From Real Estate History
9 September 1987 is remembered as an extraordinary day in the history of global real estate. On that day, an experiment was carried out in Shenzhen, China, that would play an important role in transforming not only the Chinese property market in the years to come, but also the entire system of urban development and land management.
What made the experiment particularly interesting was that the government did not sell ownership of the land to any private individual or company. Instead, ownership remained with the state while the right to use the land was transferred to an investor. According to research studies, on 9 September 1987, the right to use a plot of land measuring approximately 5,321.8 square meters in Shenzhen was transferred through negotiations to a local company at a rate of 200 yuan per square meter.
At first glance, this decision appeared to be a limited administrative experiment. In reality, however, it raised a fundamental question about China’s land and real estate system: If land is owned by the state, can the right to use it be transferred through the market?
At that time, state control over land in China was extremely strong. The idea of buying and selling land as an ordinary commercial commodity was entirely different from the modern real estate market. Shenzhen, which was then emerging as a major special economic zone for experimenting with reform and opening up, was searching for new financial resources to support rapid development.
As a result, the concept of separating land ownership from the right to use it emerged. This became the key point that later played an important role in laying the foundation for China’s modern land system.
But the story did not end there.
Just a few months after the 9 September experiment, on 1 December 1987, Shenzhen held the first formal public land auction in Chinese history. The Shenzhen government openly auctioned the right to use the land and granted it to an investor through competitive bidding. According to Shenzhen’s official history, this auction proved to be a decisive moment in reforming China’s land management system.
This first experiment gradually helped create a system in which actual ownership of the land could remain with the state, while the rights to use it could be transferred through the market for fixed periods. In the years that followed, this concept became a fundamental part of China’s urban real estate system. According to research sources, different terms were later established for urban land-use rights, including 70 years for residential use, 50 years for industrial use, and 40 years for commercial use.
This change was not merely legal or administrative in nature. It also affected the construction of Chinese cities, government revenue, infrastructure development, and the real estate market. The transfer of land-use rights made urban land part of economic activity and gave governments the opportunity to use land as a financial resource for urban development.
To give this experiment legal status, changes were later made to China’s Constitution as well. On 12 April 1988, Article 10 of the Constitution was amended to allow for the transfer of land-use rights. After that, the Shenzhen experiment gradually became part of a broader national system.
Today, when the world looks at China’s towering cities, large housing projects, commercial districts, and multibillion-dollar property market, very few people may remember this small historical experiment.
But 9 September 1987 is extraordinary in the history of real estate because, on that day, a question was put into practice that would later transform the land system of an entire country:
Can land remain state-owned while the right to use it is bought and sold in the market—is this possible?
Shenzhen provided a practical answer to that question, and this experiment later became one of the important foundations of China’s modern real estate system.
▪️Syed Shayan
Real Estate Archive
▪ Reference(s):
9 ستمبر 1987 دنیا کی رئیل اسٹیٹ تاریخ میں ایک غیر معمولی دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس روز چین کے شہر شینژن میں ایک ایسا تجربہ کیا گیا جس نے آنے والے برسوں میں نہ صرف چینی پراپرٹی مارکیٹ بلکہ شہری ترقی اور زمین کے انتظام کے پورے نظام کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ اس تجربے میں حکومت نے زمین کی ملکیت کسی نجی شخص یا کمپنی کو فروخت نہیں کی تھی۔ اس کے بجائے زمین کی ملکیت ریاست کے پاس رکھتے ہوئے اس کے استعمال کا حق ایک سرمایہ کار کو منتقل کیا گیا۔ تحقیقی سٹڈیز کے مطابق 9 ستمبر 1987 کو شینژن میں تقریباً 5,321.8 مربع میٹر رقبے کے ایک قطعہ زمین کے استعمال کا حق ایک مقامی کمپنی کو 200 یوآن فی مربع میٹر کے حساب سے مذاکرات کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
یہ فیصلہ بظاہر ایک محدود نوعیت کا انتظامی تجربہ تھا، لیکن حقیقت میں اس نے چین کے زمین اور رئیل اسٹیٹ نظام میں ایک بنیادی سوال اٹھا دیا: اگر زمین ریاست کی ملکیت ہے تو کیا اس کے استعمال کے حق کو مارکیٹ میں منتقل کیا جا سکتا ہے؟
اس وقت چین میں زمین کے بارے میں ریاستی کنٹرول انتہائی مضبوط تھا۔ زمین کو عام تجارتی شے کے طور پر خریدنے اور فروخت کرنے کا تصور موجودہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ سے بالکل مختلف تھا۔ شینژن، جو اس وقت اصلاحات اور کھلے پن کے تجربات کے لیے ایک اہم خصوصی اقتصادی زون بن رہا تھا، تیزی سے ترقی کے لیے نئے مالی وسائل تلاش کر رہا تھا۔
چنانچہ زمین کی ملکیت اور استعمال کے حق کو الگ کرنے کا تصور سامنے آیا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے بعد میں چین کے موجودہ زمین کے نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
9 ستمبر کے اس تجربے کے صرف چند ماہ بعد، یکم دسمبر 1987 کو شینژن میں چین کی تاریخ کی پہلی باقاعدہ عوامی زمین نیلامی منعقد ہوئی۔ شینژن حکومت نے زمین کے استعمال کے حق کو کھلے عام نیلام کیا اور بولی کے ذریعے سرمایہ کار کو زمین استعمال کرنے کا حق دیا۔ شینژن کی سرکاری تاریخ کے مطابق یہ نیلامی چین کے سرزمین پر زمین کے انتظام کے نظام میں اصلاحات کا ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔
اس پہلے تجربے نے رفتہ رفتہ ایک ایسا نظام تشکیل دینے میں مدد دی جس میں زمین کی اصل ملکیت ریاست کے پاس رہ سکتی تھی، لیکن اس کے استعمال کے حقوق مقررہ مدت کے لیے مارکیٹ میں منتقل کیے جا سکتے تھے۔ بعد کے برسوں میں یہی تصور چین کے شہری رئیل اسٹیٹ نظام کا بنیادی حصہ بن گیا۔ تحقیقی ذرائع کے مطابق بعد میں شہری زمین کے استعمال کے حقوق کے لیے مختلف مدتیں مقرر ہوئیں، جن میں رہائشی استعمال کے لیے 70 سال، صنعتی استعمال کے لیے 50 سال اور تجارتی استعمال کے لیے 40 سال کی مدت شامل ہے۔
یہ تبدیلی صرف قانونی یا انتظامی نوعیت کی نہیں تھی۔ اس نے چین کے شہروں کی تعمیر، حکومت کی آمدنی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو بھی متاثر کیا۔ زمین کے استعمال کے حقوق کی منتقلی نے شہری زمین کو اقتصادی سرگرمی کا حصہ بنایا اور حکومتوں کو شہری ترقی کے لیے زمین کو ایک مالی وسیلے کے طور پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا۔
اس تجربے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بعد میں چین کے آئین میں بھی تبدیلی کی گئی۔ 12 اپریل 1988 کو آئین کے آرٹیکل 10 میں ترمیم کے ذریعے زمین کے استعمال کے حقوق کی منتقلی کی گنجائش پیدا کی گئی، جس کے بعد شینژن کا تجربہ بتدریج وسیع تر قومی نظام کا حصہ بن گیا۔
آج جب دنیا چین کے بلند و بالا شہروں، بڑے ہاؤسنگ منصوبوں، کمرشل ڈسٹرکٹس اور اربوں ڈالر کی پراپرٹی مارکیٹ کو دیکھتی ہے تو شاید بہت کم لوگ اس چھوٹے سے تاریخی تجربے کو یاد کرتے ہیں۔
لیکن رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں 9 ستمبر 1987 اس لیے غیر معمولی ہے کہ اسی روز ایک ایسا سوال عملی طور پر آزمایا گیا جس نے بعد میں پورے ملک کے زمین کے نظام کو بدل دیا:
زمین ریاست کی ملکیت رہے، لیکن اس کے استعمال کا حق مارکیٹ میں خریدا اور فروخت کیا جا سکے—کیا یہ ممکن ہے؟
شینژن نے اس سوال کا عملی جواب دیا، اور یہی تجربہ بعد میں چین کے جدید رئیل اسٹیٹ نظام کی ایک اہم بنیاد بن گیا
8 اکتوبر 1871 کو ریاستِ الینوئے کے شہر شکاگو میں ایک تباہ کن آگ بھڑک اٹھی جس نے 17 ہزار سے زائد عمارتیں جلا دیں، 3.3 مربع میل رقبے کو راکھ میں بدل دیا اور ایک ل...
مزید پڑھیں19 نومبر 1987 کو سیالکوٹ میونسپل کمیٹی نے خادم علی شاہ انڈسٹریل کلسٹر اپ گریڈیشن پلان کا آغاز کیا، جو پنجاب کے لائٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل ثاب...
مزید پڑھیں
28 جولائی 1976 کی صبح 3 بج کر 42 منٹ پر چین کے صوبہ ہیبے کے صنعتی شہر تانگ شان میں شدید زلزلہ آیا۔ زلزلے کی شدت تقریباً 7.8 ریکارڈ کی گئی اور اس نے چند لمحوں می...
مزید پڑھیں
دنیا کا پہلا فیرس وہیل گھوم گیا 1893: دنیا کا پہلا فیرس وہیل شکاگو میں منعقد ہونے والی ورلڈز کولمبین ایکسپوزیشن میں کھولا گیا۔ 80.4 میٹر بلند یہ تاریخی تعمیر ن...
مزید پڑھیں
ریئل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کی عالمی تاریخ میں 20 جنوری ایک غیر معمولی دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اسی روز امریکہ میں United States Housing Act پر باضابطہ ...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!