Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

5 January

Home
2 Historical Event found for 5 January
1

5 جنوری 1925

لندن: جائیداد کی ملکیت کو سرکاری رجسٹر میں اندراج سے مشروط کر دیا گیا، تاریخی فیصلہ

لندن: جائیداد کی ملکیت کو سرکاری رجسٹر میں اندراج سے مشروط کر دیا گیا، تاریخی فیصلہ

برطانیہ میں زمین اور جائیداد کی ملکیت کا تصور اس وقت بنیادی طور پر تبدیل ہوا جب لینڈ رجسٹریشن رولز 1925 کو Statutory Instrument 1925 No. 1093 کے تحت قانونی طور پر نافذ کیا گیا۔

برطانوی ہاؤس آف لارڈز اور سرکاری قانونی ریکارڈ کے مطابق 5 دسمبر 1925 کو ان قواعد کی حتمی توثیق کے بعد زمین کی ملکیت کو باقاعدہ طور پر سرکاری رجسٹر سے منسلک کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں نجی کاغذات کے بجائے سرکاری اندراج کو ملکیت کی اصل بنیاد بنا دیا گیا۔

5 دسمبر 1925 کو برطانیہ میں نافذ ہونے والے نئے لینڈ رجسٹریشن رولز نے زمین کی ملکیت کا طریقہ ہی بدل دیا۔ اس سے پہلے لوگ اپنی زمین کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے پرانے کاغذات اور ٹائٹل ڈیڈز سنبھال کر رکھتے تھے، اور اگر یہ کاغذات ضائع ہو جاتے تو ملکیت ثابت کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس قانون کے بعد یہ طے کر دیا گیا کہ زمین کا اصل مالک وہی مانا جائے گا جس کا نام حکومت کے سرکاری رجسٹر میں درج ہوگا، یعنی اب نجی کاغذات سے زیادہ اہمیت سرکاری ریکارڈ کو مل گئی۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازمی قرار پایا کہ جب تک کسی جائیداد کی رجسٹری سرکاری ریکارڈ میں منتقل نہ ہو، وہ قانونی طور پر خریدار کی ملکیت نہیں سمجھی جائے گی، جس سے دھوکہ دہی اور بے نامی سودوں میں نمایاں کمی آئی۔

چونکہ اس وقت برصغیر برطانوی راج کے تحت تھا، اسی نظام کو یہاں بھی اپنایا گیا، اور آج پاکستان میں پٹواری یا رجسٹرار کے ذریعے جو زمین کا اندراج اور انتقال کیا جاتا ہے، اس کی بنیادی سوچ یہی ہے کہ اصل ملکیت وہی ہے جو سرکاری رجسٹر میں درج ہو۔

یہی قواعد بعد میں جدید ترامیم کے ساتھ برطانیہ کے HM Land Registry کے موجودہ نظام کی بنیاد بنے۔

(برطانیہ میں HM Land Registry سے مراد Her Majesty’s Land Registry ہے، جو زمین اور جائیداد کی ملکیت کا سرکاری ادارہ ہے۔ عملی طور پر یہ وہی کردار ادا کرتا ہے جو پاکستان میں صوبائی سطح پر بورڈ آف ریونیو انجام دیتے ہیں، یعنی زمین کے ریکارڈ کا تحفظ، ملکیت کا اندراج اور قانونی حیثیت کی توثیق۔)

یاد رہے کہ اسی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے برصغیر میں بھی ریکارڈِ اراضی کے نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی گئی۔

1925 کے بعد، خاص طور پر 1927 سے 1930 کی دہائی کے دوران، برطانیہ میں بنائے گئے زمین کی رجسٹری کے نئے نظام کو سامنے رکھتے ہوئے برصغیر میں بھی زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اگرچہ یہاں Registration Act 1908 پہلے سے موجود تھا، لیکن اس دور میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ زمین کی ملکیت کا اصل ثبوت سرکاری ریکارڈ ہوگا، نہ کہ صرف نجی کاغذات۔ اسی لیے رجسٹری، انتقال اور سرکاری اندراج کے طریقے کو زیادہ منظم بنایا گیا تاکہ زمین کے جھگڑے کم ہوں اور ملکیت واضح رہے۔ انہی اصلاحات کی بنیاد پر پنجاب، بنگال، بمبئی اور مدراس میں زمین کے ریکارڈ کا ایسا نظام قائم ہوا جس کی جھلک آج بھی پاکستان اور بھارت کے موجودہ ریکارڈِ اراضی کے نظام میں نظر آتی ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس
▫️برطانوی قانونی دستاویز: Statutory Instrument 1925 No. 1093 (لینڈ رجسٹریشن رولز 1925)
Views
57
2

5 جنوری 1957

نیویارک میں “فیئر ہاؤسنگ” قانون کی منظوری، رہائش کے شعبے میں امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا

نیویارک میں “فیئر ہاؤسنگ” قانون کی منظوری، رہائش کے شعبے میں امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا

5 دسمبر 1957 کو نیویارک شہر نے ہاؤسنگ مارکیٹ میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے خلاف قانون سازی کر کے امریکہ کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی دن نیویارک سٹی کونسل نے Fair Housing Practices Law کی منظوری دی، جس کے تحت مکانات کی خرید و فروخت اور کرایہ داری میں رنگ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

اس قانون کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب خصوصاً دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کے بڑے شہروں میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں نسلی اور مذہبی امتیاز ایک معمول بن چکا تھا، جہاں مکان مالکان اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سیاہ فام شہریوں، یہودی خاندانوں اور دیگر اقلیتی گروہوں کو مخصوص علاقوں میں گھر خریدنے یا کرائے پر لینے سے روکتے تھے۔ اس کے نتیجے میں شہروں کے اندر نسلی بنیادوں پر علیحدہ بستیاں وجود میں آ گئیں اور یہ واضح تضاد سامنے آیا کہ قانونی طور پر شہری برابر ہیں، مگر رہائش کے حق میں برابر نہیں۔ اسی عملی ناانصافی اور شہری حقوق کے بڑھتے ہوئے شعور نے فیئر ہاؤسنگ پریکٹسز لا جیسے قانون کو ناگزیر بنا دیا تاکہ رہائش کو ایک بنیادی شہری حق کے طور پر تحفظ دیا جا سکے۔

یہ فیصلہ امریکی شہری حقوق کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ پہلی مرتبہ کسی بڑے شہر نے نجی رہائش کے شعبے میں امتیاز کے خلاف واضح اور باضابطہ موقف اختیار کیا۔ اس قانون نے منصفانہ رہائش کے تصور کو قانونی تحفظ فراہم کیا اور ہاؤسنگ مارکیٹ کو سماجی مساوات اور شہری حقوق کے اصولوں سے جوڑ دیا۔

بعد ازاں دسمبر 1957 کے اختتام پر یہ قانون مقامی قانون (Local Law) کی حیثیت سے نافذ ہوا، تاہم تاریخی اور پالیسی اعتبار سے 5 دسمبر 1957 کو وہ دن تسلیم کیا جاتا ہے جب نیویارک نے رہائش کے شعبے میں امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دینے کی بنیاد رکھی۔ یہ قانون بعد کے برسوں میں امریکہ بھر میں فیئر ہاؤسنگ قوانین اور وفاقی سطح پر ہونے والی اصلاحات کے لیے ایک عملی نمونہ بنا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنسز:
▫️ نیویارک سٹی کونسل کا تاریخی ریکارڈ
New York City Council
نیویارک سٹی کونسل کے سرکاری آرکائیوز میں Fair Housing Practices Law 1957 کی منظوری، مباحث اور قانونی متن محفوظ ہے۔
▫️امریکی محکمۂ ہاؤسنگ و شہری ترقی
U.S. Department of Housing and Urban Development
Views
36

مزید خبریں "On This Date" سے

news
لندن میں صنعتی مزدوروں کے رہائشی مکانات کے لیے ہاؤسنگ ایکٹ منظور کیا گیا

13 نومبر 1872 کو برطانوی پارلیمنٹ نے لندن میں رہائش کے ناقص حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ہاؤسنگ ریفارم ایکٹ منظور کیا۔ اس قانون کے تحت گنجان اور غیر صحت مند ب...

مزید پڑھیں
news
پہلے قومی بلڈنگ کوڈ کے معیارات قائم ہوئے

20 اکتوبر 1901 کو ملک بھر میں تعمیرات کے لیے پہلی جامع قومی بلڈنگ کوڈ کے معیارات قائم کیے گئے، جنہوں نے تعمیراتی قوانین کو یکساں شکل دی۔ اس تاریخی قانون سازی می...

مزید پڑھیں
news
آج کے سنگاپور کے لیے زمین کا انتخاب کیا گیا تھا

آج کی تاریخ میں اس دن سر اسٹیمفورڈ ریفلز (Sir Stamford Raffles)، جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک اعلیٰ منتظم تھے اور اس وقت بینکولن سماٹرا (Bencoolen Sumatr...

مزید پڑھیں
news
پہلے جدید کونڈومینیم قانون سازی نافذ ہوئی

یہ 22 اکتوبر 1963 کی بات ہے جب ایک انقلابی قانون منظور ہوا جس نے کونڈومینیم نظام کو قانونی حیثیت دی، یعنی بلند عمارتوں میں ہر فرد اپنی مخصوص یونٹ یا فلیٹ کا ...

مزید پڑھیں
news
پاکستان نے آئین کی 18ویں ترمیم منظور کی، صوبوں کو بااختیار بنایا

3 نومبر 2010 کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے آئین کی 18ویں ترمیم منظور کی جو صوبائی خودمختاری کی جانب ایک تاریخی قدم تھا۔ اس ترمیم کے تحت 17 وفاقی وزارتیں صوبوں کے حو...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date