From Real Estate History
On 6 March 2018 thousands of farmers began a long protest march from the city of Nashik in the Indian state of Maharashtra. The march later became known as the Maharashtra Farmers Long March. Nearly forty to fifty thousand farmers participated and walked a distance of about 167 kilometres. Covering roughly twenty five to thirty kilometres each day the farmers completed the journey in six days and reached Mumbai on 12 March 2018.
The protest was led by the All India Kisan Sabha and its central objective was to draw the government’s attention to the issue of land rights and the growing burden of agricultural debt.
Many tribal and poor farmers in Maharashtra had been cultivating forest land for decades. However these lands were officially classified under the Forest Department and the farmers did not possess formal ownership documents. The protesters demanded that under the Forest Rights Act 2006 such farmers should be granted legal ownership or land titles for the land they had cultivated for years. They also demanded relief from agricultural debts.
One remarkable incident during the protest occurred in the final stage of the march. When the farmers approached Mumbai a special decision was made. At that time school examinations were taking place in the city and entering during the daytime could have disrupted traffic and caused difficulties for students. Therefore from the night of 11 March to the early hours of 12 March thousands of farmers walked most of the remaining distance during the night and quietly entered the city so that traffic would not be disturbed and students could reach their examination centres without difficulty.
After reaching Mumbai the Government of Maharashtra held negotiations with representatives of the farmers and assured progress on implementing the Forest Rights Act and addressing other demands. Following these assurances the protest was peacefully concluded.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
6 مارچ 2018 کو بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ناسک سے ہزاروں کسانوں نے ایک طویل احتجاجی مارچ شروع کیا جسے مہاراشٹرا کسان لانگ مارچ کہا جاتا ہے۔ اس مارچ میں تقریباً چالیس سے پچاس ہزار کسان شریک ہوئے اور انہوں نے تقریباً 167 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ یہ کسان روزانہ تقریباً پچیس سے تیس کلومیٹر چلتے ہوئے چھ دن بعد 12 مارچ 2018 کو ممبئی پہنچے۔
اس احتجاج کی قیادت آل انڈیا کسان سبھا نے کی تھی اور اس کا بنیادی مقصد زمین کے حقوق اور زرعی قرضوں کے مسئلے کو حکومت کے سامنے اجاگر کرنا تھا۔
مہاراشٹرا کے بہت سے قبائلی اور غریب کسان کئی دہائیوں سے جنگلاتی زمینوں پر کاشت کر رہے تھے مگر قانونی طور پر یہ زمینیں فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت شمار ہوتی تھیں، اس لیے ان کے پاس ملکیت کے باضابطہ کاغذات موجود نہیں تھے۔ کسانوں کا مطالبہ تھا کہ بھارت کے فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کے تحت ایسے کسانوں کو قانونی ملکیت یا پٹہ دیا جائے جو برسوں سے ان زمینوں پر کاشت کر رہے ہیں جبکہ زرعی قرضوں میں بھی ریلیف فراہم کیا جائے۔
اس احتجاج کے حوالے سے ایک واقعہ ایسا بھی
مارچ کے آخری مرحلے میں جب کسان مظاہرین ممبئی کے قریب پہنچے تو ایک خاص فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت ممبئی میں اسکولوں کے امتحانات جاری تھے اور دن کے وقت شہر میں داخل ہونے سے ٹریفک اور طلبہ کو مشکل ہو سکتی تھی۔ اس لیے تقریباً 11 مارچ کی رات سے 12 مارچ کی صبح تک ہزاروں کسانوں نے زیادہ تر فاصلہ رات کے وقت طے کیا اور خاموشی سے شہر میں داخل ہوئے تاکہ ٹریفک متاثر نہ ہو اور طلبہ کے امتحانات میں خلل نہ پڑے۔
ممبئی پہنچنے کے بعد حکومت مہاراشٹرا نے کسانوں کے نمائندوں سے مذاکرات کیے اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے نفاذ اور دیگر مطالبات پر پیش رفت کا یقین دلایا جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
9 نومبر 1996 کو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے شاہدرہ لو اِنکم ہاؤسنگ منصوبے کا آغاز کیا تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر منصوبہ بند بستیوں کے مسئلے کو حل ک...
مزید پڑھیں18 نومبر 1967 کو تہران نے پہلی ہائی رائز ریگولیشن پالیسی متعارف کرائی تاکہ شہر کی توسیع اور عمودی نمو کو منظم کیا جا سکے۔ 1960 کی دہائی میں تہران کم منزلہ شہر س...
مزید پڑھیں
6 دسمبر 1992 کو بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو ایک ہجوم کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ برصغیر کی جدید تاریخ میں مسلمانوں کے لیے ایک ش...
مزید پڑھیں
ریئل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کی عالمی تاریخ میں 20 جنوری ایک غیر معمولی دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اسی روز امریکہ میں United States Housing Act پر باضابطہ ...
مزید پڑھیں31 اکتوبر 2003 کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پیٹروناس ٹاورز نے باضابطہ طور پر دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 452 میٹر بلند یہ...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!