Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

10 January

Home

Select Date

1 Historical Event found for 10 January
1

10 جنوری 1992

لاہور–اسلام آباد موٹر وے (M-2) کے منصوبے کا باضابطہ آغاز

لاہور–اسلام آباد موٹر وے (M-2) کے منصوبے کا باضابطہ آغاز

10 جنوری 1992 کو پاکستان میں لاہور–اسلام آباد موٹر وے (M-2) کے منصوبے کی باضابطہ تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ اس دن منصوبے کی لانچنگ اور حکومتی سطح پر منظوری کا اعلان ہوا۔

یہ منصوبہ پاکستان میں جدید موٹر وے نیٹ ورک کے تصور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے (M-2) ملک کی پہلی مکمل موٹر وے تھی، جس نے عالمی معیار کی سڑک، محفوظ سفر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر منصوبہ بندی کو قومی ترقی کے ایجنڈے کا حصہ بنایا۔

لاہور اسلام آباد موٹر وے ایم ٹو کا منصوبہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں شروع کیا گیا، اور اس کی تعمیر جنوبی کوریا کی کمپنی Daewoo Corporation نے ڈیزائن کم تعمیر (Design and Build) کی بنیاد پر مکمل کی۔ یہ موٹر وے تقریباً 367 کلومیٹر طویل ہے، اور اس پر اُس وقت مجموعی طور پر تقریباً 23 سے 25 ارب روپے لاگت آئی۔ اگرچہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر حکومت پاکستان کا تھا، تاہم Daewoo نے محض ایک ٹھیکیدار کے طور پر نہیں بلکہ سپلائر کریڈٹ (Supplier Credit) اور کنٹریکٹر فنانسنگ (Contractor Financing) کے ذریعے مالی معاونت بھی فراہم کی، جس سے منصوبہ بروقت مکمل ہو سکا۔ بعد کے برسوں میں ڈائیوو کمپنی سے موٹر وے کے آپریشن، مرمت اور بحالی کے لیے طویل المدتی کنسیشن معاہدے کیے گئے، جن کے تحت ٹول وصولی کے ذریعے اخراجات اور سرمایہ کاری کی واپسی کا انتظام کیا گیا۔

موٹر وے کے آغاز نے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے جغرافیے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔ موٹر وے کے اطراف ہاؤسنگ اسکیموں، صنعتی علاقوں، سروس ایریاز اور تجارتی مراکز کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں قریبی علاقوں میں زمین کے استعمال اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ موٹر وے انٹرچینجز کے گرد واقع دیہی اور نیم دیہی علاقوں نے تیزی سے شہری توسیع کی شکل اختیار کی، جہاں رہائشی منصوبوں کے ساتھ ساتھ گوداموں، لاجسٹکس مراکز اور صنعتی یونٹس قائم ہونا شروع ہوئے۔ بہتر رسائی اور کم سفری وقت نے سرمایہ کاروں کو بڑے شہروں کے دباؤ سے نکل کر موٹر وے سے منسلک علاقوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا، جس سے زمین کی نوعیت زرعی سے تجارتی اور رہائشی استعمال میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ اس عمل نے نہ صرف زمین کی قدر میں اضافہ کیا بلکہ آبادی کی نئی تقسیم اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔

ایم ٹو موٹر وے نے یہ تصور مضبوط کیا کہ انفراسٹرکچر محض نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ زمین کی قدر میں اضافے، شہری توسیع اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کا بنیادی محرک بھی ہوتا ہے۔ اس منصوبے نے ریاستی سطح پر یہ فہم پیدا کیا کہ بڑی شاہراہیں شہروں کے درمیان رابطے ہی نہیں بناتیں بلکہ نئے شہری مراکز، صنعتی زونز اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹس کو جنم دیتی ہیں۔ بعد کے برسوں میں پاکستان میں موٹر ویز، ایکسپریس ویز اور بائی پاسز پر مبنی ترقیاتی منصوبے اسی ماڈل کو سامنے رکھ کر ترتیب دیے گئے۔لاہور اسلام آباد موٹر وے کو عوامی استعمال کے لیے نومبر 1997 میں باضابطہ طور پر کھولا گیا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس:
▫️ نیشنل ہائی وے اتھارٹی پاکستان، تاریخی منصوبہ جاتی فائلیں، موٹر ویز ڈویژن، ایم ٹو پروجیکٹ، 1992 تا 1997
Views
63

مزید خبریں "On This Date" سے

news
ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیان پہلی بار بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی حصول کی منظوری دی

گورنمنٹ آف انڈیا کے گزٹ پارٹ ون میں 28 نومبر 1903 کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیانی خطے میں پہلی مرتبہ بڑے پی...

مزید پڑھیں
news
چین نے شہری ہاؤسنگ اصلاحات کا تاریخی فیصلہ جاری کر دیا

18 جولائی 1994 کو چین کی سٹیٹ کونسل نے شہری ہاؤسنگ سسٹم میں اصلاحات کو مزید گہرا کرنے کا تاریخی فیصلہ جاری کیا، جس نے ملک میں رہائش کو سرکاری یا ملازمت سے منسلک...

مزید پڑھیں
news
زغرب میں ایلیکا سکائی سکریپر کا افتتاح، کروشیا کی جدید کمرشل بلند عمارتوں کے نئے دور کا آغاز

22 اگست 1959 کو موجودہ کروشیا کے دارالحکومت زغرب میں ایلیکا سکائی سکریپر کو باضابطہ طور پر کھولا گیا، جس نے شہر کی کمرشل رئیل اسٹیٹ اور جدید طرز تعمیر میں ایک ن...

مزید پڑھیں
news
نیوزی لینڈ میں اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ 2020 نافذ ہوا، جس نے پیچیدہ رہائشی و شہری ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک نیا قانونی نظام متعارف کرایا

سن 2020 میں نیوزی لینڈ میں اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ 2020 نافذ ہوا، جس نے ملک کے بڑی پیچیدہ رہائشی و شہری ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک نیا قانونی نظام متعارف کرایا۔ اس قا...

مزید پڑھیں
news
اسلام آباد ماسٹر پلان میں ترمییم کی منظوری

29 اکتوبر 1988 کو پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ایک بڑی اور تاریخی ترمیم کی منظوری دی، جس کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھت...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں