Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

19 November

Home

Select Date

2 Historical Event found for 19 November
1

19 نومبر 1987

سیالکوٹ میونسپل کمیٹی نے خادم علی شاہ انڈسٹریل کلسٹر کی اپ گریڈیشن کا آغاز کیا

سیالکوٹ میونسپل کمیٹی نے خادم علی شاہ انڈسٹریل کلسٹر کی اپ گریڈیشن کا آغاز کیا

19 نومبر 1987 کو سیالکوٹ میونسپل کمیٹی نے خادم علی شاہ انڈسٹریل کلسٹر اپ گریڈیشن پلان کا آغاز کیا، جو پنجاب کے لائٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس زمانے میں دنیا بھر میں سیالکوٹ کی اسپورٹس گڈز، سرجیکل آلات اور چمڑے کی مصنوعات کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی تھی، مگر انڈسٹریل کلسٹرز پرانی ورکشاپس، بجلی کی کمی اور ناکافی رسائی سڑکوں کے باعث شدید دباؤ میں تھے۔ منصوبے نے ورکشاپس کی زوننگ، معیاری شیڈز، مشترکہ یوٹیلیٹی کورڈورز اور نئی لنک سڑکوں کی تعمیر کا آغاز کیا جس سے صنعتی آمدورفت میں نمایاں بہتری آئی۔ منصوبے کا ایک بڑا قدم “اسمال یونٹس سپورٹ زون” کا قیام تھا جہاں مائیکرو مینوفیکچررز کو کم قیمت پروڈکشن اسپیس اور مشترکہ سہولتی مراکز فراہم کیے گئے۔ برآمدی صنعتوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نکاسی آب، مستحکم بجلی کے نظام اور ڈرائی اسٹوریج یارڈ شامل کیا گیا۔ ان اقدامات نے سیالکوٹ کی پیداواریت میں نمایاں اضافہ کیا، تاخیر کم ہوئیں اور نجی سرمایہ کاروں کی پہلی بڑی لہر شہر میں داخل ہوئی۔ یہ ترقی سیالکوٹ کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کی بنیاد بنی—خصوصاً فٹبال، طبی آلات اور دھاتی پرزوں کی صنعت میں۔ منصوبے کے معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ ہزاروں مزدوروں کو غیر رسمی ورکشاپس سے باقاعدہ رجسٹرڈ یونٹس میں منتقل کیا گیا، جس سے ان کی آمدنی اور کام کے حالات بہتر ہوئے۔ 1990 کی دہائی کے آغاز تک اس خطے کی برآمدات میں اضافہ ہوا اور ان اقدامات نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی سیالکوٹ کے کئی صنعتی علاقے 1987 کے اسی فریم ورک پر چل رہے ہیں۔

Views
6
2

19 نومبر 1991

شنگھائی حکومت نے پُڈونگ ہاؤسنگ ماڈرنائزیشن بلیوپرنٹ نافذ کر دیا

شنگھائی حکومت نے پُڈونگ ہاؤسنگ ماڈرنائزیشن بلیوپرنٹ نافذ کر دیا

19 نومبر 1991 کو شنگھائی میونسپل حکومت نے پُڈونگ ہاؤسنگ ماڈرنائزیشن بلیوپرنٹ نافذ کیا، جو چین کی شہری ترقی کے بڑے منصوبوں میں سے ایک تھا۔ اس دور میں شنگھائی اقتصادی مرکز کے طور پر ابھر رہا تھا لیکن رہائشی قلت، بوسیدہ مزدور ہوسٹل اور گنجان گلی محلوں نے ترقیاتی رفتار کو خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ اس منصوبے نے مشرقی پُڈونگ کو نشانہ بنایا، جہاں درمیانی منزلہ رہائشی بلاکس، مضبوط تعمیراتی ڈھانچے، بہتر ہوا دار راہداریاں، اور کلینکس، اسکولوں، اور مقامی بازاروں جیسے پیداواری سہولیات شامل کی گئیں۔ یہ چین کا پہلا بڑا منصوبہ تھا جس میں صنعتی شفٹنگ اور رہائشی بہتری کو ایک ساتھ جوڑا گیا—پرانے کارخانے شہر کے مضافات منتقل کیے گئے اور ان کی جگہ ملٹی یوز زونز قائم کیے گئے۔ منصوبے نے “یونٹ بیسڈ ہاؤسنگ ریفارم” کا آغاز بھی کیا جس کے تحت سرکاری ملازمین اپنے الاٹ شدہ فلیٹ جزوی طور پر خرید سکتے تھے۔ آبادی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے گرین بیلٹس اور کشادہ سٹرکچرز شامل کیے گئے، جبکہ بڑی آرٹیریل روڈز نے پُڈونگ کو مرکزی شنگھائی سے جوڑ کر اسے صنعتی علاقے سے رہائشی و مالیاتی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ پانچ سال کے اندر، پُڈونگ کی نئی ہاؤسنگ اسکیموں نے رہائشی معیار کو کئی گنا بہتر کر دیا، مشترکہ رہائش کے بجائے خاندانی یونٹس عام ہو گئیں، جس سے سماجی استحکام بڑھا۔یہ بلیوپرنٹ پورے چین میں ہاؤسنگ ریفارمز کا نمونہ بنا اور شنگھائی کو 2000 کی دہائی میں عالمی سرمایہ کاری کے لیے تیار کرنے کی بنیاد بنی۔

Views
7

مزید خبریں "On This Date" سے

news
ملائیشیا کی پیٹروناس ٹاورز دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارت بن گئی

31 اکتوبر 2003 کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پیٹروناس ٹاورز نے باضابطہ طور پر دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 452 میٹر بلند یہ...

مزید پڑھیں
news
جب تھامس ایڈیسن نے پہلی بار بجلی کو گھروں اور شہری آبادی تک پہنچانے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا۔

اگرچہ 1879 میں ایڈیسن نے بجلی کا بلب تیار کر لیا تھا اور 1882 میں انہوں نے نیویارک میں Pearl Street Power Station کے ذریعے کمرشل سطح پر عوامی مقامات کو روشن بھ...

مزید پڑھیں
news
پاکستان میں پہلی ہاؤس بلڈنگ فنانس اسکیم کا آغاز

21 اکتوبر 1959 کو پاکستان میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (ایچ بی ایف سی) کے تحت پہلی ہاؤس بلڈنگ فنانس اسکیم کا آغاز کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد متوسط طبقے کو سبسڈ...

مزید پڑھیں
news
وارسا کا پیلس آف کلچر اینڈ سائنس عوام کیلئے کھول دیا گیا

22 جولائی 1955 کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں واقع پیلس آف کلچر اینڈ سائنس پہلی مرتبہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ عمارت کی تعمیر یکم مئی 1952 کو شروع ہوئی تھی ...

مزید پڑھیں
news
تقسیمِ ہند کے بعد مغربی بنگال میں متاثرہ علاقوں میں زمینوں اور جائیدادوں کی نئی ملکیت اور آبادکاری کے لیے سرکاری سروے کا آغاز۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں بنگال دو حصوں، مغربی بنگال اور مشرقی بنگال (مشرقی پاکستان) میں منقسم ہو گیا تھا۔ زمینوں کی ملکیت کا نظام بری طرح بگڑ ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں