Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

18 August

Home

Select Date

1 Historical Event found for 18 August
1

On This Date

18 اگست 1927

کلیولینڈ کا 52 منزلہ ٹرمینل ٹاور ریلوے اور جائیداد کو جوڑنے والے نئے شہری ترقیاتی ماڈل کی بنیاد بنا

کلیولینڈ کا 52 منزلہ ٹرمینل ٹاور ریلوے اور جائیداد کو جوڑنے والے نئے شہری ترقیاتی ماڈل کی بنیاد بنا

18 اگست 1927 کو امریکی شہر کلیولینڈ میں زیر تعمیر ٹرمینل ٹاور ایک اہم مرحلے پر پہنچی، جب اس کا فولادی ڈھانچہ اپنی مکمل بلندی تک پہنچ گیا اور اس کامیابی کی علامت کے طور پر عمارت کے اوپر پرچم لہرایا گیا۔

کلیولینڈ سٹیٹ یونیورسٹی کے محفوظ تاریخی ریکارڈ میں 18 اگست 1927 کی اس پیش رفت کا باقاعدہ ذکر موجود ہے۔

ٹرمینل ٹاور بعد میں 52 منزلہ اور 708 فٹ بلند عمارت کے طور پر مکمل ہوئی۔

لیکن جائیداد اور شہری ترقی کی تاریخ میں اس عمارت کی اہمیت صرف اس کی بلندی نہیں تھی۔

ٹرمینل ٹاور دراصل بہت بڑے کلیولینڈ یونین ٹرمینل منصوبے کا مرکزی حصہ تھی، جس میں ریلوے سٹیشن کے ساتھ دفاتر، دکانیں، ہوٹل اور دوسری کاروباری سہولتیں ایک ہی شہری مرکز میں جمع کی گئی تھیں۔

اس منصوبے کے پیچھے اوریس پی وان سویرنگن اور مینٹس جے وان سویرنگن نامی دو بھائی تھے، جو جائیداد کی ترقی کے ساتھ ریلوے کے کاروبار سے بھی وابستہ تھے۔

ان کی ابتدائی دلچسپی اپنے تیار کردہ رہائشی علاقے شیکر ہائٹس کو شہر کے مرکزی کاروباری علاقے سے بہتر آمدورفت کے ذریعے جوڑنا تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ منصوبہ ایک بہت بڑے شہری اور تجارتی منصوبے میں تبدیل ہوگیا۔

جائیداد کے شعبے کیلئے اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو یہی تھا۔

منصوبہ سازوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ بہتر آمدورفت صرف سفر آسان نہیں کرتی بلکہ اس سے کسی علاقے کی زمین، دفاتر، دکانوں اور دوسری جائیدادوں کی اہمیت بھی بڑھ سکتی ہے۔

اسی لیے انہوں نے ریلوے سٹیشن کو الگ عمارت کے طور پر تعمیر کرنے کے بجائے اسے بڑے تجارتی اور شہری منصوبے کے ساتھ جوڑ دیا۔

آج ایسے منصوبوں میں آمدورفت کے بڑے مرکز کے اردگرد رہائش، دفاتر، کاروبار اور دوسری سہولتیں قائم کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو سفر اور روزمرہ ضروریات ایک ہی علاقے میں میسر آسکیں۔

کلیولینڈ یونین ٹرمینل کی تعمیر کا حجم بھی غیر معمولی تھا۔

کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق منصوبے کیلئے ٹرمینل ٹاور کی بنیادیں تقریباً 250 فٹ گہرائی تک پہنچائی گئیں، ایک ہزار سے زیادہ عمارتیں مسمار کی گئیں اور ریلوے کیلئے متعدد پل اور راستے تعمیر کیے گئے۔

ٹرمینل ٹاور اس پورے منصوبے کی سب سے نمایاں عمارت بن گئی۔

708 فٹ بلند یہ ٹاور مکمل ہونے کے وقت نیویارک سے باہر دنیا کی بلند ترین عمارت تھی اور 1953 تک یہ مقام برقرار رہا۔

تاہم جائیداد کے نقطۂ نظر سے اصل اہمیت اس کے اردگرد بننے والے پورے منصوبے کی تھی۔

1930 میں یونین ٹرمینل کے باقاعدہ افتتاح کے بعد مسافر ایک ہی عمارت میں دکانوں اور مختلف خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے تھے، جبکہ ایک بڑا کاروباری سٹور اور ہوٹل بھی اسی منصوبے سے منسلک تھے۔

کلیولینڈ کے تاریخی ریکارڈ میں اس منصوبے کو ایک ایسے کثیرالمقاصد شہری مرکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جہاں آمدورفت، کاروبار اور دوسری شہری سہولتوں کو ایک جگہ جمع کیا گیا تھا۔

اس منصوبے نے کلیولینڈ شہر کے کاروباری نقشے کو بھی متاثر کیا۔

اس سے پہلے شہر کی بعض بڑی سرکاری اور شہری ترقیاتی سرگرمیوں کا رخ جھیل کے کنارے کی طرف رکھنے کا منصوبہ تھا، لیکن پبلک سکوائر میں نئے ٹرمینل کی تعمیر نے کاروباری سرگرمیوں اور ترقی کا مرکز دوبارہ شہر کے موجودہ مرکزی علاقے کی طرف مضبوط کردیا۔

جائیداد کے شعبے کیلئے اس تاریخ میں ایک اہم سبق موجود ہے۔

کوئی بڑا ریلوے سٹیشن، شہری ریل، موٹروے یا ہوائی اڈہ صرف لوگوں کی آمدورفت نہیں بدلتا بلکہ یہ بھی طے کرسکتا ہے کہ مستقبل میں کون سی زمین زیادہ اہم ہوگی، دفاتر اور دکانیں کہاں بنیں گی اور سرمایہ کار کس علاقے کا رخ کریں گے۔

ٹرمینل ٹاور اور اس کے اردگرد قائم ہونے والے منصوبے نے تقریباً ایک صدی پہلے یہی اصول عملی طور پر دکھایا تھا۔

18 اگست 1927 کو ٹرمینل ٹاور کے اوپر لہرایا جانے والا پرچم صرف ایک بلند عمارت کے فولادی ڈھانچے کی تکمیل کی علامت نہیں تھا بلکہ ایسے شہری ترقیاتی تصور کی نشانی بھی تھا جس میں آمدورفت اور جائیداد کو ایک ہی منصوبے کے دو اہم حصوں کے طور پر دیکھا گیا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

Views
2

مزید خبریں "On This Date" سے

news
کراچی ماسٹر پلان کمیشن قائم

کراچی: وفاقی کابینہ نے آج کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA) کے تحت ماسٹر پلان یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ملک کی پہلی باقاعدہ میٹروپولیٹن منصوبہ ساز اتھارٹی...

مزید پڑھیں
news
آج پیرس امن کانفرنس کا آغاز ہوا، جس کے بعد دنیا کے موجودہ نقشے کی بنیاد رکھی گئی۔

آج ہم دنیا کا جو نقشہ (world map) اور گلوب دیکھتے ہیں، ان کی بنیادی ساخت انہی فیصلوں کا نتیجہ ہے جو 18 جنوری 1919 کو شروع ہونے والی پیرس امن کانفرنس کے بعد کیے...

مزید پڑھیں
news
فلپائن میں نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی قائم، سرکاری رہائش کا نظام ایک ادارے کے تحت آگیا

فلپائن میں صدارتی فرمان نمبر 757 کے ذریعے نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں سرکاری رہائش، نئی رہائشی آبادیوں اور لوگوں کی منتقلی سے متع...

مزید پڑھیں
news
پیرس نے صنعتی ترقی کے پیش نظر ہاسمن طرز پر مضافاتی توسیع شروع کی

12 نومبر 1885 کو پیرس میں ہاسمن کی شہری اصلاحات سے متاثر ہو کر ایک بڑے پیمانے پر مضافاتی توسیعی منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ فرانسیسی حکومت نے صنعتی ترقی اور بڑھتی ہ...

مزید پڑھیں
news
پاناما کینال کھلی، نئی آبی راہداری نے عالمی تجارت کے ساتھ شہری تعمیر اور زمین کے استعمال کی سمت بھی بدل دی

پاناما کینال باقاعدہ طور پر عالمی بحری آمدورفت کیلئے کھول دی گئی اور ایس ایس اینکون (SS Ancon) نامی بحری جہاز نے نئی آبی گزرگاہ سے تاریخی سفر کرکے اس کا افتتاح ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں