Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

3 Historical Event found

معروف برطانوی تعمیراتی و رئیل اسٹیٹ کمپنی ہیلی کل کی بنیاد رکھی گئی

1919: 3 جون 1919 کو لندن میں ہیلیکل بار اینڈ انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ کمپنی ابتدا میں تعمیراتی صنعت کے لیے مضبوطی فراہم کرنے والا سٹیل تیار اور فروخت کرتی تھی، جو اس دور میں برطانیہ میں جدید شہری ترقی اور عمارت سازی کے پھیلتے ہوئے عمل کا اہم حصہ تھا۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک ہیلیکل تعمیراتی سامان کی فراہمی کے شعبے سے وابستہ رہی، تاہم 1980 کی دہائی میں کمپنی نے اپنی سمت تبدیل کی اور تجارتی جائیداد کے شعبے میں قدم رکھا۔ 1986 میں سٹیل کے تعمیراتی کاروبار کو فروخت کرنے کے بعد یہ کمپنی جائیداد کی ترقی اور سرمایہ کاری کے کاروبار میں تبدیل ہو گئی۔ آج ہیلیکل پی ایل سی لندن کی اہم رئیل اسٹیٹ ترقیاتی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی تاریخ برطانیہ کے جائیداد کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک روایتی تعمیراتی سامان اور انجینئرنگ معاونت فراہم کرنے والی کمپنی جدید رئیل اسٹیٹ ترقی، سرمایہ کاری اور شہری بحالی کے شعبے تک پہنچی۔

مزید پڑھیں

تاریخی GI Bill نافذ ہوا جس نے امریکا کی ہاؤسنگ مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کو نئی شکل دی

22 جون 1944 کو امریکا میں Servicemen’s Readjustment Act نافذ کیا گیا، جسے عام طور پر GI Bill کہا جاتا ہے۔ یہ ایک تاریخی قانون تھا جس نے آنے والی دہائیوں میں امریکا کی ہاؤسنگ مارکیٹ، مضافاتی آبادیوں کے پھیلاؤ اور رئیل اسٹیٹ منظرنامے کو گہرے انداز میں تبدیل کیا۔ یہ قانون دوسری جنگِ عظیم سے واپس آنے والے لاکھوں فوجیوں کی معاونت کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کے تحت تعلیمی امداد، بے روزگاری الاؤنس اور خاص طور پر پراپرٹی سیکٹر کے لیے حکومت کی ضمانت یافتہ ہوم مارگیج سہولت فراہم کی گئی۔ ان ہاؤسنگ سہولتوں نے کم ڈاؤن پیمنٹ اور طویل مدتی آسان فنانسنگ کے ذریعے گھر کی ملکیت تک رسائی کو نمایاں طور پر آسان بنا دیا۔ اس پروگرام سے قبل امریکا میں بہت سے خاندانوں کے لیے گھر خریدنا مشکل تھا، کیونکہ قرض تک رسائی محدود اور بینکنگ شرائط سخت تھیں۔ 'جی آ ئی بل' نے یہ صورتحال بدل دی اور لاکھوں سابق فوجیوں کو سازگار شرائط پر مارگیج حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق جنگ کے بعد کے برسوں میں امریکا میں جاری ہونے والے تقریباً نصف مارگیجز 'جی آ ئی بل' کی ضمانت کے تحت دیے گئے، جس سے یہ امریکی تاریخ کے سب سے بااثر ہاؤسنگ فنانس اقدامات میں شامل ہوگیا۔ ہاؤسنگ کی بڑھتی ہوئی طلب نے ملک بھر میں رہائشی تعمیرات کی غیر معمولی لہر پیدا کی۔ ڈویلپرز نے بڑے شہروں کے مضافات میں بڑے پیمانے پر منصوبہ بند کمیونٹیز تعمیر کرنا شروع کیں۔ نئے مضافاتی علاقے تیزی سے وجود میں آئے جن میں سنگل فیملی گھروں کے ساتھ سکول، پارکس، شاپنگ سینٹرز اور بنیادی انفراسٹرکچر شامل تھا۔ اس کی ایک نمایاں مثال نیویارک کا Levittown تھا، جسے جنگ کے بعد کی مضافاتی ترقی اور بڑے پیمانے پر تیار شدہ ہاؤسنگ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 'جی آ ئی بل' کے اثرات صر ف انفرادی گھر کی ملکیت تک محدود نہیں رہے۔ اس نے شہری پھیلاؤ کو تیز کیا، تعمیراتی صنعت کو فروغ دیا، لاکھوں روزگار پیدا کیے اور سڑکوں، یوٹیلٹیز اور عوامی سہولتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔ اس پروگرام نے جدید مضافاتی امریکا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور زمین کے استعمال اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے رجحانات کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ معاشی ماہرین اور ہاؤسنگ مؤرخین 'جی آ ئی بل' کو جنگ کے بعد امریکا کی معاشی ترقی کا ایک اہم محرک قرار دیتے ہیں۔ پراپرٹی کی ملکیت تک رسائی بڑھا کر اس قانون نے بہت سے خاندانوں کو رئیل اسٹیٹ کی قدر میں اضافے کے ذریعے دولت بنانے کا موقع دیا، جس سے امریکی مڈل کلاس مضبوط ہوئی۔ اس قانون نے یہ بھی ثابت کیا کہ حکومت کی معاونت سے چلنے والی ہاؤسنگ فنانس پالیسی معاشی ترقی اور سماجی بہتری کا طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے۔ آٹھ دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود 'جی آ ئی بل' آج بھی اس بات کی ایک تاریخی مثال ہے کہ ہاؤسنگ پالیسی کس طرح قومی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کی میراث آج بھی دنیا بھر کے پالیسی سازوں، اربن پلانرز اور رئیل اسٹیٹ ماہرین کے لیے مطالعے کا موضوع ہے، کیونکہ یہ دکھاتی ہے کہ ہدفی ہاؤسنگ فنانس پروگرام شہروں کی ساخت بدل سکتے ہیں، گھر کی ملکیت کو وسعت دے سکتے ہیں اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

The Florida Land Boom of the 1920s فلوریڈا لینڈ بوم جسے جدید رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا پہلا بڑا ببل قرار دیا جاتا ہے، جب پلاٹ خریدنے والا چند گھنٹوں میں پلاٹ کئی گنا مہنگی قیمت پر دوبارہ بیچ دیتا تھا۔

اگر ہم ٹھیک ایک صدی پیچھے جائیں تو 23 دسمبر 1925 وہ دن تھا جب امریکہ کی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا مشہور ترین “فلوریڈا لینڈ بوم” اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ فلوریڈا، خصوصاً میامی اور پام بیچ میں لوگوں میں راتوں رات امیر بننے کے لیے زمین خریدنا ایک جنون کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں چھوٹے سے چھوٹے پلاٹ کی قیمت چند گھنٹوں میں دگنی ہو جاتی تھی۔ خریدار اکثر پلاٹ دیکھے بغیر ہی ایڈوانس ادا کر دیتے تھے، اور کئی لوگ تو زمین کی رجسٹری ہونے سے پہلے ہی اسے آگے بیچ کر منافع کما رہے تھے۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، انوسٹرز اور عام شہری سب اس دوڑ میں شامل تھے، اور ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ قیمتیں کبھی نہیں گریں گی۔ دسمبر 1925 کی اخباری رپورٹس، خصوصاً The Miami Herald کی 23 دسمبر کی اشاعت کے مطابق، صورتحال اس حد تک غیر معمولی ہو چکی تھی کہ کرسمس کی چھٹیوں کے باوجود ہزاروں افراد فلوریڈا میں پلاٹ خریدنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔ ریلوے اسٹیشنوں، بندرگاہوں اور زمینوں کے دفاتر میں رش تھا، اور شہری نظام اس دباؤ کو سنبھالنے سے قاصر نظر آ رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ جدید دور کی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا پہلا بڑا ببل تھا، جس میں زمین کی قیمتوں کا تعین رہائشی ضروریات اور معاشی بنیادوں (economic fundamentals) کے بجائے قیاس آرائی، افواہوں اور فوری منافع کے لالچ کے تحت کیا گیا۔ تاہم یہ بوم زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 1926 میں آنے والے شدید سمندری طوفان نے فلوریڈا کے کئی علاقوں کو تباہ کر دیا، جس کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے ٹوٹ گیا۔ اسی دوران معاشی مسائل نے جنم لیا، زمین کی قیمتیں اچانک تیزی سے نیچے گرتی چلی گئیں، اور یوں فلوریڈا کا لینڈ بوم، جو دنیا بھر میں پانچ چھ سال تک دولت اور مواقع کی علامت سمجھا جا رہا تھا، رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں تاریخی عبرت کا نشان بن گیا۔ فلوریڈا لینڈ بوم کی اصل کہانی کو اگر سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔[img:Images/2nd-image-23-dec1.jpeg | desc:اس تصویر میں یہ بورڈ فلوریڈا لینڈ بوم کے دور کی انتہائی گمراہ کن اشتہاری مثال ہے جس میں دلدلی اور پانی میں ڈوبی زمینوں کو “reclaimed” (دوبارہ قابلِ استعمال بنائی گئی زمین) اور “دنیا کی سب سے زرخیز مٹی” قرار دے کر بیچا جا رہا تھا۔ اس زبان کا مقصد زمین کی اصل حالت بتانا نہیں بلکہ خریداروں میں یہ یقین پیدا کرنا تھا کہ ابھی خریدنے سے فوری منافع حاصل ہو گا۔ حقیقت میں ان میں سے بیشتر زمینیں نہ مکمل طور پر خشک تھیں، نہ رہائش یا کاشت کے قابل، مگر “ابھی خریدیں، قیمتیں ابتدائی سطح پر ہیں” جیسے جملوں کے ذریعے قیاس آرائی کو ہوا دی گئی۔ یہی فریب پر مبنی تشہیر فلوریڈا لینڈ بوم کے ببل کی بنیاد بنی، جس نے بعد میں ہزاروں لوگوں کو مالی نقصان سے دوچار کیا] پہلی جنگِ عظیم کے بعد امریکہ میں دولت بڑھی، کاریں عام ہوئیں، ریل اور اشتہارات نے فاصلے ختم کر دیے، اور فلوریڈا ایک خواب کے طور پر پیش کیا جانے لگا جہاں دھوپ، سمندر اور تیزی سے بڑھتے شہر ہر کسی کو امیر بنا سکتے تھے۔ خاص طور پر میامی اور پام بیچ میں زمین صرف رہنے کے لیے نہیں بلکہ فوری منافع کے لیے خریدی جا رہی تھی۔ لوگ زمین دیکھے بغیر، نقشہ تک پڑھے بغیر، صرف افواہوں اور قیمت بڑھنے کی امید پر خرید و فروخت کر رہے تھے۔ ایک پلاٹ صبح خریدا جاتا اور شام تک کئی ہاتھ بدل کر مہنگا ہو جاتا۔ اس مرحلے پر زمین اثاثہ نہیں بلکہ دولت کمانے کا ایک سرٹیفیکیٹ بن چکی تھی، جس پر سب کو یقین تھا کہ قیمت کبھی نیچے نہیں آئے گی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ زیادہ تر خریدار وہاں گھر بنانے یا آباد ہونے نہیں جا رہے تھے۔ وہ صرف اگلے خریدار کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی نئے خریداروں کی رفتار کم ہوئی، پورا نظام ہلنا شروع ہو گیا۔ 1925 کے آخر تک ریل کا نظام جام ہو گیا، کیونکہ سیمنٹ، لکڑی اور روزمرہ اشیا کی جگہ صرف زمین کی دستاویزات ہی سفر کر رہی تھیں۔ بینکوں نے قرض دینا سست کر دیا، خریدار غائب ہونے لگے، اور پہلی بار قیمتیں رکیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ببل پھٹنے کے آثار ظاہر ہوئے۔ 1926 میں دو فیصلہ کن واقعات نے اس عمل کو ناقابلِ واپسی بنا دیا۔ پہلے، میامی میں ایک شدید سمندری طوفان آیا جس نے ہزاروں تعمیرات تباہ کر دیں، بندرگاہیں مفلوج ہو گئیں، اور یہ واضح ہو گیا کہ شہر جس رفتار سے بیچا جا رہا تھا، اس رفتار سے محفوظ یا تیار ہی نہیں تھا۔ دوسرے، بینکوں اور ڈویلپرز کا اعتماد ٹوٹ گیا۔ جیسے ہی ادائیگیاں رکیں، قسطیں ڈیفالٹ ہوئیں، اور زمین کی وہی فائلیں جنہیں لوگ دولت سمجھ رہے تھے، بوجھ بن گئیں۔ بہت سے افراد جنہوں نے قرض لے کر زمین خریدی تھی، سب کچھ کھو بیٹھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فلوریڈا کی زمینوں کی قیمتیں بعض علاقوں میں پچاس سے ستر فیصد تک گر گئیں۔ ہزاروں منصوبے ادھورے رہ گئے، بینک بند ہوئے، اور فلوریڈا کی معیشت کئی برس پیچھے چلی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سب 1929 کے گریٹ ڈپریشن سے تین سال پہلے ہو چکا تھا۔ اسی لیے ماہرین اسے جدید رئیل اسٹیٹ تاریخ کا پہلا بڑا قیاس آرائی پر مبنی ببل مانتے ہیں، کیونکہ یہاں وہ تمام عناصر واضح تھے جو بعد میں دنیا بھر میں دہرائے گئے، یعنی افواہوں پر خرید، حقیقی طلب کی عدم موجودگی، آسان منافع کا یقین، اور نظامی اعتماد کا اچانک خاتمہ۔ فلوریڈا لینڈ بوم سے حقیقی سبق یہ ملتا ہے کہ چند منافع خوروں نے زمین کو رہائش اور اثاثے کے بجائے ایک تیز رفتار سٹے کی چیز بنا دیا تھا۔ جب خریدار صرف اگلے خریدار پر یقین کرنے لگے اور اصل استعمال پس منظر میں چلا جائے، تو قیمتیں اوپر تو جا سکتی ہیں مگر وہاں ٹھہر نہیں سکتیں۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لیے آج امریکہ اور دیگر ممالک کی جامعات میں اسے رئیل اسٹیٹ، معاشیات، اربن پلاننگ اور فنانس کے مضامین میں بطور کیس اسٹڈی (case study) پڑھایا جاتا ہے۔ اس مثال کے ذریعے طلبہ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کس طرح قیاس آرائی، مارکیٹ نفسیات اور حقیقی معاشی بنیادوں سے ہٹ کر قیمتوں میں تیزی ببل (bubble) کو جنم دیتی ہے، اور پھر یہی عوامل اچانک زوال کا سبب بنتے ہیں۔ فلوریڈا لینڈ بوم کے مالی نقصان کے بارے میں تاریخ میں اندازے بہت دہرائے گئے ہیں، مگر ایک واحد، قطعی اور سرکاری عدد کہیں بھی موجود نہیں۔ اس کے باوجود، تاریخ دانوں اور معاشی محققین نے ایک متفقہ حد (consensus range) طے کی ہے جو معتبر سمجھی جاتی ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، 1920 کی دہائی میں فلوریڈا لینڈ بوم کے دوران زمین کی قیاس آرائی پر مبنی خرید و فروخت کی مجموعی مالیت تقریباً 6 سے 7 ارب ڈالر (1920s dollars) تک جا پہنچی تھی۔ جب 1925 اور 1926 میں یہ ببل ٹوٹا تو براہِ راست اور بالواسطہ مالی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 2 ارب ڈالر (1920s dollars) لگایا گیا۔ یہ عدد امریکی اقتصادی تاریخ میں بار بار درج ہوا ہے اور اسے confirmed historical estimate مانا جاتا ہے۔ اگر ہم اس رقم کو آج کی قدر میں سمجھیں تو افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نقصان تقریباً 30 سے 35 ارب امریکی ڈالر (current value) کے برابر بنتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ نقصان صرف زمین کی قیمت گرنے تک محدود نہیں تھا۔ اس میں شامل تھے: ⁃ بینکوں کی ناکامیاں ⁃ تعمیراتی منصوبوں کی منسوخی ⁃ قرضوں کی نادہندگی ⁃ فلوریڈا کی ریاستی معیشت کا مفلوج رہنا

مزید پڑھیں