Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Institutional History and Heritage

1 Historical Event found

2 فروری کو کولکتہ میں قائم Indian Museum اپنے قیام کا دن مناتا ہے۔ یہ ادارہ برصغیر کا قدیم ترین اور سب سے بڑا میوزیم سمجھا جاتا ہے، جس نے خطے کی تعمیراتی تاریخ، زمین سے جڑی تہذیب، اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس میوزیم کی کہانی برصغیر میں علم، نوادرات، زمین، تعمیرات، اور تہذیبی ورثے کو باقاعدہ طور پر محفوظ کرنے کی پہلی منظم کوشش کی کہانی ہے۔ پس منظر یہ تھا کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال Asiatic Society of Bengal کے اہلِ علم کے پاس قدیم سکے، کتبے، مجسمے، فوسلز، جانوروں کے نمونے، نباتات، اور دور دراز علاقوں سے لائی گئی بے شمار چیزیں جمع ہو رہی تھیں، مگر انہیں رکھنے، سائنسی انداز میں درج کرنے، اور عوام یا محققین کے لیے پیش کرنے کا کوئی مستقل ادارہ موجود نہیں تھا۔ اسی ضرورت کے تحت میوزیم کے تصور نے شکل اختیار کی، اور آخرکار 2 فروری 1814 کو ڈینش ماہرِ نباتات ڈاکٹر Nathaniel Wallich نے Asiatic Society of Bengal کو ایک باقاعدہ میوزیم بنانے کی تجویز دی، اپنی کلیکشن اس کے لیے پیش کی، اور عملی طور پر پہلے نگران کی حیثیت سے کام بھی سنبھالا۔ ابتدا میں یہ میوزیم Asiatic Society of Bengal کی عمارت کے اندر قائم ہوا، مگر وقت کے ساتھ مجموعہ اتنا بڑا اور متنوع ہو گیا کہ ایک الگ اور وسیع عمارت ناگزیر بن گئی۔ حکومت نے (اس وقت کی ایسٹ انڈیا کمپنی) چورنگھی روڈ اور پارک اسٹریٹ کے علاقے میں 10 ایکڑ سے بھی زائد کا قطعۂ اراضی اس مقصد کے لیے مہیا کیا۔ نو آبادیاتی دور میں اتنے بڑے رقبے پر ایک عوامی میوزیم کی تعمیر بذاتِ خود اس بات کی علامت تھی کہ اسے محض ایک نمائش گاہ نہیں بلکہ علم، تحقیق، نوادرات اور قدرتی تاریخ کے ایک جامع ادارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جس میں مختلف گیلریوں، ذخیرہ خانوں، تحقیقی کمروں اور اندرونی صحنوں کو ضروریات کے مطابق تعمیر کیا گیا۔ [img:Images/otd-2-feb-2nd.jpeg | desc:] میوزیم کی موجودہ شاندار نو کلاسیکل طرز کی عمارت کا منصوبہ انیسویں صدی میں آگے بڑھا۔ اس عمارت کے آرکیٹکٹ Walter L. B. Granville کا نام معتبر ماخذوں میں بار بار آتا ہے، اور میوزیم کو موجودہ عمارت میں عوام کے لیے 1 اپریل 1878 کو کھولا گیا۔ اگرچہ انڈین میوزیم 1814 میں قائم ہوا، مگر اس کی موجودہ عمارت تقریباً چھ دہائیوں بعد 1878 میں عوام کے لیے کھولی گئی۔ یہاں رکھے گئے نوادرات کی نوعیت اتنی وسیع ہے کہ اسے ایک واحد میوزیم کے بجائے کئی علوم کا مجموعہ کہنا زیادہ درست ہے۔ میوزیم کی بڑی شناخت آثارِ قدیمہ، قدیم مجسمہ سازی، سکے، کتبے، اور تہذیبی نوادرات کے ساتھ ساتھ قدرتی تاریخ کے ذخیرے سے بھی بنتی ہے، جس میں فوسلز اور حیاتیاتی نمونے شامل ہیں۔ عوامی دلچسپی کی چند نمایاں مثالیں مصر کی گیلری کی قدیم ممی، اور بھارہوت اسٹوپا کی سنگی ریلنگز اور بدھ مت سے متعلق قدیم آثار ہیں، جنہیں دنیا بھر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ نوادرات کی حفاظت کے باب میں اس ادارے نے روایتی تالوں اور چوکیداری سے آگے بڑھ کر کنزرویشن، ریکارڈنگ، اور سائنسی نگہداشت کی طرف بھی سفر کیا ہے۔ میوزیم کے اپنے دستاویزی منصوبوں میں کنزرویشن گائیڈ لائنز اور اپ گریڈیشن جیسے موضوعات موجود ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذخیرے کی حفاظت کے لیے معیار سازی اور بہتری کی کوشش جاری ہے۔ اسی کے ساتھ سرکاری آڈٹ اور ادارہ جاتی رپورٹس میں انتظامی ڈھانچے، ٹرسٹیز کے نظام، اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں کا ذکر بھی ملتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ادارہ ریاستی نگرانی میں ایک خودمختار تنظیم کے طور پر چلتا ہے۔ اس میوزیم کی تاریخی اہمیت صرف یہ نہیں کہ یہ برصغیر کا قدیم ترین میوزیم ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسی ادارے نے نوادرات، آثارِ قدیمہ، اور سائنسی نمونوں کو جمع کرنے، درج کرنے، اور عوامی علم کا حصہ بنانے کی روایت کو ادارہ جاتی صورت دی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے برصغیر کی تعمیراتی اور زمینی تاریخ، شہری ارتقا، نو آبادیاتی عہد کی علمی پالیسی، اور علاقائی ثقافتی سرمائے کو سمجھنے کے لیے ایک مرکزی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی یہ میوزیم فعال ہے اور ہر سال 2 فروری کو اس کا فاؤنڈیشن ڈے منایا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس میوزیم کی خصوصی نمائشوں اور موضوعاتی پروگراموں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جس سے ادارے کی عوامی اور تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم بعض مباحث میں عمارت کی عمر، دیکھ بھال، اور جدید تقاضوں کے مطابق سہولیات کے چیلنجز کا ذکر بھی ملتا ہے، اس لیے اس کی موجودہ حالت کو یوں سمجھنا بہتر ہے کہ ادارہ اپنی عظمت اور ذخیرے کے باوجود مسلسل مرمت، اپ گریڈیشن، اور جدید کنزرویشن کی ضرورت کے دباؤ میں بھی رہتا ہے۔ انڈین میوزیم برصغیر میں پہلا ایسا ادارہ تھا جو میوزیم کے باقاعدہ تصور کے تحت قائم ہوا، یعنی جہاں نوادرات، آثارِ قدیمہ، قدرتی تاریخ کے نمونے، اور سائنسی اشیا کو منظم انداز میں جمع کیا گیا، درج کیا گیا، اور عوام و محققین کے لیے پیش کیا گیا۔ اس سے پہلے اگرچہ شاہی خزانے، نجی کلیکشنز، یا مذہبی مقامات پر نوادرات موجود تھے، مگر وہ میوزیم نہیں کہلاتے تھے کیونکہ نہ ان کا سائنسی اندراج ہوتا تھا اور نہ عوامی رسائی۔ اسی بنیاد پر Indian Museum کو مستند تاریخی حوالوں میں برصغیر کا پہلا میوزیم بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں