Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

31 July

Home

Select Date

2 Historical Event found for 31 July
1

On This Date

31 جولائی 1975

فلپائن میں نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی قائم، سرکاری رہائش کا نظام ایک ادارے کے تحت آگیا

فلپائن میں نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی قائم، سرکاری رہائش کا نظام ایک ادارے کے تحت آگیا

فلپائن میں صدارتی فرمان نمبر 757 کے ذریعے نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں سرکاری رہائش، نئی رہائشی آبادیوں اور لوگوں کی منتقلی سے متعلق مختلف پروگراموں کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کرنا تھا۔ اسی فرمان کے ذریعے پہلے سے کام کرنے والے متعدد سرکاری ہاؤسنگ ادارے ختم کرکے ان کی ذمہ داریاں نئی اتھارٹی کو منتقل کر دی گئیں۔

1970 کی دہائی کے دوران فلپائن، خصوصاً میٹرو منیلا، کو تیز رفتار شہری آبادی، دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی اور کم آمدن خاندانوں کے لیے مناسب گھروں کی کمی کا سامنا تھا۔ حکومتی فرمان میں تسلیم کیا گیا کہ رہائش کا مسئلہ اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اسے محدود اور الگ الگ منصوبوں کے بجائے بڑے، منظم اور مسلسل ہاؤسنگ پروگرام کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔

نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کو جامع ہاؤسنگ پروگرام تیار کرنے، رہائشی منصوبے بنانے، بے گھر یا متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری، زمین حاصل کرنے اور سرکاری و نجی شعبے کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ پروگرام میں ہاؤسنگ فنانس، کم لاگت تعمیراتی طریقوں، شہری زمین کے بہتر استعمال اور مختلف آمدن رکھنے والے خاندانوں کی ضروریات کو بھی شامل کیا گیا۔

اتھارٹی کو سرکاری اور نجی زمین حاصل کرنے، رہائشی منصوبوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور اپنے پروگراموں کے لیے بانڈز یا دیگر مالی ذرائع استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس طرح ادارے کا کردار صرف گھر بنانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں زمین، شہری منصوبہ بندی، تعمیر، فنانسنگ اور آبادکاری کے مختلف مراحل شامل تھے۔

یہ ادارہ بعد کے برسوں میں قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں، غیر رسمی آبادیوں کے رہائشیوں اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے باعث منتقل ہونے والے لوگوں کے لیے رہائشی اور آبادکاری منصوبوں کا اہم ذریعہ بنا۔ اس کے پروگراموں کو مالی وسائل، زمین کی دستیابی اور بعض منصوبوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا رہا۔

اس کے باوجود 31 جولائی 1975 کا فیصلہ ایشیا میں ریاستی سطح پر منظم ہاؤسنگ پالیسی کی ایک اہم مثال ہے۔ اس نے واضح کیا کہ تیزی سے بڑھتے شہروں میں رہائش کا مسئلہ صرف عمارتوں کی تعمیر سے نہیں بلکہ زمین، روزگار، ٹرانسپورٹ، بنیادی سہولتوں اور شہری منصوبہ بندی کو ایک ساتھ دیکھنے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

Views
1
2

On This Date

31 جولائی 1919

برطانیہ کے ایڈیسن ایکٹ نے سرکاری رہائش کی بنیاد رکھ دی

برطانیہ کے ایڈیسن ایکٹ نے سرکاری رہائش کی بنیاد رکھ دی

برطانیہ میں ہاؤسنگ، ٹاؤن پلاننگ اینڈ ایکٹ 1919 قانون بنا، جسے اس وقت کے وزیر صحت ڈاکٹر کرسٹوفر ایڈیسن کے نام پر عام طور پر ایڈیسن ایکٹ کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے برطانیہ میں عام اور کم آمدن رکھنے والے شہریوں کے لیے گھروں کی تعمیر کو مقامی اداروں کی محدود سرگرمی سے نکال کر قومی حکومت کی ذمہ داری بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو گھروں کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ بڑی تعداد میں فوجی جنگ سے واپس آئے تھے، جبکہ صنعتی شہروں میں بہت سے خاندان تنگ، خراب اور غیر صحت مند گھروں میں رہ رہے تھے۔ حکومت نے واپس آنے والے فوجیوں اور مزدور خاندانوں کے لیے بہتر رہائش فراہم کرنے کا وعدہ کیا، جسے بعد میں ’’ہیروز کے رہنے کے قابل گھر‘‘ کے تصور سے شہرت ملی۔

ایڈیسن ایکٹ کے تحت مقامی حکومتوں کو اپنے علاقوں میں رہائش کی ضرورت کا جائزہ لینے، نئے ہاؤسنگ منصوبے تیار کرنے اور ضرورت کے مطابق گھر تعمیر کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ مرکزی حکومت نے ان منصوبوں کے لیے مالی مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ابتدائی ہدف تین سال کے دوران پانچ لاکھ گھر تعمیر کرنا تھا، جو اس دور کے لحاظ سے ایک بہت بڑا سرکاری ہاؤسنگ پروگرام تھا۔

اقتصادی مشکلات اور سرکاری اخراجات میں کمی کے باعث پانچ لاکھ گھروں کا ہدف مکمل نہ ہو سکا، تاہم اس قانون کے تحت دو لاکھ سے زائد گھر تعمیر ہوئے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ قانون نے یہ اصول قائم کیا کہ مناسب رہائش صرف نجی مارکیٹ کا معاملہ نہیں بلکہ حکومت کی سماجی ذمہ داری بھی ہے۔

ایڈیسن ایکٹ کے بعد برطانیہ کے مختلف شہروں میں کھلی جگہوں، باغات، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے ساتھ نئی کونسل ہاؤسنگ کالونیز تعمیر ہوئیں۔ 1939 تک مقامی حکومتیں تقریباً 11 لاکھ گھر تعمیر کر چکی تھیں اور ملک کی تقریباً 10 فیصد آبادی سرکاری یا سماجی رہائش میں مقیم تھی۔ یوں 31 جولائی 1919 کا قانون جدید سرکاری رہائش، منصوبہ بند آبادیوں اور قابل برداشت گھروں کی تاریخ میں ایک اہم موڑ بن گیا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

Views
1

مزید خبریں "On This Date" سے

news
معاہدہ نیو ایکوٹا جب ایک اقلیتی گروہ نے پوری قوم اور ملک کا سودا کر لیا۔

29 دسمبر 1835 کو امریکہ کی ریاست جارجیا میں ایک قانونی معاہدہ طے پایا جسے تاریخ میں Treaty of New Echota کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ زمین کی ملکیت، ریاست کے اختیار...

مزید پڑھیں
news
برلن میں دیوار کے خاتمے کے بعد رہائشی شعبے کی بحالی ایک نیا شہری آغاز

9 نومبر 1989 کو برلن کی دیوار کے گرنے نے جدید یورپ کی سب سے بڑی شہری بحالی کی تحریک کو جنم دیا۔ مشرقی برلن کے بوسیدہ رہائشی بلاکس، جو سوشلسٹ دور کی منصوبہ بندی ...

مزید پڑھیں
news
ریاستہائے متحدہ میں پہلا آن لائن پراپرٹی لسٹنگ پلیٹ فارم لانچ ہوا

4 نومبر 1998 کو ریاستہائے متحدہ میں پہلا جامع آن لائن پراپرٹی لسٹنگ پلیٹ فارم لانچ ہوا، جس نے رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹنگ اور سرچ کے طریقے میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس...

مزید پڑھیں
news
امریکی ماڈل سٹیز ایکٹ 3 نومبر 1966 کو نافذ ہوا

3 نومبر 1966 کو امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے ڈیمونسٹریشن سٹیز اینڈ میٹروپولیٹن ڈویلپمنٹ ایکٹ پر دستخط کیے۔ اس قانون کے تحت شروع کیے گئے ’’ماڈل سٹیز‘‘ پروگرام کا ...

مزید پڑھیں
news
مکر سنکرانتی: برصغیر کی دیہی زندگی کا ایک گمشدہ تہوار جو عموماً 14 جنوری کو روزِ عید کی مانند منایا جاتا تھا۔ آج بسنت کا نام دے کر اسے محض پتنگ بازی تک محدود کر دیا گیا ہے۔

مکر سنکرانتی: برصغیر کی دیہی زندگی کا ایک گمشدہ تہوار جو عموماً 14 جنوری کو روزِ عید کی مانند منایا جاتا تھا۔ آج بسنت کا نام دے کر اسے محض پتنگ بازی تک محدود کر...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں