From Real Estate History
Washington DC: An important panel report on the United States federal real estate system was released on 11 March 2019 by the Public Buildings Reform Board. The board had been established under a law passed by the United States Congress known as the Federal Assets Sale and Transfer Act 2016. Its mandate was to identify unnecessary or underutilized buildings and properties owned by the federal government and to propose reforms for a more efficient management of federal assets. The report reviewed the structure of the federal real estate portfolio and presented recommendations to the relevant administrative authorities, particularly the General Services Administration, commonly known as GSA, which is the primary federal agency responsible for the management and maintenance of government buildings and properties across the United States.
According to the report, the federal government owns approximately 360000 buildings and related structures nationwide. Among these, around 8000 to 9000 major federal buildings are directly managed by the GSA, with a combined floor area of roughly 370 million square feet. Over time many of these buildings have aged significantly, a number of them are underutilized, and some remain entirely vacant. As a result, repairs and maintenance that were not carried out in a timely manner accumulated into a large maintenance backlog. The estimated cost of these deferred repairs and renovations was projected to reach nearly 170 billion dollars.
In light of these findings, the panel recommended that the federal government undertake a comprehensive review of its property portfolio, dispose of buildings that are unnecessary or underutilized, consolidate certain agencies into fewer facilities to improve efficiency, and reorganize the federal real estate system on stronger economic and administrative foundations. Following these recommendations, the federal government and the GSA gradually initiated several measures, including the sale or transfer of selected government properties and programs aimed at reducing the overall federal property portfolio. However, experts note that the process remains incomplete, and the large inventory of federal buildings along with the growing cost of maintenance continues to be an important subject of policy debate in the United States.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
واشنگٹن ڈی سی: امریکہ میں وفاقی سرکاری جائیدادوں کے نظام سے متعلق ایک اہم پینل رپورٹ 11 مارچ 2019 کو سامنے آئی جسے Public Buildings Reform Board نے جاری کیا۔ یہ بورڈ امریکی کانگریس کے قانون Federal Assets Sale and Transfer Act 2016 کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد وفاقی حکومت کی ملکیت میں موجود غیر ضروری یا کم استعمال ہونے والی عمارتوں اور جائیدادوں کی نشاندہی کر کے ان کے بارے میں اصلاحی تجاویز دینا تھا۔ اس رپورٹ نے بنیادی طور پر امریکی وفاقی رئیل اسٹیٹ کے پورے نظام کا جائزہ لیا اور متعلقہ انتظامی اداروں خصوصاً General Services Administration یعنی GSA کو سفارشات پیش کیں کیونکہ امریکہ میں وفاقی سرکاری عمارتوں اور جائیدادوں کے انتظام و انصرام کا بنیادی ادارہ یہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے پاس مجموعی طور پر تقریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار سرکاری عمارتیں اور دیگر جائیدادیں موجود ہیں جن میں سے تقریباً آٹھ سے نو ہزار بڑی وفاقی عمارتیں براہ راست GSA کے انتظام میں ہیں اور ان کا مجموعی رقبہ تقریباً تین سو ستر ملین مربع فٹ بنتا ہے۔ وقت کے ساتھ ان میں سے بہت سی عمارتیں پرانی ہو چکی ہیں، متعدد کم استعمال ہو رہی ہیں جبکہ کچھ مکمل طور پر خالی پڑی ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے مرمت اور دیکھ بھال کے وہ کام جو بروقت نہیں ہو سکے ایک بڑے maintenance backlog کی صورت اختیار کر گئے اور اندازہ لگایا گیا کہ ان زیر التوا مرمتوں اور بحالی کے اخراجات مجموعی طور پر تقریباً 170 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی پس منظر میں پینل نے سفارش کی کہ وفاقی حکومت کو اپنی ملکیت میں موجود سرکاری عمارتوں کے پورٹ فولیو کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے، غیر ضروری یا کم استعمال ہونے والی عمارتوں کو فروخت کرنا چاہیے، بعض اداروں کو ایک ہی عمارت میں منتقل کر کے جگہ کو مؤثر بنانا چاہیے اور وفاقی رئیل اسٹیٹ کے نظام کو زیادہ معاشی بنیادوں پر منظم کرنا چاہیے۔ ان سفارشات کے بعد وفاقی حکومت اور GSA نے بتدریج کچھ اقدامات بھی کیے جن کے تحت کئی سرکاری جائیدادوں کو فروخت یا منتقل کیا گیا اور مختلف منصوبوں کے ذریعے وفاقی پورٹ فولیو کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور امریکہ میں وفاقی سرکاری عمارتوں کی بڑی تعداد اور ان کی مرمت کے بڑھتے اخراجات اب بھی پالیسی سطح پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
5 دسمبر 1957 کو نیویارک شہر نے ہاؤسنگ مارکیٹ میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے خلاف قانون سازی کر کے امریکہ کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی دن ن...
مزید پڑھیں21 نومبر 1987 کو پنجاب پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بین الاضلاعی زرعی اسٹوریج اور کولڈ چین میں بہتری کے منصوبے کی منظوری دی، جو اس وقت زرعی پیداوار کے بڑھت...
مزید پڑھیں
2 فروری کو کولکتہ میں قائم Indian Museum اپنے قیام کا دن مناتا ہے۔ یہ ادارہ برصغیر کا قدیم ترین اور سب سے بڑا میوزیم سمجھا جاتا ہے، جس نے خطے کی تعمیراتی تاریخ...
مزید پڑھیں
1934 کے پبلک ہاؤسنگ پروگرام کے آغاز نے جدید سہولیات کے ساتھ ہزاروں سستی رہائشی یونٹس تعمیر کیں، جس نے شہری ہاؤسنگ کے بحرانوں کو حل کیا جبکہ ہاؤسنگ کی رسائی کے ل...
مزید پڑھیں
23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان نے پنجاب اراضی تصرفات تحفظِ شاملات آرڈیننس 1959 (Punjab Land Dispositions Saving of Shamil...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!