Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

20 January

Home

Select Date

1 Historical Event found for 20 January
1

20 جنوری 1937

امریکہ میں یونائیٹڈ سٹیٹس ہاؤسنگ ایکٹ پر صدر نے دستخط کیے

امریکہ میں یونائیٹڈ سٹیٹس ہاؤسنگ ایکٹ پر صدر نے دستخط کیے

ریئل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کی عالمی تاریخ میں 20 جنوری ایک غیر معمولی دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اسی روز امریکہ میں United States Housing Act پر باضابطہ طور پر دستخط کیے گئے۔ صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ (Franklin D. Roosevelt) کے دستخطوں سے نافذ ہونے والا یہ قانون، جو Wagner Steagall Act کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دراصل New Deal اصلاحات کا وہ سنگ میل تھا جس نے ریاست اور رہائش کے تعلق کو قانونی شرائط سے جوڑ دیا۔ جس کے نتیجے میں ریاست ریئل اسٹیٹ میں باقاعدہ فریق بن گئی اور رہائش کو نجی ملکیت کے ساتھ ساتھ شہری ذمہ داری کا باقاعدہ حصہ تسلیم کیا گیا۔

اس قانون کے ذریعے پہلی بار یہ اصول تسلیم کیے گئے کہ

1- مکان محض نجی ملکیت نہیں بلکہ ایک معاشرتی ضرورت ہے، اور اگر ریاست اس ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے تو اس کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشی اور شہری ڈھانچے پر پڑتا ہے۔

2- کم آمدنی والے شہریوں کے لیے پبلک ہاؤسنگ اور سبسڈی کا باقاعدہ اور منظم تصور سامنے آیا، جس کے تحت غیر محفوظ اور خستہ حال رہائش کو انسانی وقار کے منافی سمجھا گیا اور ریاست نے اس خلا کو پُر کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔

3- شہری زمین، اپارٹمنٹس اور کرایہ جاتی ہاؤسنگ کو پہلی بار سوشل انفراسٹرکچر کی حیثیت دی گئی، اور ریئل اسٹیٹ کو محض سرمایہ کاری کے دائرے سے نکال کر عوامی تحفظ اور شہری ذمہ داری کے ساتھ جوڑا گیا۔

اسی قانون کے تحت زمین اور مکان کو پہلی بار مارکیٹ کموڈٹی کے بجائے عوامی ضرورت اور معاشرتی ذمہ داری کے طور پر دیکھا گیا، جس نے جدید افورڈیبل ہاؤسنگ پالیسیوں کی بنیاد رکھی، اور بعد کی دہائیوں میں یورپ، کینیڈا اور ترقی پذیر ممالک کے ہاؤسنگ ماڈلز نے بھی اسی قانون سے رہنمائی حاصل کی۔

1937 سے پہلے امریکہ میں ہاؤسنگ سے متعلق قوانین براہِ راست ریاستی رہائش یا پبلک ہاؤسنگ کے تصور پر مبنی نہیں تھے بلکہ زیادہ تر ہاؤسنگ فنانس، قرضوں اور مارگیج کے انتظام تک محدود تھے۔

یعنی اس قانون سے پہلے امریکہ میں حکومت کا کردار یہ نہیں تھا کہ وہ لوگوں کو گھر بنا کر دے یا رہائش کا بندوبست کرے۔ اس زمانے میں حکومت زیادہ تر بینکوں، قرضوں اور مارگیج کے نظام کو سنبھالنے تک محدود تھی، یعنی اگر کسی کے پاس گھر خریدنے کے پیسے نہ ہوں تو اسے قرض کیسے ملے، یا بینک دیوالیہ نہ ہوں، اس پر توجہ دی جاتی تھی۔ گریٹ ڈپریشن کے دوران حکومت نے یہ بھی کیا کہ لوگوں کے گھر نیلام ہونے سے بچائے، بینکنگ نظام کو سہارا دیا اور تعمیراتی قرضوں کو محفوظ بنایا، لیکن پھر بھی یہ سوچ قائم رہی کہ گھر ایک نجی معاملہ ہے اور اسے خریدنا، بیچنا یا سنبھالنا مارکیٹ اور فرد کی ذمہ داری ہے۔

اصل تبدیلی 20 جنوری 1937 کو آئی۔ اس دن United States Housing Act کے ذریعے حکومت نے پہلی بار واضح طور پر کہا کہ کم آمدنی والے شہریوں کے لیے محفوظ رہائش فراہم کرنا صرف فرد یا مارکیٹ کا کام نہیں بلکہ ریاست کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔

اسی طرح اگر کوئی رہائشی عمارت غیر محفوظ ہو، انسانی جان کے لیے خطرہ بن جائے یا شہری سلامتی کو متاثر کرے تو ریاست اسے محض نجی ملکیت کہہ کر نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اگرچہ اس قانون نے ہر نجی عمارت میں براہِ راست مداخلت کا حکم نہیں دیا، مگر اس نے خطرناک اور خستہ حال رہائش کو عوامی مسئلہ قرار دے کر Slum Clearance اور ریاستی مداخلت کے لیے واضح قانونی جواز فراہم کیا۔ یوں 1937 کے بعد غیر محفوظ عمارتیں نجی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ شہری اور ریاستی ذمہ داری کے دائرے میں آ گئیں۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس:
▫️ یونائیٹڈ سٹیٹس ہاؤسنگ ایکٹ
United States Housing Act
پبلک لا نمبر 75-412، منظور شدہ 20 جنوری 1937، امریکی کانگریس
Views
5

مزید خبریں "On This Date" سے

news
بیک بے ریکلیمیشن منصوبہ سمندر سے حاصل ہونے والی زمین کی لاگت اور قیمت پر بمبئی اسمبلی میں بحث

بمبئی میں آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے، اس وقت کے بمبئی کے اہم انگریزی اخبارات The Times of India، Bombay Chronicle اور The Bombay میں یہ خبر 16 جنوری 1926 کو شا...

مزید پڑھیں
news
1933: امریکہ میں ہوم اونرز لون کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا

ہوم اونرز لون کارپوریشن (ایچ او ایل سی) کو 1933 میں ایک قانون کے تحت امریکہ میں قائم کیا گیا تاکہ گھروں کے مالکان کو کم شرح سود (5 فیصد) پر قرضے فراہم کیے جا سک...

مزید پڑھیں
news
برلن میں دیوار کے خاتمے کے بعد رہائشی شعبے کی بحالی ایک نیا شہری آغاز

9 نومبر 1989 کو برلن کی دیوار کے گرنے نے جدید یورپ کی سب سے بڑی شہری بحالی کی تحریک کو جنم دیا۔ مشرقی برلن کے بوسیدہ رہائشی بلاکس، جو سوشلسٹ دور کی منصوبہ بندی ...

مزید پڑھیں
news
زیمون کا تاریخی ملینیم ٹاور کھولا گیا، جو آج بھی بلغراد کی شہری شناخت اور تعمیراتی ورثے کی نمایاں علامت ہے

20 اگست 1896 کو موجودہ سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے علاقے زیمون میں واقع تاریخی گاردوش ٹاور، جسے ملینیم ٹاور بھی کہا جاتا ہے، باضابطہ طور پر عوام کیلئے کھولا گ...

مزید پڑھیں
news
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے برطانوی فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا

▫رئیل اسٹیٹ، زمین، شہروں کی تقسیم، زرعی اراضی، صنعتی خطے، ساحلی پٹی، نقل و حمل کے راستوں کے لیے boundaries اور عالمی جغرافیے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی تاریخی خبر...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں