Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

26 July

Home

Select Date

2 Historical Event found for 26 July
1

On This Date

26 جولائی 1953

کوریائی جنگ بندی معاہدے پر دستخط، تین سالہ خونریز لڑائی رک گئی

کوریائی جنگ بندی معاہدے پر دستخط، تین سالہ خونریز لڑائی رک گئی

27 جولائی 1953 کو شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تین سال سے جاری خونریز جنگ روکنے کے لیے کوریائی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یہ تاریخی معاہدہ کوریا کے سرحدی گاؤں پان من جوم میں طے پایا، جس کے بعد جزیرہ نما کوریا میں بڑی فوجی کارروائیاں بند ہو گئیں۔

کوریائی جنگ 25 جون 1950 کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب شمالی کوریا کی فوج نے جنوبی کوریا میں داخل ہو کر بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ جنوبی کوریا کی حمایت میں اقوام متحدہ کے تحت مختلف ممالک کی افواج میدان میں آئیں، جبکہ چین نے شمالی کوریا کی فوجی مدد کی۔ اس جنگ نے جلد ہی عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑے ٹکراؤ کی شکل اختیار کر لی۔

جنگ بندی کے لیے مذاکرات جولائی 1951 میں شروع ہوئے، مگر قیدیوں کی واپسی، سرحد کے تعین اور نگرانی کے طریقہ کار پر اختلافات کے باعث یہ عمل دو سال تک جاری رہا۔ طویل مذاکرات اور 158 باقاعدہ اجلاسوں کے بعد بالآخر معاہدے پر اتفاق ہوا۔

معاہدے کے تحت دونوں جانب کی فوجوں کو محاذ جنگ سے پیچھے ہٹانے اور تقریباً چار کلومیٹر چوڑا غیر فوجی علاقہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی علاقے کو آج کوریائی غیر فوجی پٹی کہا جاتا ہے، جو شمالی اور جنوبی کوریا کو الگ کرتی ہے۔ جنگی قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بھی باقاعدہ نظام بنایا گیا۔

جنوبی کوریا کے صدر سنگمن ری نے اس معاہدے کی مخالفت کی اور جنوبی کوریا نے اس پر دستخط نہیں کیے۔ یہ بھی ایک مستقل امن معاہدہ نہیں تھا، اس لیے قانونی اور سیاسی طور پر کوریائی جنگ کا مکمل خاتمہ آج تک نہیں ہو سکا۔

اس معاہدے نے لاکھوں جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد لڑائی تو روک دی، مگر کوریا کی تقسیم برقرار رہی۔ آج بھی غیر فوجی سرحد دنیا کے سخت ترین نگرانی والے علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ 27 جولائی کا معاہدہ جنگ روکنے میں سفارت کاری کی کامیابی اور مستقل سیاسی حل نہ ہونے کی ایک نمایاں مثال ہے۔معاہدہ 27 جولائی 1953 کو پان من جوم میں طے پایا، مذاکرات دو سال اور 158 اجلاسوں تک جاری رہے، جبکہ جنوبی کوریا نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔

Views
5
2

On This Date

26 جولائی 1956

مصر نے نہر سویز قومی ملکیت میں لے لی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑا بحران پیدا ہو گیا

مصر نے نہر سویز قومی ملکیت میں لے لی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑا بحران پیدا ہو گیا

مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اعلان کیا کہ نہر سویز چلانے والی کمپنی کو قومی ملکیت میں لے کر اس کا انتظام مصر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ سکندریہ میں ایک بڑے عوامی جلسے کے دوران کیے گئے اس اعلان نے مشرق وسطیٰ کی سیاست بدل دی اور برطانیہ اور فرانس کے اثر و رسوخ کو بڑا چیلنج پیش کیا۔

نہر سویز 1869 میں کھولی گئی تھی۔ یہ بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے اور یورپ سے ایشیا جانے والے بحری جہازوں کا سفر مختصر کرتی ہے۔ نہر مصر کی سرزمین سے گزرتی تھی، مگر اسے چلانے والی کمپنی پر برطانوی اور فرانسیسی مفادات کا غلبہ تھا۔ یورپی ملکوں کے لیے یہ تجارت، تیل کی ترسیل اور ایشیا سے رابطے کا اہم راستہ تھی۔

جمال عبدالناصر کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکا اور برطانیہ نے مصر کے اسوان ہائی ڈیم کے لیے مالی مدد واپس لے لی۔ مصری حکومت کا کہنا تھا کہ نہر سے حاصل ہونے والی آمدن کو ڈیم کی تعمیر اور ملک کی معاشی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ مصر اور عرب دنیا میں اس اقدام کو خود مختاری، معاشی آزادی اور نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا گیا۔

برطانیہ اور فرانس نے مصر کے فیصلے کی سخت مخالفت کی۔ اکتوبر 1956 میں اسرائیل نے مصر کے جزیرہ نما سینا پر حملہ کیا، جس کے بعد برطانیہ اور فرانس بھی فوجی کارروائی میں شامل ہو گئے۔ اقوام متحدہ، امریکا اور سوویت یونین کے دباؤ کے باعث حملہ آور ملکوں کو واپس جانا پڑا اور نہر مصر کے کنٹرول میں رہی۔

اس بحران کے بعد عرب دنیا میں جمال عبدالناصر کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، جبکہ برطانیہ اور فرانس کی عالمی حیثیت متاثر ہوئی۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ یورپی نوآبادیاتی دور ختم ہو رہا تھا اور دنیا میں طاقت کا نیا نظام وجود میں آ رہا تھا۔ آج بھی نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ قومی وقار، معاشی اختیار اور اہم قومی تنصیبات پر ریاستی کنٹرول کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔

Views
4

مزید خبریں "On This Date" سے

news
دامغان - انسانی تاریخ کا مہلک ترین زلزلہ جس میں 2 لاکھ افراد ہلاک ہوۓ۔

آج سے تقریباً 1169 سال قبل، 22 دسمبر 856 عیسوی کو فارس کے شمالی علاقے قومس میں واقع شہر دامغان اور اس کے گردونواح میں ایک ایسا تباہ کن زلزلہ آیا جس نے پورے خطے...

مزید پڑھیں
news
ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کا سٹیل فریم 26ویں منزل تک پہنچ گیا

20 جون 1930 کو نیویارک کی مشہور ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کی تعمیر ایک اہم مرحلے میں داخل ہوئی، جب اس کا سٹیل فریم 26ویں منزل تک پہنچ گیا۔ یہ پیش رفت 20ویں صدی کے اہم ...

مزید پڑھیں
news
پالازو ڈی اٹالیا کی بنیاد نے راک فیلر سینٹر کے بین الاقوامی رئیل اسٹیٹ تصور کو نئی شکل دی

نیویارک کی ففتھ ایونیو پر واقع راک فیلر سینٹر کے بین الاقوامی تعمیراتی مجموعے کے ایک اہم حصے پالازو ڈی اٹالیا کی بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ پیش رفت بیس...

مزید پڑھیں
news
Construction of the Berlin Wall Divided Streets, Homes and Neighborhoods Across a Major European City

13 اگست 1961 کو مشرقی جرمنی کی حکومت نے مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان سرحد بند کرنا شروع کی، ایک ایسا فیصلہ جس نے صرف سرد جنگ کی سیاسی تاریخ ہی نہیں بلکہ یورپ ...

مزید پڑھیں
news
پاکستان کی 1992 ہاؤسنگ فنانس پالیسی نے رئیل اسٹیٹ کی ترقی کو فروغ دیا

25 اکتوبر 1992 کو حکومتِ پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس پالیسی متعارف کرائی جس کا مقصد عوام کے لیے گھر کی ملکیت کو آسان بنانا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا تھا۔ اس...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں