Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

28 November

Home
2 Historical Event found for 28 November
1

28 نومبر 1903

ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیان پہلی بار بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی حصول کی منظوری دی

ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیان پہلی بار بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی حصول کی منظوری دی

گورنمنٹ آف انڈیا کے گزٹ پارٹ ون میں 28 نومبر 1903 کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیانی خطے میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظوری دی۔

یہ اقدام لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کی دفعہ چھ کے تحت لیا گیا اور اس کا بنیادی مقصد ریلوے گڈز یارڈ، سائیڈنگ لائنوں، ویگن ریپئر شیڈز اور متعلقہ تنصیبات کی ترقی کے لیے زمین فراہم کرنا تھا۔ اُس وقت پورا کلکتہ خطہ برصغیر کی تجارت کا سب سے مصروف مرکز تھا، جہاں درآمد و برآمد کی سرگرمیوں کے باعث ریلوے پر شدید دباؤ تھا اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے مزید متبادل راستوں اور مضبوط انفراسٹرکچر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق حاصل کی جانے والی زمین میں موجودہ ریلوے لائن سے متصل نجی زرعی اراضیات شامل تھیں، جنہیں آمد و رفت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اضافی لائنوں اور گڈز یارڈ کی توسیع کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ نشیبی اور دلدلی پٹیاں بھی نشان زد کی گئیں جن پر ابری بند اور حفاظتی پشتے بنانے کی ضرورت تھی، تاکہ مستقبل میں بارشوں یا سیلاب سے ریلوے تنصیبات کو نقصان نہ پہنچے۔ لِللوا میں مجوزہ ویگن ریپئر شیڈز کے لیے ترجیحی بنیادوں پر وہ پلاٹ بھی شامل کیے گئے جو صنعتی سرگرمیوں اور ملازمین کی سہولت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔

نوٹیفکیشن میں کلکٹر ضلع ہوگلی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ فوری طور پر اراضی کا سروے، حد بندی، نقشہ سازی اور تخمینہ کاری مکمل کرے اور تمام قانونی کارروائی کے بعد زمین کو ایسٹ انڈین ریلوے کے حوالے کرے۔

اُس وقت کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فیصلے کا براہِ راست اثر ریلوے کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ تھا۔ ہاوڑہ جنکشن جو پہلے ہی پورے برصغیر میں سب سے زیادہ مصروف اسٹیشن سمجھا جاتا تھا، اس توسیع سے مستقبل کی صنعتی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو گیا، جبکہ لِللوا ورکشاپ کی استعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

یہ فیصلہ برطانوی ہند کی ریلوے پالیسی کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے جب حکومت تیزی سے ریلوے نیٹ ورک کو تجارتی، دفاعی اور انتظامی ضروریات کے مطابق ڈھال رہی تھی۔ 1903 کے اس نوٹیفکیشن نے مستقبل کے کئی بڑے منصوبوں کی بنیاد رکھی، جن میں پٹریوں کی نئی توسیعات، سامان برداری کے مراکز، اور صنعتی ورکشاپس کے بڑے ڈھانچے شامل تھے۔ تاریخی مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہی وہ اقدام تھا جس نے ہاوڑہ کو برصغیر کے سب سے اہم ریلوے مرکز کی حیثیت مضبوط کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور کلکتہ خطے کو آنے والے عشروں تک صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکزی دھارا بنانے میں مدد فراہم کی۔

برصغیر میں ریلوے کا آغاز 1853 کی اُس صبح سے ہوا جب پہلی مسافر گاڑی بمبئی سے ٹھانے پہنچی اور حکومت نے طے کیا کہ ریل پورے ہندوستان تک پہنچائی جائے گی۔ ابتدائی دور میں پٹری بچھانے کے لیے زمین صرف ضرورت کے مطابق لی جاتی تھی، چاہے وہ ایک طرف ہو یا دونوں جانب، اور یہی اصول 1860 اور 1870 کی دہائیوں میں پنجاب، بنگال اور یوپی تک نیٹ ورک پھیلنے کے ساتھ برقرار رہا۔

1894 کے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ نے اسی پالیسی کو قانونی شکل دی کہ حکومت کو صرف وہی زمین حاصل کرنی ہے جو عوامی مفاد کے لیے ناگزیر ہو۔ اسی سلسلے کی کڑی 28 نومبر 1903 کا ہاوڑہ۔لِللوا نوٹیفکیشن تھا، جس میں ریلوے نے گڈز یارڈ اور سائیڈنگ لائنوں کی توسیع کے لیے محدود اراضی حاصل کی گئی

Views
5
2

28 نومبر 1990

امریکہ میں سستی رہائش کا وفاقی قانون نافذ

امریکہ میں سستی رہائش کا وفاقی قانون نافذ

واشنگٹن

امریکہ میں آج سستی رہائش کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی جب صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے Cranston–Gonzalez National Affordable Housing Act پر رسمی دستخط کر کے اسے وفاقی قانون کا درجہ دے دیا۔ اس قانون کے تحت کم آمدنی والے خاندانوں، بے گھر افراد اور پسماندہ شہری علاقوں کے لیے وسیع رہائشی فنڈنگ اور ہاؤسنگ پروگراموں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

قانون کے مطابق HOME Investment Partnerships Program قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے ریاستوں اور مقامی حکومتوں کو براہ راست گرانٹس فراہم کی جائیں گی۔ ان فنڈز کا مقصد سستی رہائش کی تعمیر، موجودہ رہائشی یونٹس کی بحالی، اور غریب گھرانوں کے لیے ہوم اونرشپ کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

قانون میں HOPE پروگرام کی منظوری بھی شامل ہے جس کے تحت عوامی رہائشی یونٹس میں مقیم کرایہ داروں کو اپنی رہائش خریدنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بے گھر افراد کے لیے ہنگامی اور مستقل رہائش کے پروگرام، کم آمدنی والے کرایہ داروں کے لیے معاونتی فنڈز، اور شہری علاقوں کی تجدید کے لیے وفاقی بلاک گرانٹس جاری کیے جائیں گے۔

Cranston–Gonzalez Act کے تحت پبلک ہاؤسنگ کی مرمت، رہائشی واؤچرز، اور شہری ترقی کے متعدد منصوبوں کے لیے نئے وفاقی معیار مقرر کیے گئے ہیں، جن کے مطابق ریاستوں کو آئندہ بجٹ سال سے اپنے رہائشی پروگرام اسی نئے فریم ورک کے تحت چلانا ہوں گے۔ امریکی محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ نئے فنڈز کا اجرا فوری طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔

یہ قانون 1990 کے وفاقی ہاؤسنگ بجٹ کے بنیادی حصے کے طور پر آج نافذ کیا گیا ہے

Views
5

مزید خبریں "On This Date" سے

news
پاکستان کی 1992 ہاؤسنگ فنانس پالیسی نے رئیل اسٹیٹ کی ترقی کو فروغ دیا

25 اکتوبر 1992 کو حکومتِ پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس پالیسی متعارف کرائی جس کا مقصد عوام کے لیے گھر کی ملکیت کو آسان بنانا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا تھا۔ اس...

مزید پڑھیں
news
ایل ڈی اے کا شاہدرہ لو اِنکم ہاؤسنگ منصوبہ لاہور میں شہری رہائش کا پھیلاؤ

9 نومبر 1996 کو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے شاہدرہ لو اِنکم ہاؤسنگ منصوبے کا آغاز کیا تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر منصوبہ بند بستیوں کے مسئلے کو حل ک...

مزید پڑھیں
news
میلبورن میں پہلی شہری زمین کی نیلامی کا ریکارڈ

10 اکتوبر 1885 کو میلبورن نے اپنی شہری تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کا مشاہدہ کیا جب شہر کے جنوبی حصے، دریائے یارا کے پار، تیزی سے ترقی کرتے مضافات میں پہلی بڑی عو...

مزید پڑھیں
news
13 مارچ 1656 کو امریکہ میں یہودیوں کو اپنی عبادت گاہ بنانے کے لیے زمین حاصل کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔

ایک وقت تھا کہ آج کے امریکہ میں یہودیوں کو اپنی عبادت گاہ بنانے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔ 13 مارچ 1656 کو گورنر پیٹر اسٹائیوسنٹ کی نوآبادیاتی انتظ...

مزید پڑھیں
news
مکر سنکرانتی: برصغیر کی دیہی زندگی کا ایک گمشدہ تہوار جو عموماً 14 جنوری کو روزِ عید کی مانند منایا جاتا تھا۔ آج بسنت کا نام دے کر اسے محض پتنگ بازی تک محدود کر دیا گیا ہے۔

مکر سنکرانتی: برصغیر کی دیہی زندگی کا ایک گمشدہ تہوار جو عموماً 14 جنوری کو روزِ عید کی مانند منایا جاتا تھا۔ آج بسنت کا نام دے کر اسے محض پتنگ بازی تک محدود کر...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date