ایشین گیمز، چین کے جدید انفراسٹرکچر اور تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز

22 ستمبر 1990 کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں 11ویں ایشین گیمز کا آغاز ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب چین نے ایشیا کے سب سے بڑے کثیرالملکی کھیلوں کے مقابلے کی میزبانی کی۔ چینی سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس ایونٹ نے چین کی اصلاحات اور کھلے پن کے دور میں بیجنگ کی بدلتی ہوئی شہری شناخت کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔ ایشین گیمز کی میزبانی محض کھیلوں کا عالمی اجتماع نہیں تھی بلکہ اس کے لیے بیجنگ میں کھیلوں کے مراکز، رہائشی سہولتوں، سڑکوں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کی تیاری بھی کی گئی۔ بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی عموماً میزبان شہروں میں تعمیراتی سرگرمیوں اور شہری منصوبہ بندی کے نئے مرحلوں کو جنم دیتی ہے، اور 1990 کے ایشین گیمز نے بھی بیجنگ کی شہری ترقی کے سفر میں ایک نمایاں مرحلے کی حیثیت اختیار کی۔ اس وقت چین تیزی سے معاشی اصلاحات اور بیرونی دنیا کے ساتھ روابط بڑھانے کے مرحلے میں تھا۔ بیجنگ میں بین الاقوامی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی نے شہر کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے ساتھ شہری سہولتوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو بھی نئی اہمیت دی۔ 1990 کے ایشین گیمز کو بعد میں بیجنگ کی بین الاقوامی تقریبات کی میزبانی کی صلاحیت کے ابتدائی بڑے مظاہر میں شمار کیا گیا۔ دو دہائیوں سے بھی کم عرصے بعد یہی شہر 2008 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرنے والا تھا، جس نے بیجنگ کے شہری منظرنامے کو مزید تبدیل کیا۔

مزید پڑھیں

سنگاپور میں نگی این سٹی کا افتتاح، سابق قبرستان کی زمین پر 520 ملین ڈالر کا تجارتی منصوبہ وجود میں آیا

21 ستمبر 1993 کو سنگاپور کے معروف آرچرڈ روڈ پر نگی این سٹی کا باضابطہ افتتاح ہوا، جو بعد میں شہر کے نمایاں تجارتی اور خریداری مراکز میں شمار ہونے لگا۔ یہ منصوبہ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ جس زمین پر یہ وسیع تجارتی مرکز تعمیر کیا گیا، وہ اس سے پہلے تائی شان ٹنگ نامی قبرستان کا حصہ تھی اور نگی این کونگسی کی ملکیت و انتظام میں تھی۔ بعد ازاں اس زمین کے استعمال میں کئی مراحل کے ذریعے تبدیلی آئی اور بالآخر اسے ایک بڑے تجارتی و دفتری منصوبے میں تبدیل کیا گیا۔ نگی این سٹی کی ترقی کا تصور 1967 کے آس پاس زیر غور آیا، تاہم منصوبے کو عملی شکل دینے میں کئی دہائیاں لگیں۔ اس دوران زمین کی ملکیت، ترقیاتی حقوق اور سرکاری حصول سمیت مختلف معاملات سامنے آئے۔ 1983 میں سنگاپور حکومت نے زمین کے ایک حصے کو حاصل کیا، جس کے بعد ترقی کیلئے دستیاب رقبہ تقریباً 28 ہزار 322 مربع میٹر رہ گیا۔ تعمیراتی کام 1989 میں شروع ہوا اور تقریباً چار سال بعد منصوبہ مکمل ہوا۔ تقریباً 520 ملین سنگاپور ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے اس منصوبے کو معمار ریمنڈ وو نے ڈیزائن کیا، جبکہ اس میں تجارتی اور دفتری استعمال کو ایک ہی بڑے منصوبے میں یکجا کیا گیا۔ نگی این سٹی میں سات منزلوں پر وسیع خریداری اور خوراک سے متعلق سہولیات جبکہ بالائی حصوں میں دفتری جگہیں شامل کی گئیں۔ منصوبے کا مجموعی رقبہ تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار مربع فٹ بتایا گیا ہے۔ افتتاح کے موقع پر سنگاپور کے اُس وقت کے وزیر اعظم گو چوک ٹونگ نے خطاب کیا۔ نگی این سٹی کی تاریخ شہری زمین کے بدلتے استعمال کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں ایک سابق تدفینی مقام پہلے تعمیر شدہ عمارت میں تبدیل ہوا اور پھر اسی جگہ ایک بڑے تجارتی مرکز نے جنم لیا۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ بڑے شہروں میں محدود اور قیمتی زمین کس طرح مختلف ادوار میں نئی معاشی اور شہری ضروریات کے مطابق دوبارہ ترقی پاتی ہے۔ آرچرڈ روڈ پر اس منصوبے نے تجارتی سرگرمیوں کو مزید تقویت دی اور سنگاپور کے جدید شہری منظرنامے میں ایک مستقل شناخت قائم کی۔

مزید پڑھیں

سنگاپور نے پنگول کو پانیوں کے کنارے جدید رہائشی شہر بنانے کا منصوبہ پیش کیا

19 اگست 2007 کو سنگاپور کی شہری اور رئیل اسٹیٹ تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا، جب اس وقت کے وزیراعظم لی ہسین لونگ نے اپنے قومی خطاب میں پنگول 21 پلس منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا مقصد پنگول کو محض نئی رہائشی عمارتوں کے علاقے کے بجائے ایک ایسے جدید اور مکمل شہری قصبے میں تبدیل کرنا تھا جہاں گھر، پانی، سبزہ، آمدورفت، کاروبار اور تفریح ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔ پنگول سنگاپور کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس علاقے کو جدید رہائشی قصبے میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی اس سے پہلے بھی کی گئی تھی۔ 1990 کی دہائی میں پنگول 21 کے نام سے ایک بڑا منصوبہ سامنے آیا، لیکن 1997 کے ایشیائی مالی بحران کے بعد سنگاپور کی جائیداد اور رہائش کی مارکیٹ متاثر ہوئی، گھروں کی طلب میں کمی آئی اور پنگول کی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ گئی۔ تقریباً ایک دہائی بعد حکومت نے پنگول کو نئے انداز میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔ پنگول 21 پلس اسی کوشش کا نیا اور زیادہ جامع مرحلہ تھا۔ اس بار توجہ صرف زیادہ گھر بنانے پر نہیں تھی بلکہ یہ سوچ سامنے رکھی گئی کہ ایک اچھے رہائشی علاقے میں گھر کے ساتھ بہتر ماحول اور روزمرہ زندگی کی ضروری سہولتیں بھی موجود ہونی چاہئیں۔ 4.2 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہ اس منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت تقریباً 4.2 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہ تھی۔ اس کا مقصد پنگول اور سیرانگون کے آبی علاقوں کو جوڑنے کے ساتھ پنگول کے اندر پانی کو شہری زندگی کا اہم حصہ بنانا تھا۔ اس آبی گزرگاہ کے دونوں جانب رہائشی منصوبوں کے ساتھ پارک، سبز مقامات، پیدل راستے، سائیکل ٹریک، تفریحی سہولتیں، دکانیں، کھانے پینے کے مقامات اور عوامی استعمال کی دوسری سہولتیں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ یہ سوچ اس وقت خاص اہمیت رکھتی تھی کیونکہ روایتی شہری ترقی میں پہلے عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں اور دوسری سہولتیں بعد میں شامل ہوتی تھیں۔ پنگول میں کوشش کی گئی کہ رہائش اور شہری ماحول کو ایک ہی منصوبے کا حصہ سمجھا جائے۔ منصوبے سے حقیقت تک اعلان کے بعد منصوبہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہا۔ 2009 میں پنگول آبی گزرگاہ کی تعمیر شروع ہوئی اور 2011 میں اسے کھول دیا گیا۔ اس کے کنارے رہائشی منصوبوں نے بھی پنگول کی نئی شناخت بنانا شروع کردی۔ واٹر وے ٹیریسز جیسے سرکاری رہائشی منصوبوں میں پانی کے نظارے، سبز ماحول اور ماحول دوست تعمیراتی خصوصیات کو اہمیت دی گئی۔ وقت کے ساتھ پنگول میں سکولوں، دکانوں، ٹرانسپورٹ، تفریح اور دوسری شہری سہولتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں ایک ایسا علاقہ جو کبھی نسبتاً دور اور کم ترقی یافتہ سمجھا جاتا تھا، نئی نسل کے خاندانوں کیلئے ایک جدید رہائشی مقام بنتا چلا گیا۔ آبادی میں نمایاں اضافہ پنگول کی تبدیلی کا اندازہ اس کی بڑھتی ہوئی آبادی سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ سنگاپور کی نیشنل لائبریری میں درج اعداد و شمار کے مطابق 2007 میں پنگول کی آبادی تقریباً 52 ہزار 700 تھی، جو مارچ 2013 تک بڑھ کر تقریباً 83 ہزار 300 ہوگئی۔ یعنی صرف چند برسوں میں یہاں رہنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اس بات کی علامت تھا کہ نئی رہائش کے ساتھ بہتر شہری ماحول اور سہولتیں لوگوں کو علاقے کی طرف متوجہ کر رہی تھیں۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں پنگول کی اصل اہمیت صرف ہزاروں نئے گھر تعمیر کرنے میں نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی کے ایک مختلف تصور میں ہے۔ پنگول نے دکھایا کہ کسی علاقے کی کشش صرف عمارتوں، پلاٹوں یا گھروں کی تعداد سے نہیں بنتی۔ اگر رہائش کے ساتھ پانی، سبزہ، پارک، پیدل اور سائیکلنگ کے راستے، پبلک ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیاں اور تفریحی سہولتیں منظم انداز میں فراہم کی جائیں تو پورے علاقے کی شہری شناخت بدل سکتی ہے۔ اس ماڈل میں پانی کو شہر سے الگ رکھنے کے بجائے شہری زندگی کا حصہ بنایا گیا۔ گھروں کو آبی گزرگاہ، پارکوں اور عوامی مقامات کے قریب رکھا گیا تاکہ رہائشیوں کو بہتر ماحول کے ساتھ روزمرہ سہولتیں بھی دستیاب ہوں۔ ایک اعلان جس نے علاقے کی شناخت بدل دی 19 اگست 2007 کا پنگول 21 پلس اعلان اس لیے رئیل اسٹیٹ تاریخ کا قابل ذکر واقعہ ہے کہ اس نے ایک نسبتاً سست رفتار رہائشی منصوبے کو دوبارہ زندہ کرکے ایک وسیع شہری تصور میں تبدیل کردیا۔ پنگول کی کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ کامیاب رئیل اسٹیٹ ترقی صرف مکان بنانے کا نام نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت آتی ہے جب مکان کے ساتھ رہنے کے قابل پورا شہر بنایا جائے۔ آج پنگول سنگاپور کی اسی منصوبہ بندی کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں پانی، سبزہ، رہائش اور شہری سہولتوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک نئی شہری شناخت پیدا کی گئی۔ 19 اگست 2007 کا اعلان دراصل اس بڑی تبدیلی کا نقطۂ آغاز تھا۔

مزید پڑھیں

اولمپکس کی میزبانی ملنے سے بیجنگ میں تاریخی شہری اور رئیل اسٹیٹ تبدیلی کا آغاز

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ماسکو میں منعقدہ اپنے 112ویں اجلاس کے دوران چین کے دارالحکومت بیجنگ کو 2008 کے موسم گرما کے اولمپک مقابلوں کی میزبانی کیلئے منتخب کیا۔ یہ فیصلہ بیجنگ کی جدید شہری ترقی اور تعمیراتی ماحول کیلئے ایک اہم تاریخی موڑ ثابت ہوا۔ اولمپکس کی میزبانی ملنے کے بعد بیجنگ کے وسیع علاقوں کی ازسرنو ترقی کا عمل تیز ہوگیا۔ خصوصاً نئے اولمپک گرین کے اطراف کھیلوں کے میدانوں، رہائشی عمارتوں، تجارتی سہولتوں، عوامی مقامات اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔ اولمپک ضلع کے اردگرد موجود زمین کو جامع منصوبہ بندی کے ذریعے ایک نئے شہری علاقے میں تبدیل کیا گیا۔ بیجنگ نیشنل سٹیڈیم، جسے برڈز نیسٹ کہا جاتا ہے، نیشنل ایکواٹکس سینٹر اور اولمپک ولیج جیسے نمایاں منصوبوں نے اس علاقے کی شناخت اور ملحقہ جائیدادوں کی ترقیاتی اہمیت میں اضافہ کیا۔ اولمپک مقابلوں نے بیجنگ کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بھی تیز کیا۔ زیرِ زمین ریل کے نظام کو وسعت دی گئی، سڑکوں اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنایا گیا، ہوائی اڈے کو جدید بنایا گیا اور رہائشی، تجارتی اور اولمپک علاقوں کے درمیان عوامی نقل و حمل کے رابطے مضبوط کیے گئے۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے ساتھ شہر کے توانائی کے نظام، حرارتی سہولتوں، صنعتی علاقوں اور ماحولیاتی بنیادی ڈھانچے میں بھی نمایاں اصلاحات کی گئیں۔ ان اقدامات نے بیجنگ کے متعدد علاقوں کی جسمانی اور شہری ساخت کو نئی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطۂ نظر سے 13 جولائی 2001 کا فیصلہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ ایک عالمی کھیلوں کا مقابلہ کس طرح زمین کے استعمال کو تبدیل، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو تیز اور نئے رہائشی، تجارتی اور مخلوط استعمال کے شہری علاقے تشکیل دے سکتا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر ہونے والی تعمیرِ نو، عمارتوں کے انہدام اور بعض رہائشیوں کی منتقلی پر بحث بھی سامنے آئی، جس نے شہری ترقی کے ساتھ رہائشی اور سماجی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں

والٹر گروپیئس کا انتقال، وہ معمار جس نے جدید رئیل اسٹیٹ، رہائشی منصوبہ بندی اور شہری ڈیزائن کو نئی سوچ دی.

1969: جدید تعمیرات، شہری منصوبہ بندی اور رئیل اسٹیٹ ڈیزائن کی تاریخ کی ایک غیر معمولی شخصیت والٹر گروپیئس کا انتقال ہوا۔ گروپیئس جرمن نژاد معمار، شہری ڈیزائنر اور مشہور باہاؤس سکول کے بانی تھے، جس نے بیسویں صدی میں عمارت سازی کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ باہاؤس کا نظریہ یہ تھا کہ عمارت صرف ظاہری خوبصورتی کے لیے نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے انسان کی عملی ضرورت، روشنی، ہوا، سادگی، کم لاگت، پائیداری اور مؤثر استعمال کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جانا چاہیے۔ یہی سوچ بعد میں جدید اپارٹمنٹس، دفاتر، تعلیمی اداروں، صنعتی عمارتوں اور شہری رہائشی منصوبوں میں نمایاں ہوئی۔ رئیل اسٹیٹ کے نقطہ نظر سے والٹر گروپیئس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ انہوں نے عمارت کو محض زمین، دیواروں اور چھت کا مجموعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے بہتر طرزِ زندگی، سماجی ترقی اور شہری سہولت کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے نظریات نے دنیا بھر میں planned communities، جدید ہاؤسنگ سکیموں، کھلے اندرونی حصوں، شفاف شیشے والی عمارتوں اور functional architecture کو فروغ دیا۔ آج بھی دنیا کے کئی شہروں میں جدید اپارٹمنٹ بلاکس، دفاتر، یونیورسٹی کیمپس اور رہائشی منصوبے باہاؤس کے اصولوں سے متاثر نظر آتے ہیں۔ 5 جولائی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رئیل اسٹیٹ صرف خرید و فروخت یا تعمیرات کا شعبہ نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی، شہری ثقافت اور مستقبل کے رہن سہن کو تشکیل دینے والی قوت بھی ہے۔

مزید پڑھیں

فرانس میں "عمودی بستی" نامی ہاوسنگ پراجیکٹ متعارف کرایا گیا

2 جولائی کو فرانس کے شہر ریزے، نانت کے قریب معروف معمار لی کوربوزیے کے ڈیزائن کردہ اہم اجتماعی رہائشی منصوبے “La Maison Radieuse” کا افتتاح کیا گیا۔ یہ عمارت جدید رہائشی منصوبہ بندی کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے، کیونکہ یہ لی کوربوزیے کے مشہور Unité d’Habitation تصور کی دوسری بڑی مثال تھی۔ اس منصوبے میں 294 رہائشی یونٹس شامل کیے گئے، جنہیں اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا کہ رہائش، سہولت، روشنی، ہوا اور کمیونٹی لائف ایک ہی عمارت کے اندر منظم شکل میں دستیاب ہو سکے۔ La Maison Radieuse کو ایک “عمودی بستی” کے تصور پر تیار کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد صرف فلیٹس تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا رہائشی ماحول فراہم کرنا تھا جہاں لوگ ایک جدید شہری کمیونٹی کے طور پر زندگی گزار سکیں۔ عمارت کو کھلی جگہ، سبز ماحول، قدرتی روشنی، بہتر وینٹی لیشن اور اجتماعی سہولیات کے ساتھ جوڑا گیا، جو اس دور کے روایتی رہائشی تصورات سے کافی مختلف تھا۔ یہ منصوبہ جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ میں پیدا ہونے والی رہائشی ضروریات کے پس منظر میں بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں شہروں کو تیزی سے بڑھتی آبادی، کم لاگت رہائش اور منظم شہری ترقی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ لی کوربوزیے نے اس عمارت کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ بلند و بالا رہائشی عمارتیں صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک مکمل شہری نظام کا حصہ بھی بن سکتی ہیں۔ اس عمارت کی ایک خاص بات اس کی چھت پر قائم سکول اور مشترکہ سہولیات بھی ہیں، جو رہائشی زندگی کو سماجی اور تعلیمی ضروریات سے جوڑتی ہیں۔ آج بھی La Maison Radieuse آباد ہے اور اس کا rooftop school فعال ہے، جو اسے جدید رئیل اسٹیٹ، اجتماعی رہائش اور شہری منصوبہ بندی کی تاریخ میں ایک زندہ مثال بناتا ہے۔

مزید پڑھیں

اسلام آباد شہر کے ماسٹر پلان میں سنگین انحرافات ، وفاق نے 2002 میں مکمل جائزے کا حکم دیا

4 دسمبر 2002 کو وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے 1960 ماسٹر پلان کے پہلے جامع تکنیکی ریویو کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آبادی کے تیز اضافے، بے قابو کمرشلائزیشن اور سرکاری و نجی تعمیرات نے ماسٹر پلان کو بنیادی طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ اصل لینڈ یوز اور گرین ایریاز بھی نمایاں حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں ماسٹر پلان کی بحالی، گرین زونز کے تحفظ اور زوننگ قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے جامع ری انجینئرنگ اسٹڈی کی ضرورت پر زور دیا گیا اور سی ڈی اے کو بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے تکنیکی ریویو شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسلام آباد کے 1960 ماسٹر پلان میں جو مصدقہ تبدیلیاں اور انحرافات ریکارڈ پر آئے، ان کا خلاصہ ذیل میں پیش ہے۔ ▫️چالیس فیصد سے زیادہ لینڈ یوز تبدیل ہو چکا تھا اصل ماسٹر پلان میں زمین کی جو تقسیم تھی (رہائشی، کمرشل، ادارہ جاتی اور گرین ایریاز)، اس کا چالیس فیصد سے زائد حصہ تبدیل ہو گیا تھا یا اس کا استعمال تبدیل شدہ شکل میں آ چکا تھا۔ ▫️گرین ایریاز کا تقریباً تیس فیصد حصہ متاثر ہوا گرین بیلٹس، پارکس اور جنگلات کے لیے مخصوص علاقہ اصل ماسٹر پلان کی نسبت تقریباً ایک تہائی کم ہو گیا تھا۔ متعدد مقامات پر سرکاری و نجی تعمیرات، اداروں کی عمارتیں، رہائشی توسیع اور تجاوزات کے باعث گرین کور شدید متاثر ہوا۔ ▫️کمرشل زون تین گنا بڑھ گئے تھے اسلام آباد کو بنیادی طور پر ایک غیر تجارتی (Non Commercial) دارالحکومت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن 2002 تک بے قابو کمرشلائزیشن کے نتیجے میں مارکیٹس، پلازے، میرج ہالز اور دیگر کمرشل سرگرمیاں اصل کمرشل زونز کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑھ چکی تھیں۔ ▫️زوننگ ریگولیشنز کی سو سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں ‏CDA کی اندرونی رپورٹس کے مطابق 2002 تک زون I تا زون V میں ایک سو سے زیادہ documented خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ مثلاً: * رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیر * زون 3 (مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن) میں تجاوزات * گرین ایریاز پر ادارہ جاتی عمارتیں * زون 4 میں فارمنگ کی جگہ ہاؤسنگ اسکیمیں ▫️52 سڑکوں اور شاہراہوں کا اصل alignment تبدیل ہو گیا ٹریفک بڑھنے کے بعد شہر کے اندر 52 ایسے مقامات تھے جہاں سڑکوں کی ری انجینئرنگ، چوراہوں کی تبدیلی، سنگل سے ڈبل روڈز، اور اوورلوڈڈ کوریڈورز نے شہر کو اصل پلان سے ہٹا دیا۔ ▫️آبادی 250 فیصد زیادہ ہو گئی تھی 1960 ماسٹر پلان میں اسلام آباد کی 2000 تک متوقع آبادی تین سے چار لاکھ رکھی گئی تھی، لیکن 2002 تک یہ آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئی، جو کہ اصل پلان سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ ▫️ہاؤسنگ اسکیمیں 70 فیصد اضافی پھیل گئیں نجی اور سرکاری رہائشی اسکیموں کا پھیلاؤ زون 2، زون 4 اور زون 5 میں اصل ماسٹر پلان سے ستر فیصد زیادہ بڑھ گیا تھا، اور یہ توسیع زیادہ تر غیر منصوبہ بند تھی۔ ▪️خلاصہ 2002 تک اسلام آباد کے 1960 ماسٹر پلان میں شدید بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔ * 40 فیصد لینڈ یوز تبدیل ہو چکا تھا * 25 سے 30 فیصد گرین ایریاز ختم یا متاثر ہو گئے * کمرشل زون تین گنا بڑھ گئے * سو سے زیادہ زوننگ خلاف ورزیاں سامنے آئیں * 52 سڑکوں کا alignment بدل چکا تھا * آبادی اصل اندازے سے 250 فیصد زیادہ ہو گئی * اور ہاؤسنگ اسکیمیں 70 فیصد اضافی علاقے تک پھیل گئیں یہ تمام عوامل 4 دسمبر 2002 کے سرکاری فیصلے کا محرک بنے، جس کے تحت اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا پہلا جامع تکنیکی ریویو شروع ہوا۔ اس اقدام کا مقصد دارالحکومت کی ترقی کو جدید بین الاقوامی اصولوں کے مطابق دوبارہ منظم کرنا تھا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان، جو 1960 میں یونانی ماہرِ تعمیرات کنسٹنٹائن ڈاکسیایڈس Constantinos A. Doxiadis نے تیار کیا تھا، ایک ایسے دارالحکومت کے طور پر تصور کیا گیا تھا جو محدود آبادی، وسیع گرین ایریاز، متوازن سیکٹرل آرکیٹیکچر اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں پر قائم ہو۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس پلان پر عمل درآمد میں واضح کمزوریاں پیدا ہوئیں، جنہوں نے شہر کی شہری ساخت کو بتدریج تبدیل کر دیا۔ 1980 کی دہائی میں دارالحکومت کی آبادی اس رفتار سے بڑھنے لگی جسے ماسٹر پلان نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ متوقع تین سے چار لاکھ کی آبادی 2002 تک دس لاکھ سے زائد ہو چکی تھی، جس نے پبلک سروسز، سڑکوں، پارکوں، ٹریفک سسٹم اور ماحولیات پر براہ راست دباؤ ڈالا (سید شایان رئیل اسٹیٹ آرکائیو: سیکشن پاکستان)

مزید پڑھیں

سی ڈی اے نے شہر کے پہلے سیکٹر باؤنڈری میپ کی منظوری دے دی

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے آج پاکستان کے نئے منصوبہ بند دارالحکومت اسلام آباد کے پہلے سرکاری سیکٹر باؤنڈری میپ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ایف (F)، جی (G)، آئی (I) اور ایچ (H) سیریز کے سیکٹروں کے لیے دی گئی ہے، جو شہر کے ماسٹر پلان کی بنیادی اکائیوں میں شمار ہوں گے۔ سی ڈی اے کے چیئرمین میجر جنرل یحییٰ خان نے اس منظوری کو “شہر کی مستقبل کی ترقی کا بنیادی نقشہ” قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ سی ڈی اے کی تشکیل کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ اتھارٹی جون 1960 میں صدر ایوب خان کے حکم پر قائم کی گئی تھی، جسے اسلام آباد کی تعمیر، اراضی کے حصول، ترقیاتی کاموں اور ضابطوں کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی۔ یونانی ماہر شہر ساز کمپنی ڈوکسیاڈیس ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ ماسٹر پلان کے مطابق شہر کو گرڈ آئرن نظام میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ہر سیکٹر تقریباً دو کلومیٹر ضرب دو کلومیٹر کے مربع پر مشتمل ہوگا اور چار سب سیکٹروں میں تقسیم ہوگا۔ سیکٹروں کی تفصیلات اور منصوبہ ▫بندی ایف سیریز (F Series)▫ یہ سیکٹرز بنیادی طور پر رہائشی علاقوں کے لیے مختص ہیں۔ ایف 6 اور ایف 7 جیسے سیکٹرز میں سرکاری ملازمین کی رہائش کے ابتدائی انتظامات کیے جائیں گے۔ گرین بیلٹس، پارکس، پیدل راستے اور مقامی سہولیات ہر سیکٹر کا لازمی حصہ ہوں گے۔ جی سیریز (G Series)▫ جی 6 کو اسلام آباد کا پہلا مکمل رہائشی سیکٹر قرار دیا گیا ہے، جو 1960 کے آخر تک تیار ہونے کی امید ہے۔ یہاں مارکیٹس، سکولوں، مساجد اور ہسپتالوں کی تعمیر ماسٹر پلان کے مطابق کی جا رہی ہے۔ جی سیریز شہر کے مرکزی حصے میں واقع ہے اور انتظامی دفاتر سے قریب ہے۔ آئی سیریز (I Series)▫ یہ سیکٹرز صنعتی، کمرشل اور ٹرانسپورٹ سرگرمیوں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ آئی 8 سے آئی 17 تک کے علاقوں میں چھوٹی صنعتیں، کاروباری دفاتر، اور ٹرانسپورٹ ہبس قائم کیے جائیں گے۔ یہ اسلام آباد کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہوں گے۔ ایچ سیریز (H Series)▫ ایچ 8 سے ایچ 17 تک کے سیکٹرز اعلیٰ تعلیم، ہسپتالوں اور جدید رہائش کے لیے مختص ہیں۔ یہاں یونیورسٹیاں، تحقیقاتی ادارے اور تفریحی مراکز شامل ہوں گے۔ سی ڈی اے کے مطابق ایچ سیریز اسلام آباد کو ایک علمی و صحت کے مرکز میں تبدیل کرے گی۔ شہر کی منصوبہ بندی کا ڈھانچہ▫ سی ڈی اے کے مطابق باؤنڈری میپ کی منظوری سے شہر کی یکساں اور سائنسی بنیادوں پر ترقی ممکن ہو سکے گی۔ ماسٹر پلان میں “ڈائناپولیس” (Dynapolis) کا تصور شامل ہے، جس کے تحت شہر شمال مشرق سے جنوب مغرب تک منظم توسیع کے قابل ہوگا۔ ہر سیکٹر کے گرد گرین بیلٹس آلودگی اور شور سے تحفظ فراہم کریں گی۔ شہر کے روڈ نیٹ ورک کو درج ذیل درجہ بندی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے: – سو فٹ چوڑی ڈبل روڈز – اسی فٹ چوڑی سنگل روڈز – پیدل سفر کے لیے علیحدہ راستے تاریخی پس منظر اور اہمیت▫ 1959 میں کراچی کے بجائے نیا دارالحکومت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ راولپنڈی کے قریب موجود خطہ ماہرین کے مطابق موسمی، جغرافیائی اور دفاعی طور پر موزوں تھا۔ ڈوکسیاڈیس ایسوسی ایٹس نے مئی 1960 میں ابتدائی ماسٹر پلان پیش کیا، جس کے فوراً بعد سی ڈی اے قائم کی گئی۔ صدر ایوب خان کے مطابق “اسلام آباد نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا ایک ماڈل شہر ہوگا، جہاں جدید ترقی، قدرتی ماحول اور شہری ضرورتوں کا توازن قائم ہوگا۔” ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکٹر باؤنڈری میپ کی منظوری اسلام آباد کی طویل المدتی شہری شناخت کا پہلا بنیادی قدم ہے۔ چیلنجز اور مستقبل کے منصوبے▫ سی ڈی اے کے مطابق تعمیرات کے آغاز میں اراضی کے حصول، فنڈنگ اور مشینری کی فراہمی کے چیلنجز موجود ہیں، لیکن حکومتی حمایت کے بعد منصوبہ تیزی سے مکمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں ایف 6 اور جی 6 پر ترقیاتی کام شروع کیے جائیں گے اور 1963 تک بنیادی تعمیر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ منصوبہ بندی کے اصولوں کے مطابق تعاون کریں تاکہ اسلام آباد کو دنیا کے بہترین دارالحکومتوں میں شامل کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں

پنجاب نے شہری توسیع کے لیے پری ماسٹر پلاننگ گائیڈلائنز کو حتمی شکل دی

25 نومبر 1982 کو حکومت پنجاب نے پری ماسٹر پلاننگ گائیڈلائنز کو حتمی شکل دی جن کا مقصد لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری توسیع کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا تھا۔ 1970 کی دہائی کے آخر اور 1980 کے آغاز میں غیر منصوبہ بند رہائشی بستیاں، بے قاعدہ گلیوں کا نظام اور نکاسی آب کی کمی بڑے انتظامی مسائل بن چکے تھے۔ ان مسائل کو دیکھتے ہوئے نئی گائیڈلائنز میں ابتدائی زمینی سروے، منظم پلاٹنگ اصول اور بنیادی زوننگ کوآرڈینیشن شامل کی گئی تاکہ کالونیاں بے قابو انداز میں نہ پھیلیں۔ پالیسی خصوصاً مضافاتی علاقوں پر مرکوز تھی جہاں زرعی زمین تیزی سے رہائشی مقاصد کے لیے تبدیل ہو رہی تھی اور مناسب جانچ کے بغیر تعمیرات بڑھ رہی تھیں۔ گائیڈلائنز کے مطابق پری ڈویلپمنٹ سروے میں مٹی کا جائزہ، قدرتی نالوں کی نشاندہی اور موجودہ راستوں کا ریکارڈ شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا تاکہ مستقبل کے لیے پائیدار سڑک اور نکاسی آب کا نظام بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ کیڈسٹرل ریکارڈ کی درست تصدیق کو بھی لازمی بنایا گیا تاکہ پلاٹوں کی حدود کے تنازعات کم ہوں۔ حکومت نے اس سلسلے میں پٹواریوں اور پلانرز کی تربیت کے پروگرام بھی شروع کیے تاکہ نقشہ سازی اور ریکارڈ مرتب کرنے کے طریقہ کار میں بہتری آئے۔ پالیسی میں نجی ہاؤسنگ سکیموں کو میونسپل نظام میں مرحلہ وار شامل کرنے کے لیے مشترکہ مالی معاونت کا ماڈل پیش کیا گیا، جس سے مستقبل میں سڑکوں اور نکاسی آب پر بجٹ کا دباؤ کم ہوا۔ 1982 کا یہ فریم ورک بعد میں 1990 کی دہائی کی منصوبہ بندی اصلاحات کی بنیاد بنا اور آج بھی تیزی سے بڑھتے ہوئے شہروں میں منظم شہری ترقی کی رہنمائی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

مظفرآباد شہری ہاؤسنگ توسیع آزاد کشمیر میں جدید منصوبہ بندی کی بنیاد

1994 میں آزاد جموں و کشمیر حکومت نے مظفرآباد شہری ہاؤسنگ توسیعی منصوبہ شروع کیا — جو اس خطے میں آبادی کے دباؤ اور غیر منصوبہ بند بستوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پہلا جامع منصوبہ تھا۔ اس کا مقصد نیلم اور جہلم دریا کے کناروں پر زمین کے استعمال کو باقاعدہ بنانا، زوننگ قوانین نافذ کرنا، اور نکاسی آب، پختہ سڑکوں اور پانی کی فراہمی کے ساتھ کم لاگت رہائشی سیکٹر قائم کرنا تھا۔ نِسپاک اور آزاد کشمیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر ماسٹر پلان تیار کیا، جو وادی کی دشوار گزار زمین اور بارش کے نظام کے مطابق ڈھالا گیا۔ یہ منصوبہ محض تعمیرِ نو نہیں بلکہ پیشگی شہری نظم کا مظہر تھا۔ پہلی بار منصوبہ سازوں نے زلزلہ مزاحم تعمیر، عوامی رسائی، اور سبز پٹیوں کے تحفظ پر زور دیا۔ اگرچہ مالی وسائل کی کمی کے باعث اس کی وسعت محدود رہی، تاہم اس نے وہ اصول وضع کیے جنہوں نے 2005 کے زلزلے کے بعد کی تعمیر نو کی رہنمائی کی۔ مظفرآباد کا یہ ماڈل بعد میں باغ اور راولا کوٹ جیسے چھوٹے شہروں کے لیے بھی ایک رہنما مثال بن گیا۔

مزید پڑھیں

اسلام آباد کے سیکٹر ڈویلپمنٹ کے لیے پہلا ماسٹر پلان منظور ہوا

4 نومبر 1985 کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کی سسٹمیٹک سیکٹر ڈویلپمنٹ کے لیے پہلا جامع ماسٹر پلان منظور کیا۔ اس تاریخی فیصلے نے منظم شہری توسیع کا فریم ورک قائم کیا، جس میں شہر کو نمبرڈ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا اور رہائشی، کامرشل اور گرین ایریاز مخصوص کیے گئے۔ اس پلان نے معیاری پلاٹ سائز، مناسب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور کنٹرولڈ شہری پھیلاؤ متعارف کرایا۔

مزید پڑھیں

اسلام آباد ماسٹر پلان میں ترمییم کی منظوری

29 اکتوبر 1988 کو پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ایک بڑی اور تاریخی ترمیم کی منظوری دی، جس کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتی ہوئی رئیل اسٹیٹ کی طلب کو پورا کرنا تھا۔ اس ترمیم کے تحت دارالحکومت کی ڈویلپمنٹ کی حدود میں نمایاں توسیع کی گئی اور نئے زوننگ ضوابط متعارف کرائے گئے تاکہ رہائشی، تجارتی اور ادارہ جاتی ترقی کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ اپ ڈیٹڈ ماسٹر پلان نے جدید شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کو شامل کرتے ہوئے شہر کی سبز اور قدرتی شناخت کو محفوظ رکھا۔ یہ ترمیم نہ صرف اسلام آباد کی منظم اور پائیدار توسیع کے لیے ایک مضبوط فریم ورک ثابت ہوئی بلکہ آنے والی دہائیوں کے لیے شہری ترقی کی سمت بھی متعین کی۔ اس منصوبے نے ماحولیاتی توازن اور جدید ترقی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی، جس کی بدولت اسلام آباد ایک ایسا شہر بن کر ابھرا جو منصوبہ بندی، خوبصورتی اور پائیداری کا بہترین امتزاج پیش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

اسلام آباد کے پہلے سمارٹ سٹی پروجیکٹ کا آغاز

27 اکتوبر 2020 کو، پاکستان نے اسلام آباد میں اپنا پہلا جامع سمارٹ سٹی پروجیکٹ لانچ کیا، جو شہری ترقی اور رئیل اسٹیٹ انوویشن میں ایک بڑی پیشرفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ پراجیکٹ نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سمارٹ یوٹیلیٹیز، آٹومیٹڈ ٹریفک مینجمنٹ، اور پائیدار توانائی کے حل کو یکجا کیا تاکہ مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک ماڈل تخلیق کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں

پاکستان کی 1967 شہری ترقی اصلاحات نے شہری منصوبہ بندی کو جدید بنایا

25 اکتوبر 1967 کو پاکستان نے شہری ترقی اور ہاؤسنگ ریفارم ایکٹ متعارف کرایا جس نے شہری منصوبہ بندی میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ اس قانون کے تحت ترقیاتی ادارے قائم کیے گئے، زوننگ قوانین بنائے گئے اور بڑے شہروں میں کم لاگت رہائشی منصوبوں کو فروغ دیا گیا۔ اس اصلاح نے منظم شہری توسیع، بہتر انفراسٹرکچر اور عوامی و نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دیا۔

مزید پڑھیں

فرینک لائیڈ رائٹ اور آرگینک آرکیٹیکچر کا عروج

1869: معروف امریکی معمار فرینک لائیڈ رائٹ امریکی ریاست وسکونسن کے علاقے رچ لینڈ سینٹر میں پیدا ہوئے۔ ان کے فلسفے “آرگینک آرکیٹیکچر” نے 20ویں صدی کے رہائشی ڈیزائن کو نئی سمت دی اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ رائٹ نے اوپن فلور پلان، بلٹ اِن فرنیچر اور کم ڈھلوان والی چھتوں کے تصور کو فروغ دیا، جبکہ فالنگ واٹر سمیت ان کی مشہور عمارتیں تعمیراتی جدت کی علامت بن گئیں۔ ان کے ڈیزائن آئیڈیاز نے امریکی رانچ سٹائل گھروں کے فروغ پر بھی اثر ڈالا، جو بعد میں جدید رہائشی تاریخ کے سب سے زیادہ دہرائے جانے والے ہاؤسنگ لے آؤٹس میں شامل ہو گیا۔

مزید پڑھیں