Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

16 July

Home

Select Date

1 Historical Event found for 16 July
1

16 جولائی 2000

16 جولائی 2000: متحدہ عرب امارات میں وفاقی رئیل اسٹیٹ نظام کی تشکیل کا اہم سنگ میل

16 جولائی 2000: متحدہ عرب امارات میں وفاقی رئیل اسٹیٹ نظام کی تشکیل کا اہم سنگ میل

16 جولائی 2000 کو متحدہ عرب امارات کے بانی، مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان نے وفاقی قانون نمبر 7 مجریہ 2000 جاری کیا، جس کے تحت امارات رئیل اسٹیٹ کارپوریشن قائم کی گئی۔ یہ اقدام وفاقی حکومت کے زیر استعمال املاک کو زیادہ منظم، پیشہ ورانہ اور طویل مدتی بنیادوں پر چلانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تھا۔

کارپوریشن کا قیام 500 ملین درہم کے سرمائے سے عمل میں آیا۔ اسے وفاقی وزارتوں، سرکاری اداروں اور مختلف اتھارٹیز کے لیے درکار عمارتیں تعمیر کرنے، خریدنے، اپنے پاس رکھنے، لیز پر دینے، انتظام سنبھالنے اور دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس فیصلے سے یہ تصور مضبوط ہوا کہ سرکاری عمارتیں محض تعمیراتی منصوبے نہیں بلکہ قومی اثاثے ہیں، جن کی باقاعدہ منصوبہ بندی، نگہداشت اور مؤثر استعمال ضروری ہے۔

اکیسویں صدی کے آغاز میں متحدہ عرب امارات تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ آبادی میں اضافہ، معیشت کی توسیع اور وفاقی اداروں کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے باعث دفاتر، عدالتی عمارتوں، انتظامی مراکز، عوامی سروس سنٹرز اور دیگر خصوصی سرکاری تنصیبات کی ضرورت بھی بڑھ رہی تھی۔ ہر ادارے کی جانب سے الگ الگ بنیادوں پر املاک کے معاملات چلانے سے اخراجات میں اضافہ، تعمیراتی معیار میں فرق اور سرکاری جگہوں کے غیر مؤثر استعمال کا خدشہ موجود تھا۔

امارات رئیل اسٹیٹ کارپوریشن نے ان ضروریات کے لیے ایک مرکزی نظام فراہم کیا۔ اس کے بعد وزارتوں اور وفاقی اداروں کو اپنی عمارتوں کی منصوبہ بندی، تعمیر اور دیکھ بھال الگ الگ کرنے کے بجائے ایک مخصوص ماہر ادارے کی خدمات حاصل ہو گئیں۔ اس سے سرکاری ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں اور عوامی خدمات پر زیادہ توجہ دے سکے۔

کارپوریشن کا کردار روایتی نجی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر سے مختلف تھا۔ اس کا مقصد رہائشی ٹاورز یا کمرشل منصوبے بنا کر سرمایہ کاروں کو فروخت کرنا نہیں تھا، بلکہ وفاقی حکومت کی حقیقی پراپرٹی ضروریات پوری کرنا تھا۔ اس کے دائرہ کار میں عمارت کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت، آپریشنل کارکردگی، سہولیات، مرمت اور طویل مدتی استعمال بھی شامل تھا۔

وقت کے ساتھ کارپوریشن نے مختلف وفاقی اداروں کے لیے عمارتوں کی تیاری اور انتظام کے علاوہ بیرون ملک سفارتی املاک سے متعلق منصوبوں میں بھی کردار ادا کیا۔ سفارت خانوں اور سفارتی عمارتوں کی تعمیر میں سکیورٹی، قومی شناخت، ثقافتی نمائندگی اور عملی ضروریات کو یکجا کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ ذمہ داری خصوصی اہمیت رکھتی تھی۔

کارپوریشن کے قیام سے نجی شعبے کے لیے بھی مواقع پیدا ہوئے۔ وفاقی منصوبوں میں ماہر تعمیراتی اداروں، انجینئرز، کنسلٹنٹس، ٹھیکیداروں، پراجیکٹ مینیجرز، فیسلٹی مینجمنٹ کمپنیوں اور تعمیراتی سامان فراہم کرنے والوں کی خدمات درکار ہوتی تھیں۔ اس طرح سرکاری رئیل اسٹیٹ منصوبوں نے تعمیراتی صنعت اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا۔

یہ فیصلہ شیخ زاید کے وسیع تر ترقیاتی وژن کا حصہ تھا، جس میں رہائش، سڑکوں، سرکاری عمارتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو قومی ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ امارات رئیل اسٹیٹ کارپوریشن نے اسی سوچ کو وفاقی املاک کے انتظام میں ادارہ جاتی شکل دی۔

16 جولائی 2000 کا یہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں سرکاری املاک کی منصوبہ بندی، تعمیر، دیکھ بھال اور استعمال کے لیے ایک مربوط نظام قائم کیا۔ متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ تاریخ عموماً بلند و بالا عمارتوں، لگژری منصوبوں اور جدید رہائشی کمیونٹیز کے حوالے سے جانی جاتی ہے، لیکن وزارتیں، عدالتیں، سفارت خانے اور عوامی خدمت کے مراکز بھی اسی تعمیر شدہ ماحول کا بنیادی حصہ ہیں۔

امارات رئیل اسٹیٹ کارپوریشن کے قیام نے ان سرکاری اثاثوں کو پیشہ ورانہ انداز میں منظم کرنے کی بنیاد رکھی۔ اسی لیے 16 جولائی 2000 متحدہ عرب امارات میں وفاقی رئیل اسٹیٹ اور پبلک سیکٹر پراپرٹی مینجمنٹ کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔

Views
3

مزید خبریں "On This Date" سے

news
پہلے فائر ریزسٹنٹ بلڈنگ کوڈ معیارات

23 اکتوبر 1892 کو جامع فائر ریزسٹنٹ بلڈنگ کوڈ معیارات نافذ کیے گئے، جس نے شہری عمارتوں میں فائر پروف تعمیراتی مواد اور حفاظتی خصوصیات کے لیے لازمی تقاضے قائم کی...

مزید پڑھیں
news
پالازو ڈی اٹالیا کی بنیاد نے راک فیلر سینٹر کے بین الاقوامی رئیل اسٹیٹ تصور کو نئی شکل دی

نیویارک کی ففتھ ایونیو پر واقع راک فیلر سینٹر کے بین الاقوامی تعمیراتی مجموعے کے ایک اہم حصے پالازو ڈی اٹالیا کی بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ پیش رفت بیس...

مزید پڑھیں
news
ایبرفان سانحہ - کان کنی کے حادثے نے زمین کے استعمال کی پالیسیوں پر اثر ڈالا

21 اکتوبر 1966 کو ویلز میں ایبرفان سانحہ پیش آیا جب ایک کولیری کے فضلے کے ڈھیر کا گرنا گاؤں پر گر گیا، جس میں 116 بچوں سمیت 144 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس المناک واق...

مزید پڑھیں
news
شنگھائی ورلڈ فنانشل سینٹر کی تعمیر مکمل ہوئی

17 جولائی 2008 کو چین کے شہر شنگھائی کے علاقے پڈونگ میں شنگھائی ورلڈ فنانشل سینٹر کی تعمیر مکمل ہوئی۔ یہ واقعہ ایشیائی رئیل اسٹیٹ اور بلند عمارتوں کی تاریخ میں ...

مزید پڑھیں
news
عظیم کساد بازاری میں نیو ڈیل دور کی ہاؤسنگ اصلاحات

26 اکتوبر 1933 کو، امریکی نیو ڈیل نے عظیم کساد بازاری کے دوران تبدیلی لانے والی ہاؤسنگ اصلاحات متعارف کروائیں۔ ہوم اوونرز لون کارپوریشن (HOLC) اور فیڈرل ہاؤسنگ ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں