From Real Estate History
On 31 January 1757, Robert Clive signed the Treaty of Alinagar with Siraj ud Daulah, as a result of which Calcutta, known today as Kolkata, returned to British control.
On the surface, this appeared to be a peace treaty. In reality, it was the agreement that paved the way for British rule in Bengal and later across the whole of India.
The background to this treaty lies in the events of June 1756, when Siraj ud Daulah captured Fort William in an attempt to end British authority. In response, Robert Clive launched a military campaign in January 1757 and succeeded in retaking Calcutta.
Under the Treaty of Alinagar, the East India Company was permitted to resume its commercial activities in Calcutta, strengthen its fortifications, and reclaim its previous privileges.
The treaty granted the Company the following rights:
• The right to mint its own coins, representing economic autonomy.
• The right to fortify Calcutta, establishing military autonomy.
• The right to collect land revenue directly.
This marked the beginning of the dismantling of the traditional zamindari order and laid the foundation for modern title deeds. The British transformed land into a commercial commodity that could be bought, sold, and registered. Before this, land was regarded as the property of the sovereign and was allocated to subjects for use rather than ownership.
Under the influence of this treaty, Calcutta, which initially consisted of only three villages, Sutanuti, Kalighat, and Govindapur, gradually developed into a Presidency Town as British power expanded.
From this point onward, the British state for the first time organised land administration into a formal financial system and introduced the offices of the Collector, the revenue framework, and the principles of land registration that are now recognised as land records and the Collector Office.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
31 جنوری 1757 کو رابرٹ کلائیو نے سراج الدولہ کے ساتھ معاہدۂ علی نگر پر دستخط کیے، جس کے نتیجے میں کلکتہ، جو آج کولکتہ کہلاتا ہے، دوبارہ برطانوی کنٹرول میں آ گیا۔
بظاہر یہ ایک امن معاہدہ تھا، مگر حقیقت میں یہی وہ معاہدہ تھا جس نے بنگال میں برطانوی راج اور بعد میں پورے ہندوستان پر حکمرانی کی راہ ہموار کی۔
اس معاہدے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ جون 1756 میں سراج الدولہ نے فورٹ ولیم پر قبضہ کر کے برطانوی راج کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے جواب میں رابرٹ کلائیو نے جنوری 1757 میں فوجی کارروائی کے ذریعے کلکتہ واپس حاصل کر لیا۔
معاہدۂ علی نگر کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی کو کلکتہ میں دوبارہ تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے، قلعہ بندی مضبوط کرنے اور اپنے پرانے مراعاتی حقوق واپس لینے کی اجازت مل گئی۔
اس معاہدے نے کمپنی کو یہ حقوق دیے:
• اپنے سکے ڈھالنے کا حق (معاشی خودمختاری)۔
• کلکتہ کی قلعہ بندی کا حق (فوجی خودمختاری)۔
• زمینوں کا محصول (Revenue) خود جمع کرنے کا حق۔
یہیں سے زمینداری نظام کے خاتمے اور ماڈرن ٹائٹل ڈیڈز کی بنیاد پڑی۔ انگریزوں نے زمین کو ایک تجارتی شے (Commodity) بنا دیا جسے بیچا، خریدا اور رجسٹر کیا جا سکتا تھا۔ اس سے پہلے زمین بادشاہ کی ملکیت ہوتی تھی جو رعایا کو استعمال کے لیے دی جاتی تھی۔
اسی معاہدے کے زیرِ اثر کلکتہ (Calcutta)، جو ابتدا میں محض تین دیہات، سوتانوتی، کالی گھاٹ اور گووند پور، پر مشتمل تھا، برطانوی اقتدار کے پھیلاؤ کے ساتھ باقاعدہ طور پر ایک Presidency Town کی صورت اختیار کر گیا۔
جس کے بعد برطانوی ریاست نے پہلی مرتبہ زمین کے نظم و نسق کو ایک باقاعدہ مالی نظام کی شکل دی اور کلکٹر کے دفتر، ریونیو نظام اور زمینی رجسٹریشن کے وہ اصول متعارف کرائے جنہیں آج ہم لینڈ ریکارڈز اور کلکٹر آفس کے نام سے جانتے ہیں۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
(برلن) 3 دسمبر 1938 کو نازی حکومت نے “Verordnung über den Einsatz des jüdischen Vermögens” کے نام سے ایک سنگین ریاستی فرمان نافذ کیا، جس کے تحت یہودی شہریوں کی رہائشی، تجارتی اور زرعی جائیدادوں کی جبری فروخت کو قانون�...
مزید پڑھیں19 نومبر 1987 کو سیالکوٹ میونسپل کمیٹی نے خادم علی شاہ انڈسٹریل کلسٹر اپ گریڈیشن پلان کا آغاز کیا، جو پنجاب کے لائٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس زمانے میں دنیا بھر میں سیال�...
مزید پڑھیں
30 اکتوبر 1975 کو نیویارک شہر قریب المرگ دیوالیہ پن سے بچ گیا جب صدر گیرالڈ فورڈ نے وفاقی قرضے کی ضمانتوں کی منظوری دی۔ مالیاتی بحران نے تمام میونسپل سروسز اور تعمیراتی منصوبوں کو روکنے کی دھمکی دی...
مزید پڑھیں
5 نومبر 1987 کو پاکستان کی حکومت نے کراچی کی کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے اور بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی رہائشی پالیسی منظور کی۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں کم آمدنی والے خاندانوں کو زمین کے حقو...
مزید پڑھیں
لندن: 21 جنوری 1878 کو قدیم مصر سے تعلق رکھنے والا مشہور پتھریلا ستون Cleopatra’s Needle باضابطہ طور پر لندن کے شہری اور عوامی علاقے کی زینت بن گیا۔ اس دن یہ ستون دریائے ٹیمز کے کنارے واقع Victoria Embankment پر مک�...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!