Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

27 November

Home
2 Historical Event found for 27 November
1

27 نومبر 1875

سویز کینال کے شیئرز کی برطانوی خریداری: عالمی رئیل اسٹیٹ اور اسٹرٹیجک انفراسٹرکچر کا اہم سنگِ میل

سویز کینال کے شیئرز کی برطانوی خریداری: عالمی رئیل اسٹیٹ اور اسٹرٹیجک انفراسٹرکچر کا اہم سنگِ میل

رطانوی حکومت نے عالمی تجارت اور اسٹرٹیجک انفراسٹرکچر پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے سویز کینال کمپنی کے بڑے حصص خرید کر دنیا کے سب سے اہم بحری راستے پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ تاریخی سودا وزیر اعظم بینجمن ڈِزریلی کی براہ راست منظوری سے انجام پایا، جنہوں نے مصری حکمران خِدیُو اسماعیل پاشا کی مالی بدحالی کے موقع کو استعمال کرتے ہوئے کینال کے 176,602 شیئرز 3,976,582 پاؤنڈ سٹرلنگ میں خرید لیے۔ رقم کا بندوبست روٹھ شیلڈ خاندان نے فوری قرض کی صورت میں کیا، جو اس معاہدے کو ممکن بنانے میں مرکزی کردار تھا۔

اگرچہ خریداری 25 نومبر کو مکمل ہوئی اور 26 نومبر کو برطانوی پارلیمنٹ کو آگاہ کیا گیا، لیکن 27 نومبر 1875 کو برطانیہ کے متعدد اخبارات، جن میں The Times London اور The Manchester Guardian شامل ہیں، نے یہ خبر سرِفہرست شائع کی۔ ان اخبارات کے مطابق برطانیہ اب کینال کمپنی کا تقریباً 44 فیصد حصہ دار بن چکا ہے، جو یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع اس اہم گزرگاہ پر فیصلہ کن اثر و رسوخ کا حامل بننے کے مترادف ہے۔

معاشی اور جغرافیائی ماہرین کے مطابق سویز کینال کی ملکیت میں یہ شمولیت حقیقت میں عالمی رئیل اسٹیٹ کنٹرول کی ایک منفرد مثال تھی، جہاں زمین نہیں بلکہ ایک گلوبل کوریڈور خریدا گیا۔ اس کوریڈور نے بین الاقوامی تجارت، بندرگاہی شہروں کی پلاننگ، نوآبادیاتی تنظیم اور عالمی ٹرانسپورٹ کے نقشے کو یکسر بدل دیا۔ اس خریداری کے نتیجے میں تجارتی راستے تقریباً سات ہزار کلومیٹر کم ہو گئے، اشیا کی ترسیل کے اخراجات گھٹ گئے، اور برطانوی اثر و رسوخ مشرقِ وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور جنوبی ایشیا تک بے مثال حد تک بڑھ گیا۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سودا دراصل وہ فیصلہ ہے جس نے 1882 میں مصر پر برطانیہ کے عملی کنٹرول کی راہ ہموار کی۔ اس سے نہ صرف اسکندریہ، سویز اور پورٹ سعید جیسے شہروں کی شہری منصوبہ بندی تبدیل ہوئی بلکہ ایڈن، کراچی، ہانگ کانگ اور سنگاپور جیسے بندرگاہی شہروں کی اقتصادی حیثیت بھی بڑھ گئی۔ عالمی رئیل اسٹیٹ کے ماہرین کے مطابق یہ خریداری اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک اہم انفراسٹرکچر پورے براعظموں کی معاشی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔

سید شایان رئیل اسٹیٹ آرکائیو کے مطابق 27 نومبر 1875 کے برطانوی اخبارات اس فیصلے کو برطانوی سامراجی حکمتِ عملی کا فیصلہ کن قدم قرار دیتے ہیں، جس کے اثرات ایک صدی سے زائد عرصہ تک عالمی تجارتی راستوں اور شہری ترقی پر محسوس کیے جاتے رہیں گے

Views
4
2

27 نومبر 1962

لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ نے دریائے راوی کے مغربی کنارے پر پہلی بار شہری توسیع کی منظوری دے دی

لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ نے دریائے راوی کے مغربی کنارے پر پہلی بار شہری توسیع کی منظوری دے دی

▫️27 نومبر 1962 کا فیصلہ بعد میں ایل ڈی اے کی تشکیل کی بنیاد ثابت ہوا

27 نومبر 1962 کو لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ (LIT) نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ دریائے راوی کے مغربی کنارے پر باقاعدہ شہری توسیع کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ اُس وقت کیا گیا جب لاہور تیزی سے بڑھتی آبادی، مہاجرین کے دباؤ اور غیر منظم شہری پھیلاؤ کا سامنا کر رہا تھا۔

1936 میں پنجاب ٹاؤن امپرومنٹ ایکٹ 1922 کے تحت قائم ہونے والا LIT لاہور کی شہری تنظیم نو، رہائشی بستیوں کی منصوبہ بندی، اور زمین کے حصول جیسے امور کا ذمہ دار تھا۔ تقسیم کے بعد مہاجرین کی آمد سے شہر میں رہائش کی شدید قلت پیدا ہوئی، جس کے لیے LIT نے سمن آباد (1950)، گلبرگ (1952) اور وحدت کالونی (1958) جیسے منصوبے شروع کیے۔ یہ کالونیاں مختلف آمدنی طبقات کے لیے بنائی گئیں، اگرچہ مالیاتی دباؤ کے باعث زیادہ توجہ متوسط اور بالائی طبقات پر رہی۔

▫️شہری آبادی کا دباؤ، دریاۓ راوی اور بڑھتا ہوا لاہور

1950 کی دہائی کے اواخر تک لاہور روایتی مشرقی حدود سے باہر پھیلنے پر مجبور تھا۔ مغربی جانب زمین اگرچہ وسیع تھی، لیکن سیلابی خطرات اور نکاسی آب کے مسائل کے باعث منصوبہ بندی مشکل تھی۔ اس کے باوجود LIT کے پاس موجود سروے اور سوشیو اکنامک مطالعات 1962 میں اس بات کی نشاندہی کرنے لگے کہ مستقبل کی شہری ضروریات کے لیے راوی کے اس پار توسیع ناگزیر ہے۔

اسی پس منظر میں 27 نومبر 1962 کو ٹرسٹ نے ایک اہم منظوری دیتے ہوئے مغربی کنارے پر نئی رہائشی بستیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جن میں سیلابی تحفظ، نکاسی آب، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی انجینئرنگ اقدامات شامل تھے۔

اس وقت LIT کی انتظامی حدود 128 مربع میل تھیں جبکہ اسے بڑھا کر 380 مربع میل تک لے جانے کی سفارشات حکومت کے پاس زیر غور تھیں۔ اس فیصلے کو مستقبل کی میٹروپولیٹن منصوبہ بندی کا پیش خیمہ سمجھا گیا۔

▫️مالی صورتحال اور منصوبہ سازی میں تبدیلیاں

‏LIT کی 1961 سے 1965 تک کی سالانہ رپورٹس کے مطابق 1962 میں ٹرسٹ کو 17 لاکھ روپے کا سرپلس ملا، جس نے نئی زمینوں کی ترقی کے لیے کچھ مالی گنجائش فراہم کی۔ تاہم کم آمدنی والے طبقات کے لیے رہائش پھر بھی محدود رہی اور 1947 سے 1975 تک محض 11 فیصد پلاٹس اس گروہ کو دیے گئے۔

▫️اگلے اقدامات اور ایل ڈی اے کی تشکیل کی راہ

1962 کے فیصلے کے بعد لاہور کے مستقبل کے منصوبے منظم ہونے لگے۔ 1966 میں اقبال ٹاؤن کا ڈیزائن کینیڈین کنسلٹنٹس کے ذریعے تیار ہوا جبکہ کوٹ لکھپت اسکیم امریکی امداد کے ساتھ ڈاکسیاڈیس ایسوسی ایٹس نے بنائی۔

فروری 1967 میں پانی، سیوریج اور ڈرینیج کا پورا نظام لاہور میونسپل کارپوریشن سے LIT کو منتقل کر دیا گیا۔ میونسپل کارپوریشن اس شعبے میں مالی بحران کا شکار تھی اور 71 لاکھ روپے کا خسارہ ریکارڈ ہو چکا تھا۔

1964 میں جاری انجینئرنگ کنسلٹنٹس کی رپورٹ نے 1981 تک کے طویل مدتی ترقیاتی پروگرام کی بنیاد رکھی، جس میں پانی کی یومیہ کھپت، سیوریج کے بہاؤ اور راوی کے ذریعے نکاسی جیسے اہم نکات شامل تھے۔

1966 کا “ڈرافٹ ماسٹر پلان فار گریٹر لاہور” (جو 1973 میں شائع ہوا) اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ LIT کے پاس اتنے بڑے شہر کی ترقی کا مؤثر اختیار نہیں تھا۔

بالآخر 1975 میں پنجاب اسمبلی نے LDA Act پاس کیا اور LIT کو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (LDA) میں تبدیل کر دیا گیا، جسے وسیع مالی، انتظامی اور عدالتی اختیارات حاصل ہوئے۔ ایل ڈی اے نے بعد میں ہزاروں نئے پلاٹس، کم لاگت ہاؤسنگ اسکیمز، اور شہری منصوبہ بندی کے جدید ماڈلز متعارف کرائے

Views
9

مزید خبریں "On This Date" سے

news
کیپ ٹاؤن نے مزدوروں کی رہائشی حالت بہتر بنانے کے لیے پبلک ہاؤسنگ ورکس ڈپارٹمنٹ قائم کیا

15 نومبر 1910 کو جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کی میونسپل حکومت نے مزدور بستیوں کی خراب ہوتی ہوئی رہائشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا پہلا پبلک ہاؤسنگ ورکس ...

مزید پڑھیں
news
آج پیرس امن کانفرنس کا آغاز ہوا، جس کے بعد دنیا کے موجودہ نقشے کی بنیاد رکھی گئی۔

آج ہم دنیا کا جو نقشہ (world map) اور گلوب دیکھتے ہیں، ان کی بنیادی ساخت انہی فیصلوں کا نتیجہ ہے جو 18 جنوری 1919 کو شروع ہونے والی پیرس امن کانفرنس کے بعد کیے...

مزید پڑھیں
news
الاسکا امریکہ کی 49ویں ریاست بن گیا۔

3 جنوری 1959 کو Alaska کا امریکہ کی انچاسویں ریاست بننا دراصل تاریخ میں ایک بڑے زمینی قطعے کی ملکیت کی منتقلی کا دن ہے۔ امریکی ریاست بننے سے پہلے Alaska دراصل...

مزید پڑھیں
news
پاکستان کی تاریخ کا ایک بھیانک دن، جس میں 73 ہزار سے زائد افراد ایک ہی دن میں لقمۂ اجل بن گئے۔

آج کے دن، 8 اکتوبر 2005 کو، 7.6 شدت کا خوفناک زلزلہ شمالی پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے پہاڑی علاقوں سے ٹکرایا — یہ پاکستان کی تاریخ کے مہلک ترین قدرتی...

مزید پڑھیں
news
متحدہ عرب امارات نے نئے رئیل اسٹیٹ بروکریج ضوابط نافذ کیے

18 اکتوبر 2020 کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تمام سات امارات میں رئیل اسٹیٹ بروکریج کے عمل کے لیے جامع نئے ضوابط متعارف کرائے۔ ان ضوابط کے تحت تمام پراپرٹی ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date