From Real Estate History
4 Historical Event found
24 جون 2014 کو پنجاب اسمبلی نے ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کی جائیدادوں کے انتظام اور منتقلی سے متعلق قانون منظور کیا، جس کا مقصد سرکاری ترقیاتی اداروں کی زمین، پلاٹس، عمارتوں اور ہاؤسنگ سکیموں کے معاملات کو زیادہ شفاف اور منظم بنانا تھا۔ اس قانون کے تحت جائیداد کی منتقلی کیلئے کھلی نیلامی، کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ اور جوائنٹ وینچر جیسے طریقہ کار متعارف کرائے گئے۔ قانون میں عوامی نوٹس، لین دین کی تفصیلات کی اشاعت، جائیدادوں کا جغرافیائی ریکارڈ اور باقاعدہ آڈٹ کی شقیں بھی شامل کی گئیں۔ قانون نے جائیداد کی منتقلی یا لیز سے متعلق فیصلوں کے خلاف اپیل کا طریقہ بھی مقرر کیا۔ اسے 25 جون 2014 کو گورنر کی منظوری ملی اور 26 جون 2014 کو پنجاب گزٹ میں شائع کیا گیا۔
مزید پڑھیں
امریکی سپریم کورٹ نے کیلو بنام سٹی آف نیو لندن کیس میں تاریخی فیصلہ سنایا۔ 5 کے مقابلے میں 4 کے فیصلے سے عدالت نے قرار دیا کہ مقامی حکومت جامع معاشی ترقیاتی منصوبے کے تحت نجی جائیداد حاصل کرنے کے لیے ایمیننٹ ڈومین کا اختیار استعمال کر سکتی ہے، چاہے بعد میں یہ اراضی کسی نجی ڈویلپر کو منتقل کی جائے۔ اس فیصلے نے آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت “عوامی استعمال” کی تشریح کو وسیع کیا اور جدید امریکی تاریخ میں پراپرٹی رائٹس سے متعلق سب سے زیادہ زیر بحث فیصلوں میں شامل ہو گیا۔ اس کے شہری تجدید، ترقیاتی منصوبوں اور جائیداد کے جبری حصول کے قوانین پر دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔ یہ کیس کنیکٹی کٹ کے شہر نیو لندن کے فورٹ ٹرمبل علاقے کی ترقیاتی اسکیم سے متعلق تھا۔ سوسیٹ کیلو سمیت متعدد گھر مالکان نے شہر کی جانب سے اپنی جائیدادوں کے حصول کو عدالت میں چیلنج کیا۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے منصوبے کو برقرار رکھا، تاہم اس فیصلے کے بعد امریکا کی کئی ریاستوں نے نجی معاشی ترقی کے لیے ایمیننٹ ڈومین کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ مقدمہ آج بھی عوامی مفاد، مناسب معاوضے اور نجی ملکیت کے حقوق پر بحث میں بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
ہر سال 10 فروری کو امریکہ کی ریاست وسکانسن میں ریئل اسٹیٹ کے پیشہ ور افراد حکومت سے براہِ راست رابطے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس دن کو عام طور پر حکومت سے رابطے کا دن (REALTOR® & Government Day) یا Capitol Day کہا جاتا ہے۔ اس ملاقات میں ان قوانین پر بات ہوتی ہے جو ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر اثر ڈال سکتے ہیں، جیسے جائیداد پر ٹیکس، زوننگ لاز اور کرایہ داروں اور مالکان سے متعلق مجوزہ قوانین وغیرہ۔ بظاہر یہ سرگرمی ریئلٹرز کے اپنے مفادات کے لیے ہوتی نظر آتی ہے، مگر درحقیقت اس کا اصل مقصد نجی ملکیت کے حق (Private Property Rights) کا تحفظ ہوتا ہے اور ایسی پالیسیوں کی مخالفت کرنا ہوتا ہے جو عام شہری کے لیے گھر خریدنا یا رکھنا مشکل بنا دیں۔ جب ایک ہی دن میں سینکڑوں ریئلٹرز دارالحکومت پہنچتے ہیں تو یہ قانون سازوں کے لیے ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم، باشعور اور بااثر طبقہ ہے جس کی بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ اسی دن ریئل اسٹیٹ کے شعبے سے جڑے افراد اپنے مسائل، آئندہ ترجیحات اور قانون سازی کی تجاویز (Legislative Proposals) قانون سازوں کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی آواز قانون بنانے کے عمل (Law Making Process) تک صاف اور مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔ یوں یہ دن خرید و فروخت کی سرگرمیوں کے بجائے سنجیدہ پالیسی تجاویز کا دن کہلاتا ہے، جو مستقبل کی ہاؤسنگ اور پراپرٹی پالیسیوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
مزید پڑھیں
1215: رنی میڈ میں میگنا کارٹا پر مہر ثبت کی گئی میگنا کارٹا نے جائیداد کے حقوق اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ 15 جون 1215 کو انگلینڈ کے بادشاہ جان نے رنی میڈ کے مقام پر میگنا کارٹا سے اتفاق کیا۔ اگرچہ یہ جدید معنوں میں رئیل اسٹیٹ کا قانون نہیں تھا، تاہم یہ تاریخ کی اہم ترین قانونی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس نے بادشاہ کے من مانی اختیارات کو محدود کیا اور اس تصور کو مضبوط کیا کہ زمین، جائیداد، ٹیکس اور انصاف جیسے معاملات ذاتی اختیار کے بجائے قانون کے تحت چلنے چاہئیں۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں آج کے دن میگنا کارٹا پر انگلینڈ کے شہر ونڈسر کے قریب واقع رنی میڈ کے مقام پر مہر ثبت کی گئی۔ یہ چارٹر بادشاہ جان اور بااثر جاگیرداروں کے درمیان سیاسی تنازع کے دوران تیار کیا گیا، جو حد سے زیادہ ٹیکسوں، من مانی حکمرانی اور جائیداد و جاگیردارانہ حقوق میں شاہی مداخلت کے خلاف تھے۔ رئیل اسٹیٹ اور زمین کی ملکیت کی تاریخ میں میگنا کارٹا کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس نے یہ اصول قائم کرنے میں مدد دی کہ حکمران بھی قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ بعد ازاں اسی تصور نے زمین کی ملکیت، وراثت، ٹیکس، قبضے اور انصاف تک رسائی سے متعلق قانونی تحفظات پر اثر ڈالا۔ آسان الفاظ میں یہ دستاویز جائیداد مالکان کو ریاستی طاقت کے بے لگام استعمال سے بچانے کی جانب ایک ابتدائی قدم ثابت ہوئی۔ میگنا کارٹا کی وسیع تر میراث قانون کی حکمرانی، منصفانہ قانونی کارروائی اور قانونی فیصلے جیسے اصولوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی اصول آج بھی جائیداد کی ملکیت، رئیل اسٹیٹ لین دین، زمینی تنازعات اور شہری نظم و نسق کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے مطابق میگنا کارٹا نے اس خیال کو واضح تحریری شکل دی کہ قانون بادشاہ پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جس طرح اس کی رعایا پر لاگو ہوتا ہے۔ میگنا کارٹا نے محفوظ جائیداد کے حقوق، منصفانہ زمینی انتظام اور قانونی بنیادوں پر تنازعات کے حل کی وہ ابتدائی بنیاد فراہم کی جس پر بعد کے ادوار میں اہم قانونی نظام تشکیل پائے۔ میگنا کارٹا پر مہر ثبت کیے جانے کا واقعہ قانون کی حکمرانی اور جائیداد کے حقوق کے قانونی تحفظ کی ابتدائی بنیادوں میں سے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں