Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

4 December

Home
1 Historical Event found for 4 December
1

4 دسمبر 2002

اسلام آباد شہر کے ماسٹر پلان میں سنگین انحرافات ، وفاق نے 2002 میں مکمل جائزے کا حکم دیا

اسلام آباد شہر کے ماسٹر پلان میں سنگین انحرافات ،  وفاق نے 2002 میں مکمل جائزے کا حکم دیا

4 دسمبر 2002 کو وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے 1960 ماسٹر پلان کے پہلے جامع تکنیکی ریویو کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آبادی کے تیز اضافے، بے قابو کمرشلائزیشن اور سرکاری و نجی تعمیرات نے ماسٹر پلان کو بنیادی طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ اصل لینڈ یوز اور گرین ایریاز بھی نمایاں حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں ماسٹر پلان کی بحالی، گرین زونز کے تحفظ اور زوننگ قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے جامع ری انجینئرنگ اسٹڈی کی ضرورت پر زور دیا گیا اور سی ڈی اے کو بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے تکنیکی ریویو شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔

اسلام آباد کے 1960 ماسٹر پلان میں جو مصدقہ تبدیلیاں اور انحرافات ریکارڈ پر آئے، ان کا خلاصہ ذیل میں پیش ہے۔

▫️چالیس فیصد سے زیادہ لینڈ یوز تبدیل ہو چکا تھا

اصل ماسٹر پلان میں زمین کی جو تقسیم تھی (رہائشی، کمرشل، ادارہ جاتی اور گرین ایریاز)، اس کا چالیس فیصد سے زائد حصہ تبدیل ہو گیا تھا یا اس کا استعمال تبدیل شدہ شکل میں آ چکا تھا۔

▫️گرین ایریاز کا تقریباً تیس فیصد حصہ متاثر ہوا

گرین بیلٹس، پارکس اور جنگلات کے لیے مخصوص علاقہ اصل ماسٹر پلان کی نسبت تقریباً ایک تہائی کم ہو گیا تھا۔ متعدد مقامات پر سرکاری و نجی تعمیرات، اداروں کی عمارتیں، رہائشی توسیع اور تجاوزات کے باعث گرین کور شدید متاثر ہوا۔

▫️کمرشل زون تین گنا بڑھ گئے تھے

اسلام آباد کو بنیادی طور پر ایک غیر تجارتی (Non Commercial) دارالحکومت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن 2002 تک بے قابو کمرشلائزیشن کے نتیجے میں مارکیٹس، پلازے، میرج ہالز اور دیگر کمرشل سرگرمیاں اصل کمرشل زونز کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑھ چکی تھیں۔

▫️زوننگ ریگولیشنز کی سو سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں

‏CDA کی اندرونی رپورٹس کے مطابق 2002 تک زون I تا زون V میں ایک سو سے زیادہ documented خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔

مثلاً:

* رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیر

* زون 3 (مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن) میں تجاوزات

* گرین ایریاز پر ادارہ جاتی عمارتیں

* زون 4 میں فارمنگ کی جگہ ہاؤسنگ اسکیمیں

▫️52 سڑکوں اور شاہراہوں کا اصل alignment تبدیل ہو گیا

ٹریفک بڑھنے کے بعد شہر کے اندر 52 ایسے مقامات تھے جہاں سڑکوں کی ری انجینئرنگ، چوراہوں کی تبدیلی، سنگل سے ڈبل روڈز، اور اوورلوڈڈ کوریڈورز نے شہر کو اصل پلان سے ہٹا دیا۔

▫️آبادی 250 فیصد زیادہ ہو گئی تھی

1960 ماسٹر پلان میں اسلام آباد کی 2000 تک متوقع آبادی تین سے چار لاکھ رکھی گئی تھی، لیکن 2002 تک یہ آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئی، جو کہ اصل پلان سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہے۔

▫️ہاؤسنگ اسکیمیں 70 فیصد اضافی پھیل گئیں

نجی اور سرکاری رہائشی اسکیموں کا پھیلاؤ زون 2، زون 4 اور زون 5 میں اصل ماسٹر پلان سے ستر فیصد زیادہ بڑھ گیا تھا، اور یہ توسیع زیادہ تر غیر منصوبہ بند تھی۔

▪️خلاصہ

2002 تک اسلام آباد کے 1960 ماسٹر پلان میں شدید بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔

* 40 فیصد لینڈ یوز تبدیل ہو چکا تھا

* 25 سے 30 فیصد گرین ایریاز ختم یا متاثر ہو گئے

* کمرشل زون تین گنا بڑھ گئے

* سو سے زیادہ زوننگ خلاف ورزیاں سامنے آئیں

* 52 سڑکوں کا alignment بدل چکا تھا

* آبادی اصل اندازے سے 250 فیصد زیادہ ہو گئی

* اور ہاؤسنگ اسکیمیں 70 فیصد اضافی علاقے تک پھیل گئیں

یہ تمام عوامل 4 دسمبر 2002 کے سرکاری فیصلے کا محرک بنے، جس کے تحت اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا پہلا جامع تکنیکی ریویو شروع ہوا۔ اس اقدام کا مقصد دارالحکومت کی ترقی کو جدید بین الاقوامی اصولوں کے مطابق دوبارہ منظم کرنا تھا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان، جو 1960 میں یونانی ماہرِ تعمیرات کنسٹنٹائن ڈاکسیایڈس Constantinos A. Doxiadis نے تیار کیا تھا، ایک ایسے دارالحکومت کے طور پر تصور کیا گیا تھا جو محدود آبادی، وسیع گرین ایریاز، متوازن سیکٹرل آرکیٹیکچر اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں پر قائم ہو۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس پلان پر عمل درآمد میں واضح کمزوریاں پیدا ہوئیں، جنہوں نے شہر کی شہری ساخت کو بتدریج تبدیل کر دیا۔

1980 کی دہائی میں دارالحکومت کی آبادی اس رفتار سے بڑھنے لگی جسے ماسٹر پلان نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ متوقع تین سے چار لاکھ کی آبادی 2002 تک دس لاکھ سے زائد ہو چکی تھی، جس نے پبلک سروسز، سڑکوں، پارکوں، ٹریفک سسٹم اور ماحولیات پر براہ راست دباؤ ڈالا

(سید شایان رئیل اسٹیٹ آرکائیو: سیکشن پاکستان)

Views
7

مزید خبریں "On This Date" سے

news
تاریخی رئیل اسٹیٹ بورڈ قائم ہوا

یہ 22 اکتوبر 1929 کی بات ہے جب ملک کا پہلا جامع رئیل اسٹیٹ بورڈ قائم ہوا، جس نے جائیداد کے لین دین کے لیے پیشہ ورانہ معیار، اخلاقی اصول اور ضابطہ اخلاق متعین ک...

مزید پڑھیں
news
شاپنگ سینٹر زوننگ قانون انقلاب

20 اکتوبر 1978 کو ایک انقلابی زوننگ قانون نافذ کیا گیا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر شاپنگ سینٹرز کی تعمیر و ترقی کو منظم کرنا تھا۔ اس قانون کے تحت ریٹیل کمپلیکسز کے...

مزید پڑھیں
news
کلکتہ میں ابتدائی کوآپریٹو ہاؤسنگ ماڈل

10 اکتوبر 1924 کو بنگال پریذیڈنسی کے رجسٹرار آف کوآپریٹو سوسائٹیز نے کلکتہ (جو اب کولکتہ کہلاتا ہے) میں رہائشی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کی ابتدائی درخواس...

مزید پڑھیں
news
کولکتہ دوبارہ انگریزوں کے قبضے میں آ گیا۔

31 جنوری 1757 کو رابرٹ کلائیو نے سراج الدولہ کے ساتھ معاہدۂ علی نگر پر دستخط کیے، جس کے نتیجے میں کلکتہ، جو آج کولکتہ کہلاتا ہے، دوبارہ برطانوی کنٹرول میں آ گی...

مزید پڑھیں
news
سی ڈی اے نے شہر کے پہلے سیکٹر باؤنڈری میپ کی منظوری دے دی

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے آج پاکستان کے نئے منصوبہ بند دارالحکومت اسلام آباد کے پہلے سرکاری سیکٹر باؤنڈری میپ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ایف (F)، ج...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date